دانشور کی اہمیت اور موجودہ دور کا ہجوم
دانشور / انٹیلکچوئلز کسی بھی سوسائٹی کے لیے اعلی دماغ اور قومی راہنما کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی صلاحیتوں کے حامل لوگ ہوتے ہیں جن کی سوچ معاشرے کے مقاصد اور پہچان کو طے کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سجاوٹ اور شکل واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انٹلیکچولزم کو اگر میں اپنی عقل ناقصہ کے ذریعے درجہ بندی میں پرووں تو اس کی مندرجہ ذیل اقسام ہو سکتی ہیں۔
1سیاسی انٹلیکچوئل
2۔ مذہبی انٹلیکچوئل
3۔ تعلیمی انٹلیکچوئل (یہاں تعلیم کے مختلف شعبہ جات مقصود ہیں )
4۔ کاروباری انٹلیکچوئل
5 قانونی انٹلیکچوئل
6۔ مذہبی و سیاسی بصیرت کے حامل انٹلیکچوئل
7۔ مذہبی سیاسی معاشی معاشرتی کی خوبیوں کے حامل انٹلیکچوئل
یہاں پر دانشوروں کی ایسی اقسام کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ کسی بھی سوسائٹی کی تشکیل نو اور تعمیر میں بنیادی حیثیت اور اعلی دماغ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ طے کرتے ہیں کہ قوم کی پہچان کن بنیادوں پر ممکن ہے (یاد رہے یہاں قوم کی تعریف موجودہ تعریف کے مطابق ہے ) پھر قوم کے مقاصد و اہداف کیا ہونے چاہیے۔ قوم کے اخلاق کا اجتماعی تصور کیا ہونا چاہیے قانون حکومت قانون بنانے والے اداروں اور عوام کے مفاد اور مسائل کے حل میں توازن کیسے قائم رکھا جاسکتا ہے۔ اور عوام دوست ترقی پسند پالیسز کیسی ہونی چاہیے ان سب میں سے مرکزی اور سب سے اہم کردار تعلیمی انٹلیکچوئل کے حصے میں آتا ہے۔ بطور قومی معمار وہ اس سب سے بڑی ذمہ داری کا حصہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی بدولت ہی معاشرہ اہم کرداروں سے واقفیت پاکر عملی مظاہر کا گواہ ہو گا۔
اور اگر ایک انٹلیکچوئل مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت میں ماہر ہو تو اس کا ایسی سوسائٹی میں ہونا باعث نعمت خداوندی ہو گا۔ کیونکہ وہ معاشرے کی نبض کا واقف اور اس میں پیدا ہونے والے نقائص کا طبیب بھی ہوتا ہے اور عمل طب کے بعد اس کا نگران بھی ہوتا ہے اگر انٹلیکچولزم کے یہ کردار اپنے اپنے اداروں اور پھر باہمی روابط کے ذریعے اجتماعی کردار ادا کریں تو ہمیں ایک ایسا صالح مثالی معاشرہ ملے گا جس کی تلاش اس وقت اس دنیا کو شدت سے ہے۔ جن کا کردار اس دنیا کو جنت بنا سکتا ہے۔
دوسری طرف آج کے ہجوم کی بات کریں جو طبقہ خود کو انٹلیکچوئل کہلواتا ہے اس میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو سرمایہ پرستی کی ہوس کا شکار ہیں اور تو اور سرمایہ داروں /اشرافیہ کے حق میں عوام الناس کی رائے ہموار کرنے میں رات دن مصروف عمل ہیں۔ اگر صحافتی میدان میں نظر دوڑائیں تو ماشااللہ سے تمام لوگ کسی ایک پہلو کو اس قدر اجاگر کریں گے کہ معاشرے کے اصل مسائل سے توجہ ہٹ کر جن کی بنیاد اور وجہ اشرافیہ/سرمایہ دار جھنڈ یا پھر یوں کہیے کہ ٹولہ ہو گا اس سے ہٹ جاتی ہے اور اس نظام کو مزید اپنی راہ میں حائل رکاوٹیں عبور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح ان انٹلیکچوئلز کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہجوم کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود ہجوم کو بلاوجہ اور بے معنی مباحثوں میں الجھا کر ٹرینڈ سیٹ کرواتے ہیں جس سے ہم پر مسلط نظام کے آلہ کار یا چیک اینڈ بیلنس کرنے والے ہمارے ذہنی لیول کا پیمانہ دیکھ کر ہمیں ان سوشل میڈیا پلیٹ فارم مین سٹریم میڈیا یہاں تک کے وہ تمام پلیٹ فارم جہاں عوام الناس کی رسائی ہو وہ مواد مہیا کرتے ہیں جن سے لوگ ان کے مفاد اور اشرافیہ کے لوٹ مار کے سسٹم پر سوال نا اٹھا سکیں۔ تو یہ خود ساختہ اور شیطانی شکل کے حامل دانشور کسی بھی سوسائٹی کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا ہم ان کو دانشوروں کا ایسا ہجوم کہہ سکتے ہیں جو کہ مخصوص لوگوں کے حق میں عوام کی رائے ہموار کرنے والے درباری کہلاتے ہیں۔ اس کی زندہ مثال پاکستان میں موجود سرمایہ داروں کے میڈیا ہاؤسز اور ان کی سوشل میڈیا ٹیم ہینڈلنگ کا آپ بخوبی تجزیہ اور نظارہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے پلانٹڈ اور نام نہاد دانشوروں کے ہجوم میں ایک نوجوان ذہن کا آزادانہ ماحول میں پروان چڑھنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ جو کہ اس سوسائٹی کے لیے کسی بھی طور پر موت سے کم نہیں ہے۔ اگر ہم موجودہ دور میں ایسے سو کالڈ دانشوروں کا ذکر کریں جنھوں نے نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو محض تخیلاتی و رومانوی پہلووں کی آبیاری اپنی بھونڈی تحریروں سے کی ہے جس سے انگریز ذہنی کلچر اور مائنڈ سیٹ پروان چڑھا ان میں ایک ہی سکول آف تھاٹ کے دو لکھاری اشفاق احمد اور بیگم اشفاق احمد یعنی بانو قدسیہ، علاوہ ازیں ممتاز مفتی آج کی مشہور سو کالڈ رائٹر عمیرہ احمد وغیرہ وغیرہ یہ کچھ ایسی مثالیں تھیں جنھوں نے ادب میں انگریزیت کلچر کو پروان چڑھایا۔ اگر ایک معاشرہ ایسے لوگوں کو دانشور کا درجہ دینا شروع ہو جائے تو آپ اس معاشرے کے ذہنی پست کا اندازہ بخوبی کر سکتے ہیں۔ اور تو اور وہاں کی ذہنی اپروچ کا پیمانہ بخوبی ماپا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں نے قومی کلچر کی جگہ قومیت کی بجائے ایسے موضوعات کو مباحث کے لیے چنا جو بے مقصد بے بنیاد ہیں جن کو پڑھ کر انسان صرف اور صرف ذہنی الجھاؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور نوجوان تو ذہنی امراض کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسے ادھورے سوالات چھوڑے جاتے ہیں کہ جن کا جواب اگر مگر کی کشمکش کے سوا کچھ نہیں بچتا۔


