بھول
بھادوں کی تپتی دوپہر میں، وہ پینسٹھ سال کا بوڑھا شخص، پسینے سے شرابور، ننگے سر ہانپتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتا، ایک گلی سے دوسری گلی سے سر جھکائے گزرے جا رہا تھا۔ یہ شہر کا پررونق بازار تھا، لیکن گرمی اور حبس کی شدت اس زوروں پر تھی، کہ لوگ دکانیں بند کر کے، اپنے اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے اور اب بازار میں چند اکا دکا دکانیں ہی تھیں جو کھلی تھیں اور دکاندار وہاں بیٹھے جمائیاں لیتے ہوئے، گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔ ایسے عالم میں جب وہ اس بازار میں داخل ہوا، تو ہر دکاندار دیدے پھاڑ کر، اُسے یوں حیرانی سے دیکھ رہا تھا جیسے، وہ کسی اور سیارے سے آ دھمکا ہو اور ابھی حملہ آور ہو کر، بازار کے در و بام ہلا کے رکھ دے گا۔
” بھائی صاحب! ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس مل جائے گا“ ، وہ شخص ایک کپڑے کی دکان کے آگے جاکر کھڑا ہو گیا اور دکاندار سے ایک گلاس پانی مانگا۔ ”اوئے چھوٹے، بزرگوں کو پانی تو پلا ذرا“ ، دکاندار نے چھوٹے بچے کو آواز دی، جو سوٹ تہہ کر کے رکھ رہا تھا۔ ”اچھا بھا جی“ ، اور پھر اُس نے کولر سے یخ بستہ پانی کا ایک گلاس پھر کر، اُس شخص کو دیا۔ اُس نے غٹاغٹ وہ گلاس یوں حلق میں انڈیلا، جیسے وہ نہ جانے کب کا پیاسا ہے۔ ”جیتے رہو، میرے بچے۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے“ ، اُس نے گلاس بچے کو واپس لوٹایا اور پھر دوبارہ اپنی منزل کی جانب تازہ دم ہو کر، اُسی رفتار کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ وہ کچھ دیر اور مرکزی بازار میں چلتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایک تنگ و تاریک گلی میں مڑ گیا، جہاں دو انسان اگر آمنے سامنے آ جائیں تو اُن کا گزرنا محال ہوتا ہے۔
” اشرف بھائی! اشرف بھائی!“ ، وہ شخص اسی نیم تاریک گلی میں ایک متوسط درجے کے مکان کے آگے کھڑا کسی کو اونچی آواز میں نام لے کر پکار رہا تھا۔ گلی میں چونکہ سناٹا تھا، سو اُس کی آواز سن کر اشرف بھائی تو نہ آئے، البتہ پڑوس والے بھائی صاحب بنیان اور شلوار میں ملبوس، سر کھجاتے ہوئے دروازے سے باہر آ گئے۔ اُن کی آنکھیں ادھ کھلی تھیں جس کا مطلب وہ نیند سے بیدار ہو کر آرہے تھے۔ ”ارے بھائی صاحب! کیوں تنگ کر رہے ہو۔ یہ دیکھو ساتھ میں گھنٹی لگی ہوئی ہے۔ گھنٹی بجاؤ، بندہ باہر آ جائے گا۔ کیوں سارے محلے کو بیدار کر کے، اُن سے مغلظات سنتے ہو“ ، بھائی صاحب نے لکھنوی اردو میں اُن صاحب کو سمجھایا، تو اُسے اپنی غلطی کا اچھی طرح احساس ہو گیا۔ ”جی قبلہ! معاف کر دیجیے۔ بس بندہ خطاکار، نسیان کے مرض میں مبتلا ہے اور سہوا بھول ہو گئی۔ ورنہ بخدا میں نے یہ قصدا نہیں کیا تھا“ ، اُس نے بھی جب لکھنوی لہجے کے ساتھ جواب دیا تو بھائی صاحب ٹھنڈے ہو گئے اور خاموشی کے ساتھ اندر جاکر، کواڑ کو مقفل کر دیا۔
اُن کے جانے کے بعد اُس نے گھنٹی بجائی اور دوسری مرتبہ بجانے پر، اشرف صاحب برآمد ہوئے، جو کانوں کے ساتھ بلیو ٹوتھ لگائے کسی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے جب موصوف کو دیکھا تو بات چیت وہیں منقطع کی اور موبائل کو جیب میں ڈال دیا۔ ”ارے قبلہ فراخ الدین صاحب! زہے نصیب، زہے نصیب۔ آپ اس وقت یہاں؟ اتنی گرمی میں؟“ ۔ اشرف صاحب نے مصافحہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ”بھائی معاملہ ہی ایسا تھا کہ اس گرمی میں پیدل چل کر آنا پڑا“ ، فراخ الدین صاحب نے چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے نحیف سی آواز میں بتایا، جو پسینہ زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اب اتنے لاغر ہوچکے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی یہیں گر جائیں گے۔ ”اچھا چلیں۔ اندر تشریف لائیں“ ، اور پھر وہ انہیں اندر لے آئے اور اپنے کمرے میں بٹھا دیا، جہاں کتابوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ ”آپ بیٹھیں اور میں آپ کی تواضع کے لئے کچھ لاتا ہوں“ ، یہ کہہ کر وہ صاحب چلے گئے، جبکہ فراخ الدین صاحب بستر پر ڈھیر ہو کر، سستانا شروع ہو گئے۔
” اب بتائیے ایسی کون سی ضرورت آن پڑی کہ آپ کو اس گرمی میں آنا پڑا۔ ویسے یقین جانیں میں آج آپ کو بہت مس کر رہا تھا“ ، فراخ الدین صاحب نے ماتھا اچکاتے ہوئے اُسے دیکھا۔ ”دراصل آج ہی میں سوچ رہا تھا کہ آپ کا وجود ہم جیسے نالائقوں کے لئے کس قدر غنیمت ہے۔ اگر آپ اس شہر میں نہ ہوتے تو مجھ جیسے ناچیز شاعری کی اصلاح کہاں سے لیتے؟“ ، اشرف صاحب نے شربت کا گلاس ہاتھ میں پکڑے اُن کی شان میں قصیدہ گوئی کی، جو مومن خان مومن کا دیوان دیکھنے میں مگن تھے۔ ”ارے بھائی کیوں شرمندہ کرتے ہو۔ میں نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ جو آتا ہے یا معلوم ہے وہ بتا دیتا ہوں“ ، انہوں نے کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے جواب دیا۔
”اچھا اب آپ بتائیے کہ آپ کیسے آئے؟“ ۔ اشرف صاحب نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے پوچھا۔ ”بھائی اشرف! بات یہ ہے کہ مجھے شعراء کی عالمی کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے۔ جو چند دن بعد دارالحکومت میں منعقد ہو رہی ہے۔ بس آپ سے اتنی درخواست ہے کہ آپ میرے ہمراہ جائیے گا اور وہاں جب میں اپنا کلام پڑھوں گا تو میری فوٹو اتار لیجیے گا اپنے موبائل سے“ ، فراخ الدین صاحب نے التجائیہ لہجے میں درخواست جب کی تو اشرف صاحب نے سن کر سر جھکا لیا۔ ”آپ خاموش کیوں ہیں اشرف بھائی؟“ ، اُنہوں نے حیرانی سے استفسار کیا۔ ”ہوں۔ ہاں کچھ نہیں۔ ٹھیک ہے۔ جب آپ کہیں گے چل پڑیں گے۔ آخر آپ میرے استاد ہیں۔ آپ کی خدمت کرنا تو میرا فرض ہے“ ۔ اس کے بعد محفل برخاست ہو گئی۔ ”عالمی کانفرنس اور مجھے بلایا تک نہیں گیا۔ چلو کوئی بات نہیں دیکھ لیتے ہیں“ ، اشرف صاحب خود کلامی کرتے ہوئے سامنے میدان میں دیکھ رہے تھے، جہاں کسی نے گھاس کو آگ لگادی تھی۔
” جی تو ناظرین اب اس کانفرنس کے اختتام پر پاک و ہند کے دور حاضر کے ایک بہت بڑے شاعر، محقق اور نقاد جناب فراخ الدین صاحب سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں“ ، اس پر فراخ الدین صاحب اپنی نشست سے اٹھے اور تالیوں کی گونج میں سٹیج پر آ کر، ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا کلام سنانے کر، حاضرین سے خوب داد سمیٹنا شروع ہو گئے۔ اپنا کلام سنانے کے بعد وہ واپس اپنی نشست پر آ کر براجمان ہو گئے۔
” بھائی واہ! سر آپ نے تو آج کمال کر دیا۔ سب سے زیادہ داد تو آپ نے ہی سمیٹی“ ، اشرف صاحب کھانے کی میز پر اُن کو بتا رہے تھے۔ ”قبلہ وہ تو ٹھیک ہے مگر لائیے میرا فوٹو تو مجھے دکھائیے“ ، فراخ الدین صاحب نے نہایت بے چینی سے کہا۔ ”اوہ میرے خدا! وہ تو میں بھول ہی گیا تھا“ ، اشرف صاحب نے جب یہ کہا تو فراخ الدین صاحب نے وہیں کھانا چھوڑا اور چپ چاپ ہال سے باہر نکل گئے۔ جبکہ اشرف صاحب اپنی حسد کی آگ بجھا کر اب اطمینان سے کھانا کھا رہے تھے۔


