بوسنیا کی چشم دید کہانی (47)

مقامی خواتین کی اکثریت کی طرح سیکا بھی بلا کی سگریٹ نوش تھی۔ ایشور سگریٹ نہیں پیتا تھا۔ ایک دن سیکا کے پوچھنے پر اس نے یہ انکشاف کر کے کہ کبھی وہ سیکا سے بھی بڑا سگریٹ نوش رہا ہے، اسے تو حیران و پریشان کر دیا۔ سیکا نے بڑے اشتیاق سے یہ جاننا چاہا کہ منہ سے لگی یہ کافر آخر چھٹی کیسے؟ ایشور نے بتایا کہ گرمیوں میں جب بھی میں گاؤں جاتا ہوں تو دوپہر کو اس پیپل کے درخت کے سائے میں آرام کرتا ہوں جو میرے گھر سے ملحق کھیت میں لگا ہوا ہے۔
نیند سے بیدار ہو کر سہ پہر کی چائے بھی اسی درخت کے نیچے پیتا ہوں۔ ایک دن جب میں سو کر اٹھا تو میری بیگم حسب معمول میرے لئے چائے اور سگریٹ کی ڈبیا ٹرے میں رکھ کر لائی۔ نہ معلوم کیا ہوا کہ میں نے چائے کی پیالی اٹھا لی اور سگریٹ واپس کر دی۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے سگریٹ کو چھوا تک نہیں۔ سیکا یہ قصہ سننے کے بعد اکثر یہ افسوس کرتی تھی کہ کاش اس کے گھر کے قریب بھی کوئی پیپل کا درخت ہوتا کہ وہ بھی ایشور سنگھ کی طرح سگریٹ نوشی کو ترک کر نے کی ترکیب آزما سکتی۔
ادھر پیگی کا مانیٹروں کے ساتھ آمرانہ سلوک اپنے عروج پر تھا۔ آئے دن کسی نہ کسی سے اس کی منہ ماری بھی ہوتی رہتی تھی۔ جین چھٹی پر امریکہ گیا ہوا تھا۔ DSC ہونے کے ناتے اس کی غیر موجودگی میں اسٹیشن کے تمام امور چلانے کی ذمہ داری میری تھی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں تھا۔ میرے اور تمام اردو مافیا کے لیے یہ صورت حال نا قابل برداشت تھی۔ اس ضمن میں اقبال کا مشورہ تھا کہ پیگی کے ساتھ اصول کی بنیاد پر الجھنا لاحاصل ہو گا کیوں کہ حکمرانی کے اصول پر یقین رکھنے والوں کے لیے اصول کی حکمرانی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ پیگی ایسا موقع جلد ہی فراہم کر دے گی کہ جب سانپ بھی مارا جائے گا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے گی۔
اقبال کے پاس پیگی کے لیے میمن کی فراہم کردہ ایک ”لاٹھی“ محفوظ رکھی تھی۔ یہ سرائیوو ریجن کے سابق فرانسیسی کمانڈر کرنل کاربون کا وہ حکم نامہ تھا جس میں یہ واضح طور پر درج تھا کہ اسٹیشن کے امور کو چلانے کی تمام تر ذمہ داری اسٹیشن اور ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر کی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی عہدہ انتظامی حیثیت نہیں رکھتا۔
اقبال کی ولایت، طبعاً مرزا نوشہ سے مختلف نہ ہوتے ہوئے بھی شک و شبہے سے اکثر بالا ثابت ہوتی تھی۔ اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا۔ سلطان، لوینیا کی شفٹ میں اپنی ڈیوٹی نہ ہونے کے باوجود سارا وقت اسٹیشن پر ہی گزارتا تھا۔ اس کی وجہ دونوں کا ”اکھ مٹکا“ تھا۔ ایک دن صبح کی شفٹ میں سلطان سفید پارچات میں اسٹیشن آیا ہوا تھا۔ کوئی گیارہ بجے کے قریب اس نے ڈیوٹی افسر کی اجازت سے لوینیا کے ہم راہ گاڑی پر سینٹر تک جانے کا ارادہ کیا۔
ادھر اس نے لوینیا کو اپنے برابر بٹھا کر گاڑی سٹارٹ کی اور ادھر پیگی نے جا کے سٹیرنگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے سلطان کو تنبیہ کی کہ چونکہ وہ ڈیوٹی پر نہیں ہے لہٰذا وہ گاڑی نہیں لے جا سکتا۔ سلطان نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولا کہ وہ گاڑی لے کر جائے گا، اسے جو کرنا ہے کر لے۔ پیگی نے گاڑی سے چابی نکالنے کی کوشش کی جس سے دونوں میں زور آزمائی شروع ہو گئی۔ اس دوران اسٹیشن پر موجود افسران نے موقع پر پہنچ کر بیچ بچاؤ کروا دیا۔
میں اس وقت اسٹیشن پر موجود نہیں تھا۔ میں اس واقعہ کے کوئی ایک گھنٹہ بعد واپس لوٹا۔ اسی دوپہر پیگی نے سلطان کے خلاف ایک تحریری شکایت میرے حوالے کی اور کہا کہ میں اسے ڈسٹرکٹ کمانڈر کو ارسال کر دوں۔ اقبال کے مشورے سے میں نے یہ رپورٹ ڈسٹرکٹ کمانڈر کو بھیجنے کے بجائے سلطان کو بھیج دی کہ پہلے اپنی صفائی پیش کرے۔ اقبال نے سانپ کو مارنے کے لیے جو لاٹھی سنبھال کر رکھی ہوئی تھی اب اس کے استعمال کا بہترین موقع تھا۔ چنانچہ اسی رات سلطان کی طرف سے ہمارے فلیٹ پر اقبال نے اپنی تمام پرانی بابوآن مہارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک تفصیلی جواب تیار کیا جس میں جھگڑے کا ذکر تو برائے نام تھا لیکن کرنل کاربون کے حکم نامے کی روشنی میں پیگی کے عہدے اور اس کے اقدام کی قانونی حیثیت پر سیر حاصل بحث کی گئی تھی۔
سلطان کی طرف سے یہ جواب موصول ہونے پر میں نے جان بوجھ کر اسے پیگی کو پڑھنے کے لیے دیا۔ پیگی اسے پڑھنے کے بعد پریشان ہو گئی۔ کرنل کاربون کا حکم نامہ جس کی نقل جواب کے ساتھ بطور حوالہ منسلک تھی، پیگی نے اسے پڑھا اور بولی
عجیب اتفاق ہے کہ یہ حکم نامہ میری نظر سے اس سے قبل نہیں گزرا۔
اس ضمن میں میرا معاملہ بھی آپ سے مختلف نہیں ہے اور مجھے یقین ہے کہ فرانسیسی ڈسٹرکٹ کمانڈر رولانڈ کی معلومات میں بھی یہ اضافے کا باعث ہو گا۔ میں نے تائید کرتے ہوئے کہا
میں نے ڈسٹرکٹ کمانڈر کے ساتھ لفظ فرانسیسی پر جو زور دیا تھا۔ پیگی اس کی معنویت کو پا گئی تھی۔ کرنل کاربون فرانس میں جنڈر میری فورس کا سربراہ تھا اور اس کا کہا ہر جنڈر میری کے لیے حرف آخر تھا۔ پیگی کا لہجہ اب یک دم بدل گیا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ جین کی واپسی تک یہ معاملہ میں ڈسٹرکٹ کمانڈر کے علم میں نہ لاؤں۔ ادھر اقبال کی طرف سے یہ سخت ہدایت تھی کہ جین کی آمد سے پہلے پہلے یہ فسانہ موسطار کی اس گلی تک ضرور پہنچنا چاہیے کہ جہاں یو این ہیڈ کوارٹر واقع ہے۔
ادھر اس ہیڈکوارٹر میں پیگی کی ایک پرانی ہم وطن رقیب ٹینا نہ معلوم کب سے کسی ایسی خبر کے لیے دل و جاں فرش راہ کیے ہوئے تھی۔ وہ ڈسٹرکٹ ایڈمن افسر تھی اور ہیڈ کوارٹر میں اچھا اثرو رسوخ رکھتی تھی۔ ہیڈ کوارٹر میں ایک دو رکنی انکوائری ٹیم بھی پہلے ہی سے مستقل طور پر موجود تھی، جس کا ایک ممبر فرانسیسی افسر اور دوسرا وہی ایڈی گرین تھا جس نے سٹولک میں ہمارے ساتھ کام کیا تھا اور یہاں کے معاملات میں محرم راز درون مے خانہ کا دعوے دار تھا۔
چند ہی دنوں بعد یہ ٹیم معاملے کی چھان بین کے لیے سٹولک آئی۔ سلطان کے پاس MTO کا عہدہ تھا۔ اس کی ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ ہر ماہ گاڑی کے سفر کا گوشوارہ بنا کر ہیڈکوارٹر ارسال کرے۔ ماہ رواں میں یہ اعداد و شمار جمع کرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ جین کی گاڑی نے سرائیوو کے ایک دورے میں ایک ہزار کلو میٹر سے بھی کچھ زیادہ سفر طے کیا۔ حالاں کہ یہ چار سو کلو میٹر سے زیادہ کا سفر نہیں تھا۔ سلطان نے اس کا ذکر مجھ سے کیا۔
تاریخ دیکھ کر مجھے فوراً یاد آ گیا کہ یہ اندراج جعلی ہے۔ اس دن جین، پیگی کو لینے زغرب گیا تھا جو امریکہ سے چھٹی گزارنے کے بعد واپس آ رہی تھی۔ زونووی بھی اس کے ساتھ گیا تھا۔ زونووی اور ولاڈی سلاؤ، دونوں کے تعلقات ان دنوں جین سے خوش گوار نہ تھے۔ لہٰذا جب زونووی سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے مرزا کے بقول ”کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے“ کا دعویٰ کرتے ہوئے دورہ زغرب کی تصدیق کر دی۔ جین کی کم زوری ہاتھ آنے کے باوجود میری اور سلطان کی رائے یہ تھی کہ پیگی سے حساب برابر کرتے ہوئے جین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا سراسر زیادتی ہے۔
لیکن اقبال کا اصرار یہ تھا کہ پیگی کو مکمل طور پر بے آسرا کرنے کے لیے جین کو اپنے مسئلے میں الجھانا ضروری ہے۔ چنانچہ جین کی اس بے قاعدگی کے خفیہ انکشاف نے اسے بھی انکوائری ٹیم کے سامنے لا کھڑا کیا۔ پھر ذونووی کے اپنے قول پہ صادق ہونے کی وجہ سے الزام کے پایۂ ثبوت کو پہنچنے میں بھی کوئی کسر باقی نہ رہی۔ انکوائری ٹیم کے نزدیک پیگی اور جین دونوں قصوروار ٹھہرے۔ کچھ ہی دنوں بعد دونوں کو تبدیل کر کے مرکزی ہیڈ کوارٹر سرائیوو بھیج دیا گیا۔
جین کے جانے کے بعد اسٹیشن کمانڈر کا عہدہ کوئی دو ہفتے کے لیے خالی رہا۔ اس سال برطانوی اور سویڈش پولیس کی مشن میں پہلی مرتبہ شمولیت ہوئی۔ ان دستوں میں سے دو دو افسران سٹولک اسٹیشن میں تعینات کیے گئے۔ برطانوی افسران کے نام جان اور مارٹن تھے، جب کہ سویڈش افسران کے نام آرنلڈ اور بوتھے۔ آرنلڈ کو اس سے قبل پانچ مشنوں میں کام کرنے کا تجربہ حاصل تھا۔ چنانچہ یو این کے تجربے کے پیش نظر دشت نوردی کا صلہ اسے یوں ملا کہ اس کی پہلی تعیناتی اسٹیشن کمانڈر کے طور پر کی گئی۔
وہ درمیانی عمر کا لمبا تڑنگا شخص تھا۔ شکل و شباہت بھی اچھی تھی اور طبیعت میں افسروں والا کچھ کچھ نخرہ بھی تھا۔ بو ایک نوجوان افسر تھا۔ اور اس کی طبیعت میں شرمیلا پن نمایاں تھا۔ وہ نہایت مہذب شخص تھا۔ اردو مافیا اس سے صرف اس وجہ سے دور رہتا تھا کہ ایسے مہذب پن کا جوابی مظاہرہ ان میں سے کسی کے لیے بھی اداکاری کی صورت میں بھی ممکن نہ تھا۔ مہذب پن میں اگرچہ جان کا معاملہ بھی کچھ ایسا مختلف نہ تھا لیکن اس کی غیر سنجیدہ طبیعت دوسروں کو اس سے بے تکلف ہونے میں کسی مشکل میں نہیں ڈالتی تھی۔ مارٹن ویسا ہی انگریز تھا جیسا ہمارے ہاں کسی انگریز کا عمومی تاثر پایا جاتا ہے۔ اور ناسؔخ کا یہ شعر حضرت پر خوب صادق آتا تھا
کوئی سیدھی بات صاحب میں نظر آتی نہیں
آپ کی قمیص کو کپڑا بھی آڑا چاہیے۔

