وہ اک تارا (3)


ہیثم یہاں سے ٹرین میں اب سیدھا اپنے گھر چیچنیواینگوش جانا چاہتا تھا۔ پر اینا نے کہا۔

”نہیں ہیثم منرالنئے وودی تک چلتے ہیں۔ تم نے یہاں کے شفا بخش چشموں اور حماموں کا ذکر کیا ہے۔ پھر پیاتی گورسک بھی وہیں قریب ہی ہے۔ ہمارے شاعر میخائل لیرمونتوف یہاں اکثر آیا کرتے تھے۔ ایسے مواقع کب ملتے ہیں۔ تم تھے تو یہاں آ گئی ہوں۔ اب جو جو اہم چیزیں ہیں وہ دیکھتے جاتے ہیں۔ “

گاڑی سے کوئی پانچ اسٹیشن پر منرالنئے وودی کا حسین علاقہ تھا۔ ان کے درمیان اس نے سیاہ اور براؤن مٹی دیکھی۔ گیہوں اور مکئی کے کھیت دیکھے۔ وسیع و عریض چراگاہوں اور باریک اون والی ”میر ینو“ بھیڑیں اور موٹا اون دینے والی ”والوشا“ بھیڑوں کو ہیثم کے بتانے پر دیکھا۔

ریوڑوں کو چلتے پھرتے دیکھ کر اپنے تازہ حاصل کردہ علم کا ٹیسٹ بھی کیا۔
”ہیثم یہ میرینو ہیں نا۔ یہ والوشاہیں نا۔“
اور ہیثم ہنس پڑتا۔

منرالنئے وودی بہت حسین علاقہ تھا۔ چشمے اور حمام دیکھے۔ دوردراز سے آنے والے لوگوں سے ملاقات کی۔ میرا پردادا بھی تو اسی چکر میں ادھر منتقل ہو ا تھا۔

پیاتی گورسک کے قریب وہ پہاڑ تھا جہاں میخائل نے ڈوئل لڑا اور مارا گیا اور جہاں اس کی یاد میں سفید کالم بنا ہوا تھا اور اس پر تفصیل درج تھی۔

پشکن کی طرح اس نے بھی ڈوئل لڑا اور مارا گیا۔ ہیثم اسے بتاتا تھا۔

جب وہ گروزنی کے لئے گاڑی میں سوار ہوئے۔ اس نے کھڑکی سے باہر سٹیشن پر بکھرے پہاڑی لوگوں کو گھومتے پھرتے دیکھ کر دفعتاً پوچھا۔

” ہیثم تم ڈوئل کو کس نظر سے دیکھتے ہو؟“

” میں محبت میں شرکت کا قائل نہیں۔ یہ زبردستیوں کے سودے نہیں ہوتے۔ الگ ہو جاؤ۔ یہ کیا؟ لڑو۔ مرو۔ گھٹیا حرکت، گھٹیا کام۔“

اور جب وہ جارجیا اور بلیک سی کے ساتھ جڑے اس کا کیشیائی علاقے کے پہاڑوں، ان کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں کو دیکھتی، ان کے باسیوں، ان کی روایات، ان کے رسم و رواج اور ان کی طویل جدوجہد آزادی کے بارے میں سنتی اور سوالات کرتی تھی، اسے معلوم ہوا تھا کہ کا راچائی معاشی اور تہذیبی لحاظ سے بہت پس ماندہ قوم ہے۔ یہاں نسلوں دشمنیاں چلتی ہیں۔

”اوہو۔“ ہیثم نے اسے دیکھا۔ ”شوہر اپنی بیویوں سے بہت کم بات کرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک تو حالت یہ تھی کہ شوہر گھوڑے پر سوار ہوتا اور بیوی پیچھے پیچھے بوجھ اٹھائے چلتی تھی۔“

”اوہو۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ کتنا فنی لگتا ہو گا۔“

بہرحال اب سکول کالج کھل رہے ہیں۔ تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ یہاں قازق ہیں۔ آذری، بشکیری، کر غیزی، تاتاری، ترکمانی، منگولوں اور ترکوں کی نسلیں۔ سوویت کی 280 ملین آبادی میں 53 ملین مسلمان ہیں۔ سوویت کی جنوبی ریاستوں کے یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے روس کے عظیم شاعر پشکن نے نظمیں لکھی ہیں۔ اپنی جلا وطنی کا کچھ وقت اس نے یہاں گزارا تھا۔

”اے گروزنی حسینہ۔“ ہیثم نے پشکن کی خوبصورت نظم اسے سنائی۔
بہت دور تک
دشت میں
پھیلی ہوئی چاندنی رات میں
تیرے وجود کا
پیچ و خم
تیری آواز کا ،
تیرے پرسوز گیتوں کا سوز و ساز
مجھے نہ سنا
یہ درد بھرے راگ سہانے
اے گروزنی حسینہ!

سٹیشن پر اترنے سے پہلے وہ باتھ روم میں گئی۔ اس نے ٹخنوں تک کا لونگ سکرٹ پہنا۔ نیلے اسکرٹ سے ہمرنگ بینڈ سے بالوں کو باندھا۔ بالوں کو سکارف سے ڈھانپا اور جب وہ باہر آئی اس نے ہیثم کی طرف دیکھ کر کہا۔

”لو دیکھو، اب تمہاری تسلی ہو جانی چاہیے۔ میں تمہارے گھر کی دنیا میں داخل ہونے کے لئے پوری طرح تیار ہوں۔ ہاں ہیثم مجھے یہ بتاؤ تم نے اپنے گھر والوں کو میرے بارے میں کیا کہا ہے؟“

”کیا کہنا تھا۔ یہی کہ ماسکو یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو علاقے پر ریسرچ کر نا ہے۔ میری ڈیوٹی اسے یہ کام کرانے پر لگی ہے۔“

وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
”کسی حد تک بات غلط بھی نہیں۔“
گروزنی چیچنیا کا مرکزی شہر جس سے تھوڑے فاصلے پر چیچنیوا ینگوش تھا۔

جب وہ اس اونچے محرابی گیٹ سے اندر ایک ایسے گھر میں داخل ہونے والی تھی جس کے ایک اہم فرد سے وہ اپنے دل کا معاملہ طے کر بیٹھی تھی، اسے عجیب سے محسوسات کا احساس ہوا تھا۔ سماں جھٹ پٹا سا تھا۔ کشادہ آنگن کی دیواریں انگوروں کی بیلوں سے ڈھنپی پڑی تھیں۔ چنامنا سا پھل کوئی ٹنوں کے حساب سے نازک سی بیلوں پر چڑھا ہوا تھا۔ بہت سارے لوگ نکل کر ان کے گرد اکٹھے ہو گئے تھے۔ سروں کو ریشمی سکارفوں سے باندھے موٹے چنٹوں والے فراک جو ٹخنوں کو چھوتے تھے پہنے، انتہائی خوبصورت ہر عمر کی چھوٹی بڑی لڑکیاں اور عورتیں اسے حیرت و استعجاب سے دیکھتی تھیں۔ داڑھیوں والے اور کلین شیو مرد اور لڑکے جنہوں نے اونی ٹوپیاں اوڑھ رکھی تھیں۔

امام شمل کی بڑی سی تصویر برآمدے میں آویزاں تھی۔ آزادی کی جنگ کا ہیرو جسے روسیوں نے 1858 ء میں شکست دی تھی۔ سترہویں صدی کا یہ منفرد روایات کا حامل، اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ، وسط ایشیا کا دل، جس پر روسیوں کی نظریں تھیں، یورپ والوں کی اس کے تیل کے ذخائر پر رالیں ٹپکتی تھیں، ابھی تک مسلسل اپنی جدوجہد میں مصروف تھا۔

ایک ہفتہ اس نے اس گھر اور اس ماحول میں گزارا جہاں بوڑھے اور کسی حد تک نوجوان بھی نماز پڑھتے تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت ہوتی تھی۔ جہاں اونچے اونچے میناروں والی خوبصورت مسجدیں تھیں۔ جہاں آنکھوں کو طراوت دیتی سبزے کی چراگاہوں میں چراتے بھیڑ بکریوں اور ان گلوں کو پالتے سادہ دل جوان اور بوڑھے تھے۔ جہاں وادیوں اور پہاڑی سلسلوں کی سطح مرتفع پر جوار، باجرہ، مکئی اور گندم اگائی جاتی تھی۔ جہاں لڑکے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار ہوتا۔

جہاں خاندان مل جل کر رہنے کو اپنے لئے ایک مسرت اور خوشی سمجھتے۔ جہاں مردوں کو پہلے اور الگ کھانا دیا جاتا تھا۔ پھر بچوں کی باری آتی اور آخر میں عورتیں اس بڑے سے باورچی خانے میں جہاں رنگ برنگے ڈیزائنوں والے دبیز نمدے نما قالین بچھے ہوتے، کھانا کھاتیں۔ چوبی ڈیزائن دار چھتیں آگ کے دھوئیں سے سیاہی مائل ہوتیں۔ دیواروں میں بنے طاقوں میں موم بتیاں جلتیں اور دیواروں میں ہی عجیب ساخت کے آتش دانوں میں آگ دہکتی۔

یہاں اس نے بکرے کے گوشت میں بنے چاولوں کو کھایا اور اس کی ترکیب سیکھی۔ تازہ مکھن اور پنیر جسے Tvorog کہتے تھے اسے اور دنبے کی چربی سے بنے تازہ گرم نانوں کو قہوے کے ساتھ کھا کر لطف اٹھایا۔ سادہ دل لوگ جن میں محبت اور خلوص تھا۔ دلیری اور شجاعت تھی۔ سادہ کھانا کھانے، سادہ پہناوا پہننے اور سادگی سے رہنے والے جن پر سوویت یونین کے فوجی دستے اور خفیہ پولیس والوں نے بہت بار ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ گھروں سے بے گھر کیا۔ ان کی زمینوں پر قبضے کیے ۔ ان کی مسجدوں پر تالے چڑھا کر انہیں عبادت سے جبراً روکا۔

یہاں راتوں کو اس نے آگ کے گرد بیٹھ کر ان فوک کہانیوں کو سنا جو ان کی تاریخ، ان کے ہیرو ازم، ان کی بہادری و شجاعت کے قصوں کو سموئے ہوئے تھیں۔ اس نے اکارڈین سنا۔ ڈرم بجتے دیکھا۔

بگلما پر پرانے اناطولوی گیتوں نے اسے جس مسرت اور تحیر سے آشنا کیا وہ بیان سے باہر تھا۔
جب وہ واپس جا رہی تھی۔ ہیثم کی چلبلی سی بہن نے اس کے کان میں کہا۔
”تم دلہن بن کر کب آؤ گی؟“

اس نے حیرت سے اس تیرہ چودہ سالہ زرافشاں کو دیکھا۔ اس کی کسی بھی حرکت سے کسی بھی تعلق کا کوئی اظہار نہ ہوا تھا۔ پر لڑکیوں کی حسیات کتنی تیز ہوتی ہیں؟ اس نے بے اختیار سوچا اور مسکراتے ہوئے بولی۔

”جب تمہارے خدا کو منظور ہو گا۔“
”آپ خدا کو نہیں مانتی۔“
”ہاں۔ شاید، تھوڑا بہت مانتی ہوں۔“ لڑکی گڑبڑا سی گئی تھی۔
اینانے اسے اپنی بانہوں کے کلاوے میں بھر لیا اور اس کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوئے بولی۔
”ابھی میں پڑھ رہی ہوں۔ پڑھنے کے بعد میں نے تم لوگوں پر لکھنا ہے۔ شادی وادی کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔“

اس علاقائی سیاحت جس کا آغاز خوشی و مسرت اور سیر سپاٹے جیسے موڈ کے زیر اثر ہوا تھا۔ واپسی پر دکھ، ملال اور تاسف جیسے رنگوں سے بھر گیا تھا۔ علاقہ سونا دے رہا تھا پر عوض میں چاندی چھوڑ، پیتل چھوڑ، لوہا بھی نہیں لے رہا تھا۔ اس کے ذہنی افق نے وسعت اور کشادگی حاصل کی تھی اور چیزیں اپنے وسیع تناظر کے ساتھ سامنے آئی تھیں۔ پہلی بار اسے سوویت کی افغانستان میں فوج کشی پر شرمندگی اور ندامت کا احساس ہوا تھا اور اس نے دل سے سمجھا تھا کہ روس انتہائی فضول اور بے کار کی جنگ میں کودا ہے جس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔

اور یہ بھی وہ اب سمجھی تھی کہ ہیثم کو کاکیشیا کے تیل اور گیس کے ذخائر پر روس کے قابض ہونے پر کیوں شدید اعتراض ہے؟

تیل کے سونے سے مالا مال، قدرتی وسائل سے لدا پھندا، پر تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل میں انتہائی پس ماندہ۔

Facebook Comments HS