وانا وزیرستان: کچھ نہیں بدلا
شاید غلط فہمی تھا یا ہم نادان الفاظ نہ سمجھ پائے۔
وعدوں پر وعدے، کوئی وہاں سے یہاں تو کوئی یہاں سے وہاں لکیر کھینچ کے ایکس فاٹا مرجر پر لیکچر دیتا، تو کہیں پر سننا پڑتا فاٹا مرج ہو جائے تو قانون کی بالادستی ہوگی، کہیں سے آواز تھی ہر طرف امن ہی امن ہوگا۔ ہم خوش تھے، خوش کیوں نہ تھے؟ اتنی بڑی جو تبدیلی آ رہی تھی۔
تو بات قانون و آئین کا کرنا ہے۔ شاید سنا ہو گا ایف سی آر کے بارے میں۔ انگریز نے سابقہ فاٹا و پاٹا، سابقہ این ڈبلیو ایف پی کے ساتھ بلوچستان میں نافذ کیا تھا۔ اس میں سب سے واضح اور سب سے استحصال زدہ شکل کالیکٹیوں سزا کا تھا۔ یعنی مجرم کے ساتھ ان کے گھر والوں کو ان کے قوم کے افراد کو سزا تجویز کی جاتی۔ سزا یا تو جرمانہ، گھر کی مسماری یا جلاوطنی کی شکل میں ہوتا۔
اب جب ایکس فاٹا ضم ہو رہا تھا تب ہم خوش تھے کہ چلو اور نہ سہی ملک خداداد پاکستان میں ہمیں برابر شہری کی حیثیت تو مل جائے گی۔ اب ہمیں قانون کو اس طرح رسائی ہوگی جس طرح اور پاکستانیوں کو۔ بدقسمتی سے تقریباً پانچ سال گزرے، سرکاری کاغذات اور پاکستانی مین سٹریم میڈیا کچھ اور کہہ رہا ہے تو زمینی حقائق کچھ اور۔ ایکس فاٹا بالخصوص وزیرستان میں انتظامیہ کی کارکردگی صفر ہے۔ یہاں نہ قانون نافذ کرنے والے ادارہ اور نہ عدالت و دوسرے محکمہ کے نام سے کوئی چیز موجود ہے۔
جو کچھ وعدے ہوچکے ہیں وہ کاغذات و سرکاری بیانات اور سیاسی سکورنگ تک محدود تھے۔ ایکس فاٹا مرجر کے بعد مسائل اس وجہ سے پیچیدہ ہو گئے کیونکہ پہلے انتظامیہ مکمل خود مختار مگر اب انتظامیہ مکمل مفلوج، اختیارات تقسیم در تقسیم و بے معنی، انتظامیہ کے تمام اختیارات مقامی جرگہ کے پاس جا چکے ہیں۔ جرگہ بیک وقت عدالت، پارلیمنٹ، انتظامیہ و قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کام دے رہا ہے۔ جرگے میں فیصلے اگرچہ مقامی روایات کے عین ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے روایات بوسیدہ، رجعت پر مبنی، سولہ صدی پر محیط اور زرعی زمانے پر مبنی روایات ہے، جو جدید معاشی، معاشرتی، سیاسی و سماجی ضروریات پورا کرنے سے قاصر ہے اور ان بوسیدہ روایات کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکے و ہو رہے ہیں۔
وانا وزیرستان سے تعلق رکھنے والا ایک مقامی صحافی معراج خالد کی بات ہے۔ جرگے کے نو رکنی کمیٹی نے اس کے گھر کی مسماری کا فیصلہ دیا تھا، معراج خالد نے گھر مسماری پر اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے پوسٹ کی شکل میں سوالات اٹھائے تھے اور کمیٹی کے فیصلہ کو غیرقانونی و انصاف سے متصادم قرار دیا تھا اور کمیٹی کو ریاست پاکستان کے اندر ریاست کے مترادف قراردیا تھا، جس پر نو رکنی کمیٹی نے معراج خالد کو پانچ لاکھ جرمانہ اور جرمانہ نہ دینے کی صورت میں گھر مسماری کا فیصلہ دیا۔
سوشل میڈیا کی بروقت کوریج کی وجہ سے بات اعلیٰ حکام تک پہنچ پانے کے باوجود نو رکنی کمیٹی یہاں تک کامیاب ہو گئی کہ معراج خالد کو اپنے خاندان سمیت علاقہ بدر کر دیا گیا۔ انتظامیہ و سکیورٹی ادارے کی خاموشی لوگوں کے اذہان میں بہت ڈھیر سارے سوالات جنم دے رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور خیبرپختونخوا حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا کچھ کرے جرگے کو غیرقانونی کاموں سے منع کرے۔ لوگوں کے جان مال عزت و آبرو کو تحفظ دے۔


