مائے نی میں کنوں آکھاں


شام کے وقت کچے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کیے۔ چولہے پہ قہوہ کا پانی دم پہ رکھے دھواں ہوتا چہرہ لیے وہ آگ جلانے میں مشغول تھی۔ کہ اس کی واحد دوست کی رضیہ کی آ مد ہوتی ہے۔

رضیہ: السلام علیکم، کیا حال ہے تمہارا؟
نور گل: وعلیکم السلام، میں ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ؟
رضیہ: میں تو ٹھیک ہوں، تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی۔
نورگل: (روتے ہوئے ) میں قسمت کی ہاری اور کہہ بھی کیا سکتی ہوں؟
رضیہ: تو آج پھر اس نے تم پہ ہاتھ اٹھایا ہے؟

نور گل: بات میرے تک رہتی تو ٹھیک تھی، آج اس کمبخت نے میرے بیٹی کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس معصوم کی غلطی بھی کوئی نہیں تھی۔ اسے اتنا مارا ہے درد سے ادھ موئی ہو گئی ہے میری بچی۔

رضیہ: ( دکھ بھرے لہجے میں ) میری بہن تم رونا تو بند کرو۔

نورگل: (آنسو پونچھتے ہوئے ) میرے نصیب میں یہ ہی لکھا ہے۔ اور اب میری بچیاں بھی یہ ظلم سہتی ہیں۔ میں سب چھوڑ کے جاؤں کہاں؟ میں اتنے بچوں کو لے کر کہاں جاؤں؟ میرا تو اپنا بھی نہیں کوئی۔

رضیہ: ہمت ہے تمہاری تم اس مار پیٹ میں اس کے آٹھ بچوں کو سنبھال رہی۔

نور گل: بہن میں کیا کروں؟ وہ سارا دن گھر سے باہر رہتا ہے، اور بچے اس قدر بد لحاظ ہو گئے ہیں۔ میری بات تک نہیں مانتے۔ شام میں الٹا باپ کو شکایت لگا دیتے ہیں۔ اماں ہمیں ڈانٹتی ہے۔ اور وہ جو ہاتھ آیا، اٹھا مارتا ہے۔

رضیہ: بس تم اور تمہاری بیٹیاں ہی ظلم سہنے کو بچی ہو؟

نور گل: ( دکھ سے ) میں تمہیں کیا بتاؤں، مجھے تو اپنے میکے گئے سالوں گزر گئے۔ تو اور کیا کروں؟ میں دروازے کے باہر تک تو دیکھ نہیں سکتی۔

رضیہ: (سوچتے ہوئے ) مجھے یاد پڑتا ہے جب تمہارا شوہر بیمار تھا۔ تب تم نے اس کی بڑی خدمت کی تھی۔ تب تو لگتا تھا اب وہ بدل گیا۔

نورگل: (دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ) اس کی خدمت کرنا تو میرا فرض تھا۔ میں نے کون سا کوئی احسان کیا۔ ہاں مجھے یاد ہے وہ سردیوں کے دن تھے۔ جب اسے بیماری نے نڈھال کر دیا تھا۔ تب میں نے دن رات ایک کر کے اس کی خدمت کی تھی۔ تب اس کا رویہ بدل گیا تھا۔ مجھے لگا تھا اب میرے صبر کا پھل مل گیا ہے۔ مگر جیسے ہی وہ بستر سے اٹھنے کے قابل ہوا، میری وہ خوش فہمی ہوا ہو گئی۔

رضیہ: وہ تم بتا رہی تھی اس کا باہر کوئی چکر بھی ہے؟

نور گل: ( افسوس کے ساتھ) یہ تو سالوں پرانا ہو گیا ہے۔ لیکن میں اسے کیا کہہ سکتی ہوں۔ اس پہ اتنا پیسہ لٹاتا ہے۔ اور ہم ماں بیٹیاں تیرے میرے دیے کپڑے پہنتی ہیں۔

رضیہ: اس وقت اس کی غیرت کہاں جاتی ہے؟

نورگل: (سسکی لیتے ہوئے ) وہ تو بس سالن میں نمک مرچ ذرا سا تیز ہو، روٹی جل جائے یا میری چار سال کی بیٹی گھر سے باہر قدم رکھ لے۔ یا پھر اس کا کوئی کام ذرا لیٹ ہو تو اس کی غیرت اس قدر جاگتی ہے کہ جب اس کے ہاتھ دکھنے لگیں تو وہ ہاتھ آئی چھڑی، پائیپ کچھ بھی ہو مارنے سے دریغ نہیں کرتا۔

رضیہ: (منہ میں گڑ کی ڈلی رکھ کہ قہوہ کی چسکی لیتے ہوئے ) پتہ نہیں وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔

نورگل: بہن تمہیں بتایا تو ہے اسے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی اسے ہمارے خلاف کچھ کہہ دے تو ہم سے وضاحت نہیں مانگتا۔ پہلے مارپیٹ کرتا ہے پھر اگلی بات کرتا ہے۔

رضیہ: تمہارے والدین اسے کچھ نہیں کہتے؟

نورگل: (دوبارہ روتے ہوئے ) میں اب کیا بتاؤں تمہیں یہ دکھ۔ میں چھوٹی تھی تو یہ مجھے گھر سے اٹھا کے لے گیا تھا۔

رضیہ: ( حیرت سے ) اچھا پھر؟

نورگل: (سرد آہ بھرتے ہوئے ) پھر بہت سال مجھے اپنے کسی رشتے دار کے گھر رکھا۔ جب ذرا میں بڑی ہوئی تقریباً سولہ سال کی تو اس نے میرے ساتھ نکاح کیا۔ اور واپس میرے گھر والوں سے رابط کیا۔ مجھے نہیں پتہ تھا۔ ان کے درمیان کیا معاملہ طے پایا تھا۔ مگر وہ واپس میرے گھر چھوڑ آ یا مجھے۔

رضیہ: (ہمممم) ۔ تو پھر اس کے بعد کیا ہوا؟

نورگل: (آہ بھرتے ہوئے ) پھر کچھ عرصے بعد وہ مجھے اپنے گھر واپس لے گیا۔ اور سالوں تک میں اولاد سے محروم رہی۔ اور پھر میں نے اپنے باپ کی شکل تب دیکھی جب وہ میری سالوں بعد ہوئی پہلی اولاد میری بیٹی کو لینے آیا تھا۔ تب مجھے سمجھ آیا ان کے درمیان کیا طے پایا تھا۔ اور میں آج بھی ان سب بچوں کے باوجود اپنی اس بیٹی کو دیکھنے کو ترستی ہوں۔

رضیہ: (ہائے ) اتنا ظلم کیسے سہ لیا تم نے اپنی بیٹی کو خود سے کیسے جدا ہونے دیا؟

نورگل: ( روتے ہوئے ) میں کرتی بھی تو کیا میرا باپ اپنا بدلہ لیا گیا۔ اور میرا شوہر ہرجانہ ادا کر کے سرخرو ہو گیا۔ میری ممتا کا گلہ گھونٹ دیا گیا۔ یہ پہلا ظلم نہیں تھا۔ تب تک میں بات بے بات مار کھانے کی عادی ہو چکی تھی۔

رضیہ: ( افسوس صد افسوس) کیسے برداشت کر کیا یہ سب تم نے؟

نورگل: (درد بھری مسکراہٹ سے ) تم بتاؤ؟ اور میں کر بھی کیا سکتی تھی؟ میں تو تب بھی کچھ نہ کر سکی۔ جب اگلی بار میرا بیٹا ہوا۔ اور مجھے ہسپتال نہیں لے جایا گیا کہ وہاں مرد ہوں گے۔ جیے یا مرے گھر میں ہی رکھو اور کوشش کرنا میرا بیٹا زندہ رہے۔

ایسے الفاظ سن کے میں جیتے جی مر گئی تھی۔ اور اگلی بار اس ہی ظلم کی نظر میری ننھی گڑیا ہو گئی۔ اسے جب میں نے ہاتھوں میں لیا تو وہ دم توڑ چکی تھی۔

رضیہ: (آنسو پونچھتے ہوئے ) ہائے کیسا بے رحم شخص ہے یہ۔

نورگل: (مسکراتے ہوئے ) اب تو میری ہڈیوں میں طاقت نہیں رہی۔ پھر بھی سارا دن کی تھکن سے چور وجود لیے شام کو کسی بات پر مار کھاتی ہوں مگر اف نہیں کرتی۔ مگر اب بات میری بیٹیوں کی ہے۔ تم خود ہی بتاؤ؟ کون ہاتھ اٹھاتا ہے ایسے اپنی معصوم بیٹیوں پہ۔ اب میں چپ نہیں رہوں گی۔

رضیہ: ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو۔

نورگل: ہاں میں نے بھی آج کہہ دیا۔ اگر دوبارہ میری کسی بیٹی کو ہاتھ لگایا تو میں تمہارے سارے بچوں کو زہر دے دوں گی۔ اور خود بھی کھا لوں گی۔ وہ میرا یہ روپ دیکھ کر حیران رکھ گیا۔

رضیہ: یہ تم نے بڑا اچھا کیا کاش تم یہ ہمت پہلے کر لیتی۔

نورگل: ( درد بھری مسکراہٹ سے ) کاش میں ایسا کر پاتی۔ تو آج ایسا نہ ہوتا۔ لیکن پہلے میں نے اپنے باپ کو ماں پہ ظلم کرتے دیکھا، پھر میرے ساتھ آج تک یہ ہو رہا۔ مجھے بیٹیوں کے نصیب سے خوف آ تا ہے۔ میں دعا کرتی ہوں خدا کسی بیٹی کا نصیب ایسا نہ کرے۔ تشدد کرنے والا، اور بے رحم انسان جو ذہنی بیمار ہو۔ اس سے بچائے۔ ایک کے ایسا ہونے سے نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ بیٹے باپ کو دیکھتے ہیں۔ تو وہ بھی ایسا رویہ اپنا لیتے ہیں۔ خدا سب کی بیٹیوں کو محفوظ رکھے۔ اور ان کو اتنی ہمت دے کہ وہ غلط اور صحیح میں فرق کر کے اپنے حق کے لیے بول سکیں۔

رضیہ: آ مین۔ اچھا اب میں چلتی ہوں۔ اگر تمہارا شوہر گھر آ گیا تو مجھے یہاں دیکھ کر اس کو ایک اور وجہ مل جائے گی غصہ کرنے کی۔

نورگل: آنسوؤں سے تر آنکھوں سے لفظوں کا گلا گھونٹے اسے دروازے سے باہر جاتا دیکھتی رہی۔ اور اس کے ذہن کے پردے پہ ایک ہی سوچ ابھری مائے نی میں کنوں آکھاں۔

Facebook Comments HS