شکیلہ رفیق کے افسانوی کردار: سماجی حبس اور جنسی گھٹن


شکیلہ رفیق افسانہ نگاروں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں جو حقیقت پسندی کی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے فنکار تخیل کے مقابلے میں تجربے اور مشاہدے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اپنے فن میں معاشرتی حالات اور تضادات کی عکاسی کرنے اور سماجی سچائیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

شکیلہ رفیق اپنے افسانوی مجموعے ’قطار میں کھڑا آدمی‘ کے دیباچے میں لکھتی ہیں :

”میں بھی اپنی کہانیوں کے موضوعات براہ راست زندگی سے چنتی ہوں۔ میری ہر کہانی میں میرا مشاہدہ یا تجربہ ضرور شامل ہوتا ہے۔ صرف تخیل کے بل بوتے پر میں نے کبھی کہانی کا تانا بانا نہیں بنا کیونکہ یہ پڑھنے والے کو دھوکہ دینے والی بات ہے، اور میں کسی کو دھوکہ دینا سب سے بڑا گناہ سمجھتی ہوں۔ یوں تو تخلیق کار کا وجود غیر محسوس طور پر اس کی تحریر میں ہوتا ہے لیکن اگر وہ اسی حد تک محدود رہے جو کچھ اس پر ذاتی زندگی میں بیتی ہے، تب پھر وہ تخلیق نہیں کچھ اور ہے۔ ہاں اگر وہ اسے دوسرے انسانوں کی کہانی بنانے کا گر بھی جانتا ہے تب وہ ایک تخلیق کار ہے۔ “

جب ہم شکیلہ رفیق کی اس کسوٹی پر ان کے فن پاروں کو پرکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے آپ بیتیوں اور جگ بیتیوں کو بڑی خوبصورتی اور فنی مہارت سے اپنے افسانوں میں ڈھالا ہے۔ جب ہم ان کے افسانوں کے کرداروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ مشرق کے اس ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جو حبس زدہ ہے اور وہ حبس بدقسمتی سے بہت گمبھیر ہے۔ اس حبس میں

معاشرتی حبس بھی شامل ہے، سماجی بھی
معاشی حبس بھی شامل ہے، سیاسی بھی
مذہبی حبس بھی شامل ہے، روحانی بھی
رومانوی حبس بھی شامل ہے، جنسی بھی

اس حبس زدہ ماحول میں برس ہا برس زندگی گزارنے سے ان کرداروں میں جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور اخلاقی کج روی پیدا ہو گئی ہے۔

بعض کرداروں میں غصہ، نفرت اور تلخی کے جذبات ابھر آئے ہیں۔ بعض بے حس ہو گئے ہیں۔ بعض احساس گناہ کی دلدل میں اتر گئے ہیں۔ بعض نے منافقت کی زندگی اختیار کرلی ہے اور بعض مشرق سے فرار حاصل کر کے مغرب میں آ بسے ہیں، لیکن شومئی قسمت سے وہ مغرب کی آزاد فضا میں بھی آرام، سکون اور آشتی کی زندگی نہیں گزار سکتے کیونکہ وہ اپنے تعصبات اور تضادات اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں اور وہ خارجی حبس ختم ہو جانے کے باوجود داخلی حبس سے چھٹکارا حاصل نہ کرسکے ہیں۔

شکیلہ رفیق کی کہانیاں ان ہی حبس زدہ کرداروں کی کہانیاں ہیں۔ وہ ایک ماہر فنکار اور ماہر نفسیات کی طرح ان کرداروں کے عوارض کی نشاندہی کرتی ہیں اور ہمیں اپنے نفسیاتی اور سماجی مسائل پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔

’قطار میں کھڑا آدمی‘ کا ہیرو مظلوم و مجبور لڑکا جس کا نام شہنشاہ ہے، پوچھتا ہے: ”کیوں؟ آخر کیوں ہم دونوں ایک مذہب اور ایک خدا کو ماننے والے ہیں۔ ایک ہی ملک میں رہتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دونوں انسان ہیں پھر کیوں مجھ میں اور اس آدمی میں اتنا فرق ہے؟ وہ کس بنا پر اس نرم گدیلے پر سوتا ہے اور میں۔ لکڑی کے اس لوہے جیسے تخت کا حقدار ہوں۔ آخر کیوں؟ (صفحہ 15 )

شہنشاہ کا احساس محرومی پہلے احساس کمتری کو جنم دیتا ہے اور پھر غصہ بن کر اس کے سراپا میں پھیل جاتا ہے۔ جب وہ گھر جاتا تو سارا غصہ گھر والوں پر اتارتا۔

’آخر کیا حق پہنچتا ہے اس کو کہ وہ مجھے کتوں کی طرح دھتکار دے۔ ”وہ تیرا مالک ہے بیٹا ’ماں سمجھانے والے انداز میں کہتی اور باپ بیڑی سلگا لیتا۔
’کس نے بنایا ہے اسے میرا مالک؟‘
’اللہ کے کاموں میں بندے کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔ ‘
’اللہ کے کام‘ وہ دانت پیستا ’اللہ کو بیچ میں کیوں گھسیٹتی ہے ماں! اس نے تو سب انسانوں کو ایک جیسا بنایا تھا۔ وہ اب بھی سب کو برابر کہتا ہے۔ ’ (صفحہ 19 )

اور آخر جب شہنشاہ برسوں کی محنت، مشقت اور ریاضت سے خود صاحب ثروت بن جاتا ہے تو اس کے لہجے میں عاجزی اور انکساری کے بجائے غرور اور تکبر کی جھلک نظر آنے لگتی ہے۔

’ماں نے اسے لپٹا لیا۔ اب بھول جا اس بات کو۔ اللہ نے تجھے اتنا دیا ہے کہ اب تو اپنی ہر خواہش پوری کر سکتا ہے۔ پھر اب کیا غم۔ اس کا شکر ادا کر ’۔ ‘ واہ ماں! یہ بھی خوب کہی تم نے۔ سب کچھ تو میں نے اپنے زور بازو سے حاصل کیا ہے اور شکر اللہ کا ادا کروں! ’اس کے ہونٹوں پر زہر خند تبسم پھیل گیا۔‘

مشرقی معاشرے میں بہت سے غریب، بیمار اور معذور جب اپنے مسائل کا حقیقت پسندانہ حل تلاش نہیں کر پاتے تو مذہب کی توہم پرستانہ روایت میں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور ٹونے ٹوٹکے، گنڈے اور تعویز سے اپنے مسائل کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

’دھڑکا‘ افسانے کے کردار کہتے ہیں :
میری مانو تو میرے ساتھ چل کر عامل صاحب سے مشورہ کرلو۔ ایسا تعویز دیں گے کہ اگلے ہی دن ہلکی پھلکی ہو جاؤ گی۔ ’
ہر نماز کے بعد ایک تسبیح سلام کی پڑھ لیا کرو۔ انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اوپر والے سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ ’ ’ایک بکرا منگاؤ اور صدقہ دے دو۔‘ (صفحہ 85 )

مشرقی ماحول کا ایک المیہ یہ ہے کہ اگرچہ وہاں ہزاروں حقدار موجود ہیں لیکن پھر بھی جینوئن حقدار کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ شکیلہ رفیق اس مسئلے کا اظہار اپنے طنزیہ انداز میں اس طرح کرتی ہیں :

”اسی رات سونے سے قبل اس نے اپنے تکیے کے نیچے بارہ تیرہ روپے رکھے جو صبح کسی ضرورت مند کو دینے تھے اور پھر اس کا ذہن ضرورت مندوں کے بھنور میں جا پھنسا۔ فی زمانہ کسی ضرورتمند کا تعین کرنا کتنا دشوار!


چوراہے پر کھڑا ہٹا کٹا ملنگ۔
پھٹے برقعے میں ملبوس وہ عورت، جس کی گود میں کالا بچہ روئے جا رہا ہے۔
ٹنڈا لڑکا جس کا ہاتھ دانستہ کہنی سے توڑ دیا گیا ہے
ران پر پاؤ بھر قیمہ ڈاکٹری بینڈیج کے ساتھ باندھے وہ سوالی جس کی آنکھوں میں ہیروئن جھانک رہی ہے۔
سفید شٹل کاک برقعے سے باہر نکلا ہوا ایک ہاتھ جس کے ساتھ جڑا جسم مجسمہ کی طرح ساکت ہے۔
چار پہیے والی چھوٹی سی گاڑی پہ تیزی سے ادھر ادھر بھاگتا معذور فقیر جس کی بھاری جیب وزن سے لٹک رہی ہے۔
گونگا۔ کاغذ پر حال دل تحریر کیے جس کی ماں قریب المرگ ہے
معصوم و کمسن لڑکے لڑکیاں جو ’دے دے بی بی! اللہ حج کرائے گا۔ اللہ جوڑی سلامت رکھے ’کے سوا شاید کوئی اور جملے نہیں جانتے۔ ضرورت مند کسے سمجھا جائے؟ مستحق کون ہے؟ ان میں سے کسے روز تیرہ روپے دیے جائیں۔ ”

جب کسی قوم میں شرح خواندگی 60 فیصد سے بھی کم ہو اور علم و عرفان کی شمعیں جہالت اور تعصب کے اندھیروں میں سسک رہی ہوں تو مذاہب بھی سلامتی، امن اور آشتی کی فضا قائم کرنے کے بجائے منافقت، نفرت اور دشمنی کے بیج بونے لگتے ہیں اور معاشرے کے حساس افراد اپنا ذہنی توازن کھونے لگتے ہیں۔

”بدر الدین خان جنہیں ڈاکٹر نے ذہنی بیمار کہہ کر علاج بند کر دیا تھا اور جو پابندی سے اخبار پڑھتے تھے اور۔ جب اک روز وہ اخبار لپیٹ کر بڑبڑائے ’مشرقی پاکستان سے لٹ پٹ کر یہاں آئے اور اب یہاں سے جانے کہاں؟ جملہ ادھورا چھوڑ کر آنسوؤں کے گولے حلق سے اتارتے ہوئے انہوں نے حسرت سے بیوی کو دیکھا جن کی صحرا سی آنکھیں ان کے وجود کو خود مجسم قرار بنائے ہوئے تھیں۔ جب سے کراچی جیسا شہر نفرت کی گلیوں اور فرقوں کے محلوں میں بٹ گیا تھا، تب سے یہ فقرہ ان کا معمول بن گیا تھا۔

”اور۔ اب یہاں سے لٹ پٹ کر نجانے کہاں۔ ؟“

بدر الدین کی جسمانی، ذہنی اور روحانی بیماری آخر اتنی بڑھی کہ وہ اس حبس زدہ ماحول میں مزید سانس نہ لے سکے اور جس دن انہوں نے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ ”مسجد میں عبادت کرتے نمازیوں کو شہید کر دیا گیا“ تو ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

جب کسی معاشرے کا سماجی اور ثقافتی حبس ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو وہ سیڑھیاں پھلانگتا ہوا لوگوں کے گھروں میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور خاندانوں، رشتوں کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں نوجوان لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ان کی زندگیوں کے فیصلے شادی سے پہلے ان کے والدین اور شادی کے بعد ان کے شوہر کرتے ہیں، اور ان خواتین کی آزادی اور خود مختاری کو وہ حبس، دیمک بن کر چاٹ جاتا ہے۔

شکیلہ رفیق لکھتی ہیں : ”اس کے خاندان میں لڑکیوں سے رائے مشورہ لینے کی کوئی روایت نہ تھی۔ صرف فیصلہ سنانے کا دستور تھا۔ سو اس سے بھی کسی نے نہ پوچھا کہ اے اچھی سی لڑکی! تجھے کسی اچھے لڑکے کی تلاش تو نہیں؟“ (صفحہ 175 )

”۔ ایک بار اس نے دبے لفظوں میں ماں کو تحریری طور پر سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس شخص کے ساتھ زندگی گزارتا یوں ہے جیسے دہکتے ہوئے انگاروں پر چلنا۔ ماں نے کھلے لفظوں میں وہی جواب دیا تھا جو ہمارے یہاں کی ان پڑھ مائیں دیتی ہیں۔ ایسی بات اس نے سوچی بھی کیسے؟ شوہر کے گھر داخلہ لال جوڑے میں اور واپسی سفید کفن میں۔ ” (صفحہ 178 )

”ان کی بیوی ان کے بستر کے قریب ہی بیٹھی رہنے لگی تھیں کہ ہمارے یہاں کی بیویوں کی اپنی زندگی نہیں ہوتی۔ وہ ان راستوں پر جو شوہروں کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں، بلا ارادہ چلتی رہتی ہیں۔ “ (صفحہ 163 )

جب کسی ماحول کا حبس اس قدر بڑھ جائے تو پھر چاہت، محبت اور پیار کے معصوم اور مخلص دریا رک کر جوہڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان میں گناہوں کی سڑاند پیدا ہونے لگتی ہے۔ جب مخلص جذبوں کے اظہار پر پابندیاں عائد ہوں، تو ان سے بہت سی نفسیاتی، جذباتی اور جنسی کج رویاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ شکیلہ رفیق نے اس صورت حال کا بھرپور اور فنکارانہ اظہار اپنے افسانے ”گونجتی ہوئی خاموشیاں“ میں کیا ہے، جس کا اہم کردار عبداللہ ایک جنسی تضاد کا شکار ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی عائشہ جو ایک مہمان بن کر اس کے گھر میں، اس کے اور اس کی بیٹی ماہ رخ کے ساتھ رہتی ہے، کے عشق میں گرفتار ہے لیکن اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتا۔ ایک طرف وہ اسے چھپ چھپ کر دیکھتا ہے، اس کے کپڑوں کو چھوتا ہے، اس کے بستر پر لیٹتا ہے اور اس کے بارے میں فینٹاسائز کرتا ہے۔

”غسل خانے میں متبسم آنکھوں میں اس سمے حیرت گھل جاتی ہے جب عبداللہ نہانے کی بجائے، عائشہ کے اتارے ہوئے، کھونٹی پر لٹکے کپڑوں کو اک اک کر کے اپنی آنکھوں، گالوں اور ہونٹوں سے لگاتے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں بھرنا شروع کر دیتا ہے۔“ (صفحہ 180 )

”عائشہ صبح دیر سے بیدار ہونے کی عادی تھی۔ ماہ رخ کے کالج جانے کے بعد وہ اٹھتی اور جونہی کمرے سے نکل کر غسل خانے کا رخ کرتی۔ وہ جو بڑی دیر سے اس کے اٹھنے کا منتظر ہوتا، اٹھ کر بیٹھ جاتا، پھر دبے پاؤں چلتا ہوا اس کے بستر پر جا کر لیٹ جاتا، جہاں سے ابھی ابھی عائشہ اٹھ کر گئی ہوتی۔“ (صفحہ 193 )

اور دوسری طرف نمازیں پڑھ پڑھ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ ”وہ جاء نماز پر سجدہ ریز تھا ’اے رب کریم! مجھ گناہگار کو معاف کردے۔ عائشہ مجھے اپنا باپ سمجھتی ہے۔ “ (صفحہ 190 )

”وہ ہزار بار توبہ تلا کرتا، مگر عائشہ کا سامنا ہوتے ہی اس کی توبہ پانی کے ان قطروں کی شکل اختیار کر لیتی جو گلاس کے اوپر نقطوں کی صورت اس وقت ابھر آتے ہیں جب اس میں پڑی برف گھل گھل کر مشروب میں مدغم ہونے لگتی ہے اور پھر ہاتھ کے لمس کی حرارت کے ساتھ ہی یہ نقطے معدوم ہو جاتے ہیں ’ (صفحہ 195 )

جہاں شکیلہ رفیق ہمیں ایسی پیچیدہ نفسیاتی اور جنسی بھول بھلیوں میں لے جاتی ہیں وہیں وہ ان بھول بھلیوں سے نکلنے کے راستے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔ ”اچانک ہی سرکتے ہوئے لمحوں کے درمیان عائشہ کا پراسرار لہجہ ابھرا۔ ’خود کو اذیت دینے سے بہتر ہے انسان سچ بول دے۔ “ (صفحہ 200 )

شکیلہ رفیق کے افسانوں کے چند کردار مشرقی ماحول سے بیزار ہوتے ہیں کہ وہ مغرب کی آزاد فضا میں آ بستے ہیں لیکن انہیں جلد ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں کی بیڑیاں اپنے ساتھ لائے ہیں، وہ مشرقی حبس اور گھٹن کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ مغرب کی آزاد فضا میں سانس لینا ان کے لیے بہت مشکل ہے۔ وہ دمہ کے مریض کی طرح تازہ ہوا سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے لیے مغرب کی معاشرتی زندگی کا حصہ بننا اتنا دشوار ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں مقید ہو جاتے ہیں اور ٹی وی پر مشرقی پروگرام دیکھ دیکھ کر دل بہلاتے رہتے ہیں، وہ عجیب الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ نہ آگے جا سکتے ہیں نہ ہی پیچھے۔ پہلی نسل کے مہاجروں کی اکثریت دھوبی کے کتے بن جاتے ہیں، نہ گھر کے نہ گھاٹ کے۔

شکیلہ رفیق لکھتی ہیں کہ ”۔ یہاں یہ سب کچھ اچھا لگتا ہے، ملکی جھنڈا، قومی ترانہ، اپنی زبان اور اپنا لباس۔“

”بچے یہاں میرا مذاق اڑاتے ہیں ماما! یہ کمپیوٹر کا دور ہے، آپ کس دنیا میں رہتی ہیں؟ مگر مجھے یہی چھوٹی سی دنیا اچھی لگتی ہے، کمپیوٹر مجرموں کے چہرے پر تو چور خانے بنا کر انہیں معصوم کر دیتا ہے اور جہاں چور خانوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں سب کچھ نظر آتا ہے، اسی لیے میں اس چھوٹی سی نگری میں ہی ٹھیک ہوں۔ اس کے باہر بڑے عذاب ہیں۔ جو میں نہ سہ سکوں گی۔“ (صفحہ 31)

مہاجروں کی پہلی نسل کی اکثریت اسی عذاب میں زندگی گزار دیتی ہے۔ وہ نہ واپس جا سکتی ہے، اور نہ نئے ماحول کی آزادیوں اور دلچسپیوں سے محفوظ ہو سکتی ہے۔ ”سچی بات تو یہ تھی کہ دونوں ہی کینیڈا جیسے ملک میں خوش نہ تھے، مگر اب ان کے پاس واپسی کا کوئی رستہ نہ تھا۔ کشتیاں وہ جلا آئے تھے اور۔ تیرنا انہیں آتا نہ تھا۔“ (صفحہ 66 )

پہلی نسل کے مہاجروں کے مقابلے میں وہ بچے جو مغرب کی آزاد فضا میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے وہ ایک آزاد خاندان کے بزرگ ان کے پر کاٹنا چاہیں تو وہ بڑے اعتماد سے کہتے ہیں : ”آپ لوگ ساری عمر بڑوں کو خوش کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ اپنے بارے میں کچھ نہیں سوچتے ضروری تو نہیں بوڑھے ہر بات درست ہی کہیں۔ “ (صفحہ 126 )

شکیلہ رفیق نے اپنے افسانے ”باوضو دلہن“ میں دو نسلوں اور ثقافتوں کے تضاد کو بڑی چابکدستی سے اجاگر کیا ہے اور ان رشتوں کی نشاندہی کی ہے جو دو انسانوں کی معصوم چاہت اور محبت کی بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں۔ وہ رشتے جو فطری ہوتے ہیں اور جنہیں مذہب اور قانون کی سند کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسے رشتے، مشرقی رسومات اور روایات کی منافقت کو آئینہ دکھاتے ہیں اور کنوار پن کے متھ کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔

”باوضو دلہن“ کی ہیروئن جو چار برس سے اپنے محبوب کے ساتھ محبت کے دریا میں نہاتی آئی ہے، شادی کی رسومات سے بیزار ہے۔ جب مشرقی روایات کی علمبردار پھوپھی شادی کے دن اسے وضو کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور اسے شب عروسی کے بارے میں نصیحتیں کروانا چاہتی ہے تو وہ ہیروئن ان فرسودہ رسومات کی سادگی پر طنز کرتی ہے۔

”سجو نے چند لمحے اسے دیکھا پھر قدرے افسردگی اور اکتاہٹ سے دھیمے لہجے میں بولنے لگی۔ ’تم کسی کی بات سننے پر راضی تو نہیں ہو ببلی! اور میں خود بھی کسی پر وارد ہونے کو اچھا نہیں سمجھتی۔ محض پھوپھی کے کہنے پر آئی ہوں۔ وہ بیچاری اسی پرانے طرز پر سوچتی ہیں۔ ‘ وہ رکی۔ ببلی نے اسے یوں دیکھا جیسے کہہ رہی ہو ’جلدی بکو‘ وہ پھر بولنے لگی ’اب وہ سمجھتی تو ہیں کہ آج کل کی لڑکیوں کو کچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مگر وہ مانیں جب نا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں۔ یعنی۔ مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں آج کے لیے چند مشورے دے دوں تاکہ۔۔۔ ’مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے‘ اس نے اک سرسری نگاہ سجو پر ڈالی پھر بولی ’اور اس طرح کے مشوروں کی ضرورت تو پہلی رات پڑتی ہے۔ ” (صفحہ 128 )

شکیلہ رفیق نے ”باوضو دلہن“ ، ”گونجتی ہوئی خاموشیاں“ اور ’قطار میں کھڑا آدمی ”جیسے افسانے تخلیق کر کے ثابت کر دیا ہے کہ انہوں نے مشرق اور مغرب دونوں معاشروں اور ثقافتوں کو قریب سے دیکھا ہے اور ان کے مسائل اور تضادات کو اپنے افسانوں میں فنکارانہ طور پر پیش کیا ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی اپنا تخلیقی سفر جاری رکھیں گی اور ان کی خواہش کے مطابق اردو ادب کی زیر تعمیر عمارت میں ایک دن ان کے نام کی سنہری اینٹ بھی رکھی جائے گی۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 697 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments