منفرد انداز کے گائیک استاد غلام علی خاں صاحب
اکتوبر 1980 وہ مہینہ ہے جب میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے منسلک ہوا۔ خوش قسمتی سے شروع میں ہی موسیقی کے پروگرام ملے جس سے مجھے شغف بھی تھا۔ پھر گیت نگار، موسیقار، میوزیشن، ساؤنڈ، کیمرہ، میک اپ، وارڈروب، انجینئیرنگ اور دیگر شعبوں سے بھی واسطہ رہا۔ ماشاء اللہ بیشتر لوگوں سے اب تک قائم ہے۔ ان میں ہمارے دوست موسیقار اختر اللہ دتہ سے اکثر سلام دعا رہتی ہے۔ میں جب کراچی جاتا ہوں جاوید اللہ دتہ المعروف جاوید بھائی کے گھر اور اختر صاحب کے اسٹوڈیو ضرور جاتا ہوں۔
پچھلے دنوں انہوں نے اپنے والد، استاد اللہ دتہ خاں صاحب کی سولو طبلے کی کچھ آڈیو ریکارڈنگ مجھے بھیجیں اور کہا کہ جب لاہور جاؤں تو نامور غزل گائیک استاد غلام علی خاں صاحب سے ملوں اور ان سے والد صاحب کے بارے میں گفتگو کروں۔ تا کہ وہ اس آڈیو ویڈیو گفتگو کو محفوظ کر سکیں۔ انہوں نے مجھے خاں صاحب کا فون نمبر دیا۔ یہ پس منظر تھا جب استاد غلام علی خاں صاحب سے 26 ما رچ 2023 کو بروز اتوار ملاقات طے پا گئی۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے خود خاں صاحب کے متعلق بھی سوالات تیار کر لیے۔
اتفاق سے کینیڈا سے میرے دوست مصور لاہور آئے ہوئے تھے۔ مزے کی بات یہ کہ انہوں نے حیدرآباد میں ایک عرصہ گزارا تھا اور گلوکار رجب علی کے دوستوں میں سے تھے اور لاہور میں ایک نامور استاد صاحب سے گانا سیکھتے رہے ہیں۔ وہ اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر میرے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے۔ ان کے ساتھ میں ملک کے مایہ ناز غزل گائیک غلام علی صاحب کے گھر کے سامنے 4 : 40 بجے پہنچ گیا۔ راستے میں افطار کے لئے ایرانی کھجوریں لیں۔ وہاں تھوڑی دیر میں صاحب ذوق دوست، احسن صاحب بھی آ گئے اور ہم نے دروازے پر آنے کی اطلاع کر دی۔
ہمیں بیٹھک میں لے جایا گیا۔ استاد بڑے غلام علی خاں صاحب کی ایک قد آور تصویر اور دیگر تصاویر کے ساتھ سلیقے سے اسناد اور ایوارڈ سجے ہوئے تھے۔ مجموعی طور پر سادگی کا عنصر حاوی تھا۔ تھوڑی دیر میں استاد غلام علی خاں صاحب تشریف لائے۔ فرداً فرداً ہر ایک سے مصافحہ کیا۔ مجھ سے کہا کہ اختر نے آپ کے بارے میں بتایا تھا۔ روزے کی وجہ سے رسمی باتوں کا وقت نہیں تھا۔
استاد اللہ دتہ خاں صاحب :
” استاد اللہ دتہ خاں صاحب، وہ ایسے لوگ تھے جن پر موسیقی عاشق تھی۔ وہ صرف طبلہ نواز ہی نہیں بلکہ موسیقی نواز بھی تھے۔ جیسا لے اور سر ان کے ہاتھ میں تھا ویسا میں نے بہت کم سنا ہے۔ دیگر سب لوگ ٹھیک ہیں لیکن ان کے انداز میں کوئی خاص ہی تاثیر اور سر تھا اور وہ موسیقی کو بھی اتنا ہی سمجھتے تھے۔ خود بھی کبھی گنگناتے تھے۔ میری تو شروعات ہی ادھر کراچی سے ہوئی تھیں۔ میں چھوٹا ہی تھا جب میرے والد صاحب مجھے گاؤں سے گوجرانوالہ لائے اور ریلوے اسٹیشن سے ٹکٹ دلوا کر اکیلے کراچی کے لئے ریل گاڑی میں بٹھا دیا۔ ان کے چھوٹے بھائی استاد غلام حسین مجھے کراچی اسٹیشن پر لینے آئے۔ ان کے ساتھ خورشید عالم تھے وہ بھی میرے چچا لگتے تھے۔ پھر میں استاد اللہ دتہ خاں صاحب کے ہاں آ گیا۔ میں نے مسلسل پانچ سال وہاں گزارے۔ پھر مجھے پتا چلا کہ طبلہ سر کیا ہوتا ہے۔
نا قابل یقین حد تک طبلے کا سر ان کے ہاتھ میں تھا! ان کا ہاتھ اتنا نرم تھا کہ سر ان میں سنائی بھی دیتا تھا کیوں کہ ان کی بناوٹ ہی علیحدہ تھی۔ ان کے طبلہ بجانے کا اپنا ہی ایک انداز تھا۔ دائیں ہاتھ سے کنار بولتی ہے جس کو ’نا‘ کہا جاتا ہے اور بائیں سے ’گھ‘ تو گھ اور نا مل کر ’دھا‘ بنتا ہے۔ یہ استاد اللہ دتہ خاں صاحب نے ہی سکھایا۔ مجھے خود بھی طبلے کا بہت شوق تھا اور تھوڑا بہت بجا بھی لیتا ہوں۔ مگر میرے والد صاحب کا شوق تھا کہ میں گانے کی طرف جاؤں۔ میرا نام بھی والد صاحب نے استاد بڑے غلام علی خاں صاحب کی نسبت سے غلام علی رکھا ”۔
” اچھا! یہ تو میرے لئے بھی نئی بات ہے“ ۔ میں نے بے ساختہ کہا۔
” میرے والد صاحب، دولت علی جعفری فرماتے تھے کہ میں خاں صاحب کا اتنا پرستار ہوں کہ جب تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تو میں نے سوچا کہ لڑکا ہوا تو میں اس کا نام غلام علی رکھوں گا۔ بہرحال بات تو ہوتی رہے گی لیکن میں جو کچھ بھی ہوں اس میں استاد اللہ دتہ خاں صاحب کا بہت ہاتھ ہے۔ لے اور لے کاری گانے والے کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے لباس پہننے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سا رنگ کس رنگ کے ساتھ اچھا لگے گا۔
پھر اچھا ڈیزائن کہاں سے ملے گا؟ تو مجھے لے کا ڈیزائن وہاں سے ملا۔ وہ خود بھی بہت سر میں تھے۔ مجھے انہوں نے بہت پیار دیا۔ لڑکوں پرایک ایسا زمانہ بھی آتا ہے جب آواز بدلنے لگتی ہے۔ میری بھی جب آواز بدلنے لگی تو میں نے انہیں کہا کہ میری آواز تو گڑ بڑ کر رہی ہے لہٰذا مجھے طبلہ سکھا دیں تا کہ میں وہی بجاؤں! کہنے لگے کہ بیٹا طبلہ تو تم بجا سکتے ہو۔ کوئی بات نہیں بجا لو! لیکن تم وہ کام کرو جو زیادہ تر لوگ نہیں کرتے اور جس کا بھاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ گلوکاری ہے۔ تمہارا گلا اچھا ہے یہ آواز بھی انشاء اللہ ٹھیک ہو جائے گی“ ۔
” کتنی دور کی نظر تھی ان کی! “ ۔ مصور نے کہا۔
” بالکل! اور میرے والد صاحب کی بھی یہی خواہش تھی۔ بہرحال استاد اللہ دتہ خاں صاحب کے لیے میں کیا بات کروں! میں تو اس لائق ہی نہیں کہ ان کی تعریف کر سکوں، وہ تعریف سے آگے تھے۔ تعریف جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے وہ شروع ہوتے تھے۔ وہ نہایت سلجھے ہوئے انسان تھے۔ میں نے ان کی بہت ریکارڈنگ سنیں اور ان کے طبلے کے ساتھ پبلک میں نغمہ بھی لگایا (جن بولوں پر کلاسیکل طبلہ بجایا جاتا ہے ) ۔ میرے والد صاحب کی دعاؤں سے مجھے استاد اللہ دتہ خاں صاحب سے لے کاری ملی۔ میرے والد صاحب مجھے فلم میں گانا نہیں گانے دیتے تھے۔ کہتے کہ بیٹا فلم میں تو کوئی بھی گانا گا سکتا ہے۔ تم وہ گانا گاؤ جو چند لوگ ہی گا سکیں! بہرحال میں جو کچھ بھی ہوں اپنے والد صاحب اور استاد اللہ دتہ خاں صاحب کی دعاؤں سے ہی ہوں“ ۔
استاد اللہ دتہ خاں صاحب المعروف پری پیکر:
” خاں صاحب اللہ دتہ صاحب کو پری پیکر کہا جاتا تھا؟ کچھ اس کے بارے میں بتائیے“ ۔
” پری پیکر کا ٹائٹل واقعی ان کے پاس تھا۔ ریڈیو پاکستان کے سلیم گیلانی صاحب جو پھر ڈائریکٹر جنرل بھی ہو گئے تھے۔ انہوں نے خاں صاحب کو یہ خطاب، حیات احمد خان صاحب کی آل پاکستان میوزک کانفرنس لاہور میں میرے سامنے دیا تھا۔ استاد اللہ دتہ خاں صاحب ظاہر باطن دونوں میں حسین و جمیل تھے۔ پری پیکر استاد اللہ دتہ خاں صاحب جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ گانا بجانا تو سب لوگ کرتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے حق میں خود گانا بجانا ہو جاتا ہے“ ۔
” پری پیکر استاد اللہ دتہ خاں صاحب کی تو تمام باتیں بہت اچھی ہوتیں۔ وہ کہتے کہ بیٹا یہ گانا بجانا کان کو اچھا لگنا چاہیے۔ صحیح گانا تو وہ ہے جو کان کو سکون پہنچائے۔ وہ بہت اللہ والے تھے۔ میں ان کے بارے میں کیا کہوں۔ یہ لوگ تھے نہیں! یہ لوگ ہیں! “ ۔
” کیا بات کہہ دی خاں صاحب کہ یہ لوگ تھے نہیں بلکہ یہ لوگ ہیں۔ ماشاء اللہ! “ ۔ میرے علاوہ احسن صاحب اور مصور بھی یک زبان ہو کر بولے۔
” کبھی انہوں نے آپ کے ساتھ کوئی چھوٹی موٹی سختی بھی کی؟“ ۔
” وہ سختی بھی ہمارے لئے نرمی تھی ( مسکراتے ہوئے ) ہم اس کو نرمی کہتے ہیں۔ میں نے کبھی موقع بھی نہیں دیا تھا۔ لیکن کبھی اگر ایسا ہوتا بھی تھا تو جیسا بھی ڈانٹتے تھے ہم اس کو بسم اللہ کہہ کر جھولی میں ڈال لیتے“ ۔
” واہ خاں صاحب واہ! بہت بڑی بات ہے! “ ۔ میں نے کہا۔ ”تو وہاں آپ نے پانچ سال گزارے“ ۔
” کافی سال گزارے لیکن پانچ سال متواتر گزارے۔ پھر میں لاہور آ گیا تھا۔ میری بڑی بیٹی اس وقت چھوٹی تھی۔ وہ انہیں پہچانتی تھی لہٰذا جب لاہور آتے تو مجھے کہتی کہ ابا جی اٹھو! وہ والے بابا جی آئے ہیں جو صبح آملیٹ کھاتے ہیں۔ میں فوراً سمجھ جاتا۔ میرے ساتھ ان کی بہت شفقت رہی۔ پھر اس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ انتقال ہو بھی جائے تو یہ لوگ پاس ہی رہتے ہیں! وہ لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں“ ۔
” آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں! ان کی زندگی ہی میں جاوید بھائی ریڈیو پاکستان کراچی میں جانے لگے تھے۔ کچھ آپ اس بارے میں بتائیے! “ ۔
” مجھے یاد ہے۔ جاوید تو میرا چھوٹا بھائی ہے۔ وہ ستار بجانے لگا تھا۔ جب یہاں آتا تو مجھ سے ملتا۔ میں کراچی جاتا تو وہ تو میرا گھر ہی تھا! سارے بھائی، اختر، شہزاد، کشور۔ اختر تو بچپن میں اکثر اپنی ماں سے روٹھ جاتا تھا۔ وہ مجھے کہتیں اس کو باہر لے جاؤ! مجھے پتا ہے یہ بات اس کو یاد ہے! وہ بڑا پیارا بچہ ہے۔ میرے چھوٹے بھائی کی طرح۔ اللہ ان سب کو سلامت رکھے (افسوس کہ اب شہزاد اللہ دتہ ہم میں نہیں ) ۔ میں یہی کہوں گا کہ ان کی اولاد بھی لے سر میں ر ہے۔ وہ میرا اپنا گھر تھا وہاں سے میں نے بہت استفادہ کیا“ ۔
” آپ یقیناً اپنے فن میں استاد اور اپنی ذات میں ایک ادارہ ہیں لیکن بحیثیت باپ، بھائی اور شوہر کیسے ہیں؟“
” یہ تو انسان کا چہرہ بتاتا ہے کہ وہ کیسا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ سارے رشتے مجھ سے بہت خوش ہیں۔ کیوں کہ مجھے بچپن ہی میں میرے والد صاحب نے بتایا کہ بیٹا اچھائی کو نہیں چھوڑنا اور برائی سے نفرت کرنا۔ میں نے یہی سوچا ہے کہ جتنا ہو سکے اچھائی کو سنبھال کے رکھوں۔ جہاں تک میری بساط ہے میں نے بچوں، بہنوں، بھائیوں اور اپنے پیاروں کی خدمت کرنے کی کوشش کی۔ ہمیشہ کوشش کی کہ مجھ سے کسی کو بھی دکھ نہ پہنچے۔ کیوں کہ دکھ بے سری بات ہے! اور سر میں سکون ہے“ ۔
” واہ بہت اچھی بات کہی کہ دکھ تو بے سرا ہے“ ۔
استاد بڑے غلام علی خان صاحب سے شاگردی :
” استاد بڑے غلام علی خاں صاحب سے تو میری شاگردی میرے والد صاحب نے کہہ کے کروائی۔ میں اس وقت بچہ تھا۔ استاد بڑے غلام علی خاں صاحب انڈیا سے کابل اور وہاں سے لاہور آئے تھے۔ میرے والد صاحب نے ان سے میری شاگردی کی بات کی تو خاں صاحب بڑے غلام علی خاں نے کہا کہ بھائی صاحب میں تو انڈیا میں رہتا ہوں! اس پر میرے والد نے کہا کہ آپ جہاں بھی ہوں آپ کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مہربانی کریں! پہلے تو انہوں نے نظر انداز کر دیا کیوں کہ وہ پاکستان میں نہیں رہتے تھے۔
میرے والد افسردہ ہو گئے۔ اس پر استاد بڑے غلام علی خان صاحب کو ترس آ گیا کہنے لگے کہ بچے کو کہو کچھ سنائے۔ تو میں نے راگ پیلو میں ان ہی کی ایک ٹھمری ’سیاں بولو مو سے رہیو نہ جائے۔ ‘ سنائی تو خاں صاحب کو ہنسی آ گئی اور کہا کہ کل اس کی شاگردی کی جائے گی۔ اس وقت میں اور میرے والد انہیں کچھ پیش نہیں کر سکتے تھے البتہ جو بھی تھا حاضر کر دیا جیسے شاگردی کی رسم ہوتی ہے۔ پھر میں ان کے چھوٹے بھائیوں : استاد برکت علی خاں صاحب، استاد مبارک علی خاں صاحب اور استاد امان علی خان صاحب کے پاس میں آٹھ دس سال رہا۔ جو کچھ انہوں نے بولا وہی کرنا پڑا جو مجھے کرنا بھی چاہیے تھا“ ۔
” آٹھ دس سال؟“ ۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔
” جی ہاں! میں باقاعدہ ادھر رہا اور اس کام کو سیکھا۔ وہ گاتے تھے ہم سنتے تھے۔ پھر کبھی کبھی سبق بھی ملتا تھا۔ اللہ نے مدد کی۔ ماں باپ اور سب چاہنے والوں کی دعائیں لگ گئیں اور میں یہاں تک پہنچ گیا۔ لیکن جو کچھ میں نے اپنے استادوں کو دیکھا اور سنا ہے اس کے سامنے میں کچھ بھی نہیں! بس یہ کہ ان کی دعائیں ساتھ ہیں“ ۔
” حضرت! آپ نے یہ بہت اعلیٰ بات کی“ ۔
پاکستان ٹیلی وژن سے مشہوری:
” دلچسپ بات ہے کہ جب لاہور میں پاکستان ٹیلی وژن اسٹیشن بنا تو سب سے پہلے ہم ہی لوگ تھے جن کو انہوں نے بلایا۔ آڈیشن ہوا۔ اور کام شروع ہو گیا۔ یہ اشفاق احمد صاحب کا پروگرام تو بہت بعد کی بات ہے۔ میری مشہوری تو اس پروگرام سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ اللہ کا شکر ہے! میرے اس اشفاق صاحب والے پروگرام“ محفل ”میں دیگر آرٹسٹ بھی بیٹھتے تھے جیسے امانت علی فتح علی خاں صاحب، شریف خاں صاحب، شوکت علی، پرویز مہدی، رجب علی، خورشید بیگم، ملکہ پکھراج یہ سب ہوتے تھے۔
اشفاق صاحب مجھے کہتے کہ تو بڑا شرارتی ہے۔ کتنے تنوع کے ساتھ اپنا کام کرتا ہے یار! میں کہتا کہ آپ بزرگوں کی دعائیں ہیں۔ تو بس سب کی دعائیں لیں۔ اسی طرح سے وقت گزرا اور گزر رہا ہے۔ اللہ کا شکر ہے! جب تک یہ ساتھ دیتا ہے کام کرتا رہوں گا۔ آپ کو پتہ ہے بچپن کا دور اور ہوتا ہے، جوانی کا دور اور بڑھاپے کا بھی دور ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب بھی سر میری مدد کرتا ہے۔“
” ماشاء اللہ کیا خوبصورت بات کہی! میں پچھلے دنوں ریڈیو پاکستان لاہور میں پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب کے دفتر گیا۔ وہاں بات چلی تو شام چوراسی گھرانے کے استاد تصدق علی خاں صاحب کا بنایا ہوا گیت ’تانگاں والے نین۔ ‘ کو آپ کی آواز میں ریکارڈ کرنے تک آ گئی۔ کچھ اس بارے میں بتائیے! “ ۔
” تانگاں والے نین ’کی جب تصدق علی خاں صاحب نے دھن بنائی تو مجھے یاد کیا۔ یہ دوگانا تھا۔ اس کو افشاں جی کے ساتھ ریکارڈ کرنا تھا۔ جب خاں صاحب نے مجھے دھن سنائی تو مجھے اچھی لگی۔ خاں صاحب مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ کہنے لگے یہ تم نے گانا ہے۔ میں نے افشاں جی کے ساتھ ریکارڈ کرایا۔ وہ ایسا مشہور ہوا کہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ میں نے وہ مانچیسٹر، برطانیہ میں میں ایک پروگرام میں کم از کم 40 منٹ تک سنایا“ ۔
” چالیس منٹ صرف ’تانگاں والے نین‘ سنایا؟“ مارے حیرت کے میرے منہ سے نکلا۔
” جی ہاں! اور وہاں لوگ بھی ایسے پیار والے بیٹھے تھے جو ایسا ہی سننا چاہ رہے تھے۔ حالاں کہ ’تانگاں والے نین‘ محض چند منٹ کا آئٹم تھا۔ سروں سے لفظوں کی ترجمانی نے سننے والوں کو جیسے باندھ لیا تھا۔ سر ہر جگہ استعمال ہوتا ہے۔ وہ سلوک اور برتاؤ میں بھی ہوتا ہے، گانے میں بھی ہوتا ہے، وہ لوگوں میں بیٹھنے سے بھی ملتا ہے۔ پروردگار کا شکر ہے۔ میرے ماں باپ اور چاہنے والوں کی دعائیں ہیں۔ خدا ان سب کو اچھا رکھے۔ جو لوگ سر سے پیار کرتے ہیں ان کو سر میں رکھے“ ۔
” بے شک بہت اچھی دعا ہے“ ۔ ہمارے دوست احسن نے برجستہ کہا۔
” استاد نذر حسین صاحب کی موسیقی میں آپ کے آئٹم آج بھی ریڈیو پر مقبول ہیں“ میں نے کہا۔
” جی ہاں! میں نے استاد نذر حسین صاحب کے کئی آئٹم گائے ہیں۔ ان میں سے چار پانچ کی تو لوگ اکثر فرمائش بھی کرتے ہیں۔ اصل میں وہی وقت تھا جب میں بہت زیادہ باہر جانے لگا تھا اور ریڈیو پر جانے کا کم کم موقع ملتا۔ پہلے استاد نذر حسین صاحب ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں تھے پھر ریڈیو پاکستان کراچی آ گئے۔ میں نے ریڈیو پاکستان کراچی میں ان کی کمپوزیشن ریکارڈ کروائیں۔ پھر وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں آ گئے۔ میں نے یہاں بھی ان کی بنائی ہوئی دھنوں پر گایا۔ مثلاً ’درد و غم کا نہ رہا نام تیرے آنے سے، دل کو کیا آ گیا آرام تیرے آنے سے‘ اور ’رات جو تم نے دیپ بجھائے میرے تھے۔ ‘ ۔ استاد نذر حسین مجھے کہا کرتے کہ یار تو بہت تیز اور پیارا ہے۔ اچھے لوگ پیار کریں تو ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ اللہ کا کرم ہو گیا ہے“ ۔
” واہ واہ بہت اچھا کہا! استاد نذر حسین صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک سبتک سے لے کہ اس سبتک تک بڑی چکر والی دہن بناتے تھے۔ کیا آپ کو بھی ایسا لگا؟“ ۔
” ایسا تو لگا لیکن ہم بھی ان کے اسٹائل کو پسند کرتے تھے“ ۔
( قہقہے )
” اور آرٹسٹ وہی ہوتا ہے جو کسی کی بنی ہوئی دھن اگر گائے تو اس کو راضی کرے“ ۔
” یہ بہت بڑی بات ہے“ ۔ میں نے کہا۔
” اللہ کا شکر ہے میرے لئے ایسی دھنیں بنانے والے، خاص طور پر استاد نذر حسین مجھے کہتے کہ تو بہت شارپ ہے۔ بات سمجھ لیتا ہے“ ۔
” وہ اسی لئے تو کہتے تھے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا“ ۔
( قہقہے )
استاد غلام علی خاں صاحب کے ایوارڈ:
صدارتی تمغہ حسن کارکردگی ( 1979 ) صدر پاکستان کی جانب سے دیا گیا۔
تمغہ ء ستارہ امتیاز ( 2013 ) صدر پاکستان کی جانب سے ملا۔
سر سے پیار:
” آج کل کے گانے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟“ ۔
” آج کل کے گانے والوں کو یہی پیغام دوں گا کہ وہ سر کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ سر کو تلاش کریں اور اگر تلاش کر لیا ہے تو اس کو پیش کریں۔ صحیح سر سیکھنے سے ملتا ہے۔ پیار سے ملتا ہے۔ پہلے بھی اور آج بھی ہر دور کے گلوکاروں کو سر سے پیار کرنا چاہیے“ ۔
” آپ نے کوئی شاگرد تیار کیے جو آگے جا کر نام پیدا کر سکتے ہیں؟“ ۔
” فدا حسین میرے شاگرد تھے۔ رفیق حسین بھی شاگرد تھے جو اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اور بھی بچے ہیں۔ کراچی میں بھی شاگرد ہیں۔ انڈیا میں بہت زیادہ ہیں۔ وہ بہت پیار کرتے ہیں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب وہ فون پر میرا نام لے کے کہتے ہیں کہ روز آپ کو یاد کر کے سر تلاش کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال اللہ نے بڑا اچھا وقت گزار دیا ہے۔ آگے کا اللہ مالک ہے“ ۔
” نگار کے پڑھنے والوں کے لئے کوئی پیغام! “ ۔
” میں نگار پڑھنے والوں کے لئے یہی کہوں گا کہ وہ ان کے لئے دعا کریں کہ یہ سر کا کام کرتے رہیں یعنی اچھی اچھی باتیں اسی طرح لکھتے اور لوگوں کے بارے میں بتاتے رہیں جو بہت اچھی بات ہے۔ مجھے خود آپ سے مل کے بڑا اچھا لگا۔ آپ کا پرچہ نگار ہمارے لئے عزت ہے۔ ہم کیا بولیں گے یہ اخبار ہی بولتے ہیں۔ نگار ایوارڈ کے لئے بھی میری دعائیں ہیں کہ پھر سے جاری ہو۔ ایوارڈ اس کے لئے ہوتا ہے جو اس کے لائق ہو تو یہ بھی سوچنا چاہیے تا کہ لوگ محنت کریں“ ۔







