اسٹریٹجک ڈیپتھ سے اسٹریٹجک ڈیتھ کا سفر
پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر تفہیم کی غرض سے غالباً جو لفظ بہتر بیان کرتا ہے بدقسمتی وہ لفظ ’بحران‘ ہے۔ اس لاحقے کے ساتھ آپ، میں ہم سب نے متعدد سابقے سنے اور خود بھی لگائے مگر بحران ہے کے کہرام مچا کر بھی ٹلنے کا نام نہیں لے رہا۔ کسی بحران کو بہتر حکمت عملی کے ساتھ ختم یا قابو کیا جا سکتا ہے بشرط کے بحران کے خلاف طاقت رکھنے والے اسے کم یا ختم کرنے کے لئے سنجیدہ ہوں۔ کچھ بحران چنیدہ طبقے کے لیے منفعت بخش بھی ہوتے ہیں۔ یہ طبقات بحرانی کیفیت سے مال بٹورتے ہیں۔ وطن عزیز کو اس بحرانی کیفیت میں کیوں رکھا گیا اور تاحال کیوں رکھا جا رہا ہے؟ اس بحران کی نگہداشت اور گلہ بانی کس نے کی؟ محض ان دو سوالوں کا کھرا اگر آپ کو مجھے مل جائے تو آج کی یہ مشق ہے ثمر نہ ہوگی۔
ملیحہ لودھی اپنی کتاب پاکستان بحران سے بالا تر ریاست ہے میں ایک باب مالیخولیا پر رقم کرتی ہیں۔ مالیخولیا یعنی خلل دماغ، وسوسہ، پاگل پن وغیرہ۔ اس باب میں ملیحہ لودھی تفصیل سے ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ بحران کی ابتدائی لاٹ جو پاکستان کو جہیز میں ملی کی داغ بیل کیسے ڈالی گئی۔ پڑوسی ملک بھارت سے خطرۂ جان، خطرۂ مال، خطرۂ آبرو، رفتہ رفتہ ریاست کی بہتری کی امید کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر لے گیا۔ عدم تحفظ کی فکر نے ریاست کو فلاحی ریاست کے بجائے ایک سکیورٹی اسٹیٹ میں بدل دیا۔
معاشی، سماجی اور سیاسی فکر کو ایک طرف رکھ کر ریاست نے لٹریچر سے لے کر حمام کی دکان تک کی بحث میں بھارت کو خطرہ جان ثابت کیا۔ مذکورہ کتاب کے اس باب کا اختتام اس ’لے پالک‘ بحران کو ریاستی دماغی خلل قرار دیتا ہے جو کے آج ہم عملاً ملاحظہ بھی فرما رہے ہیں۔ خود سے ہر لحاظ سے بڑی ریاست کو ہر وقت اپنے مد مقابل سمجھنا اور عدم تحفظ کا مالیخولیا پروان چڑھانا ہمیں کسی مثبت اور تعمیری عمل سے مسلسل بیگانہ کیے رہا۔
پاکستان کی بنیاد سے لے کر لحمہ موجود تک ایک بات جو ہم ہر لحظہ سنتے آئے ہیں، وہ ہے اداروں کی تنزلی۔ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ تمام اداروں کی مجموعی تنزلی البتہ یہاں ایک ادارہ پھر بازی لے گیا اور بیرونی بحران کے مالیخولیا کی آڑ میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا۔ گو کہ یہ برتری محض مالی برتری تھی اور اپنی ساکھ پر ریاستی ساکھ کی بلی دینے کی برتری تھی سو ایک ادارہ چلا اور ملک بطور انجن اس ادارے کے پیچھے لمبی پٹڑی پر ہچکولے کھاتا رہا۔ یہ بحران سے نبھا کر لینے کی ریاستی حکمت عملی تھی کو تاحال بھی ویسی ہے۔ گویا ملک کا نظم سات دہائیوں میں بے ہنگم رہا اور ایک ادارہ یعنی عسکری تنظیم منظم سے منظم تر ہوتی چلی گئی۔
پاکستان میں عسکری ادارے کی تنظیم، ڈھانچے اور رسوخ کو دیکھا جائے تو ایک سادہ دل شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ عمارت انگریز کے تجویز کردہ اصولوں پر استوار کی گئی یعنی ساخت کے اعتبار سے یہاں بھی محض سابقہ لفظ ’پاک‘ کا تھا، باقی تمام نظم پاکی عوام سے خود کو ممتاز رکھنے اور سمجھنے کے اصولوں پر استوار رہا۔ قیام پاکستان کے بعد مملکت کے حجم کے اعتبار سے کثیر تعداد فوج نے امور مملکت کے داخلی، خارجی، انتظامی، مالی حتی کہ سماجی معاملات بھی اپنے تابع کیے ۔
اگر ریاست تہیہ کر لے کہ لوگوں کو عقل، تنقیدی سوچ، بردباری، سائنس وغیرہ کی طرف لانا ہے تو یقیناً یہ کام آسانی سے کیا جا سکتا ہے ساتھ ہی ساتھ اگر ریاست چاہے تو ریاستی سرپرستی کے باعث عام لوگوں کو لاتعداد فضول اور واہیات باتوں پر یقین بھی دلایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ریاست پاکستان نے اوالاذکر کو خیر باد کہہ کر مؤخر الذکر کو ہی اپنانا موزوں جانا۔ عدم تحفظ کے خوف نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کیں اور پاکستان نے بطور ایک عسکری ریاست کے عالمی دنیا میں شناخت اپنائی۔
عائشہ صدیقہ اپنی کتاب خاکی کمپنی ( پاکستان میں فوجی معیشت کا جائزہ) میں لکھتی ہیں کہ فوجی کمپنیاں حکومت کے ساتھ مل کر منافع بخش سرگرمیوں میں ملوث تھیں۔ اس کتاب میں محض سنہ 1997 6 سے 1999 6 تک کے اعداد و شمار کے مطابق آرمی ویلفیئر ٹرسٹ نے دیگر شوگر ملز کے ساتھ مل کر تین ارب روپے میں کوئی تین لاکھ ٹن شکر بھارت کو فروخت کی۔ اندازہ رہے کے یہ حسن کارکردگی مبلغ دو سال کی رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ نوے کے عشرے سے لے کر فوج کا کردار جائیدادوں کی خرید و فروخت میں بھی انتہائی مشتبہ رہا ہے۔ اپنے لوگوں کو مکانات فراہم کرنے، رہائشی منصوبے لگانے سے لے کر پلاٹس کی منتقلی فوج کی اہم کاروباری سرگرمی رہی۔
عسکری پاکستان میں آپ کو صرف خاکی باشندے ملیں گے جو اس ریاست کے عوام سے ہمدردیاں اور دعائیں بٹورتے نظر آئیں گے۔ قدرتی آفات ہوں یا کمرشل عمارتوں کے انہدام میں ملبے تلے دب جانے والے لوگوں کے لئے امدادی سرگرمی کا کام، جہادی پالنے ہوں یا مارنے ہوں، شوگر ملیں لگانی ہوں، سیمنٹ کی فیکٹریاں چلانی ہوں بنک چلانے، بیکریاں، ہسپتال، اسکول، کھادیں، پیزے تمام امور ون ونڈو آپریشن میں عسکری سرپرستی میں پنپتے ہیں۔ دیگر خدمات میں کبھی دس سال بعد حکومت کرانی ہو خاکی کمپنی لمیٹڈ ریاست کے جملہ آئینی اور غیر آئینی امور سرانجام دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریٹائر ہو کر بھی ریٹائر نہ ہونا خاکی کمپنی نے ایک خاص ہنر متعارف کروایا ہے۔
پاکستان کے اس ہمیش بحران میں ایک اور اصطلاح جو سننے کو عام ملی ’ففتھ جنریشن وار‘ ہے۔ اس وار کی نشر و اشاعت کا کام بھی پاکستانی فوج نے خود سنبھالا جس میں اپنے منظور نظر صحافیوں کو عدم تحفظ کا مالیخولیا بیچنے کے لئے آڑھت پر لیا گیا۔ اسی ففتھ جنریشن وار کا شاخسانہ ہے کہ موجودہ سپہ سالار ایک نیا اکنامک ویژن پیش کر رہے ہیں جس سے ملک کی ڈولتی ہوئی معاشی ساکھ کو سہارا ملے گا۔ یاد رہے کہ آج تک کے تمام سپہ سالار اپنی اپنی باری پر ایک نیا ویژن پیش کرتے آئے ہیں البتہ یہ الگ بات ہے کہ ان تمام تر وژنز کے باوجود قوم ویژن بلائنڈ ہو چکی ہے۔
سپہ سالار فرماتے ہیں کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ کو روکا جائے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کے کیا داخلی سکیورٹی میں تیل کی سمگلنگ کو روکنا فوج نے آج اپنی ترجیح میں شامل کیا؟ سات دہائیوں سے بنائی گئی اسٹرٹیجک ڈیپتھ کو اسٹرٹیجک ڈیتھ میں تبدیل کر دینے پر کمپنی کے پاس کیا جواب ہے؟ سپہ سالار اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کر کے اکنامک چیف بھی بن کر ابھرے ہیں مگر مینڈیٹ کو یکمشت بھلا کر اقدام کرنا کتنے بحرانوں کو مزید جنم دیتا ہے کیا اس بات کا ادراک کمپنی کو ہوا ہے؟
عسکری طالع آزما قوم کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ کوئی سیاست دان ریاست سے مخلص نہیں ہے مگر ساتھ ہی عسکری مقتدرہ یہ بات بھول گئی کے تمام سیاست دان انہی کے چھانٹی کردہ ہیں تو پھر قوم کے ساتھ یہ کھیل کیسا؟ اس بحران کو ٹالنے کے دعوے داروں کی ساکھ خود کس قدر کمزور ہے اور بحران کس کا پیدا کردہ ہے یہ راز اب راز نہیں رہا۔ مزید بحرانی کیفیت کی مسلسل یلغار سے بچنے کے لیے مقتدرہ کو لفظ ’مینڈیٹ‘ کی برکات کو سمجھنا ہو گا تاکہ مزید بحرانوں سے کنارہ کیا کا سکے


