نئے منصف اعلیٰ اور پرانے زخموں کا مداوا


تین برس پہلے جب قاضی فائز عیسیٰ اپنی ہی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے تھے تو لوگ کہہ رہے تھے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس بننا ناممکن ہے۔ یہ فیصلہ اس دن کیا گیا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 6 فروری 2019 ء کو تحریک لبیک پاکستان کے 2017 ء کے دھرنا کیس کا فیصلہ سنایا۔ انھوں نے فیصلے میں لکھا کہ جو شخص نفرت پھیلائے، ایسے فتوے دیے جس سے کسی دوسرے شخص کو نقصان ہو، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

دھرنے والوں کے خلاف مروج قوانین کے تحت کارروائی ضروری ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ملک کا آئین افواج پاکستان کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ اور کسی بھی جماعت، گروہ یا افراد کی حمایت سے سختی سے روکتا ہے۔ اس لیے وزارت دفاع کے ذریعے فوج کے سربراہ، نیوی اور ائر فورس کے سربراہ کو یہ ہدایات کی جاتی ہیں کہ حلف کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ یہی پیراگراف حکومت اور دھرنے کی معاونین پر بجلی بن کر گرا تو فیصلہ ہوا کہ جسٹس قاضی فائز قابل قبول نہیں۔

چیف جسٹس قاضی تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنما قاضی محمد عیسیٰ کے فرزند، اچھے وکیل، انتہائی سنجیدہ اور سلجھے ہوئے شخص، قانون، شریعت، اسلامی تعلیمات پر دسترس اور تاریخ سے واقفیت رکھنے والے، نڈر جج اور ایک با اصول انسان ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی اور پھر قانون کی تعلیم لندن سے مکمل کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس اپنے فرائض اس وقت سنبھالے ہیں جب عدالت عظمیٰ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 56 ہزار 566 سے زائد ہے۔

وہ 1985 ء میں بلوچستان ہائیکورٹ اور 1998 ء میں سپریم کورٹ میں بطور وکیل آئے۔ بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹس میں وہ ایک کامیاب وکیل ثابت ہوئے۔ چیف جسٹس قاضی، میموگیٹ کمیشن کے سربراہ بنے جب وہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ اس کمیشن میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمٰن تھے۔ یہ کمیشن اس وقت بنا جب ایبٹ آباد میں امریکی فوج اسامہ بن لادن کو ایک گھر میں مار کر ان کی لاش اپنے ساتھ لے گئی۔

اس واقعے سے ریاست کی خودمختاری پر سوالات اٹھنے لگے۔ جب یہ خبر عام ہوئی کہ صدر زرداری نے امریکی سفیر حسین حقانی کے ذریعے امریکی انتظامیہ سے پاکستان میں ممکنہ طور مارشل لاء روکنے کے لیے مدد مانگی۔ ان کے خلاف تمام درخواستوں کا لب لباب یہ تھا کہ امریکا سے مدد طلب کرنا ملک سے غداری ہے۔ کمیشن نے امریکی شہری منصور اعجاز کے بیان کی بنیاد پر میموگیٹ کا ذمہ دار حسین حقانی کو قراردیا۔ قاضی فائز عیسیٰ کے لیے یہ پہلا ٹیسٹ کیس تھا۔ اس میں ان کی آبزرویشنز، ریمارکس، تیکھے سوالات، انکوائری کے انداز نے انہیں مقبولیت دی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس ہیں۔ وہ 25 اکتوبر 2024 ء تک تقریباً 13 ماہ چیف جسٹس رہیں گے۔ صدر مملکت اسی جج کی چیف جسٹس نامزدگی پر مجبور ہوئے، جس کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا۔

2007 ء کی ایمرجنسی پلس کے اثرات سے 100 سے زائد پی سی او جج فارغ ہوئے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سندھ ہائیکورٹ کا جج بنانا چاہا لیکن قاضی فائز عیسیٰ نے انکار کر دیا کہ میرا ڈومیسائل بلوچستان کا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ پر سندھ کا ڈومیسائل والوں کا حق ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 5 اگست 2009 ء کو بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور 2014 ء میں سپریم کورٹ کے جج بنے۔ 19 اگست 2015 ء کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان میں تلور کے شکار پر پابندی عائد کردی۔

بینچ میں چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس دوست محمد تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آبزرویشن تھی کہ ریاست شکار کی اجازت دے کر نہ صرف پاکستانی آئین بلکہ عالمی قوانین اور کنوینشنز کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ جسٹس خواجہ کے بعد ، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے تلور کا شکار کرنے کی اجازت دے دی۔ جسٹس قاضی فائز اس فیصلے میں بھی لکھا کہ یہ شکار قانون کے خلاف پہلے بھی تھا، اب بھی ہے۔

2015 ءمیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کوئٹہ میں وکلاء کے خلاف دہشت گردی پر ازخود نوٹس لیا اور جسٹس قاضی فائز پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن قائم کیا۔ جس کی رپورٹ حکومت وقت، ریاستی پالیسیوں اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ایک چارج شیٹ تھی۔ کمیشن نے اس وقت کے وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس و دیگر اداروں کے سربراہان کے بیانات رپورٹ کا حصہ بنائے۔ 110 صفحات کی رپورٹ میں جسٹس قاضی فائز نے لکھا کہ وفاقی اور صوبائی وزیرداخلہ، حتٰی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی اس واقعے میں غلط بیانی سے کام لیا، نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہو رہا۔ وزارت داخلہ کے افسر، وزیروں کی خوشامد کے سوا کوئی کام نہیں کر رہے۔ اسی رپورٹ میں نیکٹا کی نا اہلی، وزارت داخلہ کی کاہلی اور صوبائی حکومت کی لاپروائی کی داستانیں رقم تھیں۔ ایسی رپورٹ قاضی صاحب جیسا جرات مند جج ہی دے سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے 17 رکنی فل کورٹ کی اکثریت نے آئین کی 21 ویں ترمیم ”فوجی عدالتوں کے قیام“ کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ جن 6 ججوں نے فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دیا ان میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس ناصرالملک، جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے ساتھ اچھے ورکنگ تعلقات تھے لیکن جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس قاضی فائز کے درمیان اختلافات پش اور میں آرٹیکل 184 ( 3 ) کے تحت ایک مقدمے میں سامنے آئے۔ جب قاضی فائز نے ثاقب نثار سے سوال کیا کہ پہلے یہ دیکھیں کہ مقدمہ عوامی مفادات کے آرٹیکل 184 ( 3 ) کے دائرے میں آتا بھی ہے یا نہیں۔ جس پر ثاقب نثار اٹھ کر چلے گئے اور اگلے دن جسٹس فائز عیسیٰ کو پینچ سے الگ کر کے نیا پینچ تشکیل دیا۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سینیٹرز کو ترقیاتی فنڈز دینے کا اعلان ہوا تو ایک مقدمے میں جسٹس قاضی فائز نے اس کا نوٹس لے کر چیف جسٹس کو الگ بینچ بنانے کی سفارش کی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بینچ سے الگ کر کے لارجر بینچ بنا دیا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عمران خان یا حکومتی مقدمات سننے پر غیر علانیہ پابندی لگا دی۔ اس پر جسٹس قاضی فائز نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ چیف جسٹس کے اس اقدام سے ججز کی بے توقیری ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وہ واحد جج ہیں جنہوں نے عدالتی تاریخ میں سب سے زیادہ خطوط لکھے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر صدر مملکت سے لے کر چیف جسٹس، ساتھی ججز اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اپنا واضح موقف سامنے رکھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پریس ایسوسی ایشن کی صحافیوں کو ہراساں کرنے کی درخواست پر نوٹس لے کر آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کیا تو چیف جسٹس بندیال نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ ازخود نوٹس فقط چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔ جسٹس قاضی فائز کا موقف تھا کہ ازخود نوٹس کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے۔ اس کا ہر جج بھی اتنا ہی با اختیار ہے جتنا کہ چیف جسٹس۔ ایک مقدمے میں جسٹس بندیال نے قاضی فائز عیسیٰ کا عدالتی آرڈر رجسٹرار کے نوٹیفکیشن سے معطل کر دیا۔ یہ عدالتی تاریخ کا پہلا انوکھا واقعہ تھا جہاں جج کا فیصلہ رجسٹرار سے معطل کروایا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں جسٹس قاضی اور ان کے خاندان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ملک سے باہر اپنی جائیداد ظاہر نہیں کی۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے منی لانڈرنگ کا الزام تک لگادیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے جو فیصلہ دیا وہ بھی منصفی کے ”اعلیٰ معیار“ کا تھا کہ ریفرنس تو خارج کر دیا البتہ جج اور اس کے خاندان کے خلاف ایف بی آر کو کھلی چھوٹ دے دی۔ فیصلے کا یہ تضاد یا ریفرنس کا اصل راز اس وقت کھلا جب کچھ ججوں نے آنکھیں کھولیں اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی اپیل منظور ہو گئی۔

یہ ان کی ہمت تھی کہ وہ اپنے لیے انصاف لینے میں کامیاب ہوئے ورنہ ریفرنس بنانے اور بھیجنے والے بڑے با اثر تھے جنہوں نے کھڑے کھڑے جسٹس شوکت صدیقی کو دو پیشیوں میں گھر بھیج دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز کا موقف یہ بھی ہے کہ ملک کی ہر وحدت کی زبان کا جج سپریم کورٹ میں ہونا چاہیے لیکن اس موقف کو پذیرائی نہیں ملی اس لیے چھوٹے صوبوں سندھ اور بلوچستان کو اب بھی شکایت ہے کہ ان کی زبان بولنے والوں کے لیے سپریم کورٹ میں کوئی جگہ نہیں۔ سینیارٹی کا اصول نظرانداز کر کے جتنے بھی جج بھرتی ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کونسل میں سب کے خلاف ووٹ دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ سے سرخرو ہوئے اور اب جب وہ سپریم کورٹ کے سربراہ ہیں۔ ان سے وابستہ امیدوں کا دامن خاصا وسیع ہے۔ ان کے بلند کردار، تابناک ماضی، بے خوف مزاج اور خاندانی نسبت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ عدلیہ کی بہتری اور عرصہ دراز سے عدلیہ کے حل طلب مسائل پر توجہ دیں گے اور ان کی سربراہی میں ایسے فیصلے صادر کیے جائیں گے جو ملک و قوم کی بہتر مستقبل کی صورت گری میں معاون ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments HS