عورت گھٹن میں ہے
یہ ایک حقیت ہے کہ ہر سانس لیتی چیز کو کسی نہ کسی کہ ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ کسی نہ کسی سے جڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ خوبصورت گاڑی کو بھی پیٹرول تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوبصورت قلم کو انک کی ضرورت رہتی ہے، بھلے کتنا ہی خوبصورت قلم ہو پر بغیر انک کے وہ کس کام کا؟
انسان اگر کسی کو عزت دیتا ہے تو آگے سے وہ بھی عزت چاہتا ہے۔ یہاں پر بات مانگنے کی نہیں ”ضرورت“ کی ہو رہی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ شوہر اور بیوی کو بھی ہر قدم پر ایک دوسرے کی ضرورت رہتی ہے۔ لیکن پھر بھی میں کچھ مردوں کو ”Lysozyme Enzyme“ سمجھتی ہوں اور lysozyme enzyme (لائی سو زائم ) وہ ہے جو saliva یعنی تھوک میں ہوتا ہے یہ بیکٹریا اور جراثیم کے خلاف کام کرتا ہے۔ یہ منہ اور دانتوں کو صاف کرتا ہے لیکن جب کوئی بخار یا کسی اور بیماری میں ہو تو یہ انزائم کم ہوجاتا ہے یا نہیں ہوتا تو اس صورت میں کھانا کھانے کے بعد زبان، دانتوں اور منہ میں رہ جانے والے کھانے کے ذرات سے منہ اور دانتوں میں سے گندی بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔
یعنی وہ انزئم بھی جب کام کرتا ہے جب انسان میں طاقت ہوتی ہے۔ وگرنہ وہ کمزوری اور بیماری میں ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے میں بہت سے مردوں کو اسی انزائم کے نام سے پکارتی ہوں کیونکہ جب عورت میں طاقت، حسن اور رنگ ہو تو وہ مرد ساتھ ساتھ رہتا ہے جیسے ہی عورت بیمار ہوئی اس کی رنگ اور طاقت چھوٹی تو مرد بھی انزائم کی طرح غائب ہوجاتا ہے۔
اسی طرح ایک کہانی سکینہ اور ماریہ کی بھی ہے۔
سکینہ کی کہانی کو سننے کے بعد یہ انزائم میرے دل و دماغ میں آیا۔ اور مجھے ایسے لگا کہ عورت ایک الگ وجود ہے۔ سکینہ وہ بدبخت عورت ہے۔ جس کی شادی سولہ سال میں ہوئی اور اس کے شوہر نشے کا عادی تھا۔
اور وہ اسے ہر وقت مارتا پیٹتا رہتا تھا۔ سکینہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ماں کے گھر لوٹ آتی، پر پھر اپنے شوہر کے پاس واپس چلی جاتی۔ شوہر کہتا کہ مجھے تمہاری ضرورت نہیں اور اسے مارتا بھی پر سکینہ اپنے شوہر کے گھر واپس لوٹ آتی۔ سکینہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس تشدد سے کمزور ہو چکی ہے پر وہ پھر بھی اپنے شوہر کو ایک اور موقع دیتی۔ ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ ہر انسان کو دوسرے انسان کی ضرورت رہتی ہے پر سکینہ کے شوہر کو تو سکینہ کی ضرورت نہیں پھر وہ اس مرد کو ایک اور موقع کیوں دیتی نظر آتی ہے؟
اس قصے کو سمجھنے کے لیے ایک اور پہلو کو بھی سمجھنا ہو گا!
کیوں کہ سکینہ کہتی ہے کہ میں اپنی ماں کے گھر جا کہ کیا کروں گی؟ میں اپنے بھائیوں اور بھابیوں کی گالیوں کا سامنا کیسے کروں؟! جیسا کہ میری بہن کرتی ہوئی آئی ہے۔ جس کے میاں نے بھی اسے چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے میں پھر اپنے شوہر کے گھر لوٹ آتی ہوں۔ مار پیٹ، بے عزتی، گالیاں برداشت کرلوں گی پر دو وقت کا کھانا تو میسر ہو گا۔ کاش کہ میں پڑھی لکھی ہوتی اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی اور ایک اچھی سے زندگی بسر کر رہی ہوتی۔ اس طرح سکینہ نے اپنی بے چارگی پیش کی۔
لیکن اس کی بڑی بہن ماریہ کی کہانی سن کر انسان بہت کچھ سوچتا رہ جاتا ہے۔ وہ ماریہ ہے جس کی اپنی کہانی ہے۔ اپنا درد ہے۔
ماریہ کہتی ہے میری شادی کو ایک سال گزر گیا پر پھر بھی مجھے اولاد کی خوشی میسر نہیں ہوئی۔ میں ہر رات اپنے شوہر کا ظلم سہتی اور صبح آنسوؤں کے ساتھ ساس کے پاس جاتی۔ میں اپنی ساس سے کہتی کہ اب میرا جسم اور مزید کسی بھی قسم کا تشدد برداشت نہیں کر سکتا، تو میری نند کہتی اگر آپ حمل سے ہو جائیں تو آپ پر یہ سب تشدد ختم ہو سکتا ہے۔ یہ تو کوئی نئی بات نہیں یہ تو ہمارے ساتھ بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ تو دنیا کی ریت ہے۔
وہ کہتی ہے ایسے ہی خدا نے مجھ پر رحم کیا اور میں حمل سے ہو گئی۔ یہ میرے خوشیوں کے دن تھے۔ جس خوشی سے میں آسماں میں اڑ رہی تھی۔ اور اسی خوشی سے ڈاکٹر کے پاس گئی کیونکہ میں چاہتی تھی حمل کے پہلے ماہ سے ہی مجھے طاقت کی گولیاں دی جائیں۔ اور میں اپنا بہت سا خیال رکھوں۔ پھر بھی حمل کے دوران میرا خون بہنے لگا۔ اور جب جب مجھے خون آتا تو درد بھی نہیں ہوتا۔ اور میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی کہ میرے بچے کو کچھ نہ ہو۔
ڈاکٹروں کو دکھانے کے بعد بھی ڈاکٹروں نے مجھے خون بند کرنے کی دوائی نہیں دی۔ اور کہا آرام کرو اور Bed Rest کرو اور سیکس سے بھی اجتناب کرنا۔ آپ کی بچہ دانی کا منہ بند ہے۔ بچہ زندہ سلامت ہے۔ میری ساس کو ڈاکٹروں کی بات کا کوئی یقین نہیں تھا۔ اور وہ مجھے تعویذ گنڈے کرنے والوں کے پاس لے گئی۔ اور اس کے بعد دائیوں کے پاس لے گئی۔ دائیوں نے مجھے خون بند کرنے کی دوائی دی اسی وقت تو خون بند ہو گیا پر بچہ ضائع ہو گیا۔
اسی طرح مسلسل تین مرتبہ بچہ ضائع ہوتا رہا۔ میں پھر ڈاکٹروں کے پاس گئی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ بچہ دانی کی صفائی کروانی ہوگی۔ لیکن میری ساس نہیں مانی۔ اور مجھے گھر لے آئی۔ اور مجھے کڑوی چائے بنا کے دی۔ اور کہا تم اسے پیو تم اس سے ٹھیک ہو جاؤ گی! اسی طرح میری شادی کو پانچ سال گزر گئے اور مجھے بچہ نہیں ہوا۔ اور جب جب میرا شوہر مجھ سے حق زوجیت ادا کرتا تو مجھ سے گندا پانی اور بہت ہی گندی بدبو آنے لگتی جس کو بنیاد بنا کر میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا اور دوسری شادی کر لی۔
یہ تو سکینہ اور ماریہ کی کہانی ہے۔ لیکن میں چاہتی ہوں اس حوالے سے میں جو بھی جانتی ہوں لوگوں تک پہنچاؤں اور آگہی دوں۔ حمل ایک ایسا عمل ہے۔ جس میں عورت جیسی اپنی پہلی زندگی گزار رہی ہوتی ہے، ویسے ہی گزار سکتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ بس کچھ احتیاط اور خیال کی ضرورت پیش آتی ہے۔
حمل کے چودہ ہفتے کے دوران کوئی دوائی، انجیکشن، گولی نہیں لینی یہاں تک کہ کوئی طاقت کی گولی بھی نہیں لینی کوئی تجربہ کار ڈاکٹر کوئی دوائی نہیں دے گا بشرطیکہ کہ کوئی بیماری نہ ہو۔ اور اگر کوئی بیماری ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں اور اپنے سے کوئی گولی اور دوائی ہر گز نہ لیں۔
اگر ماریہ کے کیس کا موازنہ کیا جائے تو اسے Miscarriage یا Abortion کہتے ہیں۔ جیسا کہ 23 ہفتوں اور چھ دن سے پہلے بچے کا ضائع ہونا کہتے ہیں۔ ویسے Abortion کے بہت سارے اقسام ہیں لیکن ماریہ کا کیس میڈیکل ٹرمینولوجی میں Threatened Abortion کہتے ہیں جیسا کہ یہ لفظ threatened یعنی (ڈر) تو یہ ڈر سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں Fresh Bleeding یعنی کہ خون آتا ہے اور اس میں درد کم ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ہوتا۔ اور Haemoglobin خون کی کمی، ڈر کی وجہ سے، Urine Infection یورین انفیکشن، ان سب کی وجوہات سے بھی ہو سکتا ہے۔
Threatened Abortion کو preventable کہتے ہیں۔ اس میں علاج ہے کیوں کہ اس میں (Cervical OS) بچے دانی کا منہ بند ہوتا ہے عموماً اس کا علاج گولیاں، دوائی سے نہیں پر بیڈ ریسٹ سے کیا جاتا ہے کبھی کبھار ڈاکٹر Stitched یعنی کے بچے دانی کے منہ پر ٹانکے لگاتے ہیں تاکہ بچہ ضائع نہ ہو اس میں بچہ زندہ ہوتا ہے۔ لیکن ہماری لاعلمی یہ ہے جیسا کہ ماریہ کے کیس میں ہوا ماریہ کو ڈاکٹروں نے دوائی نہیں دی پر وہ دائیوں کے ہتھے چڑھ گئی۔
میں اس کہانی کو لوگوں کو اس لیے بتانا چاہتی ہوں کہ ہمارے لوگ لاعلم ہیں یہ علاج دوائی کا نہیں، بیڈ ریسٹ کا ہے۔ دوران حمل عورت کو سکون سے رکھا جائے اسے پریشان نہ کیا جائے۔ خون بند کرنے کی دوائی خون تو بند کر سکتی ہے لیکن بعد میں ماں اور بچے دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماریہ کی طرح بہت سی عورتیں ڈاکٹروں سے مطمئن نہیں ہوتیں اور انہیں لگتا ہے کہ ان کا علاج اچھے سے نہیں ہو رہا۔ بہت ساری دائیاں بچہ دانی کے اندر دوائی ڈالتی ہیں جس سے زندگی ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس عمل سے کئی عورتیں حمل کے عمل سے محروم رہ جاتی ہیں۔
اور بچے کی برکت سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ماریہ کا بچہ مسلسل تین بار ضائع ہوا وہ Threatened Abortion جو بعد میں Habitual Abortion اور Re۔ Current میں تبدیل ہوا۔
Habitual جیسا کہ لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ (عادت) اسی طرح تین یا تین سے زیادہ بار بچے کا ضائع ہونا ہے۔ ماریہ ڈاکٹروں کے کہنے کے باوجود بھی بچہ دانی کی صفائی نہیں کرا سکی اور اس کی DNC یعنی کہ بچہ دانی کی صفائی اس کی ساس کی کڑوی چائے پلانا تھا
بچے کے ضائع ہونے کے بعد Dilation and Evacuation (D & E) کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یعنی کہ بچہ دانی کی صفائی اگر بچہ دانی کی صفائی نہ کی جائے تو انفیکشن کی صورت میں بہت سی عورتوں کی زندگی ضائع ہو سکتی ہے، بہت ساری عورتیں مر بھی سکتی ہیں اور بہت ساری عورتوں کو زندگی میں کبھی بچہ نہیں ہو سکتا۔
ماریہ کے شوہر نے دوسری شادی تو کی لیکن ماریہ کی بدبو برداشت نہیں کر سکا۔ کیا ماریہ یہ بدبو اپنی ماں کے گھر سے لائی تھی؟


