اخلاقیات کا لفظ اب ہماری لغت میں نہیں – مکمل کالم


میرا دوست اے ٹی ایم مشین کے باہر انتظار کر رہا تھا کہ کب اندر موجود شخص باہر نکلے اور وہ اے ٹی ایم سے پیسے نکالے، اتنے میں رکشے سے دو طالبات نکلیں، ایک مکمل با پردہ اور دوسری ماڈرن، یہ دونوں لڑکیاں بھی اے ٹی ایم استعمال کرنے آئی تھیں۔ جونہی اندر والے صاحب نے دروازہ کھولا، دو نوجوان جو پہلے سے وہاں کھڑے تھے فٹا فٹ اندر گھس گئے، میرے دوست کو نوجوانوں کی حرکت اچھی نہ لگی، کیا فرق پڑتا تھا اگر لڑکیوں کو پہلے اے ٹی ایم استعمال کرنے دیتے! خیر، میرے دوست نے دل میں سوچا کہ ابھی یہ باہر نکلتے ہیں تو وہ پہلے اُن دونوں لڑکیوں کو اندر بھیجے گا تا کہ اِن کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے۔ میرا دوست ابھی یہ خود کلامی کر ہی رہا تھا کہ نوجوان باہر نکل آئے اور قبل اس کے کہ وہ بچیوں کو کہتا کہ آپ پہلے اے ٹی ایم استعمال کر لیں، دونوں اُس کی طرف دیکھے بغیر، جیسے وہ وہاں موجود ہی نہیں، ایک شان بے نیازی کے ساتھ اندر چلی گئیں۔ واپسی پر میرے دوست نے جب اُن کی توجہ اِس حرکت کی جانب مبذول کروائی تو انہوں نے میرے دوست کا شکریہ ادا کیا اور نہ ہی اپنی حرکت پر ندامت کا اظہار کر کے جھوٹے منہ سوری کہا۔

یہ واقعہ سجاد جہانیاں کے ساتھ پیش آیا جسے اُس نے کہانی کی شکل میں لکھ دیا، سجاد جہانیاں ایک معصوم اور بھولا بھالا شخص ہے، ملتان سے تعلق ہے، بے حد عمدہ لکھاری اور نثر نگار ہے۔ میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ وہ مجھے اپنے دوستوں میں شمار کرتا ہے (ویسے یہ میرا حسن ظن بھی ہو سکتا ہے ) ، اُس نے یہ کہانی بے حد تخلیقی انداز میں لکھی، میں نے تو اُس کا فقط خلاصہ بیان کیا ہے۔ یہاں ایک ذاتی واقعہ مجھے بھی یاد آ گیا۔ اگلے روز میں گاڑی میں جا رہا تھا کہ سامنے سے ایک اور گاڑی ون وے کی خلاف ورزی کرتی ہوئی نظر آئی، یہ دیکھ کر میں نے جان بوجھ کے اپنی گاڑی کو اُس کے سامنے لا کھڑا کر دیا تاکہ اسے کچھ شرم آئے اور اشارے سے ڈرائیور کو کہا کہ بھیا کچھ خیال کرو، ون وے ہے۔ اِس پر ڈرائیور، جو کہ ایک باریش شخص تھا، کچھ دیر تک مجھے خونی نظروں سے دیکھتا رہا اور پھر گاڑی سے اتر کر میرے پاس آیا اور نہایت غصے سے بولا ’جناب راستہ چھوڑیں، مجھے دیر ہو رہی ہے‘ ۔ اُس کے چہرے پر دور دور تک ندامت کے آثار نہیں تھے اور نہ وہی اسے اِس بات کی پروا تھی کہ اُس نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ دل تو میرا ’سڑ کے سوا‘ ہو گیا مگر میں نے بھی جاتے جاتے اسے حدیث مبارکہ سنا دی کہ ”جو کوئی نماز صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے پڑھتا ہے، اس کی نماز قیامت کے دن اس کے منہ پر ماری جاتی ہے۔“

سجاد جہانیاں نے اپنی کہانی میں کمال خوبصورتی سے وہ نکتہ اٹھایا ہے جس پر میں بھی اکثر سوچ بچار کرتا ہوں کہ کیا ہماری کوئی بچی کچی اخلاقیات رہ گئی ہیں، اگر ہیں تو کیا وہ مذہب کی مرہون منت ہیں، اور اگر مذہب نہ ہوتو کیا اخلاقیات کا کوئی ضابطہ تشکیل دیا جا سکتا ہے، کیا ہماری جدید درسگاہوں یا مدرسوں میں اِس ضابطہ اخلاق کی پاسداری سے متعلق طلبا کی کردار سازی کی جاتی ہے، اگر کی جاتی ہے تو یہ زوال کیوں اور اگر نہیں کی جاتی تو کیوں نہیں کی جاتی؟ جن دو لڑکیوں کا قصہ سجاد جہانیاں نے بیان کیا ہے اُن میں سے ایک مکمل حجاب میں تھی جبکہ دوسری اپنے لباس کی تراش خراش سے قدرے آزاد خیال لگ رہی تھی۔ گویا مذہبی اور جدید تعلیم دونوں نے اُن کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اُن کے ریڈار پر یہ بات ہی نہیں آئی کہ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے۔ پہلے اِس معاملے کو مذہبی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ کیا باپردہ لڑکی نے کوئی گناہ کیا؟ یقیناً نہیں، زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُس نے وہاں کھڑے ایک بزرگ (سجاد جہانیاں سے معذرت کے ساتھ) کی دل آزاری کی اور بس۔ ماڈرن لڑکی کے بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ مذہبی تعلیمات سے لا تعلق بھی تھی تو کیا اُس نے اے ٹی ایم میں پہلے گھُس کر کسی قانون کی خلاف ورزی کی؟ قطعاً نہیں، اُس کے خلاف بھی کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی جا سکتی۔ اب اِن دونوں لڑکیوں کو اُن کے حال پر چھوڑ کر آگے چلتے ہیں۔

ہمارے ملک کی 29 فیصد آبادی 18 سے 34 سال کی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، یعنی لگ بھگ سات کروڑ نوجوان۔ یہ لوگ کس اخلاقی ضابطہ کار کے پابند ہیں؟ کیا مذہبی اخلاقیات انہیں مجبور کر سکتی ہے کہ کسی دکان سے خریداری کرتے وقت وہ قطار نہ توڑیں، شادی کرنے کے بعد دو سے زیادہ بچے پیدا نہ کریں یا سڑکوں پر کان پھاڑ دینے والے شور کے ساتھ موٹر سائیکلیں نہ چلائیں؟ چونکہ اِن باتوں کے خلاف کوئی قانون موجود نہیں اِس لیے قانونی طور پر بھی اِن کی پکڑ نہیں ہو سکتی۔ لیکن کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جو قانونی، اخلاقی اور مذہبی، ہر اعتبار سے غلط ہیں، مثلاً امتحان میں نقل کرنا، ابھی پچھلے دنوں خیبر پختونخوا میں ایم ڈی کیٹ کا امتحان ہوا جس میں 1500 طلبا بلیو ٹوتھ کے ذریعے نقل کرتے ہوئے پائے گئے، اِن میں سے اڑھائی سو گرفتار ہوچکے ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پچیس لاکھ روپے فی کس دے کر امتحان میں 84 سے زائد نمبر لگوائے۔ غالب امکان یہی ہے کہ اِن میں سے اکثریت نماز روزے کی پابند ہو گی، پھر اِنہوں نے ایسا کام کیوں کیا؟

وہی بات کہ چوری میرا پیشہ ہے اور نماز فرض! ظاہر ہے کہ مذہب اِس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا لیکن پھر لازماً ذہن میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ اِس کا علاج کیا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اِس مسئلے کا حل قانون کی عملداری میں ہے، مذہب میں چونکہ ریاست کے قانون کی خلاف ورزی کی کوئی گنجایش نہیں لہذا ریاست کی کمزور رِٹ کو مذہب کی ناکامی پر منطبق نہ کیا جائے۔ اِس بات میں وزن ہے، دنیا کے جن ممالک میں قانون کی عملداری ہے وہاں امتحان میں نقل کرنا تو دور کی بات، ایسا سوچا بھی نہیں جاتا۔ لیکن یہ حل ایک اگلے معمے کو جنم دیتا ہے اور وہ یہ کہ اگر ملک میں قانون کی عملداری ہو جائے تو پھر مذہبی اخلاقیات کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اِس کا جواب مذہبی طبقہ یہ دیتا ہے کہ صرف مذہب ہی ہمیں اخلاقیات کا ضابطہ کار فراہم کرتا ہے وگرنہ انسان کا بنایا ہوا ضابطہ کار مطلق نہیں ہو سکتا۔ یہ سوال فی الحال موضوع بحث نہیں، اِس پر پھر کبھی بات ہوگی لہذا اصل مسئلے پر واپس آتے ہیں۔

مسئلہ مذہب کا نہیں، مسئلہ اخلاقی تعلیم کا ہے، ہماری جدید درسگاہیں بھی نوجوانوں میں کسی قسم کی اخلاقی ذمہ داری کا احساس بیدار نہیں کرتیں، اُن کا مطمح نظر محض معاش کی فکر ہے، میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ وہ فکر معاش کو ترجیح نہ دیں، میرا سوال تو فقط اتنا ہے کہ یہ فکرِ معاش ہمیں اخلاقی رویوں کو بہتر بنانے سے کیوں کر روکتی ہے! ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعلیم طلبا کے درمیان شاید مقابلے کا رُجحان تو پیدا کرتی ہے مگر یہ مقابلہ امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر لینے تک محدود ہوتا ہے۔ کسی کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اُس نے معاشرے کا صرف کامیاب ہی نہیں بلکہ ذمہ دار شہری بھی بننا ہے اور اِس میں اُس نوجوان کا قصور بھی کوئی نہیں کیونکہ معاشرے میں ذمہ دار شہری اور اخلاقی پاکیزگی کے حامل انسان کے لیے کوئی ترغیب موجود نہیں۔ گھرمیں ماں باپ کم نمبر لانے پر تو باز پُرس کریں گے مگر اِس بات پر کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگے گی کہ اے ٹی ایم میں داخل ہونے سے پہلے تم نے وہاں کھڑے بزرگ سے اجازت کیوں نہیں لی۔ بس اتنی سی بات ہے!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada