کاش! میں ایک بدمعاش ہوتا


”کاش میں ایک بدمعاش ہوتا“ جیسے ہی میں نے تھوڑی اونچی آواز میں یہ بڑبڑاہٹ کی، کمرے میں جھاڑ پونچھ کرتی میری بیگم نے مجھے حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا ”آپ اور بدمعاش ہوتے؟“ ۔ میں نے اس کے طنز کو سمجھتے ہوئے کہا ”ہاں تو کیا میں بدمعاش نہیں بن سکتا؟“

اس پر بیگم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، ”اب مجھے کیا پتا آپ میں کیا کیا خوبیاں چھپی ہیں؟“ ۔”زمانہ طالب علمی میں اچھا خاصا ”ٹیلنٹ“ تھا مجھ میں بدمعاش بننے کا، سکول سے بھاگ کر دوستوں کے ساتھ نہر پر نہانا، سینما میں فلمیں دیکھنا، اونچی آواز میں ڈیک پر فلمی گانے سننا، گھر والوں سے چھپ کر رسالوں میں عشقیہ کہانیاں پڑھنا، استادوں کی نقلیں اتارنا اور ہم عمر لڑکوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے کرنا وغیرہ وغیرہ، کوئی ایک خوبی ہو تو بتاؤں تمہیں“۔

میں نے گردن اکڑا کر فخریہ انداز میں کہا ۔ یہ سن کر بیگم نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا ”توبہ توبہ! جتنی خوبیاں آپ نے بتائی ہیں ان سے تو لگتا ہے آپ صرف بدمعاش نہیں بلکہ پرلے درجے کے بدمعاش تھے“۔ میں نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا ”پتا نہیں وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب میں نے اپنے والدین اور اساتذہ کی سکھائی ہوئی باتوں میں آ کے ترقی اور خوشحالی کی طرف جاتا راستہ چھوڑ کر اپنے مستقبل کو تاریکی اور محرومیوں کی بھینٹ چڑھا دیا“ ۔

یہ سن کر اس نے پوچھا ”مطلب! آپ کو نئے سرے سے زندگی گزارنے کا موقع ملے تو آپ اپنی محرومیوں کا ازالہ ایک بدمعاش بن کریں گے؟“ ۔ میں نے کہا ”بالکل“ ۔ میرا جواب سن کے وہ بے اختیار ہنس دی جس پر میں نے اسے ٹوکا ”اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے“ ۔ اس پر وہ کہنے لگی ”میں یہ سوچ کر ہنس رہی ہوں کہ گلی سے گزرتے ہوئے قریشی صاحب کے کتے سے تو آپ کی جان جاتی ہے پھر آپ جیسا ڈرپوک سوری! میرا مطلب شریف بندہ بھلا کیسے بدمعاش بن سکتا ہے“ ۔

اس بار میں نے ہلکی سی خفگی کا اظہار کرتے اسے ہوئے کہا ”تمہیں کس نے کہا میں کتوں سے ڈرتا ہوں وہ تو بس مجھے کتوں کے منہ لگنا پسند نہیں ہے جس کی وجہ سے میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ تبدیل کر لیتا ہوں وگرنہ کسی کتے کی کیا مجال کہ مجھے ڈرا سکے“ ۔ اس پر بیگم نے کہا ”اور رانا صاحب یہ جو آپ اخبار کے لئے لکھتے ہوئے مجھے آئے روز کتوں کے خلاف جہاد کرنے کا سناتے رہتے ہیں پھر وہ کون سے کتے ہیں جن کی دم پر آپ نے اپنے ہر دوسرے کالم میں پاؤں رکھا ہوتا ہے“ ۔

بیگم کی یہ بات سن کر میں نے کہا ”اؤے اللہ میاں کی گائے! وہ علامتی کتے ہیں لیکن یہ باریک بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی“ ۔ اس پر بیگم سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ کر مجھے بڑی سنجیدگی سے کہنے لگی ”یہ باریک بات مجھے سمجھنی بھی نہیں ہے البتہ میں آپ سے یہ ضرور کہوں گی کہ آپ ماشاء اللہ سے چار عدد بچوں کے باپ ہیں وہ آپ کے یہ سنہری خیالات سنیں گے تو کیا سیکھیں گے؟“ ۔ اس پر میں نے کہا ”ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں ایک شاعر ادیب، کالم نگار اور استاد کے طور پر میں نے زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ علم و ادب اور اصولی صحافت کی خدمت میں گزار دیا ہے لیکن بدلے میں مجھے خالی واہ واہ اور چند ایک ایوارڈز کے کیا ملا ہے؟

ابھی تک کرائے کے گھر میں رہتا ہوں اوپر سے بچوں کے سکول کالج کی فیسوں، بجلی، گیس کے بلوں اور مہنگائی نے جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ سوچتا ہوں آج اگر میں ایک نامی گرامی بدمعاش ہوتا تو تمہیں اور میرے بچوں کو ان محرومیوں کا سامنا تو نہ کرنا پڑتا، مختلف شہروں کے پوش علاقوں میں ہمارے بڑے بڑے گھروں، زمینوں اور فیکٹریوں کے ساتھ کروڑوں، اربوں کا بینک بیلنس ہوتا، بے شمار نوکر چاکر اور باڈی گارڈ ہوتے، بچے باہر کے ملکوں کی مہنگی ترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے، شہر کے بڑے بڑے سیاسی و غیر سیاسی لوگوں میں ہمارا اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔“۔ ابھی میری بات جاری تھی کہ بیگم اسے درمیان میں کاٹ کر بولی ”آپ کو کس نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے بدمعاش ہونا ضروری ہے؟“ ۔ میں نے کہا ”زندگی کے اتنے برس ایمانداری کے ساتھ محنت مزدوری میں ضائع کرنے کے بعد میں تو اسی نتیجے پر پہنچا ہوں“ ۔ یہ سن کر اس نے کہا ”آپ کو پتا ہے یہ بدمعاش لوگ معصوم اور کمزور لوگوں کے ساتھ کس قدر ظلم زیادتی اور لوٹ مار کرتے ہیں؟“ ۔ میں نے کہا ”شاندار اور شاہانہ زندگی گزارنے کے لئے یہ“ کڑوا گھونٹ ”تو پھر بھرنا ہی پڑتا ہے“ ۔

”اور آپ کے خیال میں ملک میں قانون اور انصاف نافذ کرنے ادارے ملک میں ایسی لوٹ کھوسٹ اور غنڈہ گردی پر خاموشی سے تماشا دیکھتے رہیں گے؟“ بیگم کے اس معصومانہ سوال پر میں معنی خیز انداز میں ہنس دیا۔ میری ہنسی میں چھپی تلخی کو سمجھ کر وہ کہنے لگی ”چلیں مان لیا اس دنیا میں کوئی تگڑا شخص انصاف اور قانون کو اپنی طاقت، اختیار اور دولت کے بل بوتے پر کسی طریقے سے خرید لے گا مگر روز حشر وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے ظلم اور زیادتی کا کیا جواب دے گا؟

“ ۔ میں نے ایک بار پھر مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ”یہ بتاؤ مولانا طارق جمیل صاحب کا نام سنا ہے تم نے“ ۔ وہ کہنے لگی ”کیوں نہیں مولانا بہت بڑے عالم دین ہیں میں اکثر ٹی وی چینلز پر ان کا بیان بڑے شوق سے سنتی ہوں“ ۔ اس پر میں نے کہا ”پھر تو تم نے ان کے وہ بیان بھی ضرور سنے ہوں گے جس میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ“ گنہگار سے گنہگار شخص بھی جب حج کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیتے ہیں ”۔

“ بیشک اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے مگر جس قسم کے گناہوں کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان کا تعلق حقوق العباد سے ہے ان گناہوں کی معافی کے لئے صرف حج ہی کافی نہیں ان کا ازالہ اور جن کے ساتھ ظلم زیادتی کی گئی ہو ان سے معافی مانگنا بھی ضروری ہے ”۔ بیگم نے مجھے فوراً درست کیا۔ یہ سن کر میں نے منہ بناتے ہوئے کہا“ مگر میں نے آج تک کسی عالم کے منہ سے یہ نہیں سنا ”۔ اس پر بیگم مسکراتے ہوئے کہنے لگی“ ان باتوں سے کتابیں بھری ہوئی ہیں اور ہمارے علمائے حق بھی اپنے خطبوں میں ان کا اکثر بیان کرتے ہیں لیکن ہم لوگوں کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی بھی صرف وہ باتیں سنتے اور یاد رکھتے ہیں جو ہمارے دل کو بھاتی ہیں اور ہمیں علما بھی وہ پسند ہیں جو ہماری پسند و ناپسند کا پورا خیال رکھتے ہیں ”۔

Facebook Comments HS