سگرید اندسیت کا ناول ”ینی“ :تعارفی مطالعہ


ڈاکٹر عبدالعزیز ملک، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد

سگرید اندسیت جسے 1928 ء میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، کا تعلق ناروے کی سرزمین سے ہے۔ ان کے والد ماہر آثار قدیمہ تھے، اسی لیے انھیں بچپن سے ہی ناروے کے ماضی، ثقافتی کہانیوں اور اس خطے کی تاریخ سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین، سگرید کی ذاتی زندگی اور والد کے پیشے کے اثرات کو باآسانی اس کی تخلیقات میں تلاش کر لیتے ہیں۔ سگرید کی پوری زندگی مسلسل جد و جہد اور عمل پیہم سے عبارت ہے۔ ان کی عمر ابھی بارہ برس ہی تھی کہ اس کے والد وفات پا گئے۔

والد کی وفات نے ان کے خاندان کو معاشی بحران سے دو چار کر دیا۔ شادی سے پہلے اس نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ایک فرم میں دس سال کام کیا، وہاں اس نے انسانی نفسیات کا بغور جائزہ لیا، خواتین کے مسائل کو قریب سے دیکھا، نئی نسل کی شخصی آزادی کو محسوس کیا، بعد ازاں شادی کی، سگھڑ بیوی کے مانند بچوں کی پرورش کی اور ساتھ ساتھ کئی کتابیں بھی تصنیف کی۔ اس کے ابتدائی ناولوں میں بھی ایک ایسی عورت کا تصور پیش کیا گیا ہے جو ناروے کے سماج کے متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس بات کی تصدیق Images in a Mirror اور Jennyجیسے ناولوں سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس نے بیس کی دہائی میں تاریخی ناولوں کی تثلیث (Trilogy) سے عالم گیر شہرت پائی۔ دوسری عالمگیر جنگ کے دوران جب جرمنی نے ناروے پر حملہ کیا تو سگرید اندسیت نے پانچ سال، نیو یارک میں جلا وطنی کی زندگی بھی بسر کی۔

ناول ”ینی“ (Genny) سگرید اندسیت نے 1911 ء میں تحریر کیا، اس ناول کو شگفتہ شاہ نے اردو قالب میں ڈھالا ہے جسے سٹی بک پوائنٹ کراچی نے شائع کیا۔ شگفتہ شاہ نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب اور قانون کی تعلیم حاصل کی اور ستر کی دہائی میں ناروے منتقل ہو گئیں۔ ناروے ہجرت کرنے کے بعد انھوں نے اردو ادب سے اپنا تعلق منقطع نہیں کیا بلکہ تراجم کے توسط سے اردو زبان کو زرخیز بنانے میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

ناول ایک نسائی کردار ینی کی زندگی کو موضوع بناتا ہے جس کے ذریعے ناول نگار قاری کو ماضی کے ایسے سماج کا سفر طے کراتی ہے جو حقیقی وجود تو شاید نہ رکھتا ہو لیکن ہمارے اپنے سماج سے اس کی مماثلتیں اور تضادات ضرور موجود ہیں۔ مذکورہ ناول کا آغاز ہیلگے گرام کی روم، آمد سے ہوتا ہے جسے اس شہر کو دیکھنے کی شدید آرزو تھی اور وہ محنت اور لگن کے بل بوتے پر روم پہنچتا ہے۔ یہاں اسے اپنے تحقیقی مقالے کو قلمبند کرنے کے لیے مواد اکٹھا کرنا ہے۔

جب شام کے اندھیرے میں روم کی گلیوں کی بھول بھلیوں میں، وہ اپنی رہائش گاہ کا رستا بھول جاتا ہے تو اسے دو ایسی خواتین دکھائی دیتی ہیں جو دیکھنے میں ناروے کی محسوس ہوتی ہیں۔ جھجک کے احساس پر قابو پاتے ہوئے وہ ان سے مدد طلب کرتا ہے۔ ان لڑکیوں کے نام ینی ونگے اور فران چیسکا ہیں جو مصوری میں مہارت رکھتی ہیں اور ان دنوں روم میں مقیم ہیں۔ چوں کہ ہیلگے ان کا ہم وطن ہے اور شہر میں اکیلا بھی ہے، اس لیے وہ اسے اپنے دوستوں کے گروہ میں شامل کر لیتی ہیں۔

ان کے گروہ میں گنار اور سویڈن کا مجسمہ ساز، آہلین بھی شامل ہیں۔ وہ ایک کیفے میں رات کا کھانا کھاتے ہیں۔ اس کے بعد آنے والے کئی ہفتوں میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ خاصا وقت صرف کرتے ہیں جس سے انھیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس دوران میں جنوری آتا ہے جس میں ینی کا جنم دن منایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر ہیلگے ینی سے اپنے قلبی جذبات کا اظہار کر دیتا ہے۔ ینی اسے منع نہیں کرتی اور وہ ایک دوسرے کو بوسہ دیتے ہیں جو محبت کے اظہار کی علامت ہے۔

وہ عمر کی اٹھائیس بہاریں گزار چکی ہے۔ وہ کسی کو چاہنے اور چاہے جانے کی قائل نہیں ہے۔ چوں کہ وہ جوان ہے لہٰذا اپنے جذبات کے سامنے ہار مانتے ہوئے اس کی توجہ اور محبت میں سکون اور لذت محسوس کرتی ہے۔ اگلے کچھ ہفتے خوشی اور غمی کی آنکھ مچولی میں گزر جاتے ہیں۔ تمام فنکارانہ تو کوئی تصویر بناتے ہیں اور نہ ہی ان کا تاریخ کی کسی جہت پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ جب ینی اپنے گھر لوٹنے کا ارادہ کرتی ہے تو موسم بہار کی آمد آمد ہوتی ہے۔

وہ ایک دوسرے سے شادی کرنے کا وعدہ کر کے ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں لیکن ناروے کے سماجی اور معاشرتی حالات روم سے مختلف ہوتے ہیں۔ جو آزادی انھیں اس معاشرے میں میسر تھی وہ انھیں ناروے میں میسر نہ آ سکی۔ یہاں ینی کی ملاقات ہیلگے کے باپ ”گیرٹ“ سے ہوتی ہے۔ گیرٹ ایک ناکام مصور اور عورتوں کا رسیا ہے۔ اس نے ہیلگے کی ماں کو بھی اپنی محبت کے جال میں پھانس کر شادی کی تھی۔ اب ان دونوں میاں بیوی کے مابین ایک طرح کا کھچاؤ موجود ہے جو کہ ینی کو پسند نہیں۔

یہ ناقابل برداشت صورت حال ینی اور ہیلگے کو اجنبی بنا دیتی ہے۔ اس لمحے ہیلگے محسوس کرتا ہے کہ ینی، اس کے دوستوں اور اس کے تحقیقی کام سے بڑھ کر نہیں ہے لہٰذا وہ اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ ہیلگے کا والد گیرٹ، اس کے پاس آمد و رفت جاری رکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اس سے جان چھڑانا چاہتی ہے اس لیے وہ ناروے چھوڑ کر اپنی دوست فران چیسکا کے پاس ڈنمارک چلی جاتی ہے۔ ڈنمارک میں اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہ گیرٹ کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔

وہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ اس بچے کو اکیلے میں جنم دے گی۔ پہلے وہ ڈنمارک میں اور بعد ازاں جرمنی کے ساحلی علاقے میں، خود کو روپوش کرتی ہے۔ اس دوران میں اس کے بچے کی پیدائش ہوتی ہے جو صرف چھ ہفتے تک زندہ رہتا ہے۔ بچے کی وفات سے، وہ غم گزیدہ ہوجاتی ہے۔ اپنے دکھ کو کم کرنے کی خاطر وہ دوبارہ روم جاتی ہے جہاں اس کا دوست گنار اسے تسلی دیتا ہے۔ کئی ماہ گزرنے کے بعد وہ اسے بتاتا ہے کہ وہ اسے پیار کرتا ہے اور اس سے شادی کا خواہاں ہے۔

اس موقع پر ینی کا دماغ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ اسے، اس کی تجویز قبول کرنی چاہیے یا نہیں۔ اس دوران ہیلگے روم میں اچانک نمودار ہوتا ہے۔ ہیلگے، ینی اور اس کے والد کے تعلق سے لاعلم ہے۔ وہ اس بات سے بھی لا علم ہے کہ ینی اس کے باپ کے ناجائز بچے کو جنم دے چکی ہے۔ اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے تعلقات اسی نہج سے شروع کرے جہاں دو سال پہلے ختم ہوئے تھے۔ ینی اس امر کی قائل نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مزاحمت کرتی ہے۔ اب اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی تکالیف کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے۔ ہیلگے گرام روم سے روانہ ہو جاتا ہے اور گنار اس کی قبر پہ آنسو بہانے اور آہیں بھرنے کے لیے موجود ہے۔

سگرید اندسیت کا مذکورہ ناول اپنے عہد کے اس طبقے کی کہانی ہے جہاں نئی نسل پرانی اقدار سے نئی اقدار کی طرف منتقل ہو رہی تھی۔ خواتین اپنی قابلیتوں کو منوانے اور مرد مرکز سماج میں اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں ناول میں انھوں نے ینی کے کردار کو مہارت کے ساتھ پروان چڑھایا ہے۔ اس کی باطنی کیفیات کا بیان اس خوبی سے کیا ہے کہ ینی کی خود اپنی ذات کے ساتھ اور اپنے خارجی ماحول کے ساتھ کشمکش قاری پر منکشف ہوتی چلی جاتی ہے۔

ینی کی داخلی کیفیات کو سامنے لانے کے لئے شعور کی رو کی تکنیک کو اپنایا گیا ہے۔ ایک طرف وہ آزادانہ اور فنکارانہ زندگی گزارنے کی خواہاں ہے۔ اپنے اندرونی خلفشار کو کینوس پر منتقل کرنے کی خواہشمند ہے اور دوسری طرف وہ مرد کے سہارے کی تلاش میں بھی سر گرداں دکھائی دیتی ہے۔ پہلے ہیلگے، پھر گیرٹ اور آخر میں گنار کا سہارا لیتی ہے۔ جب سگرید اندسیت نے اس ناول کو تحریر کیا تو اس کی اپنی عمر بھی اتنی ہی تھی جتنی کہ ینی کی ہے اور ابھی اس کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی لیکن سگرید اس بات کی قائل ہے کہ عورت کا بیوی اور ماں بننا اس کی جسمانی اور ذہنی ضرورت ہے، اس لیے عورت کو مرد کی اور مرد کو عورت کی ضرورت موجود رہتی ہے۔ سکینڈے نیوین ممالک کے اس کلاسک کو شگفتہ شاہ نے اردو روپ دے کر ، اردو دنیا کے قارئین کو نارویجئین ادب سے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Facebook Comments HS