ہوش ربا مہنگائی اور شرم حیا
مہنگائی مہنگائی مہنگائی کا لفظ سننے کو تو ملتا ہے۔ بیٹھتے ہیں تو بات بھی کر لیتے ہیں مگر اس کے اثرات صرف سوشل میڈیا تک کیوں محدود ہیں؟
سوشل میڈیا پہ ہم سب کو بتا سکتے ہیں کہ بھئی بہت مہنگائی ہے، بل بہت آیا ہے، گزر بسر نہیں ہو رہا مگر جونہی ہم زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو پہلی بات ذہین میں یہ ہوتی ہے کہ کسی کو پتا نہ چل جائے کہ ہم کس مشکل سے گزر رہے ہیں۔ ایک لاکھ کابل چاہے ماں کی بالیاں بیچ کر ادا کیا ہے، چاہے اپنا خون پانی کر کے، اس کو فخر سے بیان کیا جائے کہ ہمارے بچے اے سی کے بنا نہیں رہ سکتے مجبوری ہے جی
ہمیں کسی کو اصل بات بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ گزر بسر نہیں ہو رہا
شرم آ رہی ہے کہ بھرم ٹوٹ جائے گا۔
شرم آ رہی ہے کہ ہم بے بس ہیں
شرم آ رہی ہے مگر قبول نہیں کر رہے۔
ابھی بڑوں کا بنایا ہوا، اچھے وقتوں کا کچھ سونا اور پیسہ کچھ اشیا کچھ زمین کام آ رہی ہیں تو گزر ہو رہا ہے جب یہ ختم ہونا ہے تو تب کیا ہو گا بھرم تو ٹوٹے گا اور بچے کا بھی کچھ نہیں۔
ہماری ناک کٹتی ہے اگر عورت معاشی طور پہ ہمارا ساتھ دے مگر جب ذہنی دباؤ سے کوئی اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو وہ عورت سڑک پہ آ جاتی ہے اور غیر اس کا نام لے کر، ایک بیوہ اور چند یتیم بچوں کی کفالت کے نام پہ مختلف طریقوں سے چندہ اکٹھا کر کے کوئی راشن دانہ پانی ڈال دیتے ہیں۔ کچھ دن بل دے دیں گے مگر ساری عمر کا خرچ کون اٹھاتا ہے یوں وہ عورت جس کے کمانے سے صاحب کی ناک کٹ رہی ہوتی ہے وہ حالات سے کٹنا شروع ہو جاتی ہے۔
ہم ایک دوسرے سے چھپا رہے ہیں کہ بھئی ان حالات میں بھی شکر ہے بھرم رکھا ہوا ہے اللہ نے مگر یہ بھرم نہیں ہے یہ وہ زمین ہے جو آپ کے آبا نے آپ کے کسی مشکل وقت کے لئے رکھی تھی آپ تو اسے مشکل وقت کاٹ لیں گے یہ جو بچے پیدا کیے ہیں ان کے مشکل وقت کا کیا ہو گا؟ آپ تو ان کا حق بھی کھا کر ریاست کا ان کی بد عنوانوں میں ساتھ دے رہے ہیں۔ ریاست کے ساتھی بن رہے ہیں۔ کرپشن کے حصے دار بن رہے ہیں۔
بھرم نہیں یہ شرم ہے کہ دوسروں کو آپ کے حالات کی خبر نہ ہو اور آپ کی دستار بلند رہے۔ یہ دستار کب تک؟ شرم بھی کب تک؟
مردانگی کے جو معانی آپ کو پڑھائے گئے تھے شاید اسی دن کے لئے پڑھائے گئے تھے کہ آپ ذہنی اذیت سہنے کے قابل ہو جائیں اور جب نہ سہ سکیں تو رخصت ہو جائیں۔ اس کے بعد پیچھے کمزور عورت اور بچے رہ جائیں گے وہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے نہ شریکوں کی۔
آپ نے پیدا کیے ہیں آپ ذمہ دار رہیں گے۔
یوں بے بس معاشرہ رہ جائے گا جو موقع پرستوں کا ہتھیار ہے
شرم و حیا کے معنی کو بدلیں تو سمجھ آئے کہ یہ تو کسی بہت بڑے ناول کا پلاٹ تھا کہ کمزور کو کمزور تر کرنے کا ایک نفسیاتی حربہ بھی ہوتا ہے۔ وہ استعمال ہو چکا ہے۔ آپ ہم سب کمزور پڑ گئے ہیں کیونکہ ہمارے پیٹ میں مناسب خوراک نہیں ہے جو طاقت دیتی ہے۔
طاقت ور اور کمزور کے بہت فلسفے پڑھے تھے کبھی تو سمجھ نہیں آتا تھا۔ ہمیں بھی لگتا تھا فلسفہ ہے حسین ہے زندگی نہیں
مگر دیکھتے ہی دیکھتے کی بات ہے
ایک خاندان جو ایک پوش علاقے کا کوڑا اکٹھا کرنے آتا تھا ایک خالی پلاٹ میں مقیم جھگی میں رہتے یہ لوگ اپنا کام کرتے اور سردی گرمی کو انہیں کپڑے کی جھگیوں میں گزارتے تھے۔ سردی آتی کو گرم لحاف مانگ لئے گرمی آئی تو گرم کپڑے بنگلے والوں سے لے کر پہن لئے۔
دیکھتے ہی دیکھتے گرمی سردی بھوک اور تنگ دستی سب کو کھا گئی ان چند سالوں میں ان کی دوسری نسل کوڑا لے جانی لگی۔ جتنے جنازے ان جھونپڑیوں سے نکلے اتنے ان پوش علاقے کے مکینوں کے گھروں سے نہیں نکلے، فالج سے ناکارہ حبس میں کام کرنے والا مالی ہوا، تو اس کا بیٹا مالی لگ گیا مگر ان سب گھروں میں اللہ کے شکر سے کسی کو فالج نہیں ہوا۔
فلسفے زندگی بن گئے۔
ریاست سے اپنا حق طلب کرنے میں اگر آپ کو شرم آ رہی ہے تو یاد رکھئیے فلسفے زندگی، زندگی کہانی، کہانی عبرت اور عبرت ایک دن لہو بن جائے گا لہذا وقت پہ شرم کا لبادہ اتار کر ریاست کو بتائیں وہ غلط راہوں پہ گامزن ہے۔ ریاست کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ہوتا۔ ریاست کا تعلق حکمت عملی اور پالیسی سازی سے ہوتا ہے۔ یہ جو بیانیہ ہر حکومت پیش کر دیتی ہے کہ پچھلی حکومت یہ سب کر گئی ہے ہم ذمہ دار نہیں ہیں پالیسی سازی اور حکمت عملی ہے۔ سب ذمہ دار ہیں بلکہ ہم اور آپ بھی ذمہ دار ہیں جو اندھا یقین کرتے رہے ہیں کچھ بل پاس کروانا صرف نگاہ ہٹانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں ان پہ بھی نگاہ آپ نے خود رکھنی ہے۔ جو خود تو مفادات کی راہ پہ اکٹھے چل رہے ہیں عام انسان کے درمیان کی طاقت کو توڑ رہے ہیں کہ یہ طاقت ڈر و خوف ہے۔
مہنگائی ہوئی ہے، زندگی بے بس ہو گئی۔ حکومتیں ذمہ دار ہیں، ہم ذمہ دار ہیں، محنت کرنے والے اب بھی بول رہے ہیں، مزدور کے لب پہ شکوہ ہے مگر یہ سفید پوش لوگ اگر مزدور کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبیں گے اور ایک دن سفید پوشوں کی نسل مزدور کی نسلوں کی طرح جینے پہ مجبور کر دی جائے گی۔
ملک کے کونے کونے میں ایک ایک جنگ ہو رہی ہے۔ ایک عملی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ جب کھونے کو کچھ نہ بچے کو انسان بے خوف ہو جاتا ہے اس وقت سے ڈریں کہ لوگ بے خوف ہو رہے ہیں۔
اس وقت سے ڈریں جب بھوک اپنی فطرت کے مطابق آپ کو جنگ کے بادشاہ کے سامنے لا کھڑا کرے گی تب بھوک موت کی دستار باندھ کر آتی ہے اور بادشاہ کا پیٹ بھی پھاڑ دیتی ہے۔
ذہن سازی کو رد کرتے ہوئے نئے حالات کے لئے خود کو تیار کرنا، آج کے دور کا اور ابھی کا سچ ہے ایک ہی بار چیخ لیں ورنہ چیخنے کی طاقت بھی نہیں رہے گی۔
ورنہ
اس کے بعد وہی ہو گا جو شاید تاریخ میں کئی بار ہو چکا ہے کہ آپ ہم اور ریاست زمین پہ نہیں، تاریخ کے باب میں زندہ رہ جاتے ہیں۔


