بخت یوسف
آج کے یوسف کو کنویں میں پھینکنے والا کوئی نا تھا۔ انسان کی اس سے بڑی خوش بختی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا کوئی بھائی نا ہو۔
یعقوب اپنے بیٹے سے محبت کے لیے گاؤں بھر میں مشہور تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام یوسف رکھا تاکہ وہ مصری تاریخ میں بسی باپ بیٹے کی لازوال محبت دہرا سکے۔ یوسف بھی باپ سے لمحہ بھر جدا نا ہوتا تھا۔ باپ بیٹے کی یہ محبت دیکھ کر پورا گاؤں انہیں یعقوب ثانی اور یوسف ثانی پکارتا تھا۔ یعقوب نے پچیس برس کی عمر میں شادی کی اور شادی کے پہلے ہی سال اس کا بیٹا پیدا ہوا۔ بیٹا ابھی سات سال کا ہی تھا کہ اس کی بیوی چل بسی۔
گاؤں والوں، پڑوسیوں اور رشتے داروں کے بے حد اسرار اور گھر میں عورت کی ضرورت کے تحت اس نے دوسری شادی کر لی۔ دوسری شادی کو ابھی دو ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن جب وہ شہر سے واپسی پر اپنے بیٹے کی فرمائشوں کا ڈھیر اٹھائے گھر میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی چارپائی پر لیٹی ہوئی ہے اور یعقوب کا یوسف ہاون دستے میں نمک کوٹ رہا ہے۔ اس نے گھر میں داخل ہونے ہی سارا سامان ایک چارپائی پر رکھا اور گھر کی چھوٹی سی منڈیر کے پار آواز دے کر اپنے پڑوسی اور اس کی بیوی کو گھر میں بلا لیا۔ جب وہ دونوں منڈیر پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے تو اس کی بیوی لپک کر چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا دوپٹہ سر پر جمانے لگی۔
یعقوب نے کہا ”سوتیلے بھائیوں اور سوتیلی ماں میں کوئی فرق نہیں ہوتا البتہ مماثل بہت کچھ ہوتا ہے۔ تم دونوں گواہ رہنا میں نے اسے طلاق دی۔“
اس کی بیوی اور دونوں پڑوسی اتنے حیران تھے کہ ایک لفظ بھی نا بول پائے۔ یعقوب کو کسی طور یہ قبول نا تھا کہ اس کی بیوی چارپائی پر لیٹی رہے اور اس کا بیٹا ہاون دستے میں نمک کوٹے۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے پل بھر میں انتہائی فیصلہ کر لیا۔ یوسف کی خاطر یہ انتہائی قدم اٹھانے کے بعد نا اس نے خود شادی کا سوچا اور نا گاؤں میں کسی کی ہمت ہوئی کہ اسے اس کی بھری جوانی اور ضرورتوں کا احساس دلائے۔ اس کے بعد یعقوب نے خود تو شادی نہیں کی لیکن جب بیٹے کی عمر چوبیس برس کی ہوئی تو اس کی شادی کردی۔
پچاس برس کا یعقوب گھاس کا گٹھڑ اٹھائے ہانپتا ہوا پسینے سے تربتر گھر میں داخل ہوا۔ ایک زوردار آواز کے ساتھ گھاس کا گٹھڑ زمین پر آ رہا اور وہ خود ہانپتا ہوا چارپائی پر بیٹھ گیا۔ دوپہر کا ایک بج رہا تھا اس کی بہو کھانا تیار کر چکی تھی۔ اس نے لوٹے سے منہ ہاتھ دھوئے اور کھانے کی غرض سے چارپائی پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی بہو عجیب بے چین لگ رہی تھی۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ اس نے دال بھرنے کے لیے کٹورا اٹھایا تو وہ تین بار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا۔
جب وہ کٹورے میں دال بھر کر روٹیوں کی چنگیر اٹھائے چارپائی پر کھانا رکھنے لگی تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ یعقوب اسے حیرانی سے تک رہا تھا۔ بہو کھانا چارپائی پر رکھ کر جلدی سے کمرے میں چلی گئی اور دروازے کے پیچھے چھپ کر سسر کو دیکھنے لگی۔ یعقوب نے کھانا شروع کیا اور جب پہلا لقمہ منہ میں ڈالا تو بہو دروازے کے پیچھے باقاعدہ لرزنے لگی۔ پھر اس نے دوسرا لقمہ کھایا اور جب تیسرا لقمہ منہ میں رکھا تو ٹھٹک گیا۔
اسے دال کا ذائقہ پہلے لقمہ میں ہی عجیب سا لگا تھا لیکن اب اسے طبیعت میں بھی بے چینی محسوس ہونے لگی۔ اس کے چہرے پر ایک دم انتہائی غصہ نمودار ہوا اس نے دال کا کٹورا اٹھایا اور اتنی زور سے سامنے دیوار پر مارا کہ کٹورا تو دھاتی ہونے کی وجہ سے نا ٹوٹا لیکن دال اس طرح منتشر ہوئی جیسے یکسر غائب ہو گئی ہو۔ بہو کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر چکی تھی۔ کٹورا دیوار پر مارتے ہی یعقوب شدید غصے کی حالت میں دھاڑتا ہوا اٹھا اور تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا۔ وہ دوڑتا ہوا اپنے بڑے بھائی کے گھر میں داخل ہوا جو گلی میں ہی یعقوب کے گھر سے دو گھر چھوڑ کر واقع تھا۔
یہ محبت ہی ہے جس نے دنیا میں سب سے زیادہ دشمن پائے۔ سچی محبت دیکھ کر حاسد اپنے آپ پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر یعقوب اور یوسف کی محبت کی راہ میں حائل ہونے کے لیے حاسد بیٹے نا ہوں تو ایک بہو بھی یہ کمی پوری کر سکتی ہے۔
گھر میں بڑا بھائی تو موجود نا تھا لیکن بھابھی یعقوب کی حالت دیکھ کر اس کی طرف بڑھی۔
”یعقوب خان! کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟“
”یوسف کی بیوی نے مجھے زہر دے دیا“ یعقوب کی حالت غیر تھی۔
بھابھی نے یہ سنتے ہی یعقوب کو چارپائی پر بٹھایا اور فوراً چولہے میں لکڑیاں جلا کر ایک کیتلی میں پانی رکھ دیا۔ پھر بھاگتے ہوئے گئی اور کمرے سے اپنی جڑیں بوٹیوں کی پوٹلی اٹھا لائی۔ اس نے کیتلی میں ایک بوٹی ڈالی اور آگ کو دہکایا۔ جب بوٹی اچھی طرح ابل گئی تو اس نے دو کٹوروں میں انڈیلتے ہوئے قوام کو ہوا میں لہرایا تاکہ وہ جلد پینے کے قابل ہو سکے اور قدرے ٹھنڈا ہوتے ہی ایک بھرا ہوا کٹورا یعقوب کو پلا دیا۔ گرم قوام پیتے ہی یعقوب کو متلی ہونے لگی اور اس نے اتنی قے کی کہ دال کے دو نوالوں کے ساتھ صبح کا کھایا پیا بھی اگل دیا۔ اب بھابھی نے اسے نیم گرم دودھ کا ایک گلاس پلایا اور چارپائی پر لٹا دیا۔ کچھ ہی دیر میں یعقوب کی آنکھ لگ گئی۔
جب یعقوب جاگا تو بڑے بھائی کو اپنے سرہانے بیٹھا پایا۔ یعقوب کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر بڑے بھائی نے اس کی طبیعت کا پوچھا۔ یعقوب نے اثبات میں سر ہلا کر بتانا چاہا کہ وہ اب بہتر ہے اور اٹھ کر بیٹھنے لگا۔ بھائی نے سہارا دیا۔ بیٹھتے ہی یعقوب نے یوسف کو بلوا بھیجا۔ یوسف تایا کے گھر پہنچا تو اسے سمجھ نہیں آئی کہ اس کا باپ اس پر اتنا غصہ کیوں ہے۔ اس نے اپنے لیے یعقوب کا غصہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ تو بس اتنا جانتا تھا کہ اگر کبھی یعقوب کی بینائی چلی جائے تو وہ اسے اپنے کرتے سے واپس لا سکتا ہے۔
”اس کی بیوی اکیلے ایسا کبھی نہیں کر سکتی۔ اس نے ضرور یہ سب یوسف کی شہ پر کیا ہے“ یعقوب اپنے بھائی کو بتا رہا تھا۔ یعقوب نے اپنے بھائی سے گاؤں کے بزرگوں کو اکٹھا کرنے کو کہا کہ اب وہ تمام بڑوں کے سامنے ہی اپنا فیصلہ سنائے گا۔
شام کو جب گاؤں کے کچھ بزرگ اور معتبر لوگ جمع ہوئے تو یعقوب نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یعقوب جو برسوں سے یوسف کی محبت میں اندھا تھا آج اس کی نفرت میں کچھ نہیں دیکھ پا رہا تھا۔
یعقوب نے یوسف کو ہی اصل مجرم گردانا اور اپنا فیصلہ سنایا۔
” میں اب زندگی بھر کبھی یوسف کا منہ نہیں دیکھوں گا نہ اسے کبھی اپنا منہ دکھاؤں گا۔ ایک سال میں گاؤں بدر رہوں گا ایک سال یہ۔ سال پورا ہونے پر گاؤ میں داخل ہونے والا مشرقی راستے سے داخل ہو گا اور گاؤں چھوڑنے والا مغربی دروازے سے جائے گا تاکہ راستے میں سامنا ہونے کا احتمال نہ رہے۔ اور گاؤں بدر ہو نے کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ہم دونوں میں سے کوئی مر نا جائے۔“
یعقوب نے گاؤں چھوڑنے کا آغاز اپنے آپ سے کیا اور وقت اپنے کپڑے اور چند ضروری اشیاء ایک پوٹلے میں باندھیں اور نکل گیا۔
اتنا سخت فیصلہ سن کر گاؤں کے بزرگ بھی پریشان ہوئے۔ لیکن یعقوب کا فیصلہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیوں زیادتی اسی کے ساتھ ہوئی تھی۔
جب محبت نفرت میں بدلتی ہے یا نفرت محبت میں تو کیا شدت وہی رہتی ہے صرف جذبہ بدلتا ہے؟
محبت حوصلے کے بنا کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اور محبت انسان کے حوصلے میں اس وقت تک سما سکتی ہے جب تک اسے دل سے سوچا اور سمجھا جائے۔ جب محبت کو دماغ میں رکھا جانے لگے تو اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
نفرت کے گھر میں محبت کیسے رہ سکتی ہے!
محبت نے ہمیشہ سے دکھ جھیلے ہیں۔ سزائیں کاٹی ہیں۔ یہ درد ہی ہے جس نے محبت کو اتنا معتبر اور عظیم بنا دیا ہے۔ لیکن نفرت کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟
قدرت نے ہر شے کی ایک ساخت بنائی ہے۔ سخت، نرم، بھربھری، ملائم، کھردری، مائع۔ لیکن دل کی ساخت کون بتا سکتا ہے؟ جو کبھی موم بن جاتا ہے اور کبھی پتھر۔
تاریخ میں بسی کہانی میں یعقوب، یوسف کی محبت میں غم کے مارے اندھا ہو گیا تھا لیکن آج کی کہانی میں یوسف کے دل کو غم نے گھیر لیا۔ یوسف کبھی اپنے باپ سے الگ نہیں ہوا تھا نہ کبھی اس نے ایسا سوچا تھا۔ باپ سے بچھڑنے کا غم اس کے اندر ایسا بیٹھا کہ وہ سنبھل نہیں سکا۔ یوسف صرف ایک ہی سال گاؤں چھوڑ کر جا سکا اور اگلے ہی سال گاؤں چھوڑنے سے پہلے ہی دنیا چھوڑ گیا۔ یعقوب کو اطلاع بھیجی گئی کہ وہ گاؤں آ سکتا ہے کیوں کہ یوسف نہیں رہا لیکن یعقوب نے کہا کہ وہ نہیں آئے گا جب تک کہ یوسف کو دفنا نہ دیا جائے۔
یوسف کا جنازہ تیار تھا لوگ اسے اٹھائے قبرستان کی طرف چلے جا رہے تھے۔ یعقوب پہاڑ کی چوٹی کے پیچھے بیٹھا قبرستان کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے یوسف کو لوگ زمین میں اتار رہے تھے لیکن وہ ایک قدم آگے نہیں بڑھا۔ جب گاؤں والے قبر کو مٹی سے ڈھک کر چلے گئے تو کافی دیر بعد یعقوب دھیرے دھیرے نیچے اترا اور خاموشی سے قبر کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں صحرا کی طرح خشک اور خاموش تھیں۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ قبر کی مٹی پر رکھے اور مٹی کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ لیا۔ وہ قبر کی مٹی کو اپنے چہرے تک لایا اور اپنی آنکھوں پر رکھ دیا۔ اسے ایسا لگا جیسے اس کی بینائی واپس آ گئی ہو اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔


