پاکستانی مس یونیورس
مس یونیورس کا ادارہ امریکہ اور تھائی لینڈ کی شراکت سے ہر سال مقابلہ کرواتا ہے جس کا ایک اندازے کے مطابق سالانہ بجٹ 10 کروڑ ڈالر ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 28 جون 1952 میں رکھی گئی۔ ہر سال ہونے والے اس مقابلے میں دنیا بھر سے خواتین اپنی خوبصورتی، ذہانت، پیشہ ورانہ زندگی، سماجی کاموں کی بنیاد پر شریک ہوتی ہیں جس میں رنگ و نسل، زبان، مذہب اور کلچر کی کوئی قید نہیں ہے۔
پاکستان نے کبھی بھی اس مقابلے میں شرکت نہیں کی گئی۔ تاہم کئی پاکستانی نژاد خواتین مختلف مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ اب یہ پہلی مرتبہ ہے کہ 24 سالہ کرسچن پاکستانی ماڈل ایریکا رابن اس عالمی مقابلے میں شریک ہو رہی ہیں۔ انہوں نے آن لائن اور اپنے طور پر اس مقابلے میں شرکت کی ہے۔ نگران وزیر برائے ثقافت و قومی ورثہ جمال شاہ کا کہنا ہے کہ نہ ان سے اس سلسلے میں اجازت مانگی گئی ہے نہ ہی انہوں نے اجازت دی ہے۔
اس معاملے میں عوام کا ردعمل ملا جلا ہے کچھ لوگ اس پر خوش ہیں تو کچھ ناراض۔ لبرلز خوش ہیں لیکن کچھ علما نے اس پر تنقید کی ہے۔ میرا موقف یہ ہے کہ علماء کو سب سے پہلے اسلامی جمہوریہ پاکستان سے ہر طرح کے حرام سمیت شوبز انڈسٹری کو بند کرنے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ اس طرح کے کاموں کی نوبت ہی نہ آئے۔ لیکن کبھی کسی عالم نے کسی بھی رائج حرام فعل کے خلاف کوئی بات نہیں کی جب کہ ان کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام میں حلال حرام کا تصور واضح کریں اور انہیں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔
دوسری بات یہ کہ اگر ہماری خواتین کو مس یونیورس بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ انڈونیشیا میں ہونے والے ورلڈ مسلمہ، جسے مس ورلڈ مسلمہ عربی بھی کہا جاتا ہے، میں حصہ کیوں نہیں لیتیں؟
اس مقابلے کا آغاز ورلڈ مسلمہ فاؤنڈیشن (WMF) نے 2010 میں انڈونیشیا سے کیا تھا۔ یہ ان نوجوان مسلم خواتین کے لیے ایوارڈز کی تقریب ہے جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسلامی اقدار اور کمیونٹی کی ترقی کے لیے لگن اور فکرمندی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ یہ تقریب ورلڈ مسلمہ فاؤنڈیشن (WMF) کی جانب سے ایک بین الاقوامی چیریٹی ایونٹ کے طور پر چلائی جاتی ہے تاکہ خوراک کے بحرانوں، جنگوں، تنازعات اور قدرتی آفات میں مسلم خواتین کی امداد سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ورلڈ مسلم سلیکشن میں داخل ہونے سے پہلے، 20 فائنلسٹوں کو ایک ورکشاپ میں شرکت کے لیے جکارتہ انڈونیشیا جانا ہوتا ہے۔ ان کی چند خصوصیات کو جج کیا جاتا ہے۔
صالحہ (پرہیزگار) اور اسمارٹ: شرکا روحانی مضامین پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جن میں قرآن حفظ، انسانی ذہانت کی ترقی، اسلام کے چیلنجز، عورت اور اس کے مستقبل کی ترقی، اور اسلام میں بہترین بیوی اور ماں ہونا شامل ہیں۔
صحت مند، دولت مند، اور خوبصورت: شرکاء کو فیشن فوٹو گرافی، تفریحی واک، عوامی تقریر، پیشکش کی مہارت، فیشن، خوبصورتی، انداز، اور اسٹیج پرفارمنس کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ قرآن کی تلاوت، نمازوں کی ادائیگی اور اسلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے ساتھ، ایونٹ کے دوران فائنلسٹ کی روزمرہ کی سرگرمیاں دیکھی جاتی ہیں۔ وہ مختلف چیریٹی کے کام کرتی ہیں اور ان سب کی بناء پر ان میں سے کوئی ایک مس مسلمہ بنتی ہے۔
اس پیجنٹ کے بارے میں بی بی سی کے پروگرام کے مطابق تمام امیدواروں کا حافظہ یا قاریہ قرآن ہونا اور باعمل مسلمان ہونا، اپنے محرم کے ساتھ یا اس کی اجازت سے اس میں شرکت کرنا ضروری ہے۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہی پاکستانی خواتین اس پیجنٹ میں شرکت کے لیے بھی اپلائی کریں گی۔ کیونکہ ایک مسلمہ کی منزل مس یونیورس بننا نہیں بلکہ ایک بہترین باعمل مسلمہ بننا ہے۔
(محترمہ حمیرا علیم، اس مقابلے میں حصہ لینے والی پاکستانی خاتون ایریکا روبن عقیدے کے اعتبار سے مسیحی ہیں۔ اتفاق سے پاکستانی دستور میں ہندو، مسیحی، سکھ اور پارسی سمیت تقریباً ایک کروڑ غیر مسلم باشندوں کو بھی مساوی حقوق کے حامل شہری تسلیم کیا گیا ہے۔ و-مسعود)

