اگر سپین بھی آج اسلامی مملکت ہوتا


مسلم خواتین کو خاص شکر ادا کرنا چاہیے کہ مسلمان یورپ میں زیادہ عرصہ نہ ٹک سکے اور اپنے عظیم کارناموں سمیت سپین سے ہی لوٹا دیے گئے ورنہ جینی ہر موسو اب تک تائب ہو کر اسلامی زندگی گزارنے کا عندیہ دے چکی ہوتی اور روبیالز سینہ چوڑا کر کے فخر کے ساتھ آزاد گھوم رہا ہوتا کہ مملکت اسلامیہ میں نیم برہنہ عورت کے سامنے فرط جذبات کے کسی بھی اظہار پر نہ کوئی قدغن لگائی جاتی ہے اور نہ ہی باز پرس کا کوئی تصور ہے کہ مرد کوئی روبوٹ تھوڑی ہے۔

سپین میں جہاں مسلم دور کی تاریخ دیکھنے کا شوق ہوا وہیں پر انجانے طور پر ایک سکھ کا سا سانس بھی لیا کہ شکر ہے مسلمان سپین سے ہی لوٹا دیے گئے۔ وگرنہ تاحال تک کی مسلمانوں کی استبدادی روش اور معاشرتی سطح پر قابل قبول اور فروغ کردہ مسوجنی نے یہاں بھی آزاد فضا میں سانس لینا محال کر دینا تھا۔ شکر ہے آج کے کرۂ ارض پر کم ازکم ایسی جگہیں تو موجود ہیں جہاں عورت کا ہنسنا کھیلنا، گھومنا پھرنا اور بھاگنا دوڑنا جیسی فطری حرکات مذہبی، معاشرتی یا اخلاقی سطح پر جرم اور فحاشی کے زمرے میں نہیں آتیں۔

خواتین کا کھیل کے میدان میں اپنی جگہ بنانا ایک خوش آئند بات ہے۔ مگر چونکہ ابھی انسانیت کے لئے بھی یہ ایک نیا دور ہے لہذا نئے اصول و ضوابط بھی وضع ہو رہے ہیں۔

سپین کے حالیہ فٹ بال فیڈریشن کے صدر روبیالز کے سکینڈل نے پدر سری ذہنیت کے ایک قابل مذمت روپ کو اجاگر کیا ہے جو سپین میں معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے تقاضے کا عندیہ دیتا ہے۔ اور یہی اس کے زندہ معاشرہ ہونے کا ثبوت ہے۔ بوسہ سکینڈل کو جہاں کچھ لوگ چائے کی پیالی میں طوفان کہہ رہے ہیں وہیں پر کچھ کے خیال میں یہ وہ آخری تنکا تھا جس نے اونٹ کی کمر توڑ دی۔ پدر سری معاشرت کی پروردہ دنیا میں جو باتیں معمول کی سمجھی جاتی تھیں آج ایک عورت دوسری کو ہمت دے رہی ہیں کہ اگر وہ انہیں برا محسوس کر رہی ہے تو مروت میں یا مصلحتاً خاموش نہ رہیں بلکہ آواز اٹھائیں۔

ہمیشہ سے مرد ہی بتاتا آ رہا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، یہاں تک کے خود عورت کو بھی کیا غلط اور کیا صحیح محسوس کرنا چاہیے، (یعنی mansplaining مینز پلنینگ) ، اس کا فیصلہ بھی مرد ہی کرے گا۔ بظاہر جینی ہرموسو نے اپنے کوچ کی حرکت پر کوئی فوری رد عمل نہیں دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رویے کو ایک معمول کی بات سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سکینڈل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پدر سری معاشرے میں باہر نکلنے والی باہمت عورتوں کو مردوں کی کیسی کیسی کرتوت سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے۔

مگر کوئی بھی غلط رویہ جب معاشرتی سطح پر بے نقاب ہوتا ہے تو معاشرے کا اجتماعی ردعمل ہی دکھاتا ہے کہ وہ معاشرہ کس سمت میں جا رہا ہے۔ اور ہرموسو روبیالز سکینڈل نے کم از کم ان کے معاشرے کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ یہ رویہ نارمل یا معمولی بات نہیں بلکہ مردانہ طاقت کا ایک پرتشدد اظہار ہے۔ اور یوں ہسپانوی معاشرہ قابل تعریف ہے کہ وہ پدر سری معاشرت نہیں بلکہ اخلاقی اقدار کے ساتھ کھڑا ہے۔

مغرب میں تو اس پرتشدد رویے پر کم از کم آواز تو اٹھائی جا رہی ہے۔ وگرنہ اسلامی پدر سری سپین میں تو آواز اٹھانے کی بھی گنجائش نہ ہوتی۔ نہ ہی روبیالز جیسی حرکات پہ کوئی مواخذہ ہوتا کہ خطا کو سراسر لڑکی کے سر تھوپا جاتا کہ اس نے گھر سے نکلنے اور فٹبال جیسے فحش کھیل کا انتخاب ہی کیوں کیا۔ اور بے پردہ اور نیم برہنہ اس کے سامنے کیوں آئی۔ اور پھر باقی ماندہ لڑکیوں کو سبق سکھانے اور ان کی حوصلہ شکنی کے لئے نصائح اور دروس کے پندار کھول دیے جاتے۔

روبیالز معصوم اور جذبات کی رو میں بہہ جانے والا بے گناہ انسان مان کر بخش دیا جاتا۔ یعنی سارا توجہ عورت کی تحقیر اور رسوائی پر مرکوز ہوتی۔ اور مجرم کے بجائے مظلوم کو ہی ذلیل و خوار کیا جاتا۔ ایسا نہیں کہ روبیالز کے ہم خیال سپین میں موجود نہیں۔ روبیالز کی ماں عورت ہوتے ہوئے بھی اپنے لڑکے کی وجہ سے طاقت کے اسی سنگھاسن پر بیٹھی ہے جہاں اسے اپنے بیٹے کا کوئی قصور نہیں دکھائی دیتا۔ مگر دوسری طرف جینی ہرموسو کے ساتھ اس کی سیاسی اور سماجی قوت کھڑی ہے۔ بس یہی فرق ہے۔ ایک طرف طاقت اور انا کا خمار ہے اور دوسری طرف انصاف اور اخلاقی اقدار کی انسانی نکتہ نظر سے پاسداری کی کوشش ہے، غلط کام پر پردہ ڈالنے کے لئے کوئی بلند و بانگ مذہبی یا سماجی دلائل نہیں۔

افسوس تو یہ ہے کہ آج کی مسلمان عورت بھی اگر کہیں کوئی حقوق حاصل کر رہی ہے تو وہ مغرب کی انھیں دلیر عورتوں کی ہی مرہون منت ہے ورنہ آج کے مسلمانوں میں تو ابھی بھی گھریلو تشدد کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ باقی اسلام میں عورت کے حقوق اور عزت کی تسبیح اور قصیدوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ اصل دین اور اور جو دین مسلم ممالک میں نظر آتا ہے میں آخر اتنا تضاد کیوں ہے۔ اخلاقی اقدار کا اس قدر انحطاط جس کا تصور ہی بعض اوقات ممکن نہیں ہوتا۔

معاشی بے ایمانیاں اور اخلاقی زوال تو ایک طرف، انسانی جان کی بھی کوئی توقیر اور عزت نہیں۔

وہ دین جو عورت کو پانچ وقت گھر سے نکلنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتا اسے پردے اور فتنے کے نام پہ کس نے قید کر رکھا۔ کیا قرون اولیٰ میں معاشرے میں کم فتنہ پایا جاتا تھا۔ غیر مسلم معاشرے کا فتنہ تو سمجھ آتا ہے، (گو کہ آج کے دور میں حقیقت مکمل طور پر برعکس ہے ) ۔ تو آخر ہمارے مسلم اکثریتی ممالک میں فتنے کو لگام دینے سے آخر کون روک رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی شہر میں کوئی ایک ہی ایسا مثالی ماڈل محلہ دکھا دیں جہاں مسلم عورت کو ہراسانی کا خوف نہ ہو اور وہ فجر سے عشاء تک کی نمازیں بلاخوف خطر محلے کی مسجد میں ادا کر سکے۔

سیدہ عائشہؓ کو امت کی ماں کہا جاتا ہے تو کیوں ان کی اولاد کی پرورش ماں کے نقش قدم پر نہیں کی جاتی۔ کیوں اس کو عالم فاضل اور اپنے قول کی سچائی ثابت کرنے کے لئے میدان جنگ میں بھی کودنے سے نہ کترانے کا درس دیا جاتا۔ گو کے بعد کے مورخین اور نام نہاد علماء نے پوری کوشش سے اس ماڈل کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔ سیدہ عائشہ ایک عالمہ، نڈر اور دلیر خاتون تھیں اور جس بات کو حق جانا اس کے لئے جنگ کرنے سے بھی نہ ڈریں۔ کہ وہ رسول اللہ کی تربیت یافتہ تھیں۔ یہ ستی ساوتری، ڈری سہمی اپنی ذات کو ہر دم چھپانے اور مٹانے والی عورت کا ماڈل آخر کہاں سے لیا گیا ہے۔

آج کے مسلمانوں کے پاس سوائے باتوں اور نصیحتوں کے انبار کے کچھ بھی نہیں۔ نہ دنیا کو دینے کے لئے اور نہ اپنی ذات کے لئے۔

زندہ معاشرے اپنے ماضی سے سبق ضرور حاصل کرتے ہیں مگر جیتے حال میں اور اپنے وقت میں ہیں، اور اس کو بنانے اور سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مردہ معاشرے ماضی پرست اور شخصیت پرست ہوتے ہیں، اور یہ ماضی پرستی انھیں خود پر انحصار کرنے سے روکتی ہے اور وہ تمام زندگی کسی ماضی کے ہیرو کے زندہ ہونے کے انتظار میں گزار دیتے ہیں ہیں جو ان کو مصائب سے آ کر نکالے گا۔

Facebook Comments HS