نئے چیف جسٹس کے چیلنجز
بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہی ہے کہ نئے چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی کا دور عدالتی محاذ پر یا انصاف کے میدان میں نئی مثبت تبدیلیوں کا سبب بنے گا یا یہ بھی ماضی کی عمومی روایت ”نظریہ ضرورت“ کے تحت ہی ہو گا۔ بہت سیاسی سیاسی اور قانونی پنڈت نئے چیف جسٹس سے عملی طور پر بہت زیادہ پرجوش اور بہت سی نئی توقعات رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ نئے چیف جسٹس کو عدالتی محاذ پر ایک ”تازہ ہوا کا جھونکا“ کے طور پر یا ان کو انقلابی چیف جسٹس یا سمجھوتہ نہ کرنے والے چیف کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
نئے چیف جسٹس نے ایک ایسے وقت میں مسند سنبھالی ہے جب ہماری عدالتی ساکھ پر کئی طرح کے سوالات موجود ہیں۔ ہماری عدلیہ کئی دہائیوں سے ”نظریہ ضرورت یا سیاسی و قانونی سمجھوتوں“ کا شکار ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری عدالتی رینکنگ یا انصاف کے نظام کی درجہ بندی کافی پیچھے کھڑی ہے۔ آئین اور قانون کی پاسداری کی بجائے ہماری عدالتی ترجیحات میں کچھ اور غالب نظر آتا ہے۔
ہم بنیادی طور پر عدالتی خود مختاری اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بحث کا نقطہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے مقابلے میں عدالتی نظام کی سیاسی معاملات میں مداخلت سیاسی اور جمہوری نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ حالانکہ بحث کا نقطہ یہ ہونا چاہیے کہ ان دونوں مضبوط اداروں پارلیمنٹ اور عدلیہ کی بالادستی کہاں ہے اور جو ان دونوں اداروں پر بالادست ہیں اس بحث کو کیسے قانونی دائرہ کار میں لایا جائے۔
ہمارا مسئلہ فوری طور پر جذباتیت پر مبنی ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر ہم ہر آنے والے کا نہ صرف بڑی پرجوشیت کے ساتھ خیر مقدم کرتے ہیں بلکہ ان کی پذیرائی کر کے بہت زیادہ انقلابی توقعات بھی وابستہ کرلیتے ہیں۔ حالانکہ سیاسی اور جمہوری نظام میں انقلاب کم اور اصلاحات کا عمل زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اصلاحات کا عمل جادوئی عمل سے نہیں بلکہ بتدریج اور سلو عمل سے آگے بڑھتا ہے۔ جبکہ ہم ہر کسی سے فوری نتائج کے حامی ہوتے ہیں اور نتائج نہ ملنے کی صورت میں فوری طور پر پذیرائی سے تنقید کی طرف چلے جاتے ہیں۔
اسی طرح عدالتی خود مختاری کا براہ راست تعلق سیاست، جمہوریت، پارلیمنٹ، آئین و قانون کی خود مختاری سے جڑا ہوتا ہے۔ جمہوری عمل کی کامیابی یا اس نظام کا مستحکم ہونا سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں۔ اس لیے جب ہم باقی تمام اداروں کو چھوڑ کر کسی ایک ادارے سے پوری توقعات وابستہ کرلیتے ہیں تو ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نئے چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک ایسے موقع پر اپنا منصب سنبھالا ہے جب عدالتی میدان میں داخلی اور خارجی سطح کے بہت بڑے چیلنجز ہیں۔ اول جوڈیشل اصلاحات جن میں سپریم جوڈیشل کونسل سمیت تمام داخلی معاملات جن میں جہاں خرابیوں یا خامیاں ہیں ان کو قبول کر کے ان میں جدیدیت کی بنیاد پر اصلاحات کو ترجیحی ایجنڈا بنایا جائے۔ دنیا میں جہاں بھی عدالتی اصلاحات ہو رہی ہیں ان سے ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے اور کون سی ہمیں عدالتی اصلاحات کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے۔
بالخصوص ججوں کی تقرری کا شفاف طریقہ کار کا طے ہونا، دوئم کافی عرصہ سے ہم عدالتی محاذ پر یا بار اور بنچ کی سطح پر جو بداعتمادی یا گروپ بندی یا سیاسی تقسیم ہے اس کا ہر صورت خاتمہ، کیونکہ یہ کسی بھی طور پر نہ تو ریاستی مفاد میں ہے اور نہ ہی عدالت یا عدلیہ کے مفاد میں ہے۔ اس طرح کی تقسیم سے عدالتی فیصلے بھی تقسیم ہوں گے اور ان معاملات پر سیاسی قوتیں اپنے اپنے سیاسی سطح کے مفادات کی بنیاد پر سیاست کریں گے، جو عدلیہ کے خلاف ہو گا۔
سوئم کچھ عرصہ سے ہم عدالتی فیصلوں کی بے توقیری دیکھ رہے ہیں اور جو بھی عدالتی فیصلے ہو رہے ہیں اس پر حکومت، انتظامیہ اور اداروں کی جانب سے عملدرآمد نہ ہونا اور عدالتی فیصلوں کی توہین یا نافرمانی پر مبنی جو بھی مسائل ہیں اس پر عدالت کو اپنی رٹ قائم کرنا ہوگی۔ چہارم انتخابات کا معاملہ کافی سنگین ہو گیا ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے اگر جاری رہتے ہیں تو معاملات اعلی عدالت میں آسکتے ہیں وہاں آئین کو بنیاد بنا کر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا، پنجم جو کچھ انسانی حقوق کی پامالی کے نام پر ملک میں ہو رہا اور جس طرح سے ریاستی اداروں کو سیاسی مفاد یا سیاسی مخالفت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کیا اس پر کوئی بڑا ایکشن ممکن ہو سکے گا؟
ششم عدلیہ کیسے خود کو بلاوجہ کے سیاسی معاملات سے الگ رکھے گی اور سیاسی قوتوں کو واضح پیغام جانا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی فیصلے عدالتوں میں لانے کی بجائے سیاسی فورم پر طے کریں۔ ہفتم عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور انصاف کے عمل کی یقین دہانی کی بجائے اس کا عمل واضح اور شفاف نظر آنا چاہیے اور خود کو چیف سمیت عدلیہ ہر صورت ”جوڈیشل ایکٹو ازم“ سے دور رکھے گی۔
نئے چیف جسٹس کا بنیادی بیانیہ یہ ہی ہے کہ وہ فرد واحد کی بجائے مشاورت کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے اور ان کے سامنے آئین و قانون کو ہی بنیادی ترجیح حاصل ہوگی، جو اچھی بات ہے۔ لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہو گا جب بار اور بنچ کے درمیان اعتماد سازی ہوگی اور تمام فریقین مل کر مشاورت کو آگے بڑھنے کی کنجی بنائیں گے۔ خاص طور پر نئے چیف جسٹس کو اپنے عمل اور فیصلوں سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت، سیاسی شخصیت یا سیاسی گروہ سے نہیں اور انہیں سیاسی یا پسند و ناپسند کی بجائے آئین کو ہی بنیادی فوقیت دینی ہوگی۔
سیاسی جماعتیں بدقسمتی سے اپنی مرضی یا اپنا مخالف جج کے طور پر عدلیہ کے بارے میں اپنا بیانیہ بناتی ہے جو خود ایک خطرناک رجحان کی بڑی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح اب جب کہ ملک عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے تو بہت سی سیاسی قوتیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان کو انتخاب کے نتیجے میں ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ ملنی چاہیے اور یہ معاملات عدالتوں میں بھی آسکتے ہیں اور عدلیہ کو ہی اس میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا اور سب کو یہ پیغام دینا ہو گا کہ وہ قانون کی حکمرانی اور بلاتفریق معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
نئے چیف جسٹس کے پاس اگر عدالتی اصلاحات اور فیصلوں میں اپنی ساکھ قائم کرنا ہے تو زیادہ لمبا عرصہ نہیں اور نہ ہی ملک کے ریاستی نظام کو آج کے حالات اور طرز عمل کی بنیاد پر چلایا جاسکتا ہے۔ اس لیے ان کے پاس اپنی مدت میں ہی کوئی ایسا روڈ میپ ہونا چاہیے جو تمام لوگوں کی مشاورت سے کچھ بنیادی نوعیت کی عدالتی تبدیلیوں کے عمل کو یقینی بنا سکے۔ اس پر ہمیں جذباتیت اور جذباتیت پر مبنی نعروں یا میڈیا کی سطح پذیرائی کا کھیل حالات میں کوئی بہتری پیدا نہیں کرسکے گا۔
پاکستان میں جو سیاسی اور جمہوری یا آئینی و قانونی نظام کی کمزوری ہے یا جو بھی طاقت ور افراد یا مافیا ہیں یا جو ریاستی و حکومت کا مافیاز کے خلاف گٹھ جوڑ ہے اس کے بگاڑ میں بڑی وجہ ہمارے عدالتی نظام کی کمزوری سے جڑا ہوا ہے۔ مضبوط اور خود مختار یا آئین و قانون کو بنیاد بنا کر چلنے والی عدلیہ ہی سیاسی اور جمہوری نظام میں موجود خرابیوں میں ایک بڑے پریشر گروپ کے طور پر اپنا مثبت کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
اگرچہ عوامی مفاد سے جڑے معاملات جن میں مہنگائی، بجلی، گیس کے بلوں میں بڑھتے ہوئے ٹیکس اور جبری بنیادوں پر ٹیکس حاصل کرنے کا جو رجحان موجود ہے یا جو بھی کام عوامی مفاد کے برعکس ہو اس میں کلیدی کردار حکومت کا ہی بنتا ہے۔ لیکن عوامی مفاد سے جڑے معاملات پر خود عدلیہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومتی معاملات پر نظر بھی رکھے اور اگر کچھ شکایات عدالتی محاذ پر آتی ہیں تو ان کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جانا چاہیے کہ حکمرانی کے نام پر کیسے لوٹ مار عوامی مفاد کے برعکس کی جا رہی ہے۔
یہ تصور ٹوٹنا ہو گا کہ اس ملک میں جو بھی جتنا طاقت ور ہے وہ اتنا ہی قانون کی حکمرانی یا قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔ قانون طاقت ور کے مقابلے میں کمزور کو قانونی گرفت میں لاتا ہے جو اس نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ عمومی طور پر یہاں عدالتی نظام کو ایک طبقاتی نظام کے ساتھ بھی جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں کمزور کے مقابلے میں طاقت ور کو زیادہ بالادستی اور انصاف ملتا ہے۔ اعلی عدلیہ عام لوگوں کے لیے انصاف کی آخری امید ہوتی ہے اور لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ اعلی عدلیہ انصاف کے عمل میں ان کے ساتھ کھڑی ہوگی، لوگوں کی یہ امید قائم رہنی چاہیے۔ کیونکہ اسی میں ہمارے سیاسی و جمہوری اور ریاستی نظام کی کامیابی کی کنجی ہے، یہ ہی قومی مفاد میں بھی ہے۔


