امجد اسلام امجد کا فلیمنگ روڈ
معروف شاعر اور ڈراما نگار امجد اسلام امجد سے میری آخری ملاقات جولائی 2022 میں ان کے گھر پر ہوئی۔ وہ بڑی دلچسپ گفتگو کرتے تھے اس لیے کوئی نشست کتنا ہی طول کھینچ جاتی بندہ بور نہیں ہوتا تھا۔ اس دن ان سے بات چیت زیادہ تر لاہور میں ان کے آبائی علاقے فلیمنگ روڈ کے بارے میں ہوئی جہاں 30 کی دہائی کے اوائل میں، سیالکوٹ سے ہجرت کے بعد ، ان کا خاندان آباد ہوا تھا۔ فلیمنگ روڈ کے قصے سے کئی قصے نکلے، ان میں سے ایک کا تعلق بالی وڈ کے ممتاز فلم ساز اور ہدایت کار بی آر چوپڑا سے تھا جن سے ملاقات کی روداد امجد صاحب نے ہمیں یوں سنائی:
’بی آر چوپڑہ میرا بڑا فین تھا۔ 92 یا 93 میں انڈیا گیا تو اس سے میری ملاقات ہوئی۔ اس وقت وہ خاصا بوڑھا ہو چکا تھا۔ میں اس کے مقابلے میں تو بہت بچونگڑہ سا تھا۔ باتیں کرتے کرتے ایسے ہی لاہور کا ذکر آیا تو اس نے کہا چیمبر لین روڈ کو جانتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی بالکل۔ اس نے پانچ منٹ بعد رونا شروع کر دیا۔ میری سمجھ میں نہ آئے کہ اتنا بزرگ آدمی ہے اس کو میں حوصلہ دوں کیا کروں؟ وہ چیمبر لین روڈ پر رہتا تھا۔ اسے بہت سال بعد کوئی بندہ ملا جو اس جگہ کو جانتا تھا جہاں وہ پیدا ہوا۔‘
یہ کہانی سن کر میں نے کہا کہ عارف وقار صاحب نے بھی ایک مضمون میں بی آر چوپڑا کی لاہور سے جذباتی وابستگی کے بارے میں لکھا تھا اور پرویز راہی کے نام ان کے خط سے منتخب ٹکڑا بھی نقل کیا جس کا یہ حصہ میرے ذہن میں ہے :
’لاہور سے آنے والا خط بہار کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ میرے بچپن اور جوانی کی یادیں ایک انگڑائی لے کر بیدار ہو گئی ہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ کاش یہ دو بچھڑے ہوئے بھائی اچھے دوستوں کی طرح ہی زندگی گزار لیں۔ ‘
چیمبر لین روڈ کا حوالہ آئے تو بات مستنصر حسین تارڑ تک ضرور جاتی ہے جہاں ان کے والد کی بیجوں کی دکان ’کسان اینڈ کمپنی‘ تھی۔ اسے نامور مصور اور لاہور کے عاشق صادق ڈاکٹر اعجاز انور لاہور کا ایک لینڈ مارک قرار دیتے ہیں۔ تارڑ صاحب کا بچپن چیمبر لین روڈ کے تین منزلہ گھر میں گزرا جس کی چھت سے انہوں نے تقسیم کے وقت شاہ عالمی میں بھڑکائی گئی آگ کا دھواں اٹھتے دیکھا۔ انہوں نے اس واقعے کے بارے میں تخلیقی سطح پر ’راکھ‘ میں گواہی دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’شاہ عالمی کئی ہفتوں تک جلتا رہا اور کئی مہینوں تک سلگتا رہا۔ آسمان کی مسلسل سرخی میں یہ جلتی ہوئی راکھ اڑتی پھرتی۔‘
امجد صاحب کے انتقال کے بعد تارڑ صاحب سے ہماری گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں وہ دن آج بھی یاد ہے جب امجد سکوٹر پر چیمبر لین روڈ پر ان کی دکان پر پہلی دفعہ آیا تھا۔ فلیمنگ روڈ پر امجد صاحب کے گھر جو محفلیں ہوتی تھیں ان میں بھی وہ شریک ہوتے رہے، جس میں ادیبوں شاعروں کی علاوہ اقبال باہو بھی آتے۔
تارڑ صاحب کا کہنا ہے کہ امجد اسلام امجد نے ان کی پہلی کتاب ’نکلے تری تلاش میں‘ پر مضمون میں کتاب کی بڑی تعریف کی لیکن آخر میں لکھا کہ امید ہے یہ کتاب تکا ( fluke ) ثابت نہیں ہوگی۔ یہ بات مصنف کے ذہن میں رہی اور آئندہ برسوں میں وہ اپنی کتاب انہیں دان کرتے تو اس پر یہ عبارت ہوتی:
’ امجد اسلام امجد کے لیے ایک اور فلوک‘
چیمبر لین روڈ پر برصغیر میں موسیقی کا عظیم گہوارہ تکیہ مراثیاں بھی ہے جہاں برصغیر کے کئی عظیم گلوکاروں نے فن کا مظاہرہ کیا۔ موسیقی کے پارکھ سعید ملک نے ’ویو پوائنٹ‘ میں اپنے مضمون میں تکیہ مراثیاں کو موسیقی کی اوپن یونیورسٹی قرار دیا تھا۔
چیمبر لین روڈ کا قصہ طولانی ہے، بس اب ہم اس سے گزر کر موچی دروازے پہنچتے ہیں جو اس کے ختم پر سامنے آ جاتا ہے۔ بچپن میں امجد صاحب کے شوق مطالعہ کو مہمیز دینے میں موچی دروازے کی ایک لائبریری کو بڑا دخل رہا جس کی کہانی ان کے زبانی کچھ یوں ہے :
’موچی دروازے کے اندر آپ داخل ہوں تو لیفٹ سائیڈ پر تھانہ ہے۔ تھانے کے بعد پہلا چوک ہے اس سے اندر ایک سڑک جاتی تھی وہاں الفاروق لائبریری تھی جس کو آنہ لائبریری کہتے تھے۔ اسی سے پڑھنے کا شوق پروان چڑھا۔ میں نے سارا ابن صفی وہیں سے پڑھا۔ اب وہ فاصلہ ذہن میں رکھ لو۔ میرے گھر سے کوئی ہو گا تین یا چار فرلانگ۔ رستے میں کتاب پڑھتا آتا تھا۔ شروع میں گھر والوں سے چھپ چھپ کر پڑھتا تھا۔ بعد میں مجھے اجازت مل گئی۔ اصل لائبریری اوپر والی منزل پر تھی۔ چالو کتابیں نیچے کی منزل پر۔ وہ بندہ مجھے دیکھ کر بڑا خوش ہوتا۔ میری کتاب ختم نہیں ہوتی تھی تو آخری پندرہ بیس صفحے میں دکان پر پڑھتا تھا۔‘
ابن صفی کے بعد جس دوسرے مصنف کے وہ گرویدہ ہوئے وہ شفیق الرحمٰن تھے۔ ان دونوں کی تحریروں سے پڑھنے کی لت پڑی۔ مطالعے کی طرف راغب کرنے کے لیے انہوں نے نسخے کے طور پر ان ادیبوں کی تحریریں پڑھنا تجویز کیا۔ ان کے بقول ’ہمارے بچے اب اپنا نام ٹھیک طرح سے اردو میں لکھ نہیں پاتے۔ ان کو چاہیے کہ اس طرح کے رائٹروں کو پڑھیں۔ readability مطالعے کی عادت پختہ کرنے میں بڑا کام آتی ہے۔ اپ ایسی چیزیں پڑھیں جن کو پڑھنا اچھا لگے تو آپ کی عادت زیادہ استوار ہوتی ہے۔ ‘
کسی قاری کی اس سے بڑی خوش قسمتی نہیں ہو سکتی کہ محبوب مصنف سے دوستی ہو جائے۔ امجد صاحب کا شفیق الرحمٰن سے ذاتی تعلق ہی استوار نہیں ہوا، اپنے کام پر ان سے داد بھی ملی۔ وہ رائٹر ہی نہیں شخصی اعتبار سے بھی انہوں نے شفیق الرحمٰن کو بڑا انسان قرار دیا۔ ان کے بقول:
’میں شفیق الرحمان کا بڑا فین تھا۔ بچپن سے۔ لاجواب رائٹر۔ بڑے آدمی کی پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کو چھوٹا محسوس نہیں ہونے دیتا۔ شفیق صاحب میں عجیب و غریب باتیں تھیں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا زندگی میں ایک بھی موقع ایسا آیا ہو جب ان سے ملاقات ہوئی ہو اور وہ ہمیں دروازے تک نہ چھوڑنے آئے ہوں۔
شفیق صاحب نے نیلے رنگ کے چھوٹے سے کاغذ پر ون لائنر خط لکھا :
دلہا سائیں خوش کیتا ای۔
بس یہ لکھ کر بھیج دیا۔ آگے پیچھے کچھ نہیں لکھا۔ دوستوں کو کتابیں بھیجتے تھے۔ کرکٹ کا بہت شوق تھا۔ محبت کرنے والے انسان تھے۔ ایمانداری کی بات ہے ہماری نسلوں میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ یہ لوگ بڑے متواضع تھے۔ ”
شفیق الرحمٰن ہی نہیں ان کے عزیز دوست اور ممتاز ادیب محمد خالد اختر سے بھی امجد اسلام امجد کا تعلق رہا۔ میری ان سے جس دن ملاقات ہوئی اس سے چند ہی دن پہلے ’کراچی ریویو‘ کے ’گوشۂ محمد خالد اختر‘ کے بارے میں ان کا کالم شائع ہوا تھا، جس کی میں نے تعریف کی تو پھر اردو کے اس بے مثل قلم کار کا ذکر چل نکلا۔ بتایا کہ ’خالد اختر اس دنیا کے آدمی نہیں تھے۔ وہ جس دنیا میں رہے اس سے belong ہی نہیں کرتے تھے۔ اس لیے وہ اپنے اندر سمٹتے چلے گئے۔ پہلے باپ کے ہاتھوں تنگ رہے اور پھر ازدواجی زندگی بھی خوشگوار نہیں تھی۔ ان کے خط بہت اچھے ہیں۔ باریک باریک لکھتے تھے۔ جہاں سے دل کیا شروع کیا جہاں دل کیا ختم کر دیا۔ کمال کے آدمی تھے۔ ‘
امجد اسلام امجد نے بتایا کہ محمد خالد اختر ان کے فلیمنگ روڈ والے گھر بھی آتے رہے ہیں تو میں نے کہا جی، عطا الحق قاسمی کے نام ان کے ایک خط میں بھی فلیمنگ روڈ کا حوالہ آیا ہے :
’امجد کے لطیفے سننے کو بڑا جی چاہتا ہے۔ اسے کہو کہ لطیفوں کی دو تین کتابیں اور یاد کرے۔ میں آتے ہی پہلا کام یہ کروں گا کہ فلیمنگ روڈ پر جاکر اس سے سب کے سب نئے لطیفے سنوں گا۔ جب سے کراچی میں ہوں، ایک بار میں کھل کر نہیں ہنسا۔‘
42 فلیمنگ روڈ پر امجد صاحب ایک کٹری میں رہتے تھے، جو ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں کئی خاندان اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ احمد مشتاق کا یہ شعر غالباً انہی زمانوں کی یاد میں ہے :
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے
فلیمنگ روڈ پر بہت سے نامور لکھاری امجد صاحب سے ملنے آتے رہے لیکن کمال احمد رضوی ایسے رائٹر تھے جو انہیں نہیں ان کے چچا سے ملنے آتے تھے جن سے ان کی دوستی تھی۔
فلیمنگ روڈ کا ذکر ہو اور امجد صاحب آقا بیدار بخت ( مہتمم دارالعلوم السنہ شرقیہ) کی بات نہ کریں یہ ہو نہیں سکتا۔ یہ ذی علم ہستی ان کے ہمسائے میں رہتی تھی۔ امجد صاحب کے گھر میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں تھا۔ آقا بیدار بخت کے ہاں ’چٹان، قندیل، نصرت و دیگر پرچے آتے جو وہ ہونہار بروا کو پڑھنے کے لیے خوشی خوشی دیتے۔ ان کی نگاہ دور رس نے ان میں چھپے ٹیلنٹ کو پہچان لیا تھا۔ علمی سرگرمیوں میں ہی امجد صاحب کی حوصلہ افزائی نہ کرتے ان کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلتے۔
امجد اسلام امجد نے بتایا:
’کمال کے لوگ تھے۔ اب دیکھو نہ کوئی رشتہ نہ تعلق واسطہ۔ نہ برادری۔ ہمارے والد دستکار۔ وہ سکالر۔ لیکن انسانیت کا رشتہ تھا۔ محلے داری کا پاس۔ شہروں کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایسے لوگ ہم نے گنوا دیے۔ ‘
محلے کی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد حسین، شورش کاشمیری کے پرچے ’چٹان‘ کے فوٹو گرافر تھے۔ انھی کی توسط سے امجد صاحب کی پہلی غزل ’چٹان‘ میں شائع ہوئی۔
امجد اسلام امجد کا کہنا تھا کہ ’مغرب کے بعد گھر سے باہر رہنے کی پابندی تھی اس کی خلاف ورزی بھی ہوتی تھی، ہاں اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے، کبھی داتا صاحب کے عرس کا بہانہ بنانا پڑتا تھا اور کبھی کوئی اور بہانہ۔‘
امجد اسلام امجد اور فلیمنگ روڈ کے تعلق کی کہانی، ان کی نابینا خالہ کے تذکرے کے بغیر ادھوری رہے گی جو انہیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ وہ سمجھتے ہیں ان کے ڈراما رائٹر بننے کی بنیاد خالہ کی کہانیاں بنیں جن کے پہلے سامع وہ ہوتے تھے۔ ان کے بقول ”مجھے وہ کہانیاں جاکر سکول میں سناتی ہوتی تھیں جس کی آڈینس مختلف ہوتی تھی۔ میرے اندر جو ایڈیٹر تھا وہ خود ٹرین ہونا شروع ہوا کہ کہانی اگر ان لوگوں کو سنانی ہے تو کیسے سنانی ہے؟ تو پھر وہ میں ری ایڈٹ کرتا تھا۔ اس چیز نے آگے چل کر ڈرامے میں میری بڑی مدد کی اور مجھے پتا چلا کہ کس طرح کی آڈینس کے لیے کس طرح کے سین لکھنے چاہئیں۔ کیسی زبان ہونی چاہیے۔ دورانیہ کتنا ہونا چاہیے۔ بنیادی طور پر اس کا بیج وہاں رکھا گیا۔ کہانی بنانا میں نے انھی سے سیکھا، جس کو آپ سکرین پلے کہتے ہیں۔ سکول میں کہانیاں سنانے کی وجہ سے ایک ٹیچر نے میرا نام کہانیاں سنانے کی مشین رکھ دیا تھا۔ ’
امجد صاحب نے ڈراموں میں جو کردار تخلیق کیے ان میں سے وارث کے چودھری حشمت کا لازوال کردار بھی ہے جس کے ذریعے وہ جاگیردارانہ سوچ کی غلاظت بڑے موثر طریقے سے سامنے لائے۔ محبوب عالم نے یہ کردار نہایت عمدگی سے نبھایا، اس کا انہیں نقصان یہ ہوا کہ وہ اس کے گہرے سائے سے پھر کبھی باہر نہ نکل سکے۔ باتوں باتوں میں اس کردار کا ذکر بھی چل نکلا تو معلوم ہوا کہ اس کا بیج بھی ان کے دماغ میں فلیمنگ روڈ کے زمانے میں ہی بویا گیا۔
’بچپن میں میں نے کچھ کیریکٹر دیکھے جن کی قوت استدلال سے میں بہت متاثر ہوتا تھا۔ یہ غلط بات کو بھی صحیح ثابت کر دیتے تھے۔ اگر چودھری حشمت کا کردار دیکھیں تو وہ غلط بات کر رہا ہے لیکن اتنے اعتماد سے اور اتنے سٹائل سے کہ وہ صحیح لگنے لگتی ہے۔ ایک تو وہ پڑھا لکھا آدمی تھا۔ دوسری بات یہ ہے علم اس نے حاصل تو کیا لیکن اس علم کو اپنے اندر نہیں آنے دیا اور کہا کہ ایک لاجک میرے پاس بھی ہے علم کے مقابلے میں۔ مثلاً وہ اپنے بیٹے یعقوب سے کہتا ہے تم شہر میں رہ کیسے لیتے ہو کہ تمہیں ٹریفک کی بتی روک لیتی ہے۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ جو میری ڈومین ہے اس میں میرے علاوہ کوئی نہ ہو۔ کسی کا حکم نہ چلے۔ ‘
فلیمنگ روڈ چھوڑنے کی وجہ جاننی چاہی تو امجد صاحب نے بتایا:
’نئی نسل کے تقاضے بھی نئے تھے۔ واش روم علیحدہ ہوں۔ الگ کمرے ہوں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم عام طور پر پیار سے ٹوٹتا نہیں ہے جھگڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے بڑی خوش اسلوبی سے اس کا حل نکالا۔ چاروں بھائیوں نے یہ دانش مندانہ فیصلہ کیا کہ اس سے پہلے کہ بدمزگی ہو الگ ہوجائیں۔ اب تیسری نسل آ گئی تھی۔ تیسری نسل کی آنکھوں میں پہلی نسل کے لیے وہ عزت نہیں ہوتی جو دوسری نسل میں ہوتی ہے۔ ہم فلیمنگ روڈ سے گڑھی شاہو آ گئے لیکن ہم نے گھر قریب قریب بنائے۔ ہمارا گھر میرے چچا جو میرے سسر بھی تھے ان کے گھر سے قریب تھا لیکن پھر وہ علاقہ بھی چھوڑنا پڑا۔‘
فلیمنگ روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں کی بارے میں انھوں نے مختصراً کچھ یوں بتایا:
فلیمنگ روڈ اندرون شہر کے بہت قریب ہے ایک طرح سے ملحقہ۔ ایک وقت آیا کہ یہ پرانے شہر کا ہی حصہ بن گیا۔ اس کے ساتھ خواجہ دل محمد روڈ تھا۔ اسی بیلٹ میں گوالمنڈی اور چیمبر لین روڈ۔ پھر نسبت روڈ جس پر دیال سنگھ کالج اور دیال سنگھ لائبریری ہیں۔ ریلوے روڈ پر امرت دھارا بلڈنگ تھی، اسلامیہ کالج تھا۔
میں نے گزرے زمانے اور موجودہ زمانے میں تقابل کا کہا تو جواب آیا:
’انسانی تعلقات کے حوالے سے وہ زمانے آج کل کے زمانے سے بہت کم برے تھے۔ خاصی حد تک اچھے۔ برائیاں تھیں لیکن رشتوں کا لحاظ اور قدر بڑی تھی۔ بڑوں کی عزت جو اب نہیں رہی، یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ میں تو بڑا پڑھاکو تھا لیکن میرے دو تین کزن بڑے شرارتی تھے اور اکثر ان کے چکر میں مجھے بھی مار پڑ جاتی تھی لیکن خوبصورتی یہ تھی، جس کو میں بہتcherishکرتا ہوں کہ آپ کے محلے میں کوئی بزرگ ہے جس کے ساتھ آپ کا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ اپ کا محلے دار ہے۔ باپ کی عمر کا یا والد کا واقف۔ اس نے کبھی ناگوار بات یا عمل کرتے دیکھا ہے تو اس کا یہ رائٹ تھا کہ مجھے کان سے پکڑے اور دو لگائے اور میرا باپ جب شام کو کام سے واپس آئے تو وہ اس کا شکریہ ادا کرے گا کہ تم نے میرے بیٹے کو غلط کام سے روکا۔ اب حالت یہ ہے محمود کہ اللہ نے یہ بڑے بڑے گھر دے دیے۔ بڑی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ سو کالڈ پڑھے لکھے۔ میں ساتھ والے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ میں ہمسائے کے بیٹے کو کسی غلط بات پر منع کروں تو وہ میرے ساتھ لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔
اس زمانے میں باہمی محبت تھی، شاید یہ چیز کاؤنٹ نہیں ہوتی تھی کہ یہ کتنا کماتا ہے اور وہ کتنا کماتا ہے۔ بڑی کمال کی بات ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے والد چین سموکر تھے وہ تقریباً ساٹھ برس کے تھے۔ ان کا بڑا بھائی ایک سال بڑا تھا۔ فرق رہتا بھی نہیں اس عمر میں لیکن وہ ان کے سامنے اس عمر میں بھی سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ یہ آنکھ کا لحاظ تھا جو اب نہیں رہا۔ ’
فلیمنگ روڈ کے ذکر کا بنیادی مقصد امجد صاحب کی زندگی کے ایک بہت اہم حصے کو اجاگر کرنا تھا لیکن اس کے ساتھ یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ شہر جب ایک حد سے زیادہ پھیل جائیں تو اس کے باسیوں کو ٹھور ٹھکانے بدلنے پڑتے ہیں، ان ہجرتوں کے اپنے رنج اور چرکے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ پرانی بستیوں کا رخ کرنے کا وقت بھی میسر نہیں آتا۔ شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ پر امجد صاحب نے کیا خوب کہا ہے :
گھٹی دلوں کی محبت تو شہر بڑھنے لگا
مٹے جو گھر تو ہویدا ہوئے مکاں کیا کیا






Comments are closed.