ہابیل اور قابیل: جیک لنڈن کی ایک کہانی


وہ اسے دروازے پر کھڑی ملی۔
”تم کچھ جلدی نہیں آ گئے جارج؟“

”جلدی کہاں؟ ساڑھے آٹھ تو ہو گئے ہیں۔ اور ٹرین سوا نو بجے چل پڑتی ہے۔ اگر اگلی ٹرام نہ پکڑی تو ٹرین نکل جائے گی۔ کہاں ہے الیگزینڈر؟“

”میں ابھی بلاتی ہوں۔ “
لیکن وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپا نہ سکی۔
جارج نے نرم لہجے میں کہا۔
” فکر نہ کر و، شارلٹ۔ ڈاکٹر فرینکلن اپنے شعبے میں اونچا نام رکھتا ہے۔ الیگزینڈر ٹھیک ہو جائے گا۔“
شارلٹ کی آنکھوں کی نمی ٹپ ٹپ گرتے آنسوؤں میں بدل گئی تھی۔
”میں جانتی ہوں۔ لیکن وہ اکیلا کیسے یہ سختیاں جھیلے گا؟ اس میں تو اتنی سکت ہی نہیں۔“

”نہیں شارلٹ، وہاں کوئی سختیاں نہیں ہوں گی۔ وہ اکیلا نہیں، ڈاکٹر فرینکلن کی نگرانی میں ہو گا۔ اس جیسے ماہر ڈاکٹر بہت کم ہیں۔ اس کے پرائیویٹ ہسپتال کی دنیا بھر میں بڑی اچھی شہرت ہے۔ شراب کی علت سے نجات حاصل کرنے کا اس سے موثر علاج اور کہیں نہیں ہو سکتا۔“

”میں اسے لے کر آتی ہوں۔“

یہ کہہ کر شارلٹ بیڈ روم میں الیگزینڈر کو بلانے چلی گئی۔ جارج کمرے میں کھڑا خیالوں میں گم کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔

”ہیلو“
جارج کو ایک نحیف سی آواز سنائی دی۔
الیگزینڈر چل نہیں رہا تھا، اپنے آپ کو گھسیٹ رہا تھا۔ تھکے تھکے قدموں سے وہ جارج کی طرف بڑھا۔
”میں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔“
اس نے جارج سے آنکھیں ملا کر بات شروع تو کی لیکن پھر آنکھیں جھکا لیں۔
” میں ہسپتال نہیں جاؤں گا۔“

دونوں بھائی ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے تھے۔ ان میں کافی شباہت تھی۔ آنکھوں کی وضع تراش ایک سی تھی لیکن ایک کی آنکھوں میں اعتماد جھلکتا تھا اور دوسرے کی آنکھوں میں صرف مایوسی اور بے اعتمادی۔ دونوں کے خد و خال اور ناک نقشہ ایک دوسرے کی نقل لگتے تھے۔ لیکن چہروں پر تاثرات اتنے مختلف کہ لگتا تھا دو اجنبی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔

”میں ہسپتال نہیں جاؤں گا۔“
الیگزینڈر نے نظریں نیچی کرتے ہوئے کمزور سی آواز میں کہا۔

اس کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی۔ الیگزینڈر نے منت بھری نظروں سے اسے دیکھا کہ شاید اسے رحم آ جائے اور وہ اس کی حمایت کرے۔ جارج کھڑکی کے پاس سے اس کے قریب آن کھڑا ہوا اور بڑے سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔

”تمہیں پتہ بھی ہے کہ تم کہہ کیا رہے ہو؟ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟ کیوں جان بوجھ کر موت کو آواز دے رہے ہو؟ بے وقوف، کچھ تو عقل سے کام لو۔“

”مجھے پتہ ہے میں کیا کہہ رہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے میں کیا چاہتا ہوں۔ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے۔ صرف میرا پیٹ ذرا خراب ہے ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن میں مرنے کے لیے ہسپتال نہیں جاؤں گا۔ ہے نا شارلٹ؟“

اس نے بیوی کی طرف پھر رحم کی بھیک مانگتے ہوئے دیکھا۔
شارلٹ نے کوئی جواب نہ دیا۔ صرف جارج کی طرف دیکھا۔
الیگزینڈر اب طیش میں آ گیا تھا۔

”تم بہری تو نہیں ہو گئیں؟ تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے؟ میں اس کو بھی یہی بتا رہا تھا کہ میں نہیں جاؤں گا۔ ہرگز نہیں جاؤں گا۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔ سمجھ گئیں یا کسی اور طرح سمجھاؤں؟“

”لیکن الیگزینڈر تم نے تو خود کہا تھا۔“

”بند کرو یہ بکواس۔ میں نے کچھ نہیں کہا تھا۔ میں اب جو کہہ رہا ہوں۔ میں یہیں رہوں گا اور کسی حال میں ہسپتال نہیں جاؤں گا۔ سن لیا ہے یا نہیں؟“

وہ اب غصے کی شدت میں ہانپ رہا تھا۔ تھک کر صوفے پر ایسے جا کر بیٹھ گیا جیسے اب وہ یہاں سے اٹھے گا نہیں۔

لیکن ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ جارج تیزی سے اس کی طرف لپکا اور اپنی عقاب کے پنجوں جیسی لمبی پتلی انگلیوں سے اس کا گلا دبوچ کر اسے صوفے سے اٹھایا۔ اب اس کے دونوں ہاتھ الیگزینڈر کے کندھوں پر تھے۔ غصے میں دبی ہوئی آواز میں سانپ کی پھنکار تھی۔

” دیکھو الیگزینڈر، ہم ایک باپ کی اولاد ہیں۔ میں نے ہمیشہ تمہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھا ہے۔ اب تک میں نے تم کو اپنا بھائی سمجھ کر کچھ نہیں کہا۔ لیکن اب میں تم سے وہی سلوک کروں گا جس کا تم جیسا احسان فراموش شخص مستحق ہے۔ تم یہ بھول رہے ہو کہ تمہارا یہ گھر میرا ہی دیا ہوا ہے۔ تم میرے ٹکڑوں پر پل رہے ہو۔ شارلٹ نے میری بیوی اور اس کی سہیلیوں کی اترن پہنی ہوئی ہے۔ تمہارے بچوں کی کتابیں، سکول کی فیسیں، جوتے، کپڑے سب انہیں میرے اور میرے ہمسایوں سے خیرات میں مل رہے ہیں۔ وہ ایسے پل رہے ہیں جیسے کسی یتیم خانے میں ہوں۔ اور تمہارا یہی رویہ رہا تو جلد ہی تم اس گھر کو یتیم خانہ بنا کر ہی چین لو گے۔ “

ہر لفظ کے ساتھ اس کے ہاتھوں کا دباؤ الیگزینڈر پر اور شدید ہو جاتا۔ الیگزینڈر اب خوف سے کانپ رہا تھا۔

”سنو“
جارج چنگھاڑ کر بولا۔

”میں تمہیں تین منٹ دے رہا ہوں۔ اگر ان تین منٹ میں تم جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو تم بچوں اور شارلٹ کو دوبارہ نہیں دیکھو گے۔ تمہیں شام ہونے سے پہلے اس مکان سے نکال دیا جائے گا۔ میں اپنے دفتر میں تمہاری، نوکری بھی فوری طور پر ختم کردوں گا۔ اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ چھہ مہینے کے اندر اندر، اگر تمہارے یہی لچھن رہے، تو بصد خوشی اپنے ہاتھوں سے تمہیں قبر میں بھی اتار کر آؤں گا۔ کمینے انسان، تمہیں اپنے علاوہ کسی اور کا بھی خیال ہے؟“

جارج نے اسے واپس صوفے پر دھکیل دیا۔
”ٹھیک ہے۔ میں چلا جاؤں گا۔“
صوفے سے مدھم سی آواز آئی۔
الیگزینڈر بیڈ روم کے دروازے کی طرف بڑھا۔
”کہاں جا رہے ہو؟“
جارج نے سوال کیا۔
”سوٹ کیس لینے۔ شارلٹ ٹرنک بعد میں بھجوا دے گی۔ میں ابھی آیا۔“

چند ہی منٹ گزرے تھے کہ اچانک جارج کو کچھ شبہ سا ہوا۔ وہ اٹھا۔ ایک جھٹکے سے بیڈروم کا دروازہ کھولا۔ دیکھا الیگزینڈر کھلی الماری کے سامنے کھڑا تھا۔ ساتھ کی میز پر وسکی کی بوتل رکھی تھی۔ وسکی سے ادھ بھرا گلاس اس کے منہ سے لگا ہوا تھا۔ جیسے ہی اس نے جارج کو دیکھا اس نے وسکی کی بوتل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جارج کے ایک زوردار طمانچے کے ساتھ ساتھ بوتل اور گلاس فرش پر چکنا چور پڑے تھے۔ اس نے الیگزینڈر کو دروازے کی طرف دھکیلا۔

”میرا سوٹ کیس۔ میرا سوٹ کیس۔“
”چابی کہاں ہے؟“
” اسے تالہ نہیں لگا ہوا۔“

جارج نے سوٹ کیس کھول کر کپڑوں کو ٹٹولا۔ ان کے نیچے ایک کونے میں وسکی کی بوتل اور دوسرے میں ایک تھرماس رکھا تھا۔ جارج نے دونوں کو سوٹ کیس سے نکال کر میز پر رکھ دیا لیکن اس مرتبہ ان کو پاش پاش نہیں کیا۔

”چلو۔“

ایک ہاتھ میں سوٹ کیس اور دوسرے میں بھائی کا ہاتھ پکڑے جارج گھر سے نکلنے ہی والا تھا کہ اسے شارلٹ کی سسکیوں کی آواز آئی۔ یوں لگا جیسے وہ کسی جنازے میں شرکت کے لئے آیا ہوا ہے۔

اب وہ باہر آ گئے تھے۔ ٹرام کی گڑگڑاہٹ دور سے سنائی دے رہی تھی۔
ٹرام رکی۔ الیگزینڈر کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ سیٹ پر بیٹھے الیگزینڈر نے کہا۔
”تم کیسے بھائی ہو؟“
” اور تم کیسے بھائی ہو؟“
جارج نے جوابی لفظی تھپڑ رسید کیا۔

پندرہ منٹ کے بعد ایک سٹاپ پر ٹرام رکی۔ یہاں ہسپتال کے لئے انہیں سڑک کے دوسری طرف سے ایک اور ٹرام لینی تھی۔ ابھی دوسری ٹرام کے آنے میں کچھ دیر تھی۔ وہ جب سڑک پار کرنے لگے تو سامنے ایک پب نظر آئی۔ الیگزینڈر نے للچائی نظروں سے اندر جھانکا۔ کالی واسکٹ اور پتلون اور سفید قمیص میں ملبوس بار ٹنڈر کاک ٹیل بنا رہا تھا۔

الیگزینڈر کے قدم مقناطیسی کشش سے پب کے دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔ جارج نے اس کا بازو پکڑ کر سختی سے پوچھا۔

”کہاں جا رہے ہو؟“
”مجھے اس وقت وسکی کی سخت طلب ہے۔“
”لیکن ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ “
”میں بار میں بیٹھے کو نہیں کہہ رہا۔ بس ایک بوتل خریدوں گا، ساتھ لے جانے کو۔“
”سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“
جارج نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
پاؤں پٹختے ہوئے الیگزینڈر وہیں فٹ پاٹھ پر بیٹھ گیا۔
” دیکھتا ہوں کیسے سوال پیدا نہیں ہوتا۔ میرا فیصلہ بھی اٹل ہے۔ میں بھی بوتل لئے بغیر نہیں جاؤں گا۔“

جب جارج نے الیگزینڈر کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ ہاتھ چھڑا کر وہیں زمین پر لیٹ گیا۔ اب یہ نظارہ آس پاس کے لوگوں کے لئے ایک تماشا بن گیا تھا۔ کچھ تو زور زور سے ہنس بھی رہے تھے۔ کچھ ان دونوں کو تجسس سے گھور رہے تھے۔

”مجھے وسکی چاہیے ورنہ میں یہاں سے نہیں اٹھوں گا اور اگر ٹرام مس ہو گئی تو اس کے ذمہ دارہ تم ہو گے۔ “

شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جارج نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔

”اچھا۔ میں لا دیتا ہوں۔ لیکن ٹرام آنے والی ہے۔ جیسے ہی آئے تم اس پر چڑھ جانا۔ اگر دیر کی تو میں وہی بوتل تمہارے سر پر پھوڑ دوں گا۔ سمجھے؟“

ٹرام کی گڑگڑاہٹ اور اس کی گھنٹی کی آ واز اب ایک بلاک کے فاصلے سے صاف سنائی دے رہی تھی۔ جارج تیزی سے بار کی طرف لپکا اور جلد ہی ہاتھ میں وسکی کی بوتل کا لفافہ لئے عین وقت پر واپس آ گیا۔

جیسے ہی ٹرام سٹاپ پر رکی جارج نے الیگزینڈر کو اگلی سیٹ پر بٹھایا اور بوتل اس کے حوالے کر دی۔

الیگزینڈر نے فوراً ڈھکن کھولا۔ بوتل کو منہ سے لگایا۔ ایک نہایت تسکین بخش ”آہ“ کی آواز کے ساتھ چند گھونٹ چسکے لے لے کر پئے۔ اب اس کے چہرے کی لالی ذرا ذرا واپس آ گئی تھی۔ تیوری پر پڑے بل ہموار ہو گئے تھے۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ جارج بھی قدرے اطمینان سے بیٹھ گیا تھا۔ اب اسے لگ رہا تھا جیسے اس نے الیگزینڈر پر کچھ زیادہ ہی سختی کی ہے۔ مگر وہ اور کرتا بھی کیا؟

الیگزینڈر بوتل منہ سے نہیں ہٹا رہا تھا اور اپنے ہی حال میں مست تھا۔ سٹاپ آنے سے پہلے بوتل ختم ہو گئی تھی جس کو اس نے سیٹ کے نیچے فرش پر رکھ دیا تھا۔ اور وہ ٹرام کی ہر حرکت کے ساتھ ادھر سے ادھر لڑھک رہی تھی۔

ہسپتال کے سٹاپ پر ایک نہایت فینسی گھوڑا گاڑی ان کی منتظر تھی۔ کوچ بان نے سوٹ کیس گاڑی میں رکھا اور گاڑی ہسپتال کی جانب روانہ ہو گئی۔ جیسے ہی وہ ہسپتال کے دروازے میں داخل ہوئے جارج کو احساس ہوا کہ یہ جگہ ہسپتال سے زیادہ کنٹری کلب لگ رہی تھی۔ اسے اطمینان ہوا کہ اس کا بھائی یہاں آرام سے رہے گا۔ ڈاکٹر کے دفتر میں داخل ہونے سے پہلے اس نے دیکھا کہ الیگزینڈر کے چہرے پر بھی وہ گھبراہٹ نہیں تھی جس کا اسے خطرہ تھا۔ ڈاکٹر فرینکلن نے انہیں الیگزینڈر کا کمرہ دکھایا اور کہا کہ آج تو وہ اچھی طرح آرام کر لے، کل سے اس کا علاج شروع کیا جائے گا۔

جارج کو اسی گھوڑا گاڑی میں واپس سٹاپ پر جانا تھا۔ ٹرام کے واپس جانے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔ جارج نے سوچا تھوڑی دیر الیگزینڈر کے ساتھ ہسپتال کے باغیچے میں چہل قدمی کرے اور خدا حافظ کہنے سے پہلے اس سے کچھ ضروری باتیں بھی کر لے۔

مخملی گھاس، پھولوں سے لدی شاخیں اور گھنے سبزے سے بھری جھاڑیاں انتہائی خوبصورت لگ رہی تھیں۔ جارج نے حسرت بھری نظروں سے اس منظر کو دیکھتے ہوئے کہا کہ کاش وہ خود یہاں کچھ وقت چھٹی پر گزار سکتا۔

”بڑی خوشی سے۔ کیا خیال ہے؟ میری جگہ تم یہاں چھٹی گزار لو۔ میں تمہارے لیے اتنی قربانی تو دے سکتا ہوں۔“

الیگزینڈر نے طنز میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا۔

جارج نے الیگزینڈر کی طرف افسوس اور خفگی کے ملے جذبات سے دیکھا لیکن اس وقت غصہ پی جانے ہی کو ترجیح دی۔

”میں بچوں اور شارلٹ کو آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے پہاڑی علاقے میں بھیج دوں گا۔ خدا جانتا ہے کہ اس تبدیلی کی انہیں اشد ضرورت ہے۔ جب تم ٹھیک ہو جاؤ گے تو میں تمہیں بھی ان کے پاس بھجوا دوں گا۔ تم سب کو کچھ لمبے عرصے کے لیے آرام چاہیے۔“

”جارج، میں اس منحوس جگہ ایک دن بھی نہیں گزارنا چاہتا۔ میں تمہیں کیسے بتاؤں؟ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا جارج۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔ کسی حالت میں بھی۔ میں تمہارے ساتھ واپس جا رہا ہوں۔ سن لیا۔ اسی ٹرام میں جس میں تم جاؤ گے۔“

”دیکھو الیگزینڈر، میں نے ابھی تمہیں پورا پلان نہیں بتایا۔ میں۔“
الیگزینڈر نے تیزی اس اس کی بات کاٹ دی۔

”کوئی پلان شلان نہیں۔ میرا ارادہ پکا ہے۔ میں کسی حالت میں یہاں نہیں رہوں گا۔ تمہاری کھوپڑی میں یہ اتنی سیدھی سی بات کیوں نہیں آ رہی؟“

الیگزینڈر نے انتہائی ترشی اور غصے میں بات جاری رکھی۔

”مجھ میں اب تمہاری یہ لچھے دار باتیں سننے کی تاب نہیں۔ یہ کسی اور کو سنانا۔ میں دودھ پیتا بچہ نہیں ہوں۔ تم نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے؟ اب یہ چالیں نہ چلو۔ تم کو بھی اچھی طرح پتہ ہے کہ میں کسی حالت میں یہاں رہنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔“

جارج نے اسے رحم بھری نظروں سے دیکھا۔ اسے بچپن کا وہی الیگزینڈر یاد آیا جو کبھی ضد پر آ جاتا تو اڑ جاتا تھا اور اپنی منوائے بغیر باز نہیں آتا تھا۔

اب جارج کے ہاتھوں سے امید کا دامن چھوٹ چکا تھا۔ وہ بالکل مایوس ہو چکا تھا۔ اسے الیگزینڈر میں اپنے بھائی کا نہیں ایک مایوس، شکست خوردہ جانور کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ اپنے بھائی کی جگہ ایک ضدی، بے حس اور احسان فراموش مخلوق کو دیکھ رہا تھا جو انسانی جذبات سے بالکل محروم ہو۔

جارج کو اپنی انگلیوں میں ایک ارتعاش سا محسوس ہوا۔ اس کا دایاں، کانپتا ہوا ہاتھ، کوٹ کی جیب میں گیا۔

وہ اپنے بھائی کے سامنے کھڑا تھا لیکن اسے اپنا وہ بھائی دکھائی نہیں دے رہا تھا جس کے ساتھ اس نے بچپن اور جوانی کے سال گزارے تھے۔

اب اس نے پھر کچھ کہنا شروع کیا لیکن اس کی آواز بدل چکی تھی۔ اب اس میں کوئی اپنائیت نہیں تھی۔ وہ جیسے کسی غیر سے باتیں کر رہا تھا۔

” الیگزینڈر۔ میں تمہارا بڑا بھائی ہوں۔ میں نے ہمیشہ تم سے پیار کیا۔ ہمیشہ مشکل وقت میں تمہارے اور تمہارے خاندان کے کام آنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے عوض تم نے میری زندگی جہنم بنا دی ہے۔ میری ہی نہیں اپنی بیوی اور بچوں کی بھی۔“

”کیوں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو جارج؟ تمہیں میرے فیصلے کا پتہ ہے۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔ اور رہوں گا بھی نہیں۔ بس۔“

الیگزینڈر نے حتمی انداز میں کہا۔
”صبر کرو۔ میں اسی طرف آ رہا تھا۔ اگر تم یہاں رہنا نہیں چاہتے تو بے شک مت رہو۔ کیونکہ۔“

اس نے ابھی فقرہ مکمل نہیں کیا تھا کہ الیگزینڈر کے چہرے پر اچانک جیسے رونق آ گئی ہو۔ اس نے جارج کے فقرے کا غلط مطلب لیا۔ وہ ہسپتال کے دروازے کی طرف چلنے لگا ہی تھا کہ جارج نے اسے مخاطب کیا۔ اب اس کے لہجے میں ایک سنگدلی آ گئی تھی۔

” میں کہہ رہا تھا کہ اگر تم یہاں رہنا نہیں چاہتے تو بے شک مت رہو لیکن میں تمہیں اپنے ساتھ واپس نہیں لے جا سکتا۔ ایک اور راستہ بھی ہے۔ ایک اور حل بھی۔ آخری حل۔“

اب الیگزینڈر پریشان لیکن پر امید نظروں سے جارج کو دیکھ رہا تھا۔

جارج نے اپنا دایاں ہاتھ، جو اب تک اس کے کوٹ کی جیب میں تھا، آہستہ آہستہ باہر نکالا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھا۔ پستول کی نالی کا رخ الیگزینڈر کے سینے کی طرف تھا۔

سر کے اشارے سے اس نے الیگزینڈر کو گھنی جھاڑی کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔ اب ہونٹوں کو دبائے ایک فیصلہ کن خاموشی کے ساتھ اس نے پستول کا ہتھہ الیگزینڈر کی طرف کر دیا تھا۔

”تم مجھے مجبور نہیں کر سکتے۔“
الیگزینڈر نے خوف زدہ آواز میں کہا۔
”اگر تم میں اتنی ہمت نہیں تو میں خود یہ فرض سر انجام دے سکتا ہوں۔ “
جارج نے فیصلہ کن آواز میں جواب دیا۔

الیگزینڈر جیسے اندر ہی اندر اپنے آپ سے بحث کر رہا تھا۔ اچانک اس کی آنکھوں میں بجلی کی سی چمک نمودار ہوئی۔ اب وہ پرانا والا نحیف و نزار، بے چارہ، بے اعتماد الیگزینڈر نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے بے باک آواز میں کہا۔

”تم میرے بھائی تو ہو مگر تم مجھے جانتے نہیں۔ تمہیں نہیں پتہ کہ میں کس مٹی کا بنا ہوا ہوں۔ لاؤ مجھے دو پستول۔“

اس نے تیزی سے جارج کے ہاتھ سے پستول لے لیا۔ اب وہ سر بلند کیے، سینہ تانے، گھنی جھاڑی کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔ جارج نے سے اسے اپنی نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا۔

”خدا حافظ الیگزینڈر“ یہ سوچ کر کہ وہ اب اپنے بھائی سے آخری مرتبہ مخاطب ہے جارج کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔

”خدا حافظ، گھنی جھاڑی سے آواز آئی۔“

جارج کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔ اس نے رومال سے اپنا ماتھا پونچھا۔ دور ہسپتال کے دروازے سے اردلی زور زور سے چلا رہا تھا اور اشارہ کر رہا تھا کہ گاڑی اسے ٹرام تک لے جانے کے لئے تیار ہے۔ لیکن جارج کو اس کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ چاروں طرف جیسے سناٹا چھا گیا تھا۔

جارج اپنے الفاظ واپس لینا چاہتا تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ ایک بھیانک خواب دیکھ رہا ہے۔ لیکن اسے یہ احساس بھی تھا کہ اس نے جو کچھ کیا ٹھیک تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ کوئی اور حل نہیں تھا۔ بس یہی آخری حل تھا۔

وہ دور خلا میں دیکھ رہا تھا۔ انتظار کر رہا تھا۔ اچانک اس کا بدن کا نپا۔ اس نے تصور میں پستول کے چلنے کی آواز سنی۔ لیکن وہ پستول کے فائر ہونے کی آواز نہیں تھی۔ محض اس کا تخیل تھا۔

الیگزینڈر پستول تھامے گھنی جھاڑی کے باہر کھڑا تھا۔ پستول کا دستہ جارج کی طرف تھا۔
”یہ لو اپنا پستول۔ میں ہسپتال میں داخل جاؤں گا۔“

اردلی کوئی جواب نہ پا کر اب دروازے سے ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ چلا رہا تھا کہ جلدی کریں ورنہ ٹرام نکل جائے گی۔

جارج نے پستول کوٹ کی دائیں جیب میں ڈالا۔ الیگزینڈر کو گلے سے لگایا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھ پکڑے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا،

”خدا تمہیں اپنی امان میں رکھے۔ “

الیگزینڈر کے ہاتھوں کو ہلکا سا دباؤ دے کر اس نے ایک دفعہ اور خدا حافظ کہا اور اسے اردلی کی نگرانی میں چھوڑ کر گھوڑا گاڑی کی طرف چل دیا۔

Facebook Comments HS