خواب بھری زندگی کا سچ
”آدمی سکون کی تلاش میں کتنی ہی دُور کیوں نہ چلا جائے، آخر کار لوٹ کر اپنے احباب کی طرف ہی آتا ہے۔ اپنے پرانے دنوں کے بارے میں سوچ کر اور بچپن کی اس زندگی کو یاد کر کے ذرا خوش ہو لیتا ہے لیکن پھر وہی شام، وہی رات اور وہی تنہائی ہوتی ہے۔ مجھے یہاں آنے سے پہلے معلوم تھا کہ پردیس میں لوگوں کا کیا احوال ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جب یہاں سے کوئی گھر جاتا تو میں اس سے کچھ پوچھوں، یا نہ پوچھوں یہ ضرور پوچھتا ہوں، کہ وہاں کیسا لگتا ہے! یہ میں اس سے صرف اس کی دلی کیفیات معلوم کرنے کے لیے پوچھتا تھا اور نتیجہ صد فی صد یہی نکلتا تھا کہ وطن سے باہر سب کچھ ہے لیکن سکون نہیں ہے۔ آج میں خود اس بے سکونی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ ہاں اگر سکون پیسے کو کہتے ہیں تو یقیناً سکون یہاں حاصل ہے لیکن میں اس کا ہمیشہ سے ناقد رہا ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پیسے کے بغیر آدمی خوش رہتا ہے ؛ زندگی کی آسائشوں کے لیے پیسا ایک ضروری شے ہے، لیکن سب کچھ اس پیسے کو سمجھ لینا، یہ کہاں کی عقل مندی ہے؟ یار! حقیقت میں آرام کس کو کہتے ہیں یہ وہی بتا سکتا ہے، جو رات کی تنہائی میں آرام سے مٹی کے بنے مکان کے چھپر کے نیچے چارپائی پر لیٹا ہو، اور بارش کی بوندیں کانوں میں رس گھول رہی ہوں۔ حقیت میں سکون وہی ہے اور زندگی کا اصل مزا اس میں ہے کہ ماں باپ، بھائی بہن اور دوست احباب سب آنکھوں کے سامنے ہوں“ ۔
یہ میرے دوست عارف حبیب کے خیالات ہیں جسے اس نے دبئی جانے کے بعد مجھے میل کیا تھا۔ اپنے دوست کی اس تحریر کو پڑھ کے میں بھی اپنے آنسوؤں کو ضبط نہیں کر سکا اور سچ پوچھیے تو اس وقت میرے کانوں میں میرے ایک قریبی عزیز کا یہ فقرہ گردش کرنے لگا؛ انھوں نے مجھے چھٹی میں مصروفیت کا بہانہ کر کے اپنے گاؤں نہ جانے کی مجبوری ظاہر کرنے پر، ہنستے ہوئے یہ کہا تھا، ”میاں! بڑے بڑے طرم خاں گاؤں ہی میں پیدا ہوئے ہیں، بہت اونچے تک اڑے، آخر کار گاؤں ہی میں آ کے پناہ لینا پڑی“ ۔ بزرگ عزیز کا کہا اپنی جگہ بالکل درست تھا؛ صحیح معنوں میں اگر دیکھا جائے تو دلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں رہنے والے بہت سے قلم کار ہیں کہ اگر ان کے قلم میں گاؤں کا رنگ نہ ہو تو تحریر پھیکی لگنے لگتی ہے۔
کئی مرتبہ دل بہلانے کے لیے مجبوری میں بہت سے کام کرنا پڑتے ہیں۔ افسوس کہ ہماری ذمہ داری کا حصہ ہی اداکاری بنتی جا رہی ہے۔ کئی والدین بے چارے اپنے بچوں کی اداکاری سے اپنا جی بہلا کر زندہ رہتے ہیں۔ بوڑھے لوگ شہر میں جا بسے، اس جواں نسل کی واپسی کے لیے اپنے باپ دادا کی جائیداد کے حقوق کا کیا لالچ دیں گے یا طمع پیدا کریں گے ؛ یہ نسل تو پہلے ہی سے لاکھوں کے پیکیج میں الجھ گئی ہے ؛ جب ان کے والدین پڑھائی لکھائی کے وقت پیسے دے کر، انھیں لاری اڈوں، ریلوے اسٹیشن تک رخصت کرنے جایا کرتے تھے، تو وہ ان کی ہر تکلیف، ہر درد کا خیال رکھتے تھے لیکن وہ سب بھول گئے۔
سینما اور کتابوں میں گاؤں کی ساکھ بھلے ہی گھٹتی بڑھتی رہی ہو، لیکن شہری زندگی جینے والے نوجوانوں کے دل میں گاؤں اور وہاں کی یاد ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ وہ چاہے شہر میں ٹھہرے ہوں یا گاؤں ہی میں جمے ہوئے ہوں۔ یہ تو وقت کی کروٹ اور گردش ہے جو ہم عمر نوجوانوں کے ان زندہ نقوش کو مٹانے میں لگی ہے۔ ناچاروں کو مصروفیت ہی اتنا گھیرے رکھتی ہے کہ انھیں ماں باپ سے ملنے تک کی فرصت نہیں۔
ہمارے کئی ساتھی تو ان لہروں کی اٹھان کو ایک نظر دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔ چھٹیاں گزارنے گاؤں آئے ایک نوجوان کی کہانی، اکثر گاؤں میں رہنے والے دوجے نوجوان کی کہانی سے ملتی جلتی ہے۔ دیہات میں پلے بڑھے اور اب شہروں کے صاحب زادوں کو کون سمجھائے کہ جائے پیدائش کیا ہوتی ہے۔ کاش یہ جوان آنکھیں سمجھ پاتیں کہ کیوں گاؤں سے شہر واپسی پر ماں باپ آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ کیوں آخری قدم تک چلتے کچھ باتیں یاد دلاتے رہتے ہیں۔ گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھنے کے واسطے ایکسیلیٹر پر دایاں پاؤں رکھے کلچ سے دوسرا پاؤں اٹھانے کو بے تاب ہوتے ہیں۔ فراٹے بھرتے ہوئے آخر یہ نئی پود آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس سفر میں پھر سے ایک بار نہ صرف گاؤں پیچھے چھوٹتا ہے بلکہ احوال زیست، زندہ ماں باپ، رشتے ناتے، دوست احباب سب پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔ بوڑھے والدین اپنا سارا وقت، جمع پونجی ان پر خرچ کرتے ہیں، جنھیں آگے دیکھنا ہوتا ہے۔ نئی نسل بے مطلب کی چیزوں میں الجھ جاتی ہے، اور رشتوں ناتوں تک کی اہمیت سمجھتی ہے نہ اس کا تعاقب مقصود ہوتا ہے۔ عجیب زندگی ہے ؛ کبھی کبھی اپنے آپ پر بہت ترس آتا ہے۔ کبھی خود کو کٹہرے میں کھڑا پاتے ہیں۔ مگر بہت جلد شہر کی چمک دمک میں کھو جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم بھول جاتے ہیں کہ بوڑھا باپ گہیوں پسانے کے لیے چکی آتا جاتا ہو گا تو کیسے! چار دن تک نل میں پانی نہ آنے پر دور تک پانی کے لیے پیدل جاتا ہو گا۔ مہینا ختم ہوتے ہی اگر تنخواہ وقت پرنہ ملی تب بھی دوسروں سے قرض لے کر ہمارے اکاؤنٹ میں روپے ڈالنے کے لیے رم جھم میں، یا تپتی دھوپ اور ہجوم کی دھکا مکی، سب سہتے ہوئے لمبی قطار میں کھڑا اپنی باری آنے کا انتظار کرتا ہو گا، کہ اولاد کے بنک اکاؤنٹ میں روپے جمع کروا کے اپنی محبت کی رسید لے۔
گھر میں گیس سلینڈر ختم ہو جانے پر، ماں لکڑی کے چولھے میں دھواں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کے باوجود کھانا بناتی ہوگی۔ لگتا تو یہ ہے کہ ان کے پاس گاؤں میں کوئی خاص مصروفیت نہیں ہوتی ہوگی۔ ادھر شہر میں کتنے مصروف ہیں، پاس خرچ کرنے کو اتنا وقت بھی تو نہیں کہ لمحے بھر کو اپنی جائے پیدائش کو یاد کرسکیں۔ باپ کے جھکے کندھوں کا خیال آئے، گندگی میں لت پت رہنے پر بھی بچے کو گلے لگا لینے والی اس ماں سے ٹھیک سے بات کرسکیں۔ جب تک ماں ہے، تب تک تو اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، بعد میں؟ حیف! پہ یہ سانچی بات ہے کہ بعد کی زندگی میں چاہے کتنا بھی سر پیٹ لو، ماتم کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ خاقان خاور کی زبان میں :
جس دن مائیں مر جاتی ہیں
آنکھیں ریت سے بھر جاتی ہیں
یہ ماضی کی بحث کی جگالی نہیں بلکہ ماضی کے احساس کے خیال کا حصہ ہے۔ باپ کی آنکھوں کے سامنے، اپنے کیریئر کو بڑھاوا دیتے بچے، جانے کب باپ کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اس کے پیچھے کے اسباب اور بعد کے نتائج تحقیقی مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ اس پورے کھیل میں والدین کو فریب دینا سیکھ چکی، نوجوان نسل خود دل ہی دل میں سب جانتی ہے۔ تمام ہتھکنڈوں کے ساتھ وہ شہر میں اپنے جیون کے پل بتاتے ہوئے اکیلے پڑ جانے کے خطرے کی طرف بڑھے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس پورے دور میں پتا نہیں چلتا، کب اپنے سے بڑوں کو الگ تھلگ کر ڈالتے ہیں۔ ادھر ماں باپ یہ سوچ کر ہی حیران ہوتے ہیں کہ آج ان جوان بچوں کی اپنی ترجیحات کی فہرست میں بہت سی ضروری چیزیں غائب ہوتی جا رہی ہیں، مثلاً مذہب، اخلاقیات، سچائی، محبت، پیار، خدمت، عزت ایسی تمام پرتیں جلد سے چرم روگ کے اثرات کی طرح ساتھ چھوڑتی جا رہی ہیں۔ اصل میں یہ انفیکشن کا دور ہے جس کے اثرات سے ہر رشتہ متاثر ہو چکا ہے۔
آج کی نسل جو نباتات سے بنے گھی پر زندہ ہے۔ جہاں ملاوٹ اور بازاری مصنوعات کی افراط ہے، نظریات کے نام پر آلودگی میں لپٹا علم گنگا سے لبریز ہے۔ بڑا ہی تکلیف دہ وقت ہے۔ یہاں اس فکر سے نوجوان کو سرے سے خارج نہیں کر رہے ہیں، بلکہ نوجوان کی توجہ کے طالب ہیں، کہ ایک لمحہ ٹھہر کے غور کرے۔ سہانے سپنوں کی تعبیر کے لیے وہ اپنے آپ کو فراموش کر بیٹھا ہے۔ یہ نوجوان اپنے لیے وقت نہیں جٹا پاتا، پھر بھلا وہ اپنے ایک خاندان کے لیے فرصت کے لمحات نکالے، تو جانیے کہ بہت ہے۔ یہاں گاؤں ایک علامت بھی ہو سکتی ہے، جو ماضی سے متعلق ہو۔ گاؤں ؛ جہاں زندگی کے پروان چڑھتے، تتلاتے بڑھنے کے دن گزرے تھے۔ آج کی نسل اپنے ماضی کو اس حد تک بھلا سکتی ہے، کہ جس میں ماں باپ تک بھی شامل ہو جائیں، یہ سوچنا ہی بھیانک خواب لگتا ہے۔
اب صرف حیلہ تلاشے اور بہانے گڑھے جائیں گے کہ کام، کاروبار، گھر، خاندان دوستی، سفر جیسی سب باتیں۔ ارے دوستو! ان بزرگوں کو ہم ناتجربہ کار کیا بتلانے چلیں، انھوں نے دنیا دیکھی ہے۔ وہ آپ کی آنکھ دیکھے بغیر ہی ماجرا بھانپ لینے کی مہارت رکھتے ہیں۔ اپنی نظر میں انہیں بے چارے مان لینے والے ہم نوجوان ساتھی، صحیح معنوں میں آج بہت غریب ہو چلے ہیں۔ بھلے وہ سن رسیدہ ہمارے اور آپ کے اس نئے فریب کے قریب قریب شکل والی اصطلاحات سے ان جانے ہوں، مگر زبان کی فریب پن اور چالاکیاں وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ سچ مانیں وہ ہماری اور آپ کی ان غلط بیانیوں پر چپ رہ کر سب کچھ برداشت کریں گے۔ ان کے سہنے کی طاقت کا اندازہ ہم نوجوان نسل کو بھلا کہاں ہے۔
میں بھی اسی ذات کا حصہ ہوں، جہاں گنی چنی کچھ نئی باتوں میں پھنسا اپنے والدین کو الجھا آتا ہوں۔ کئی مرتبہ بہانے کم پڑ جاتے ہیں، جب بار بار ماں گاؤں نہ آنے کی وجہ پوچھتی ہیں۔ ہم بری طرح جکڑے، بہت برے پھنسے مانس ہیں۔ نہ آگے بڑھنے کے نہ پیچھے جانے کے۔ یہ طوق خاص طور پر متوسط طبقے کے نوجوانوں کے گلے میں فٹ بیٹھتا ہے، باقی یہ کہ امیر زادوں کا احوال، مجھے نہیں معلوم۔


