ظہور الہی کی 42 ویں برسی۔ شجاعت حسین اور پرویز الہی میں دوریاں
25 ستمبر 1981 میری زندگی کا اداس دن تھا۔ مسلم لیگ کونسل (حقیقی) کے مرکزی رہنما چوہدری ظہور الہی نماز جمعہ کی ادائیگی کی تیاری کر رہے تھے جسٹس مولوی مشتاق حسین کے ہمراہ اپنی کار میں ماڈل ٹاؤن کی مین سڑک سے گزر رہے تھے کہ الذوالفقار کے کارکنوں نے کلاشنکوف کا برسٹ مار شہید کر دیا۔ اسی روز چوہدری ظہور الہی کو ان کے ایک دوست نے بتایا کہ ان کو کسی نے ٹیلی فون کر کے دھمکی دی ہے کہ چوہدری ظہور الٰہی کو مارنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ لہذا وہ احتیاط برتیں جب کہ چوہدری ظہور الہی نے مولوی مشتاق حسین کو بھی بتایا تھا کہ الذوالفقار کے ایک ہزار کارکنوں کو تربیت دے کر پاکستان میں سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے اہداف میں ایک انتہائی با اختیار شخص بھی شامل ہے۔ اس کے بعد بھٹو کیس سے تعلق رکھنے والے جج اور پھر سیاست دانوں کی باری ہے لیکن اب یہ فہرست مختصر کر دی گئی ہے جس میں میرا نام سب سے نمایاں ہے۔
چوہدری ظہور الٰہی پر قاتلانہ حملے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ چوہدری ظہور الہی کے پاس وہ قلم محفوظ تھا جس سے جنرل ضیا الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کے حکم نامہ پر دستخط کیے تھے۔ حیران کن بات ہے کہ چوہدری ظہور الہی نے الذوالفقار کے ممکنہ حملہ کرنے کا پروگرام جانتے ہوئے سیکیورٹی کے بغیر گھر سے نکلے اپنی مرسڈیز کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے جس کے دائیں بائیں شیشے بلٹ پروف نہ تھے۔
گجراتیوں کی دوستی اور دشمنی مشہور ہے جس کار کو الذوالفقار کے کارکنوں نے کلاشنکوف کے برسٹ سے چھلنی کر دیا تھا۔ وہ گجرات میں چوہدری شجاعت حسین کی والدہ محترمہ نے اپنی اولاد کو اپنے عظیم شوہر کے قتل کے واقعے کی یاد دلانے کے لیے محفوظ رکھی ہے۔ چوہدری برادران ہر سال گجرات میں جلسہ کر کے اپنے عظیم والد کی یاد تازہ کرتے ہیں لیکن اب کی بار ظہور الہی پیلس گجرات اجڑ گیا ہے۔ چوہدری برادران ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی جیل میں ہیں۔ وہ مسلسل 12 ویں بار گرفتار ہو چکے ہیں۔ تا حال ان کی رہائی نہیں ہو پا رہی وہ پی ٹی آئی کے صدر ہیں۔ انہیں عمران خان کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں کیا سکا چوہدری برادران پچھلے 20 سال سے کمپرومائزڈ پالیٹکس کر رہے تھے لیکن چوہدری پرویز الہی جرات و استقامت کا مظاہرہ کردی اور چوہدری ظہور الہی کے نقش قدم پر چلے ہیں۔ چوہدری ظہور الہی نے مصلحت پر مبنی سیاست نہیں کی یہی وجہ ہے۔ انہوں نے بھٹو دور میں 4 سال تک جیل کاٹی وہ کبھی مسلم لیگ کے صدر بنے اور نہ ہی وزارت عظمی کا تاج اپنے سر سجایا لیکن اتنا پولیٹیکل کیپیٹل چھوڑ کر گئے کہ ان صاحبزادے چوہدری شجاعت حسین وزارت عظمٰی اور بھتیجے چوہدری پرویز الہی پنجاب کے وزیراعلی بنے چوہدری شجاعت حسین مسلم لیگ ق کے صدر بنے جبکہ چوہدری پرویز الہی نے بھی سیاست میں عروج دیکھا اور وہ پنجاب کے دو بار وزیر اعلی بنے بہت کم لوگوں کو یاد ہو گا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور اس وقت کی اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی عروج پر تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی فسطائیت نے ملک میں گھٹن کی فضا پیدا کر دی تھی۔ فروری 73 میں بلوچستان میں نیب اور جمعیت علما اسلام کی مخلوط حکومت کو ذوالفقار علی بھٹو نے برطرف کر دیا تو کے پی کے میں مفتی محمود نے نیب اور جمعیت علماء اسلام کی مخلوط حکومت سے استعفا دے کر ملک میں احتجاج کا ماحول پیدا کر دیا 99 ویسٹریج راولپنڈی میں چوہدری ظہور الہی کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے یونائیٹڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ قائم کر دیا جس کا پیر صاحب پگارا صدر، مفتی محمود نائب صدر اور پروفیسر غفور احمد سیکرٹری جنرل بن گئے چوہدری ظہور الہی یو ڈی ایف کے روح رواں تھے۔
لہذا ان کو رابطہ کمیٹی اور مالیاتی امور کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ ان کی رہائش گاہ کو اپوزیشن ہاؤس بھی کہا جاتا تھا۔ 23 مارچ 1973 کو یو ڈی ایف نے رابطہ عوام کے سلسلے میں لیاقت باغ میں پہلا جلسہ عام اعلان کیا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے طاقت کے بے رحمانہ استعمال سے یو ڈی ایف کی قیادت کو لیاقت باغ میں جلسہ نہیں کرنے دیا یو ڈی ایف کے بیسیوں کارکن فسطائیت کا شکار ہو گئے خان عبدالولی خان کو لیاقت باغ کے جلسہ سے خطاب نہیں کرنے دیا گیا انہیں کے پی سے آنے والے سرخ پوشوں کی لاشیں اپنے کندھوں پر لے جانے پر مجبور کر دیا لیکن عبدالولی خان نے مشتعل پشتونوں کو صبر و تحمل کی راہ دکھا کر خیبر پختونخوا میں قتل و غارت کا بازار گرم نہیں ہونے دیا راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب جو لیاقت باغ میں ہی واقع تھا۔
اجمل خٹک اپنے خون آلود کپڑے تبدیل کر کے جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے لئے افغانستان چلے گئے اور سالہا سال کے بعد زمینی حقائق نے انہیں پاکستان واپس آنے پر مجبور کر دیا ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں خان عبدالولی خان پر متعدد بار قاتلانہ حملے کیے گئے چوہدری ظہور الہی 5 جولائی 1977 میں بھٹو کی حکومت کے خاتمہ تک زنداں میں رہے دریاؤں کا پلوں کے نیچے سے بڑا پانی بہہ چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کی سیاست کی مخالفت کرنے والوں کی اولاد آصف علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کا دست و بازو بنی رہی خان عبدالولی خان کی این اے پی، اے این پی بنی تو اس نے بھی اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کر لیا مفتی محمود کی اولاد بھی تین سال تک پیپلز پارٹی کی حکومت کے مزے لیتی رہی آصف علی زرداری مسلم لیگ ق کو قاتل لیگ کہتے تھے۔ انہوں نے قاتل لیگ کو گلے لگا لیا
چوہدری برادران نے بھی چوہدری ظہور الہی کا خون معاف کر دیا۔ آج گجرات کے چوہدری برادران شریف منقسم ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نواز شریف کیمپ میں جب کہ چوہدری پرویز الہی عمران خان کے ساتھ جیل کاٹ رہے ہیں۔ 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلانے کے فیصلہ میں چوہدری ظہور الہی کا بڑا کردار تھا۔ یہ تحریک کے نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی 1977 میں جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیا۔
فروری 1973 کا ذکر ہے۔ یہ قومی اسمبلی کے ایوان میں مسلم لیگی رہنما چوہدری ظہور الہی کی آواز گونج رہی تھی۔ سپیکر بار بار ان کی تقریر میں مداخلت کر کے پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ چوہدری ظہور الٰہی کو ذوالفقار علی بھٹو پر تنقید کرنے نہیں دے رہے لیکن چوہدری ظہور الٰہی سپیکر کی مداخلت کی پروا کیے بغیر مسلسل ساڑھے چار گھنٹے تقریر کرنے کا ریکارڈ قائم کیا یہ قومی اسمبلی میں چودری ظہور الہی کی یادگار تھی۔
اس تقریر کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو نے چوہدری ظہور الٰہی اور ان کے خاندان کے خلاف 137 مقدمات درج کرا دیے آج کے دور میں شاید ہی چند صحافی ایسے ہوں جنہوں نے پیپلز پارٹی کے اس دور میں اپوزیشن کی رپورٹنگ کی ہو مجھے اس بات کا اعزاز حاصل ہے۔ چوہدری ظہور الٰہی کی سیاست کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا سابق وزیر شیخ رشید کے ہمراہ مجھے چوہدری ظہور الہی سے کئی بار ملاقاتوں کا موقع ملا۔ چوہدری ظہور الہی کولہو سے کوئٹہ جاتے ہوئے جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن غیرت مند بلوچ نواب اکبر بگٹی نے بلوچوں کی سرزمین پر اپنے مہمان کو قتل کرنے کی سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور انہوں نے آخری وقت تک چوہدری ظہور الٰہی کی حفاظت کی۔ یہی وجہ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین نواب اکبر بگٹی کی بہت عزت کرتے تھے۔

