نمک کا جیون گھر” ایک منفرد کتھا
نمک کا جیون گھر رفعت عباس کا پہلا سرائیکی ناول ہے جسے منور آکاش نے سرائیکی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ نمک کا جیون گھر اپنی نوعیت کا ایک منفرد ناول ہے۔ ایکا ایسا ناول جس میں ایک منفرد شہر، منفرد معاشرے اور منفرد لوگوں کا تصور بیان کیا گیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں نا مذہب ہے، نا موت ہے، نا جنگ ہے اور نا ہی خدا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں نا کوئی لیڈر ہے اور نا ہی کوئی جماعت لیکن اس کے باوجود وہ اپنے معاملات کامیابی سے چلاتے ہیں۔
جس میں تھیٹر ہی ان کی پارلیمنٹ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ باہر کی دنیا کا اثر تو قبول کرتے ہیں لیکن اس کی تقلید میں نہیں جاتے۔ ایک ایسا معاشرہ جس کے سامنے خدا جنم لیتے ہیں، مذہب وجود میں آتے ہیں لیکن ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک ایسا امن پسند معاشرہ جو مذہب کی عزت کرتا ہے اور جنگ سے دور رہتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو جنگ تلواروں سے نہیں بلکہ آرٹ سے لڑتا ہے۔
اس ناول میں دراصل تین ادوار ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ لونڑی واسیوں کا دور، لونڑی واسیوں سے باہر کی دنیا کا دور اور خود مصنف کا موجودہ دور۔ سولہ دریوں پر مشتمل اس ناول میں مصنف نے تقریباً چار ہزار قبل مسیح سے لے کر موجودہ دور کو چیدہ چیدہ بیان کیا ہے۔ اس میں مذہب کی ابتدا ہے تو ساتھ ہی کرشن وشنو کا ذکر ہے۔ مہا بھارت کا ذکر ہے تو اسلام کی آمد کا بھی ذکر ہے۔ محمد بن قاسم کے حملے کا ذکر ہے تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کا بھی ذکر ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود لونڑی شہر مذہب سے بھی محفوظ رہتا ہے اور جنگ سے بھی۔
لونڑی واسی صرف مذہب اور خدا سے ہی محفوظ ہونے تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ کائنات کی تسخیر بھی کر چکے ہیں۔ ان کے پاس ایسی گاڑیاں موجود ہیں جن پر وہ زمین سے چاند اور چاند سے آگے کی دنیا کا سفر کرتے ہیں بلکہ انہوں نے وقت کو بھی مات دے دی ہے اور وہ وقت سے آگے نکل کر اپنی کتھا کے راوی سے ملاقات کرتے ہیں۔
غرض یہ کہ رفعت عباس نے اپنے ناول میں ایک ایسے مثالی معاشرے کی تصویر کھینچی ہے جس میں امن ہے، محبت ہے اور بھائی چارہ ہے۔ جو مذہب، خدا اور جنگ سے کوسوں سے دور ہے۔ رفعت عباس کے اس معاشرے کا قیام اب بھلے ہی ممکن نا ہو لیکن رفعت عباس اور ان جیسے کئی دیوانے اب بھی اس کا خواب دیکھتے رہیں گے۔


