انتہا پسند اسلام اور ریاست کی نمائندگی کرنے سے باز آ جائیں
جڑانوالہ فیصل آباد میں عیسائی برادری پر ظلم اور ان کی عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ ایک انتہائی قابل مذمت فعل ہے اور اس سے ابھرنے والا تاثر ہمارے معاشرے کے اندر جہالت، عدم برداشت اور قانون کی خلاف ورزی کی سوچ کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہوچکے ہیں اور دن بدن ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ لاقانونیت سے زیادہ معاشرت کی خرابی کی طرف دلالت کرتا ہے۔ پاکستان میں قوانین کی کوئی کمی نہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے۔ کتنے لوگوں کو قید و بند کی سزائیں ہو چکی ہیں بلکہ پھانسیوں تک کی مثالیں موجود ہیں مگر اس کے باوجود کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ اور ہمارے معاشرے کی یہ جہالت اور بے حسی سے بعض دفعہ ریاست کے ادارے بھی بے بس لگنے لگتے ہیں۔ جب اندر کی جہالت اشتعال کی صورت میں اجتماعی بربریت پر اتر آئے تو ریاست کے اداروں کو بھی اس پر قابو پانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ جیسے ان واقعات میں پولیس کی مکمل کنٹرول کرنے میں ناکامی پر رینجر کو بلانا پڑ گیا ہے۔
لیکن اس کے باوجود ریاست کو اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگیوں سے مبرا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ریاست کے اندر تعلیم تربیت میں بھی ریاست کا ایک اہم کردار ہوتا ہے اور اس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کی سوچوں کو بدلنے کے لئے کوئی حکمت عملی تیار کر کے بہتری کی کوشش کرے اور اگر ان کے نتائج سامنے نہیں آرہے تو پھر ناکامی کی وجوہات کو ڈھونڈھ کر اس پر کام کیا جائے۔
میرا سوال ہے ان نام نہاد مسلمانوں سے جو اس طرح کی سوچ رکھتے ہیں کہ کیا کسی ایک اسلامی ریاست کے اندر جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہو اور وہ ہر لحاظ سے دوسرے مذاہب پر تعداد، وسائل اور طاقت کے لحاظ سے برتری رکھتے ہوں وہاں کسی دوسرے مذہب کے فرد کو اس لئے مارنے کی اجازت ہے؟ نہیں بلکہ اسلام میں تو اس کی حفاظت معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اور پھر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی جہالت کی بنیاد پر اس کمزوری اور کمینگی کو اسلام کی خدمت سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر قابل تشویش بات یہ ہے کہ بعض دینی پیشوا بھی اس طرح کی سوچوں کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہیں۔ حیرانی ہے ایسے دین کے ٹھیکہ داروں پر جن کو ایسے مواقعوں پر اللہ کے رسول کا اخلاق بھول جاتا ہے۔ وہ مسجد میں غیر مسلم کے پیشاب کردینے پر بھی مسجد کو دھلوا لیتے ہیں اور اس سے کسی بھی طرح کی بداخلاقی سے پیش آنے سے منع کرتے ہیں۔
قرآن کی بے حرمتی پر طیش میں آ جانے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ قرآن کہتا کیا ہے؟ وہ نہیں جانتے کہ اللہ کے نبی کے اخلاق کو پورا قرآن کہا گیا ہے ان کی زندگی چلتا پھرا قرآن تھی اور قرآن پر عمل کی بنیاد پر ہی ان کو تاریخ انسانیت کا بہترین انسان جانا جاتا ہے۔ ان کو زندگی میں ایک دفعہ بھی اشتعال تو کیا غصہ بھی نہیں آیا۔ مگر ہمارے دینی پیشواؤں کی تعلیمات مکمل اس کے بر عکس لگتی ہیں۔ اس میں اسلام کا قصور نہیں بلکہ ان تعلیمات کا ہے جن کی بنیاد دین پر نہیں بلکہ انسانی ذاتی خواہشات اور مفادات پر ہے جن کے حوالے ہمارے اجتماعی معاشرتی رویوں نے کیا ہوا ہے۔
ہم نے دین اسلام کو وہ اہمیت ہی نہیں دی جو ہماری معاشرتی زندگی میں ہونی چاہیے تھی اس لئے لاعلم لوگوں کو اس کی وراثت حصے میں آ گئی اور انہوں نے اسے اپنی دکانداری کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا اور اللہ کے دین کے مرکز مساجد پر بھی اپنے فرقہ واریت پر مبنی نظریات اور مسالک کے پہرے لگا دیے اور مسلمانوں کو گرہوں میں تبدیل کر دیا۔ نہ ہی ایک دوسرے کو سننے دیا اور نہ ہی ان کی غلط فہمیوں کو دور ہونے دیا۔ ہر کوئی اللہ کے گھر کو اپنی اجارہ داری میں لے کر لوگوں کی غلط ذہن سازیوں میں مصروف ہے۔
انہی تعلیمات کے پیش نظر کبھی محض الزامات کی بنیاد پر گورنر کی حفاظت پر مامور اس کا محافظ اس کی جان لے لیتا ہے۔ کبھی رائے اظہار کرنے پر یونیورسٹی پروفیسر کو لامتناہی وقت کے لئے پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے اور کوئی پیشی ہے نہ کوئی عدالتی کارروائی۔ کیا ہماری علمی صلاحیتیں اتنی ہی بے بس ہو چکی ہیں کہ پوری ریاست کے مسلمان سکالرز مل کر بھی کسی ملحد کے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہیں اور اس کو خدا کے وجود کے ہونے پر قائل نہیں کر سکتے اور اس کا واحد حل نظر بندی ہی سمجھتے ہیں۔ جہاں دلیل کی جگہ طاقت لے لے وہاں سے اچھائی کی امید وابستہ کرنا محال ہوتا ہے۔ حال ہی میں جس طرح سے احمدیوں کی عبادت گاہوں پر دھاوا بولا جا رہا ہے اور اس بارے قانون بھی واضح ہے، عدالت عالیہ بھی اپنا فیصلہ دے چکی ہے لیکن اس کے باوجود مذہب کے نام پر کچھ طبقات اپنی سیاست چمکانے کے لئے سادہ ذہن لوگوں کی اسلام سے محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طرح کے اقدامات اٹھاتے ہیں اور ریاست میں عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں۔ جب ریاست کے اندر مذہبی آزادی نہیں ہوگی تو اس کے دنیا میں ایک اسلامی ریاست بارے پیدا ہونے والے خدشات کا اسلام کو بھی نقصان ہوتا ہے جس کا ان لوگوں کو احساس تک نہیں۔
معاشرے کی اس اجتماعی صورت حال کے پیش نظر بعض دفعہ ہم انتظامیہ اور عدالتوں کو بھی بے بس دیکھتے ہیں کہ وہ ایسے مقدمات کو چلانے اور سننے سے عاری نظر آتے ہیں۔ ان پریشانیوں کا حل کس نے ڈھونڈنا ہے؟ اس کے ہم سب بحیثیت ایک معاشرہ کے ذمہ دار ہیں۔ ہمارے گھروں، مسجدوں، سکولوں اور معاشرے کے اندر تربیت میں خرابی کی طرف اشارہ ہے۔
مقدس کتاب قرآن پاک کی بے حرمتی یورپ میں ہوتی ہے اور ہم یہاں اپنی ہی املاک کو جلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں بابری مسجد کو گرانے پر احتجاج کا حق تو نظر آتا ہے مگر اپنے ہی ملک میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ ہم جو کر رہے ہیں اس پر ہمیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی اس سے بڑھ کر کیا بے حسی ہو سکتی ہے۔
اس طرح کے واقعات کو مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا بلکہ یہ ایک انتہاء پسندی ہے۔ اور ایسے واقعات کی تحقیقات کے بعد یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ان میں سے اکثریت کے اندر ذاتی مخالفتوں کو مذہبی رنگ دے کر انتقام لینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جیسا کہ سیالکوٹ والے واقعہ میں بھی فیکٹری ورکر نے اس بات کی تصدیق بھی کی تھی۔ آسیہ بی بی کے واقعہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
کسی بھی قسم کی انتہاء پسندی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں چہ جائے کہ ایک اسلامی ریاست کے اندر کوئی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اس میں معاملات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ عبادات تو انسان اور اس کے رب کا آپس کا معاملہ ہے، رب چاہے گا تو غلطیاں اور کوتاہیاں معاف کر دے گا لیکن معاملات اگر خراب ہوں گے اور کسی دوسرے انسان کے ساتھ کوئی زیادتی کرے گا یا اس کی حق تلفی کرے گا تو اس وقت تک معافی نہیں جب تک متعلقہ انسان معاف نہ کردے وگرنہ حساب دینا پڑے گا۔ ایک اسلامی ریاست کے اندر بلا تفریق ہر انسان کے حقوق کی پاسداری کی ضمانت مہیا کی جاتی ہے لہذا نہ تو اسلام کے اندر اور نہ ہی ہمارے آئین کے اندر کسی کو قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے اس طرح کے مجرمانہ فعل کی اجازت ہے اور نہ ہی ریاست کو اس پر کسی سے نرمی کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے بلکہ ایسے عناصر جو اسلام اور پاکستان کے نام پر سیاہ دھبا ہیں ان کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے۔


