کچھ باتیں شعیب بن عزیز کی
لاہور کن کن نعمتوں سے محروم ہوا۔ انہی میں سے ایک مال روڈ کا شیزان ریستوران بھی ہے۔ اس کے جلنے کے ساتھ ہماری مل بیٹھنے کی اک تہذیبی روایت بھی جل گئی۔ چلو اچھا ہی ہوا۔ اب یاروں کو فرصت بھی کہاں رہی ہے۔ وہ فرصت فارغ البالی کے ٹھنڈے میٹھے زمانے اور تھے۔ اب نہ وہ لوگ رہے اور نہ ہی وہ فرصت اور نہ ہی آپس میں انس و محبت اور رواداری۔ ”تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی۔ سب پوچھیں تھے احوال جو کوئی غم کا مارا گزرے تھا“ ۔
نوے کی دہائی کے کسی ابتدائی سال کا کوئی دن مہینہ تھا۔ جب یہیں شیزان کی بالائی منزل پر کالم نگار کے والد محترم علامہ عزیز انصاری مرحوم و مغفور نے کالم نگار کو شعیب بن عزیز سے ملوایا۔ اب اس تعلق ناتے میں تیس برس بیت چکے ہیں۔ ان کے نام کی عربی ترکیب ہونے کی وجہ ان کا خاندانی مذہبی پس منظر ہے۔ خدا پرستی کے اس گھریلو ماحول میں ان کی اللہ تعالیٰ سے خوب شناسائی ہو گئی۔ یہ شناسائی پھر بے تکلفی میں ڈھل گئی۔
یہ بے تکلفی ان کی شاعری میں پوری طرح عیاں ہے۔ اللہ میاں سے ایسا بے تکلف لب و لہجہ صرف شعیب بن عزیز سے خاص نہیں۔ اللہ والوں کی شاعری میں ایسی بہت سی نظریں مل جاتی ہیں۔ اہل شریعت کو اہل طریقت کی یہ سرمستی و بے خودی گراں تو گزرتی رہتی ہے لیکن اہل معرفت کو اس کی پرواہ کب رہی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس گستاخی وبے باکی کو محبت کی رمزیں لکھا ہے۔
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک
ادھر غیر معمولی محتاط طبع والے شعیب بن عزیز گستاخیوں سے پرے پرے اک مودب بے باکی سے کوئی عجب سے بات کہہ جاتے ہیں کہ سننے والا پہروں سوچتا رہتا ہے۔ برطانوی آئین کی طرح ان کی شاعری بھی غیر تحریری سہی لیکن اس اللہ کے بندے کی طبعیت میں کچھ بے نیازی بھی اتنی ہے کہ کئی مرتبہ کسی کے منہ سے کوئی پھڑکتا ہوا شعر سن کر چونک پڑتے ہیں۔ پھر جھٹ سے یہ انکشاف بھی کر ڈالتے ہیں۔ ”ارے! یہ تومیرا بھولا بسرا شعر ہے“ ۔ ان دنوں عجب موج مستی میں ہیں۔ اکثر رات گئے داتا کے حضور دیکھے گئے۔ کیا داتا علی ہجویری کے بلاوے پر وہاں پہنچتے ہیں؟ ابھی یہ راز ہے۔ لیکن راز بھلا کب تک راز رہے ہیں۔ ان کی شاعری میں سے کچھ تبرکات۔
زمیں کیسی ہو اس پہ آسماں کیسا بنانا ہے
مکیں سے پوچھ تو لیتے مکاں کیسا بنانا ہے
آسماں والے نے اتنا نہ پلٹ کر پوچھا
وہ جو مسجود ملائک تھا بشر کیسا ہے
دعا نہ مانگو تو غم سے رہائی دیتا نہیں
سنائی تو دیتا ہے اس کو دکھائی دیتا نہیں
اب دیکھئے یہ رات کس انداز سے گزرے
بادہ بھی بہت ہے غم جاناں بھی بہت ہے
کہاں لے جاؤں یہ فریاد مولا میرا بصرہ میرا بغداد مولا
میرے لاہور پر بھی اک نظر کر تیرا مکہ رہے آباد مولا
خواب اور خواہش کے درمیاں نہیں رہنا
یہ جہاں ہو جیسا بھی اب یہاں نہیں رہنا
مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے
کہ میرا دوست مجھ جیسا نہیں ہے
نہ بھٹک جائیں کہیں ظلمت خورشید میں لوگ
میں نے دن کو بھی دیا دل کا جلا رکھا ہے
در جاناں پہ جبیں چھوڑ آئے کام کی چیز وہیں چھوڑ آئے
وہیں چھوڑ آئے دھڑکتا ہوا دل شعلے کو خس کے قریں چھوڑ آئے
دوستی کا دعویٰ کیاعاشقی سے کیا مطلب
میں تیرے فقیروں میں میں تیرے غلاموں میں
مجھے یہ دنیا کے دھندے خراب کیا کرتے
میں ایک دھیان میں رہتا تھا کام کرتے ہوئے
دل مرحوم یاد آتا ہے
کیسی رونق لگائے رکھتا تھا
ابو ایوب استنبول میں لاہور میں داتا
مجھے مولا نے ہر جا اپنی نگرانی میں رکھا ہے
میں گزرا ہوں تنہائی کے دوزخ سے بھی
لیکن بے لطف رفاقت کا عذاب اور ہی کچھ ہے
دست گستاخ پہ الزام غلط ہے تنہا
پیچ وہ بھی تو کوئی بند قبا میں رکھتا
دل برباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے
جسے پانا ضروری ہے اسے کھونا ضروری ہے
بہت سی سرخ آنکھیں شہر میں اچھی نہیں لگتیں
تیرے جاگے ہوؤں کا دیر تک سونا ضروری ہے
کسی کی یاد سے اس عمر میں دل کی ملاقاتیں
ٹھٹھرتی شام میں اک دھوپ کا کونا ضروری ہے
یہ خودسر وقت لے جائے کہانی کو کہاں جانے
مصنف کا کسی کردار میں ہونا ضروری ہے
جناب دل بہت نازاں نہ ہو داغ محبت پر
یہ دنیا ہے یہاں یہ داغ بھی دھونا ضروری ہے
بینر پہ لکھے حرف خوشامد پہ جو خوش ہے
دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے
خوب ہو گی یہ سرا دہر کی لیکن اس کا
ہم سے کیا پوچھتے ہو ہم کو ٹھہرنا کب ہے
اس نے جس طرح مسافر کو اٹھایا ہے شعیبؔ
اس کی دیوار کا سایہ نہیں رہنے والا




