وہ اک تارا :قسط نمبر 4


ویک اینڈ پر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ان کی کلاس کی ایک خصوصی وزٹ کالوگا کے لئے تھی جہاں دنیا کا پہلا ایٹمی بجلی گھر ہے۔ دو دن کے اس پروگرام نے اچھا خاصا تھکا دیا تھا۔ اگلے دن یونیورسٹی آئی تو جیسے ساری تھکن اڑنچھو ہو گئی تھی۔ ڈپارٹمنٹ میں خبر گردش کر رہی تھی کہ انقلابی شاعر یوجینی یوٹو شینکو کا لکچر ہے۔ ہیثم غالباً چھٹی منانے کے موڈ میں تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا۔ دوپہر تک وہ اس کا انتظار کرتی رہی۔ پھر اس کے ہوسٹل پہنچ گئی۔ پتہ چلا وہ ابھی تک سو رہا تھا۔

”پوستی کہیں کا ۔“

بک بک جھک جھک کرتی وہ کیتائی گورد کے کلچرل سینٹر گئی جہاں شاعر کا لکچر تھا۔ لکچر کیا تھا۔ بیوروکریسی کا کچا چٹھا ایک ایک تفصیل کے ساتھ تھا۔ بر ژنیف کی اولاد کے سنہری کارناموں کی تفصیلات تھیں۔ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی زبوں حالی کی کہانیاں تھیں۔ نفسیاتی اسپتالوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر رپورٹیں تھیں۔

اور آخر میں اس کی وہ نظم پڑھی گئی جو بہت مشہور تھی۔ اور جو اس نے تب لکھی تھی جب اسے حکومت پر کڑی تنقید کرنے پر نوجوان کمیونسٹ تنظیم سے نکال دیا گیا تھا۔

کتنا خوفناک ہے
کبھی کچھ نہ سیکھنا
مسند انصاف پر جلوہ افروز ہونے کے
حق کا دعویٰ کرنا
باغی صاف دل جوانی کو
مورد الزام ٹھہرانا
ناپاک عزائم کے لئے
اندھے منصف
عوام کی خدمت نہیں کرتے

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور جب وہ شاعر سے باتیں کرتی تھی اور بے حد جذباتی ہور ہی تھی کہ اس نے کہا تھا۔

”سر یہ بڈھا کھوسٹ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے۔ اسے موت کیوں نہیں آتی۔“
اور وہ ہنس پڑا تھا۔
اگلے دو دن اس نے ہیثم کی جان کھا لی۔ تم سوتے رہے اور جانتے ہو تم نے کتنا کچھ مس کیا۔
”معافی بابا معافی۔“ اس نے ہاتھ اٹھا دیے تھے۔

”لو یہ تو بڑا آسان طریقہ ہے ہاتھ اٹھا دیے اور زبان سے کہ دیا اور میں جو اتنی خجل خوار ہوئی اس کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔ یوں ہرگز معافی نہیں ملے گی۔ جرمانہ ہو گا۔

اور معافی نامہ یوکرینی سوپ سے نتھی ہوا۔ جس کے لیے مار دھاڑ کرتے دونوں کو تاور سکایا سٹریٹ آنا پڑا۔

اگلے دن اینا کو صبح سویرے اپنے گھر بھاگنا پڑا تھا کہ فون پر ماں کی اچانک خرابی طبیعت کی اطلاع ملی تھی۔ دو تین بعد ذرا ماں کی طرف سے سکون کا سانس ملنے پر اس نے ہیثم کو خط لکھا۔

ہیثم!

مار بھگا بھگا کر تھکا ڈالا۔ ساری رات اور آدھے دن کا سفر تمام ہوا۔ اسٹیشن پر تورسنوف ہمارا بہت پرانا نوکر موجود تھا۔ جو مجھے اوسولئے لے جانے کی بجائے ڈاچا پر لے گیا۔ جو شہر سے پینتیس کلو میٹر پر ہے۔ اسی سے ماں کے بارے میں پتہ چل گیا تھا کہ بہتر ہیں۔

اب نمک کے گھر میں رہنے کا یہ مطلب کب ہے؟ کہ آپ نمک کی محبت میں پاگل ہو جائیں۔ سوپ میں نمک ہے مگر اوپر سے نمک کا چھڑکاؤ پھر بھی کرنا ہے۔ تو پھر آخری درجے کا بلڈ پریشر ہی ہونا تھا نا۔ چلو یہ بھی غنیمت کہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ اعضاء محفوظ اور سلامت رہے۔ فالج نے بھی جان بخشی کردی اور کچھ کہے بغیر چلا گیا۔

ہاں ہیثم میرے چچا بورس نکولائی امید ہے تمہیں یاد ہوں گے جو سنٹرل سپریم سوویت کے آفس میں کام کرتے ہیں۔ ان دنوں اوسولئے آئے ہوئے ہیں۔ پرسوں ماں کو دیکھنے آئے تھے۔ ارے انہوں نے تو مجھے باتیں بتا بتا کر پریشان کر دیا۔

ان کا تو ہمہ وقت اٹھنا بیٹھنا دونوں ایوانوں سوویت آف دی یونین اور سوویت آف دی نیشنیلیٹیز کے ممبران سے ہے۔ اندر خانے کی باتوں بھلا ان سے زیادہ کون جانتا ہے؟ بتا رہے تھے کہ برژنیف تو بس اب دنوں کا مہمان ہے۔

ساری بدمعاشی کریملن کے ڈاکٹروں سپشلسٹوں اور اس کی کونسل آف منسٹرز کے چہیتوں کی ہے جو مردے کو قبر میں اترنے نہیں دیتے۔ اسے مصنوعی سانسوں پر اپنی اپنی طلب بر آریوں کے لیے رکھا ہوا ہے۔

ہاں لو اور بھی سنو۔ اگلا امید وار بھی طے ہے اور وہ کون ہو گا؟ وہ بڈھا کھوسٹ کونسٹنیٹین چیر ننکو۔ سن کر میرا کتنا خون کھولا؟ اگر ماسکو میں ہوتی تو اس غصے میں بکتی جھکتی چار کوس پیدل چلتی اور تمہیں بھی چلاتی۔ ذرا دیکھو ان الو کے پٹھوں کو ۔ یہ سنٹرل سپریم سوویت تو بالکل پاگل ہو گئی ہے۔

ایک بڈھے سے جان چھٹنی مشکل ہے اور یہ ایک اور بڈھا ہم پر مسلط کر رہے ہیں۔ ہاں ہیثم ذرا دیکھو تو ۔ میرے چچا نے میرا لال بھبھوکا چہرہ اور غصے سے بھر یہ اشتعال دیکھ کر کہا۔

”ارے کیا باؤلی ہو گئی ہے تو ۔ یہ کمیونسٹ پارٹی آف سوویت یونین (CPSU ) کے سینئر ترین افراد ہیں۔ انہوں نے ہی ملک سنبھالنا ہے۔ اسی کا نمبر ہے۔“

”تو گویا لائن میں لگے ہوئے ہیں۔“ مجھے بھی ہنسی آئی۔

”چچا سوویت یونین کے لیڈر بھی ہمارے ملک کی طرح شاندار ہونے چاہیں۔ دوسرے ملکوں کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔“

”احمق لڑکی! جوانوں کو کیا پتہ ملک کیسے چلاتے ہیں؟ وہ تجربہ کار، زمانہ چشیدہ، اتار چڑھاؤ سے واقف۔ مجھے تو سخت غصہ آیا۔ کھولتی ہوئی اٹھ گئی۔

”مر جائیں کمبخت سارے“

یہ کونسٹینٹین چیر ننکو! اف اتنا بڈھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ کوئی تین ماہ پہلے ہمارے ڈپارٹمنٹ آیا تھا۔ اتنا کھانس رہا تھا۔ اور وہ ہماری نٹ کھٹ چھیل چھبیلی گلا شانے تو ہنستے ہوئے بھی کہا تھا۔

”ارے یہ تو ٹی بی کا مارا ہوا لگتا ہے۔ تمہیں یاد ہے نا۔ پر نہیں۔ تمہیں نہیں یاد ہو گا۔ تم بہت بھلکڑ ہو۔ کیا یہ یاد ہے کہ پاس پاس کھڑے ہم سب ہنسے تھے پر ہونٹوں میں۔

ہاں ہیثم ماں سے باتیں کرتے کرتے، ماسکو میں اپنے شب و روز کا احوال سناتے بیچ میں اب تم نہ ٹپکو بھلا کہیں ممکن ہے۔ ہر بات میں تو تم گھسے ہوئے تھے۔ ماں اپنی شدید بیماری کے باوجود ہنس پڑی تھیں۔

میں تو پھٹ سے کہ دیا تھا۔ ”بہت اچھا لگتا ہے مجھے یہ ہیثم آگالیف۔“

ان کا کہنا تھا کہ میں تمہیں اپنے ساتھ کیوں نہ لائی؟ چلو ان کی بھی ملاقات ہو جاتی۔ دیکھو میں نے تمہیں کتنا کہا تھا کہ چلے چلو نا۔ دراصل تمہیں میرے شہر کی قدامت اور اس کی عظمت کا پتہ نہیں۔ تین سو سال پرانا پکی اینٹوں والا قلعہ نما محل یہاں کی خاص الخاص تاریخی چیز ہے۔ دونوں دیکھنے چلتے۔ تمہیں میں پتھر کی دیواروں والی زمینی بھٹیاں دکھاتی جہاں پانی ابال کر نمک حاصل کیا جاتا ہے۔

چلو خیر۔
پرہیثم ایک بات ضرور ہے۔

میں باغیچے میں سبزیاں توڑنے جاتی ہوں تو ایسے ہی بونگوں کی طرح رک جاتی ہوں۔ نتھرے ہوئے نیلے شفاف آسمان پر اتنے خوبصورت پرندے اڑانیں بھر رہے ہوتے ہیں کہ منہ اٹھائے ہوئے ان کی پروازوں کو دیکھنے میں محو ہو جاتی ہوں۔ جنگلی کبوتروں کی کھو کھو، ہوہو جیسی آوازوں کی نغمگی، سفید کووں کی قطاریں، چڑیوں کی چہچہاہٹ، قریبی جھیل کے پانیوں پر مرغابیوں کے اوپر جاتے اور نیچے اترتے غول سب کیسے مجھے ہانٹ کرتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے بس میں انہیں دیکھتی ہی رہوں۔

میرے دیدے آسمان پر ہوتے ہیں۔ دستانوں میں لپٹے ہاتھ سبزیوں اور ان کے پتوں میں الجھ رہے ہوتے ہیں۔ میرا ایپرن اس بے دھیانی میں اتنا گندا ہو جاتا ہے کہ ماں ہنستے ہوئے کہتی ہے۔

”میں تو سارے کھیت کی سبزیاں اکھیڑ لوں تب بھی ایپرن اتنا گندا نہ کروں۔ تمہارا تو وہ حال ہے ایک کو پک کی بڑھیا اور روبل سر منڈوائی۔ دیکھو ماں کتنی سیانی ہے۔“

میں بات کر رہی تھی تمہیں یاد کرنے کی اور کہاں سبزیاں اور کمپوت میں الجھ گئی۔ ہیثم پرندوں کی میٹھی چہچہاہٹوں، صنوبر و برچ، سیب، جنگلی بیروں کی جھاڑیوں، پھولوں پھلوں پر تیرتی ہواؤں کی خوشبوؤں میں ان کے رنگوں اور حسن، جمال کو دیکھتے ہوئے میں سوچتی تھی کہ یہ چیزیں کوئی میرے لیے نئی تھوڑی ہیں۔ میرے بچپن سے لے کر اب تک کے دنوں کے منظر ناموں میں مقید ہیں۔ بھلا ان کا نیا پن، ان کی رعنائی، ان کا حسن و جمال اور ان کا رنگ و روپ اس بار مجھے کیوں زیادہ محسوس ہوا ہے؟

”شاید تم مجھے یاد آتے ہو۔“

ماں اب میرا زیادہ خیال رکھنے لگ گئی ہے۔ میں اب دو ر چلی گئی ہوں نا۔ پہلے جب سورڈلوسک (Sverd Lovsk) میں تھی تو مہینے اور کبھی کبھی ویک اینڈ پر بھی چکر لگ جاتا تھا۔ مگر اب تو مہینوں بعد آئی ہوں۔

ہمارے ہاں عام طور پر رات کے کھانے کا زیادہ اہتمام ہوتا ہے۔ پر جب سے میں آئی ہوں دوپہر کے کھانے کا بھی اہتمام سے ہو رہا ہے۔ میرا بھائی فرانس سے بہت معدہ شمین بھیجتا رہتا ہے۔ ماں ہمیں خاص خاص موقعوں کے علاوہ کبھی نہیں دیتی ہے۔

اور ہاں دیکھو پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ انہوں نے مجھے شمین کی تین بوتلیں ساتھ لے جانے کو دی ہیں۔ میرے پسندیدہ سوپ (Shee) اور بورشس (Borshuss) ماں اپنی بیماری کے باوجود خود تیار کرواتی ہیں۔

تمہیں میں نے کتنا لمبا خط لکھ دیا ہے۔

لو یہ تو میں بتانا بھول گئی۔ گھر کا شہد لا رہی ہوں۔ ہاں تمہارا پسندیدہ کمپوت (جنگلی پھولوں سے تیار کردہ شربت) بھی۔

٭٭٭

Facebook Comments HS