کائی کہانی
نوٹ : یہ کہانی اس دور کی ہے جب سیل فون ایجاد نہیں ہوا تھا۔
وہ بے بسی سے اپنے سامنے رکھے ہوئے بیسن کو دیکھنے لگا۔ بیسن میں خون ہی خون تھا۔ ابھی ابھی اسے الٹی ہوئی تھی۔ اس کا سارا سینہ درد سے کچا ہو رہا تھا۔ وارڈ بوائے کب آ کر بیسن اٹھا کر لے گیا اسے پتہ نہیں چلا۔ تھکن سے نڈھال ہو کر وہ لیٹ گیا۔ اس پر میٹھی سی غنودگی طاری ہونے لگی تھی اس کے کانوں میں تالیاں سی گونجنے لگیں اور ایک شور سا بپا تھا۔
کل ہند مزاحیہ مشاعرہ چل رہا ہے۔ لوگ اس کے کلام پر داد پر داد دیے جا رہے ہیں۔ جب وہ مائک سے ہٹنے لگا تو لوگ بے تحاشا تالیاں بجا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی معتمد مشاعرہ کی آواز ان تالیوں کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب مشاعرے کے دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دور میں صرف مہمان شعرا کو زحمت کلام دی جائے گی۔ کچھ لوگ اٹھ کر گھروں کو جا رہے ہیں۔ گھڑی ایک بجا رہی ہے۔ بہت لطف اٹھا چکے اب چلنا چاہیے۔ دل اور لطف کا متلاشی ہے لیکن لوگ آج کل گھڑی کو دل سے زیادہ اہمیت دینے لگیں ہیں۔
ایک شاعر کلام پڑھ رہا ہے۔ لوگوں نے اسے ہوٹ کر دیا ہے۔ اسے آواز تک نکالنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے۔ نہیں سنیں گے ہم اس بوگس شاعر کو نہیں سنیں گے۔ اسے بلانے کے لئے بار بار اصرار ہو رہا ہے۔ بار بار اس کا نام لیا جا رہا ہے۔ اب اس کے نام کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ وہ نشہ میں اتنا مست ہے کہ چلا نہیں جا رہا ہے۔ دو آدمیوں نے اسے پکڑ کر مائیک کے پاس لا کھڑا کیا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے۔ بھائیو میں بہت تھک گیا ہوں اب مجھ سے کھڑا نہیں جا رہا ہے۔
”تو بیٹھ جاؤ“ ۔ کسی منچلے نے آواز لگائی۔
”بیٹھ جاؤں۔ بہت اچھا شکریہ“ وہ واپس جانے کے لئے مڑا۔ ”ارے واپس کہاں جا رہے ہو۔ بیٹھ کر کلام سناؤ“ ۔
وہ بیٹھ کر کلام سنانے لگا۔ جاتے ہوئے قدم رک گئے۔ نگاہیں بے دلی سے گھڑیوں کے چہروں کا طواف کر کے لوٹ آئیں۔ پھر ایک سلسلہ سا چل نکلا ایک نظم کے بعد دوسری اس کے بعد تیسری لوگ اسے مائک چھوڑنے نہیں دے رہے ہیں۔ کوئی پانچ چھ نظمیں سنانے کے بعد اس نے معذرت چاہی۔ اب بس بہت تھک گیا ہوں باقی اگلے سال پھر سناؤں گا۔ اس کا گلا دکھنے لگا تھا۔ اس نے پیشانی سے پسینہ پوچھا اور بیٹھ گیا۔ معتمد مشاعرہ نے دوسرے نام کا اعلان کیا۔ لوگ پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں اٹھ کر جانے لگے۔ اسے سننے کے بعد کسی دوسرے کو سننا فضول تھا۔ اس کی آنکھوں میں ممنونیت کے آنسو آ گئے۔ مجبوراً مشاعرے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔
دو شاعروں نے اسے پکڑ لیا ہے۔ ارے اب تو جشن ہو گا جشن وہ اسے اسٹیج کے پیچھے لے جانے لگے جہاں پینے پلانے کا انتظام تھا۔ ”بھئی مجھ سے اب اور پیا نہیں جائے گا۔ اس نے لڑکھڑاتے ہوئے معذرت کی“ ۔ یہ بہانہ نہیں چلے گا۔ تم نہیں تو محفل میں خاک لطف آئے گا۔ تم نے تو آج مشاعرہ لوٹ لیا۔ حاصل مشاعرہ ہو۔ حاصل مشاعرہ۔
ایک صاحب نے آ کر مصافحہ کیا۔ بھئی آپ نے تو کمال کر دیا کمال۔ کس کی مجال ہے کہ آپ کے بعد اپنا کلام پڑھ سکے۔
”لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ عوام کا ذوق بہت اوچھا ہو گیا ہے۔ توجہ سے کچھ سنتے ہی نہیں۔ بس ایک شور مچائے رکھتے ہیں۔ یہ وہ شاعر تھے جو ہوٹ ہوچکے تھے۔ اس نے ان پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور مسکرا کر رہ گیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ان سے الجھ جاتا لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے۔ اسے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ہوا کی دوش پر اڑا جا رہا ہے۔ ساری کائنات جھوم رہی ہے۔ کوئی بھی چیز اس کی گرفت میں نہیں ہے۔ حتیٰ کہ الفاظ تک اس کی گرفت میں نہیں ہے۔
”ارے بھائی تم تو کراؤڈ پلر ہو گئے ہو۔ تمہارا نام مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت بن گیا ہے۔ لوگ تو تمہارے نام ہی سے جمع ہو جاتے ہیں“ ۔ خطیب بھائی گزر گئے۔ اب تو تم ہی دکھنی شاعری کے شہنشاہ ہو شہنشاہ۔
”شہنشاہ“ ۔ اسے یاد آیا کہ اس کی جیب خالی ہے معتمد مشاعرہ سے معاوضہ لینا ہے۔
ایک اور صاحب نے آ کر بڑے ادب سے مصافحہ کیا ”میں نے کل گھر پر ایک نجی محفل رکھی ہے۔ آپ کی شرکت بے حد ضروری ہے۔ آپ کے بغیر لطف نہیں آئے گا۔ بس چند باذوق احباب کو مدعو کیا ہے۔
”ہاں بھائی باذوق سامعین کو کلام سنانے کا لطف ہی اور ہے“ ۔ اس نے تیکھے لہجے میں کہا۔
تو آپ کل تشریف لا رہے ہیں نا۔ انہوں نے اپنا پتہ دیتے ہوئے اصرار سے پوچھا۔ ضرور ضرور اس نے ان پر نگا ہیں جماتے ہوئے کہا۔ وہ اتنی پی چکا تھا کہ نگاہیں تک نہیں جم رہی تھیں لیکن اس نے انھیں پہچان لیا۔ ان کا ذوق بس مشاعروں کی حد تک محدود تھا۔ لوگ جس طرح متعدی بیماریوں سے بچنے کے لئے سال میں ایک آدھ بار ٹیکا لگوا لیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنے ذوق کو زندہ رکھنے کے لئے سال میں دو ایک مشاعرے اٹینڈ کرلئے اور ایک آدھ نجی محفل برپا کردی۔ جس میں اپنے بارسوخ دوستوں کو مدعو کر لیا۔ وہ ایسی بہت سی محفلوں میں شرکت کرچکا تھا۔ چند دولت مند احباب جمع ہوتے۔ پر تکلف دعوت ہوتی، پینے پلانے کا دور چلتا۔ کسی ایک شاعر کو بے تحاشا داد دی جاتی۔ گھنٹہ دو گھنٹہ اس سے دل بہلایا جاتا۔ پھر یکایک لوگوں کو سونے چاندی کے چڑھتے اترتے بھاؤ بلیک میں بکنے والی سمنٹ لوہے کے دام وغیرہ یاد آ جاتے۔ اس کے بعد سب اپنی اپنی کاروں میں ایک ایک کر کے رخصت ہو جاتے۔ بے چارہ شاعر داد کے نشہ میں مست اپنی کسی نئی غزل کے قافیہ ردیف درست کرتے ہوئے دوسری طرف پیدل نکل جاتا یا بہت ہوا تو کوئی اسے احسان کے طور پر اپنی کار میں اسے گھر چھوڑ جاتا۔
غربت زدہ گلیوں میں گاڑی موڑتے وقت آنکھ بھوں چڑھ جاتی۔ گاڑی کی آواز سن کر پاس پڑوس کی عورتیں اپنے اپنے دروازوں میں مورچہ جما لیتیں اور دروازوں میں سے تانک جھانک کرنے لگتیں۔ حیرت زدہ چھوٹے بچے عجیب سی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے اور گاڑی کو گھیر لیتے۔ خفت سی محسوس کرتے ہوئے شاعر گاڑی سے اتر جاتا اور پھر دو ایک دن اس کی بیوی پڑوسنوں سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی۔ دو ایک دن اسے پڑوسیوں کی نگاہوں میں خصومت سی محسوس ہوتی۔
(2)
وعدہ کرنے کے باوجود وہ ان صاحب کی محفل میں شریک نہیں ہوا۔ داد سمیٹنے کے کھیل سے اب اس کی طبیعت اکتا چکی تھی۔ دوسرے دن اٹھنے تک ہی بارہ بج گئے تھے۔ اٹھنے کے بعد اس نے ناشتہ کیا اور اپنے گاؤں لوٹ گیا۔ اب اسے گاؤں تو کہنا غلط تھا۔ گاؤں تھا ہو گا بیس پچیس برس پہلے ’ضلع کا صدر مقام بننے کے بعد سے اب وہ چھوٹا موٹا شہر بن گیا تھا۔
اس نے معاوضہ کے پانچ سو روپیہ چپکے سے بھابھی کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔
”اسے اپنے پاس رکھ لو۔ بھابھی نے کہا۔“ نہیں میرے پاس رہیں گے تو یونہی ختم ہوجائیں گے۔ پچھلے مہینہ بھی میں نے کچھ نہیں دیا۔ پھر جب ضرورت پڑتی ہے تو آپ سے لے لیتا ہوں ”۔ یہ بھابھی کا خلوص و پیار تھا جس نے اسے گھر سے باندھ رکھا تھا ورنہ اس کے قدم تو کبھی کے اکھڑ چکے تھے۔
”تم نے پی تو نہیں“ ۔
”چکھی تک نہیں“ ۔
”جھوٹ ’تمہاری آنکھیں، بتا رہی ہیں کہ تم نے پی ہے۔ سوچ لو زندگی ایک بار ملتی ہے۔ پھر بیمار پڑو گے تو مشکل ہو جائے گی“ ۔
”اب سال میں دو ایک بار بھی نہ چکھیں تو پھر زندگی کس کام کی۔ سارے دوست جمع ہوتے ہیں“ ۔ اس نے لنگڑا لولا سا عذر پیش کیا۔
”تم لوگوں سے یہی تو مصیبت ہے جہاں دو چار جمع ہوئے کہ پینے بیٹھ گئے“ ۔ کسی نے مفت کی پلا دی اس پر جان نچھاور کردی ”۔ ہاں یہی تو مصیبت ہے۔ پھر بہانہ کتنا خوبصورت کہ شاعر پئے گا نہیں تو لکھے گا کیا؟ خاک۔ اگر شراب کی تلخی نہ پچا سکے تو پھر زمانے کی تلخیاں کیا پچا پائے گا اور کوئی پینے پلانے سے تو بہ کر لے تو اس کی ہنسی اڑائی جاتی ہے۔ “ اماں یار تم نے تو ابھی سے توبہ کرلی۔ ابھی تو عمر پڑی ہے توبہ کے لئے یہ کیا بزدلی ہے۔
ڈر گئے زمانہ سے۔ ہمیں تو زمانہ سے لڑنا ہے، حقیقتوں سے آنکھ ملانا ہے۔ زمانہ سے لڑنا ہے۔ کتنا پر فریب جملہ ہے۔ اپنے آپ کو سچائی کا نقیب سمجھ لیا اور لگے سائیوں سے لڑنے ’سمجھ لیا کہ زمانہ سے لڑ رہے ہیں۔ جہاں کہیں اونچ نیچ دیکھی ایک نظم لکھ ماری۔ کسی نے قبرستان کی زمین ہڑپ کرلی آپ نے اس کے خلاف نظم اخبار میں چھپوا دی۔ دوستوں نے خوب پیٹھ ٹھونکی واہ کمال ہو گیا کمال ”۔ ایک دن ترنگ ترنگ میں آ کر بلدیہ کی کارکردگی کے خلاف اخبار میں نظم چھپوا دی۔
اب بلدیہ میں نوکر رہ کراس کے خلاف ہی نظم لکھیں گے تو نوکری جائے گی نہیں تو کیا ترقی ہوگی۔ بڑے صاحب نے بلا کر ڈانٹ پلائی۔ طیش میں آ کر ان کے خلاف بھی نظم لکھ دی‘ صاحب نے نوکری سے برطرف کر دیا۔ پہلے کون سا ڈھنگ کا کام کرتے تھے ’اپنے ذمہ کے کام بھی دوسروں کے سر ڈال رکھے تھے۔ لوگ مروت میں کام کیا کر دیتے تھے۔ خود بیٹھے بس لوگوں کو نظمیں سنایا کرتے تھے۔ سنانے کی لت جو پڑ گئی تھی۔ ایک اور لت پڑ گئی تھی وہ تھی پینے کی۔ اعلیٰ سے دیسی۔ دیسی سے سیندھی اب تو بات ٹھہرے پر آ گئی تھی۔ بن پئے چین نہ آتا تھا۔ نشہ اترا کہ سارا بدن درد کرنے لگا۔ اسی لئے کبھی شام کو پی لی کبھی دن کو پی لی۔
(3)
پینے پلانے سے تنگ آ کر بیوی جاکر میکے بیٹھ گئی ’جھگڑا بڑھ گیا‘ بات طلاق تک پہنچی لیکن مہر ادا کرنے کے لئے پیسے کہاں تھے۔ تنگ آ کر بیوی نے خود خلع لے لی۔ اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ بیوی خلع لے لیگی۔ دونوں نے محبت کی شادی کی تھی۔ اپنے ماں باپ کی مرضی کے خلاف ’سارے گھر والے ناراض ہو گئے تھے۔ ماں کو منانے کے لئے اس نے ایک نظم لکھ دی۔ ماں ہنس کر چپ ہو گئی اور بیٹے کے لئے دل کے دروازے کھول دیے۔ شاعری میں تاثیر ہی ایسی تھی۔
بیوی بھی اس کی شاعری پر فریفتہ ہو گئی تھی۔ شاعری میں دھڑکنے والے دل کے تعاقب میں سایوں کے پیچھے نکل گئی تھی۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ شاعری کے سائباں تلے بیٹھ کر زندگی کی دھوپ کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ خلع کے حادثہ پر شاعروں کی مفلسی اور بے کسی پرایک مزاحیہ نظم لکھ ڈالی۔ لوگوں نے خوب پیٹھ ٹھونکی۔ کیا حس مزاح ہے۔ وہی آدمی بہادر ہے جو اپنے آپ پر ہنس سکے۔ اس بہانہ لوگوں نے خوب ہنسی اڑائی۔ وہ نظم شاہ کار تسلیم کرلی گئی۔
خوب شہرت ملی اور اس کے سوا ملا ہی کیا اس شاعری میں۔ شہرت کی بھوک پیدا کرنے والی داد۔ داد سے زیادہ بے داد اور شہرت وہ بھی بدنام سی۔ یہ شہرت بھی کیا چیز ہے۔ کائی ہے کائی‘ ذرا چوکے پاؤں پھسلا اور چاروں خانے چت۔ کائی لگے ہاتھ سہارے کے لئے کچھ پکڑ بھی نہیں پاتے۔ کوئی بھی تو اپنا نہ ہوا۔ بیوی نے خلع لے لی ایک بیٹا تھا وہ بھی اپنا نہ ہوسکا۔ وہ اس کی شہرت کے سائے میں سانس نہ لے سکا۔ لوگ اسے باپ کے وسیلہ سے پہچانتے ضرور تھے لیکن نصیحت کرنا نہیں بھولتے تھے۔
کہیں تم بھی شاعری کرنے لگو گے۔ تمہارے باپ شاعر بہت اچھے ہیں مگر آدمی کسی کام کے نہیں ’یک دم فالتو بالکل بے کار۔ جب اس کا دم گھٹنے لگا تو وہ گھر چھوڑ کر بھاگ گیا اور بمبئی کی بے چہرگی میں پناہ لے لی۔ ہاں اتنا ہوا اس کی زندگی سنور گئی۔ کسی اچھی کمپنی میں نوکری مل گئی۔ اب وہ ہر مہینہ سو پچاس باپ کو بھیج دیا کرتا۔
(4)
اسے کھانسی کا ایک اور شدید دورہ پڑا۔ بے چین ہو کر وہ اٹھ بیٹھا اور کھانستے کھانستے دوہرا ہو گیا۔ سانس سینے میں الجھ کر رہ گئی۔ اس کا منہ بلغم سے بھر گیا لیکن وہ اسے تھوکتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا اسے یقین تھا کہ اس میں خون بھی ہو گا۔ مجبوراً اسے بلغم تھوکنا پڑا۔ بلغم کے ساتھ خون تھا اسے پتہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی۔ گاؤں سے کسی کو ساتھ لے کر آنا چاہیے تھا۔ جب ضلع کے ڈاکٹر نے اسے عثمانیہ میں جاکر شریک ہونے کا مشورہ دیا اس نے کہا تھا کہ کسی کو ساتھ لے جانا ’اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ کسے ساتھ لے کر جاؤں‘ سب اپنی اپنی زندگی میں مست تھے۔
اپنی اپنی جگہ مصروف۔ زندگی کے سفر میں وہ بالکل تنہا رہ گیا تھا۔ کسی کے آرزو ’کسی کے ارماں، خواب تعبیر کچھ بھی تو اس کی زندگی سے وابستہ نہ تھے۔ زندگی تو سرما کی سرد بے حس لمبی رات کی طرح اکیلی اور سونی تھی۔ اسی لئے تو اس نے ہنستے ہنستے بھابھی سے کہا بھی تھا۔ رہنے دو بھابھی میں اکیلے ہی چلا جاؤں گا۔ کوئی پہلی بار تھوڑی جا رہا ہوں۔ دواخانہ تو اپنی سسرال ہے۔
بھابھی نے بھائی سے دیکھ آنے کو کہا بھی ہو گا لیکن بھائی نے بات ٹال دی ہوگی۔ اس کی بیماری کون سی نئی بات تھی دوچار دن میں خود ہی ٹھیک ہو کر آ جائے گا۔ نہیں آنے کی صورت میں دیکھا جائے گا۔ بھائی کو اس کی شاعری سے اک چڑ سی تھی۔ ایک اور شخص تھا جسے اس کی شاعری سے چڑ تھی وہ تھے اس کے بہنوئی۔ شروع سے ہی دونوں کی نہیں بنتی تھی کیوں کہ اس نے ان کی شادی کے موقعہ پر جہیز اور گھوڑے جوڑے کی لعنت کے خلاف نظم پڑھ کر ان کی ہنسی اڑائی تھی۔ ایک ہنگامہ ہو گیا تھا۔ وہ تو کہئے یہ سب کچھ نکاح کے بعد ہوا تھا۔ بڑے بھائی نے بھی خوب ڈانٹ پلائی تھی۔ بے ہودہ ہے۔ ذمہ داری کس چیز کا نام ہے نہیں جانتا۔ سمجھتا ہے کہ زندگی صرف شاعری سے چلتی ہے۔ نظم جلاؤ تو ایک پیالی چائے بھی تیار نہ ہو۔ لہٰذا بہنوئی کے آنے کا سوال ہی نہیں تھا۔
سسٹر دوا لے کر آئی۔ اس نے چپ چاپ دوا پی لی۔ پہلے وہ دوا پینے کے لئے بہت مزاحمت کیا کرتا تھا۔ روح تک کو کڑوی کردینے والی دو اؤں سے اسے نفرت تھی۔ کڑوی دوا ہی کیا ہر کڑوی بات کی مزاحمت کرتا تھا۔ کوئی اونچ نیچ ہو یا حق تلفی ہو تو اس کا ذہن شدت سے سوچنے لگتا تھا۔ لیکن وقت تھوڑا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ وقت کے ہاتھوں اس کی روح تک کڑوی ہو گئی تھی سوچتے سوچتے اب تو اس میں ایک قسم کی خودسپردگی آ گئی تھی۔
”سسٹر آج بھی گاؤں سے کوئی نہیں آیا“ ۔
”نہیں“ ۔ یہاں شہر سے بھی کوئی نہیں آیا۔ اس کا دل نہیں سننے کے خیال سے ہی اداس ہو گیا۔
”نہیں آج آپ کے پاس کوئی بھی وزیٹر نہیں آیا“ ۔ شہر سے تو کسی کو آنا چاہیے تھا چند ایک دوستوں سے تو وہ خود مل آیا تھا اور پھر اخبار میں بھی خبر چھپی تھی۔ جس دن وہ ڈاکٹر کو دکھانے شہر آیا تھا۔ ڈاکٹر نے اسی دن شریک ہو جانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس نے ٹال دیا تھا۔ کل آ کر شریک ہو جاؤں گا۔ شہر میں چند ایک دوست ہیں ان سے مل کر بہت دن ہوئے۔ آج مل آتا ہوں کل شریک ہوجائیں گے۔ کون سی جلدی ہے۔ پھر اس کا سارا دن دوستوں سے ملنے ملانے میں کٹ گیا۔
کسی سے گھر پر کسی سے دفترمیں ملاقات کی۔ پھر شام کو جانے انجانے اس کے قدم امجد کے دفتر کی جانب اٹھ گئے۔ شہرت کی لت لگی تو چھوٹتی کہاں ہے۔ امجد نیوز ایجنسی چلاتا تھا۔ باتوں باتوں میں امجد نے پوچھا کیسے آنا ہوا بھائی۔ وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں قرض نہ مانگ بیٹھے۔ علاج کے سلسلہ میں آیا ہوں۔ ڈاکٹر ماتھر نے عثمانیہ میں شریک ہو جانے کو کہا ہے۔ امجد نے سکون کی سانس لی۔ ارے آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ میں ابھی آپ کی علالت کی خبر بنوا کر بھیج دیتا ہوں۔
ویسے دیر تو ہو گئی ہے لیکن امید ہے کہ کل کے اخبار میں جگہ مل ہی جائے گی۔ دوسرے دن دواخانہ جانے سے پہلے وہ عابد شاپ گیا اور ایک اخبار کی دکان سے اخبار اٹھا کر یوں ہی دیکھنے لگا۔ اخبار میں اس کی علالت کی خبر چھپی تھی۔ سرسری نظر ڈالتے ہوئے وہ کنکھیوں سے اخبار والے کو دیکھنے لگا۔ اس امید میں کہ وہ اسے پہچان لے اور پوچھے ارے آپ یہاں؟ آپ کے دواخانہ میں شریک ہونے کی خبر تو اخبار میں چھپی ہے لیکن اس نے کچھ بھی نہیں پوچھا۔ پہلی بات تو یہ تھی کہ وہ اسے نہیں جانتا تھا۔ دوسرے یہ کہ آپ اخبار بچنے والے سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ اخبار پڑھے گا بھی۔ اسے تو اپنے منافع کے پانچ پیسے سے سروکار ہوتا ہے۔ اخبار والے نے اسے ٹوک دیا۔ جناب اخبار لے کر جلدی ہٹیے بکری کا وقت ہے۔ طیش میں آ کر اس نے اخبار خرید ڈالا۔
اس نے تکیہ کے نیچے ہاتھ ڈال کر ٹٹولا اخبار ابھی تک تکیہ کے نیچے رکھا ہوا تھا۔ اس نے اخبار نکال کر پڑھنا چاہا لیکن اس کے لئے اٹھنا ضروری تھا جو ممکن نہ تھا۔ اس کا جسم سرد بے جان پتھر کی طرح بستر پر پڑھا ہوا تھا جیسے اس کی ساری قوت نچوڑ لی گئی ہو وہ بے بسی سے اپنے بے جان ہاتھ پاؤں کی طرف دیکھنے لگا۔ یکایک اسے محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے اندر سے اس کے جسم کو بری طرح جھنجھوڑ دیا ہے۔ ایک اور کھانسی کا شدید دورہ پڑا مضطرب ہو کر وہ اٹھ بیٹھا۔
سانس بگولہ کی طرح سینے میں پھنس گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک خالی اسٹیج پر مائک کے سامنے تنہا کھڑا ہے۔ اس کے آگے ایک بسیط کھائی ہے۔ ایک تاریک خلا ہے۔ وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہے لیکن آواز نہیں نکل رہی ہے جیسے سناٹوں نے اس کی آواز دبوچ لی ہے۔ ایک عجیب سی بے حسی اس کے پیروں کے ذریعہ اس کے جسم میں دبے پاؤں سرایت کرتی جا رہی ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت کرنے کے لئے اس نے ایک زور کی چیخ ماری۔ اس کی چیخ وارڈ کے دیواروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئی۔ سہمی ہوئی رات نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں اور ایک پل کے بعد آہستگی سے یوں آنکھیں موند لیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
(5)
”یہی ہے وہ“ سوال کرنے والے کی آواز ہر جذبہ سے عاری تھی۔ ”ہاں!“ دوست کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی آواز کسی خالی کنویں کی گہرائیوں سے ٹکرا کر نکلنے والی آواز کی بازگشت ہو۔ گاؤں میں ایک خالی کنواں تھا۔ بچپن میں وہ دونوں اس کی منڈیر پر جھک کر آوازیں لگایا کرتے تھے۔ اپنی ہی آوازوں کی گونجتی ہوئی بازگشت سنا کرتے تھے۔ اب اس میں سے ایک آواز چھناکے سے ٹوٹ کر ہمیشہ کے لئے بکھر چکی تھی۔ اپنی ”ہاں“ پر یقین کرنے کے لئے اس نے ایک بار پھر چہرہ پر نظر ڈالی۔ وہی چہرہ تھا لیکن آنکھیں اندر کو دھنس گئیں تھیں۔ اوپر کا ہونٹ سکڑ جانے کے باعث دو دانت باہر نکل آئے تھے۔ چہرے کے سارے نقوش پتھرا گئے تھے۔ لاش مردہ خانہ میں رکھی ہوئی تھی۔ مردہ خانہ کی گھٹی گھٹی سی سیلن زدہ بدبو سے اس کا سر چکرانے لگا تھا۔
کیا میں نعش کو گاؤں لے جانے کا انتظام کر سکتا ہوں۔ اس نے مردہ خانہ سے باہر آتے ہوئے پوچھا۔
”آپ کا ان سے کیا رشتہ ہے“ ۔
”وہ میرے بچپن کے دوست ہیں۔ تھے۔“ اس نے بمشکل تمام لفظ تھے ادا کرتے ہوئے کہا۔
”معاف کیجئے۔ احکامات کے مطابق لاش صرف کسی وارث کو یا پھر کسی رشتہ دار کے حوالے کی جا سکتی ہے۔ آپ ان کے رشتہ داروں کو اطلاع دے دیجئے۔“
جب وہ باہر نکلا تو سورج غروب ہو رہا تھا۔ تھکی تھکی سرد دھوپ دواخانہ کی دیواروں پر رینگ رہی تھی اور بے رحم سائے اسے دبوچنے کی فکر میں غلطاں اس کے تعاقب میں لگے ہوئے تھے۔ بسیروں کو لوٹنے والے پرندوں کی آوازیں پیڑوں کی شاخوں میں الجھی ہوئی تھیں۔
تیسرے دن اخباروں میں یہ خبر چھپی ہوئی تھی۔ طنز و مزاح کے مشہور دکنی شاعر چرخ پتنگوی صاحب کی نعش کل شام 4:30 بجے ان کے آبائی شہر روانہ کردی گئی۔ میت کی روانگی کے وقت شاعروں ادیبوں اور صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ چرخ پتنگوی صاحب کا 21 دسمبر کو دواخانہ عثمانیہ میں انتقال ہو گیا تھا۔ لیکن ان کی نعش تین دن تک کسمپرسی کی حالت میں مردہ خانہ میں پڑی رہی۔ ان کے ہم وطن دوست جب عیادت کے لئے دواخانہ عثمانیہ گئے تو دیر تک تلاش کے بعد انہیں اس سانحہ کی اطلاع ملی اور انہوں نے مرحوم شاعر کے وارثوں کو اطلاع کروائی۔
کئی دن تک مختلف ادبی انجمنوں کی طرف سے تعزیتی جلسہ منعقد کیے گئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کسی نے ان کو اپنے وقت کا ایک بہترین شاعر قرار دیا۔ کسی نے ان کی موت کو بے وقت ثابت کیا۔ کسی نے کہا کہ وہ مر گئے ہیں لیکن ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اور ان کی شاعری پرستاران ادب کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہے ورثہ ہے۔ انہیں ادب میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے، کیوں کہ مزاح کو ادب میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ حقدار ہے۔


