فلم زندگی تماشا اور طفیلی کیڑے


اب تک تو ہم سب نے فلم ”زندگی تماشا“ دیکھ رکھی ہوگی۔ اس فلم کو ان لوگوں نے بھی دیکھ لیا جو بیتابی سے اس کے بڑے پردے پر آنے کے منتظر تھے اور فلم کو ان سب نے بھی دیکھ لیا جو اس فلم کی بندش میں پیش پیش تھے۔ ان سب نے بھی یقیناً دیکھ لیا ہو گا جو اس فلم کو دیکھنا گناہ کبیرہ اور اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس فلم کو انہوں نے بھی دیکھ لیا جن کو اس فلم کے آنے کا صرف اس لئے انتظار تھا جو اس میں سماج میں بھگار کھاتے مسئلہ پر بنی کہانی سمجھتے تھے۔

فلم کو دیکھ کر ان دونوں طبقات کو خاصی مایوسی ہوئی۔ وہ قدامت پرست طبقہ جن کو لگتا تھا کہ شاید یہ فلم صرف اور صرف خاص مقصد سے مذہبی طبقے پر تنقید کی غرض سے بنائی گئی ہے وہ بھی خاصے مایوس نظر آتے ہیں اور وہ جدت پسند طبقہ جن کو لگتا تھا کہ یہ فلم خاص طور پر توہین مذہب کے موضوع کو لے کر بنائی گئی ہے وہ بھی مایوس ہیں۔ اس لئے جہاں فن اور معاشرتی موضوعات پر نظر رکھنے والے افراد اس فلم کو داد دے رہے ہیں، وہیں یہ دونوں طبقات اس پر تنقید بھی کرتے نظر آئے۔

کسی نے کہا کہ ایسی فلم کی پاکستانی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں تو کسی نے یہ کہہ کر اپنا فرض پورا کیا کہ اس فلم کو صرف غیر پاکستانی ناظر کے لئے بنایا گیا تھا۔ پنہاں اور عیاں ہو کر دونوں طبقات کے لوگ زندگی تماشا پر ہی گفتگو کرتے نظر آئے۔ مختصراً، اس فلم کی کہانی روز اول سے فہم کی قلت کی نشانہ بنی ہے۔ جہاں فہم کا قحط ہو وہاں شدت پسندی اور جہالت کی بہاریں پھوٹا کرتی ہیں اور یہی کچھ پاکستان کی اس فلم، فلم ساز اور فنکاروں کے ساتھ ہوا ہے۔

ہم ہمیشہ خود سے بھرپور نفرت ہی کرتے آئے ہیں۔ ہمیں اپنے چار موسموں اور سر سبز پہاڑوں سے تو باتوں میں محبت رہی ہے مگر اپنوں کو غم اور شکست دینے میں بھی خاصی مہارت رکھتے ہیں۔ اپنی تنزلی اور بگاڑ کو رومانس میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم سمندری جانداروں کے گوشت کے ساتھ چپکے طفیلی کیڑے یا پیراسائٹ کی سی مثال بن گئے ہیں۔ ہمیں ملالہ اچھی نہیں لگتی خواہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہماری قوم کی واحد پہچان ہی کیوں نہ ہو۔

اسی طرح ہمیں بین الاقوامی سطح پر نہ مہوش حیات پسند آتی ہے نہ ماریہ طور چاہے دنیا ان کے ہنر، صلاحیت، یا حسن کی کتنی دلدادہ کیوں نہ ہو۔ ہم دراصل حسد کے بھی شکار ہیں اور باقی ہمیں عقائد کی شدت پسندی لے ڈوبی ہے۔ ہماری انسانیت کی نظر ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور پڑتی جا رہی ہے اور جو عینک ہم کو لگی ہے وہ شدت پسندی اور تخصیص کے علاوہ کچھ اپنے میں جذب نہیں کرتی۔

اس سب میں سب سے دل سوز بات یہ تھی کہ ایک محنتی، ہنر مند پاکستانی فنکار اور فلم ساز کو ہر دوسرے ذرائع پر آ کر یہ کہنا پڑ رہا تھا کہ ان کی بنائی ہوئی فلم کو ٹورنٹ پر نہ دیکھا جائے۔ اس سے بڑھ کر فن اور فنکار کی توہین کرنا ناممکن ہے۔

فم ”زندگی تماشا“ کا موضوع مذہب تھا نہ مذہبی طبقہ۔ اس فلم کا تعلق کسی نظریہ یا سوچ سے ہرگز نہیں تھا۔ اس فلم میں نہایت سادگی سے ایک ایسے شفیق باپ اور پیار کرنے والے شوہر کی کہانی بتائی گئی ہے جو اس ملک کی اکثریت میں بیویاں اور بیٹیاں حسرت کرتی ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے جائیداد کی خرید و فروخت کا کام کرتا تھا اور شوق سے نعت خواں تھا۔ وہ اس قدر معصوم تھا جو لوگوں کے جھٹلائے جانے کے باوجود ان لوگوں سے اچھائی کی امید رکھتا تھا۔

اس کی اجازت کے بغیر ایک شادی پر اس کی ناچتے ہوئی ویڈیو ایک ناخلف لڑکا انٹرنیٹ پر ڈالتا ہے جو راتوں رات وائرل ہوتی ہے۔ جن لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنا اجازت کے انٹرنیٹ پر کروڑوں لوگوں کی مذمت، نفرت، اور مذاق کا باعث بنی ہوں، اس قرب کو وہی لوگ جانتے ہیں۔ جن عام لوگوں کو ہم نے آج تک ”میم“ بنا رکھا ہے، ان لوگوں کی بیٹیوں کے رشتے ٹوٹے اور بیٹوں کے کاروبار خراب ہوئے۔ آج کروڑوں لوگ ان وائرل ہوئی ویڈیوز کو دیکھتے اور ٹھٹھہ مذاق کرتے ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ دنیا سے بھی گزر چکے ہیں۔ اس کی مثال وقت نیوز کی وائرل ہوئی کراچی کی ضعیف خاتون کی بھی ہے۔

فلم ”زندگی تماشا“ ایک لمحے میں سینکڑوں زخموں کو جھنجھوڑ کر ان کے مندمل ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے مگر ہماری ہم سے نفرت، جہالت، اور مردہ فہم کی بدولت سماج کے جسم پر ابلتے پانی کو گرنے سے روکنے والوں کے احسن اقدامات کو اٹھنے سے پہلے ہی توڑ دیا جاتا ہے۔ فیصلہ بہت شفاف ہے کہ گوشت پر چپکے طفیلی کیڑوں کا کرنا کیا ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments