عمران ریاض خاں کی بازیابی باعث مسرت


نامور صحافی جناب عمران ریاض خاں بازیاب ہو کر اپنے اہل خانہ سے آ ملے ہیں۔ الحمد للہ ان کی مصیبت ٹل گئی ہے اور ان کے اہل خانہ کی خوشی میں خاکسار صدق دل سے شامل ہے۔ خاکسار قانون کا طالب علم ہوتے ہوئے ہر ماورائے عدالت اقدام کو جرم سمجھتا ہے۔ جرم خواہ کوئی فرد، گروہ کرے یا ادارہ، اس کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، لہذا ان کی گرفتاری کی مختلف مواقع پر مذمت کرتا رہا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں دیگر خرابیوں کے ساتھ اس جرم بھی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔

اس موقع پر جب عمران ریاض کی رہائی پر دلی مسرت ہے انہیں بھی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلانا بھی ان سے ہمدردی کا تقاضا ہے۔ مضمون میں فوٹو ان کے ایک وی لاگ سے لیا گیا ہے جس میں انہوں نے ”تحقیق“ کے نام پر ”کذب بیانی“ کا بڑھ چڑھ کر مظاہرہ کیا تھا اور احمدیوں پر سو فیصد ایسے جھوٹے الزامات لگائے جن کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے اپنی اس ”تحقیق کے نام پر تکذیب“ کے سورس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا

”اسرائیل میں چند سال پہلے کتاب چھپی تھی“ ۔ اگرچہ یہ کتاب 1972 میں چھپی تھی۔ ”اس کتاب کو انٹرنیٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے“ ۔ یہ انٹرنیٹ پر ڈاؤن لوڈنگ کے لئے موجود تو نہیں البتہ استعمال شدہ خریدی جا سکتی ہے۔

بقول ان کے اس کتاب میں اس نے لکھا :
”پاکستانی فوج سے زیادہ اسرائیل کی فوج میں ایک خاص سیکٹ (Sect) کے پاکستانی ہیں اور وہ ہیں قادیانی“ ۔

یہ سو فیصد جھوٹ ان کی اپنی اختراع ہے۔ کسی ایک بھی احمدی کے اسرائیل کی فوج میں موجود ہونے کا ذکر مذکورہ کتاب میں نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس جھوٹ کو بار بار یہ کہہ کر دہرایا:

”جو قادیانی ہیں وہ اتنے پاکستانی فوج میں نہیں ہیں اس وقت جتنے اس وقت اسرائیل کی فوج میں ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا تھا“ قادیانی ”پاکستانی فوج میں اتنے زیادہ نہیں جتنے اسرائیل کی فوج میں ہیں“

فرماتے ہیں :

”صفحہ نمبر 75 سامنے کھلا ہے پاکستان کی فوج سے زیادہ قادیانی اسرائیل کی فوج میں بھرتی ہیں اس وقت۔ جن کی تعداد چھ سو سے زائد ہو سکتی ہے۔ یہ یہودی پروفیسر نعمانی جو ہیں لکھ رہے ہیں۔ اس نے ساتھ ہی ساتھ بتایا کہ 15 فروری 1987 کا ڈیٹا ہے جو ایک آرٹیکل میں شیئر کیا گیا۔“

یہ کتاب خاکسار کے پاس موجود ہے اور جس طرح اسی کتاب میں دیگر مسلمان فرقوں سے اسرائیلی شہریوں ہونے کی وجہ سے شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بعینہٖ اسرائیلی احمدی شہریوں (جو دراصل فلسطینی عرب ہیں ) کے اسرائیلی فوج میں، ”شامل ہو سکنے کے امکان“ کا ذکر ضرور موجود ہے۔ یہ مد نظر رہے کہ مشرق وسطیٰ میں احمدی نام کی ایک اور جماعت کئی صدیوں سے موجود ہے جو بداویہ سلسلہ بھی کہلاتی ہے۔ اس احمدیہ جماعت سے تخصیص کرنے کے لئے اسرائیل میں موجود فلسطینی احمدی جو پاکستانی احمدی سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں انہیں پاکستانی احمدی شمار کیا جاتا ہے۔

جیسے بریلوی یا دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے کے لئے بریلی یا دیوبند کا رہائشی ہونا لازم نہیں۔ لہذا اس سے مراد ہرگز پاکستانی احمدی شہری نہیں لی جا سکتی۔ عمران ریاض صاحب نے یہ کتاب سرے سے پڑھی ہی نہیں، پڑھنا تو دور کی بات ہے دیکھی بھی نہیں۔ اگر انہوں نے یہ کتاب پڑھی ہوتی تو جیسی ان کی افتاد طبع ہے، انہوں نے کتاب ہاتھ میں اٹھا اٹھا کر دکھانی تھی۔

خاکسار کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ان پر وارد تکلیف کو احمدیت دشمنی کا نتیجہ بیان کروں۔ بلکہ مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ اس طرح کذب بیانی کرتے چلے جانا عادت بن جاتی ہے اور بڑھتے بڑھتے انسان ایسا تجاوز کر بیٹھتا ہے جس کے برے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے 1987 فروری میں احمدی افسران کی وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب کے حوالے سے تعداد کا ذکر کیا ہے۔ اور اس کو بھی غلطی سے اس کتاب میں مندرج بیان کر دیا ہے جو 1972 میں طبع ہوئی تھی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اسی سورس کے حوالے سے مزید سفید جھوٹ بولتے ہیں :

” اب اس کتاب میں مزید کچھ تفصیلات لکھی ہوئی ہیں۔ اور اس آرٹیکل ( مطبوعہ لنڈن پوسٹ نامی۔ غیر معتبر پورٹل) میں بھی اس کی سپورٹ میں کچھ چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔ وہ یہ بتاتے ہیں (گفتگو بے ربط ہے) کہ ماضی میں جب قادیانیوں کے لئے یہاں پہ، مسلمانوں نے، ان کے خلاف ایک، معاملات چلے، اس خطے میں پاکستان میں ہندوستان میں پاکستان بننے سے پہلے، اور پاکستان بننے کے بعد ، تو ان کا ایک مشن پہلے سے موجود تھا اسرائیل میں اور وہ اپنی ایک سٹریٹیجی (Strategy) کے تحت وہاں پہ موجود تھا، حکمت عملی کے تحت موجود تھا۔ اور اس کے بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہ یہاں پاکستان سے جو پاکستان کا پاسپورٹ رکھتے تھے، جو قادیانی۔ وہ یہاں سے اسرائیل گئے، وہاں پہ انہوں نے رہنا شروع کیا۔ وہاں پہ ان کو ووٹنگ کا حق مل گیا، وہاں کی شہریت مل گئی اور پھر اسرائیلی فوج کے اندر وہ شامل ہو گئے۔ چھ سو سے زیادہ لوگ جو ہیں، وہ اس وقت اسرائیلی فوج میں، قادیانی پہلے پاکستانی تھے، وہ اس وقت وہاں پہ سرو (Serve) کر رہے ہیں۔ تو یہ ایک خطرناک چیز، اس کو اس لیے قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس سیکٹ (Sect) کے لوگ پوری دنیا میں ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت جڑے ہوئے ہیں، تو اگر یہ ڈفرنٹ پوسٹوں کے اوپر ڈفرنٹ جگہوں پر دوسرے ملکوں میں موجود ہیں تو یہ انفارمیشن ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، تو اس لحاظ سے پاکستان کو اور دنیا کے باقی ممالک کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔

اسرائیل نے ان کو بہت زیادہ سپورٹ دی ہے، ان کا بہت زیادہ خیال رکھا ہے، اور معاملات کو دیکھنے کے لئے ان کو مالی لحاظ سے بھی اور دوسرے اعتبار سے بھی ان کو بہت زیادہ سپورٹ کیا ہے۔ کارگل کا جب واقعہ ہوا، پاکستان اور بھارت کے بیچ میں، ایک معرکہ ہوا، تو اس کے بعد بھارت میں جو قادیانی ہیں انہوں نے بھارتی فوج کو بہت زیادہ سپورٹ کیا تھا۔ اور اس کے اوپر ان کو بھارت میں کافی مقام بھی ملا تھا۔ اور پاکستان کے خلاف انہوں نے بڑا کام کیا تھا۔

اسی طرح اسرائیل میں جو قادیانی، ان کی فوج میں ہیں جو کل تک پاکستانی تھے، وہ وہاں سپورٹ دے رہے ہیں اسرائیل کو پاکستان کے خلاف۔ اور، یہ ان کو انفارمیشن تک ایکسیس (رسائی) ہو سکتی ہے اگر یہ مختلف ملکوں میں رہتے ہیں ان کے رشتہ دار کہاں ہیں، ان کے تعلقات کہاں تک ہیں، ان کے لنکس کہاں تک ہیں اور وہ کہاں تک سسٹم میں پینٹریٹ (penetrate) کر سکتے ہیں، یہ وہ بڑے بڑے سوالات ہیں جن کے جواب انٹیلی جنس کے پاس ضرور ہوں گے۔

پاکستان کی جو انٹیلی جنس ایجنسیز ہیں جیسے آئی ایس آئی ہے، ایف آئی اے ہے وہ ضرور ان چیزوں پر نظر رکھتی ہے۔ ان کو ضرور اس چیز کا آئیڈیا ہو گا، کہ کون کون بندہ یہاں پاکستان سے جا کے کس کس ملک میں کام کر رہا ہے، اور وہ کون کون سی انفارمیشن ان کو دے سکتا ہے، اور اس سے جڑے ہوئے لوگ پاکستان میں کہاں کہاں پہ موجود ہیں، اور کیا انفارمیشن دے سکتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں، ایک، انٹیلی جنس وار۔ اور وہ پاکستان کی ایجنسیز اس وقت دنیا بھر میں جانی مانی ہے۔ تو اس لئے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں لیکن یہ ایک پہلو تھا، حیران کن تھا میں نے یہ سوچا میں یہ چیزیں آپ کے سامنے رکھوں“ ۔

عوام کے سامنے رکھنے کی اس خدمت کی بجا آوری کے لئے صحافتی خناس کا مظاہرہ کرنے کے بعد جناب عمران ریاض خاں نے چند مزید ”درفنطنیاں“ کی مدد سے اپنے مذکورہ وی لوگ کو مکمل کیا ہے۔

احمدیوں کا تو موٹو ہے کہ ”محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں“ اور سچی محبت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ غلطی خوردہ بھائی کو اس کی غلطی سے آگاہ کیا جائے۔ لہذا ان کے سیاسی خیالات اور وابستگی جو بھی ہے اس کا مجھے احترام ہے اور ہر دوسرے کو ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ایک نامور صحافی ہونے کے ناتے عمران ریاض خاں صاحب کو بھی چاہیے کہ ”مقابلۂ کذب گوئی“ میں اول پوزیشن پر آنے کی کوشش کر کے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے آئندہ مصیبت پیدا کرنے کی ہر کوشش سے گریز کریں۔ اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments