کھلی آنکھوں کا خواب (6)۔
ہر دور میں حسین کا غم لازوال ہے :
حضرت عباس علمدار کے روضہ انور سے نکل کر صحن میں آئے تو بالکل سامنے سید الشہداء، امام عالی مقام کے روضۂ مبارک کی روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔ احمد نے بتایا کہ ان دونوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صفا و مروہ کے درمیان ہے۔ ہم سعی کے ایک چکر جتنا چلے۔ مسجد کے اندر تو ٹھنڈک تھی، باہر صحن میں آئے تو گرمی کی شدت کا اندازہ ہوا حالاں کہ رات کافی گزر چکی تھی بلکہ تاریخ بھی بدل گئی تھی۔ رات اور گرمی کی شدت کے باوجود کالے کپڑوں اور کالے عبایوں میں ملبوس مردوزن کی کثیر تعداد موجود تھی۔ میں جوگرز پہنے آرام سے چل رہی تھی مگر بیٹی کو فکر تھی کہ آسٹو پراسس کی مریض، سوجی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ ماں کو چلنے میں دشواری نہ ہو تو بار بار پوچھتی اور میں کہتی لو اس سے زیادہ تو ہر روز میں واکنگ ٹریک پر واک کرتی ہوں۔ یوں درود شریف کا ورد کرتے، بیچ بیچ میں باتیں کرتے، زائرین کو دیکھتے پہنچ گئے۔ جوتے اتارے جو سب اندر کمرے میں رکھنے چلے گئے۔ میں کھڑی تھی۔ کرسی پر بیٹھے متولی نے وہیل چئیر آفر کی۔ میں نے انکار کیا۔ وہیل چئیر پر بیٹھنے سے ویسے ہی مجھے خوف آتا ہے اور میں دعا کرتی ہوں کہ یا اللہ مجھے کبھی محتاج نہ کرنا، وہیل چئیر پر نہ بٹھانا۔
اپنے ایک عمرے کے دوران ہم ریاض الجنت جانے کے لیے ہال میں منتظر بیٹھے تھے۔ سحری کے لئے واپس ہوٹل بھی پہنچنا تھا۔ وقت کم اور ہجوم زیادہ تھا۔ پاکستان کے گروپ کی باری ویسے بھی آخر میں ہی آتی ہے۔ وہیل چئیر والوں کی لائن کو پہلے اور الگ راستے سے لے جایا جاتا ہے اور وہ آرام سے نوافل پڑھ لیتی ہیں۔ ادھر بھی عائشہ نے کہا، امی آپ وہیل چئیر پر بیٹھ جائیں تو میں آپ کو لے چلوں گی۔ رش بہت ہے، آپ گر نہ جائیں۔ تو میں نہیں مانی۔ تم فکر نہ کرو۔ میں چل لوں گی اور ان شاء اللہ آرام سے سلام ہو جائے گا۔ لہٰذا آج بھی شد و مد سے انکار کیا لیکن کچھ آگے چل کر جب احمد نے وہیل چئیر کا کہا تو کسی فرمانبردار بچے کی طرح فوراً مان کر وہیل چئیر پر بیٹھ گئی کہ جالیوں تک پہنچنے کے لئے فاصلہ اور رش زیادہ تھا۔ وہیل چئیر پر بیٹھ کر دعائیں کرتے ہوئے جلد ہی ضریع کے پاس پہنچ گئے۔ یہ سارا سرخ سرخ روشنی سے خون کا تاثر دے رہا تھا۔ اس کی سرخی دل کو رنجیدہ کرتی تھی کہ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا۔ قتل گاہ حسین مذبح حسین
مجھے کچھ سمجھ نہ آئی۔ بیٹی نے بتایا کہ یہ میدان کربلا کا وہ حصہ ہے جہاں نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول امام عالی مقام کو حالت سجدہ میں شہید کیا گیا۔ آہ۔ وہ حسین جس کو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنا لعاب دہن چٹایا جو ان کی آنکھوں کا نور اور دل کا ٹکڑا تھے۔ دو رانِ نماز حسنین آپ کی کمر پر چڑھ جاتے تو آپ سجدے کو طول دے دیتے۔ محبوبِ ربِ کائنات کبھی ان کے لئے گھوڑا بن جاتے اور ان کو کمر پر لئے لئے سیر کرواتے۔ ایک دفعہ اس حالت میں دیکھ کر ایک صحابی بولے، واہ کیا سواری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ دیکھو سوار بھی کیسے ہیں۔ اللہ اللہ
سبحان اللہ سبحان اللہ۔ دوش محمد ﷺ کے سوار کی بھی کیا شان ہے۔ جگر گوشۂ بتول، نور عینِ رسول ﷺ، پسرِ حیدر کرار اور جو انِ جنت امام حسین علیہ السلام کے مرتبے اور مقام کو کوئی قلم بیان نہیں کر سکتا کہ وہ صورت اور سیرت میں خاتم النبین رسول عربی ﷺ کی شبیہ تھے۔ جس طرح آپ جیسا کوئی نبی نہ آیا نہ آئے گا۔
حسن یوسف، دم عیسی، ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
جیسے آپ ﷺ کی ذات و حیات مبارکہ جامع صفات جامع کمالات تھی تو آپ ﷺ کے جگر گوشہ حسین کی شخصیت اور شہادت کامل، بے نظیر، یگانہ اور یکتا ہے۔ یہ مدرسہ شہادت مدرسہ انسانیت ہے۔ اقبال نے اسے ذبح عظیم قرار دیا۔ ان کا یہ شعر کیا ہی بصیرت افروز اور مکمل تشریح ہے۔
غریب و سادہ رنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
بڑے لوگوں کے امتحان بھی کڑے اور آزمائش بھی سخت ہوتی ہے۔ ابراہیم خلیل اللہ اپنے پسر اسماعیل کو خواب سناتے ہیں تو وہ والد کو بہت خوب صورت جواب دیتے ہیں کہ آپ نے جو خواب دیکھا وہ کر گزرئیے۔ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ پھر مشورہ دیتے ہیں کہ آپ مجھے منہ کے بل لٹا دیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ چہرہ دیکھ کر ارادہ متزلزل ہو جائے۔ ابراہیم علیہ السلام ایسا ہی کرتے ہیں اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر گلے پر چھری چلا کر پھینکتے ہیں۔ پٹی ہٹاتے ہیں تو اسماعیل زندہ و سلامت ہیں اور ان کی جگہ مینڈھا ذبح ہو کر پڑا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اسماعیل کی قربانی کو ذبح عظیم سے بدل دیا۔
اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ایک آخری پیغمبر خاتم النبین آتے ہیں۔ اسماعیل نے جس خوب صورتی سے یہ جملہ کہا کہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ خاتم النبین دین اسلام کے پھیلانے کے لئے ہر آزمائش، ہر امتحان سے گزرے۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ صبر و شکر کا مرقع ہے۔ آپ کے جگر گوشے حسن اور حسین آپ ﷺ کی گود میں پرورش پانے والے، صورت سیرت میں آپ سے مشابہ ہیں۔ وہ صبر جو ان کے جد امجد اسماعیل نے کیا، اس صبر کی انتہا اور کمال ہیں حسین۔
یوم عاشور عباس علمدار جیسا جری بھائی، قاسم اور علی اکبر جیسے کڑیل جوان، عون و محمد اور چھ ماہ کا علی اصغر اپنے سارے پیاروں کو شہید ہوتے دیکھتے ہیں۔ اف صبر کی انتہا اور اوجِ کمال ہے۔ پھر خود یزیدی افواج کے ساتھ جنگ میں تلوار کے وہ جوہر دکھاتے ہیں کہ فاتح خیبر کی یاد دلا دیتے ہیں۔ تین دن کی بھوک پیاس جوان اولاد بھائی بھتیجوں بھانجوں کی شہادت، خود جسم پر تیروں کے زخم مگر یادِ خدا سے غافل نہیں۔ زباں پر کوئی شکوہ نہیں۔ فریاد نہیں۔ تیروں اور برچھیوں کی بوچھاڑ میں بھی رب کے آگے سر بسجود سجدے کی حالت میں ہی قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر کے صبر کی انتہا، اوج کمال کو چھو لیتے ہیں۔
تلواروں کے سائے میں نماز کوئی پڑھ کر دکھائے۔ سورہ آل عمران میں نماز خوف کا بیان ہے کہ میدانِ جنگ میں نماز کس طرح ادا کی جائے۔ حسین نے اس آیتِ قرآنی کو میدان کرب و بلا میں نماز پڑھ کر عملی تفسیر کر کے نماز اور قرآن کی اہمیت واضح کی۔ اللہ اور نانا کے دین سے عشق کی داستان اپنے پاکیزہ لہو سے لکھ کر، نانا کے نور عین حسین نے اسلام کو حیاتِ نو دی اور صبر، شکر اور تسلیم و رضا کے اس اوج کمال کو پا لیا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہ ہے، نہ ہوگی۔ ان سارے خیالات کی یورش میں، جذبات کی شدت میں دنیاوی دعائیں تو بھول بھال گئی۔ اپنے پیارے نبی کے پیارے کے در پر کھڑے ہونے کا احساس ہی گنگ کر دیتا ہے۔ دعا کر کے باہر نکلے تو تھوڑے فاصلے پر اس محلے میں گئے جہاں عباس علمدار کا ایک بازو کٹ کر گرا تھا۔ وہاں یادگار بنی ہوئی ہے۔ دوسرا بازو اس سے آگے جا کر قلم ہوا۔ وہاں بھی ایسی ہی یاد گار ہے۔ دعا کر کے نکلے تو رات کے ڈیڑھ بجے تھے مگر لوگ آ جا رہے تھے۔ روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔
یا اللہ تو کتنا قدر دان اور کیسا مہربان ہے۔ کہ راہ خدا میں جان دینے والوں کی ایسی قدر دانی کہ امر کر دیا۔ کیا شان و شوکت، کیسی محبت، پذیرائی اور آنسوؤں کے نذرانے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ
(جاری ہے )

