بیمار زندگی!


ملکی معیشت خراب ہے، سیاست عدم استحکام کا شکار ہے، سماجی رویے اتھل پتھل ہیں، ان پر ہم بات کر رہے ہوتے ہیں، ہم دوسرے ممالک سے اپنا سیاسی و معاشی تقابل بھی وقتاً فوقتاً کرتے ہیں، لیکن ہم دوسرے معاشروں سے اپنا نفسیاتی تقابل نہیں کرتے ہیں۔

ترقی یافتہ اور پسماندہ معاشروں کی نفسیات میں بڑا فرق ہوتا ہے، نفسیات کے اس فرق کا اثر صرف ہماری گفتگو میں نہیں بلکہ ہمارے اٹھنے بیٹھنے سے لے کر، چلت پھرت میں بھی واضح نظر آتا ہے، ایک نارمل انسان اور ابنارمل انسان کے چند قدم کی رفتار ہی دونوں کے درمیان نفسیاتی فرق کو واضح کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

سیاسی عدم استحکام، معاشی عدم استحکام پیدا کرتا ہے اور معاشی عدم استحکام معاشروں میں نفسیاتی مسائل اور دماغی بحران کا بنیادی سبب ہوتا ہے، اخلاقی گراوٹ بھی ایک قسم کی نفسیاتی بیماری ہی ہے جو معاشی عدم استحکام کے شکار معاشروں میں اپنی ترقی یافتہ شکل میں موجود ہے، امام شاہ ولی اللہ کا مشہور قول ہے کہ جب مفلسی دروازے سے داخل ہوتی ہے تو اخلاقیات کھڑکی سے نکل جاتی ہیں۔

آپ کسی سڑک کنارے بیٹھیں، آتے جاتے لوگوں کو غور سے دیکھیں، گاڑیوں پر سوار، بائیک پر سوار اور پیدل چلنے والے، سب پر نگاہیں جمائیں، ان کی رفتار دیکھیں، ان کے چہرے پڑھیں اور ان کے حلیوں پر نظر جمائیں، آپ کی نظریں جتنی گہرائی میں جائیں گی یہ حقیقت آپ پر آشکار ہوگی کہ بظاہر خوبصورت حلیوں میں بھی کتنے بیمار دماغ ہوتے ہیں، برانڈڈ کپڑوں میں کتنی سستی ذہنیت ہوتی ہے، کلف لگی قمیصوں کے اظہاریے میں کتنا تھڑا پن جھلکتا ہے، اور سی ایس ایس کی چلن میں کتنی بے ہودگی سمائی ہوئی ہوتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں ان کی عمومی گفتگو جو وہ سودا لیتے وقت، اپنے کسی دوست سے ملتے وقت، بھاؤ تاؤ کرتے وقت، چائے خانے میں یا کسی محفل میں بولتے وقت کرتے ہیں، انہیں غور سے سنیں، آپ کو بیماری کی شدت کا مزید اندازہ ہو جائے گا، یہ میں عام ان پڑھ طبقے کی بات نہیں کر رہا ہوں، اس تعلیم یافتہ طبقے کی بات کر رہا ہوں جو ٹیچر ہوں گے، پروفیسر ہوں گے، افسر ہوں گے، دفاتر میں کام کرتے ہوں گے، روزانہ عوام کی ڈیلنگ کرتے ہوں گے، سفید پوش ہوں گے، اچھی گاڑیوں میں ہوں گے اور معاشرے کی نظر میں ان کا شمار باعزت لوگوں میں ہو گا، لیکن جب ان کے رویے، گفتگو، اور کسی الجھے ہوئے معاملے میں انہیں قریب سے دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ معاشرہ دماغی، نفسیاتی اور اخلاقی طور پر کہاں کھڑا ہے۔

ایک بہت بڑے بزنس مین کا انٹرویو سننے کا اتفاق جس میں وہ بتا رہے تھے کہ اس وقت ہمارے ہاں تیس فیصد لوگ ابنارمل ہیں، اس انٹرویو کو اب کافی وقت ہوا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اب شاید ہی تیس فیصد لوگ نارمل ملیں۔

ذہنی بیماری یا دماغی عدم توازن کا عمومی معاشرتی ماحول سے گہرا تعلق ہوتا ہے، انسان اپنے ارد گرد جو دیکھ رہے ہوتے ہیں ان سے انسانی نفسیات کی تشکیل ہوتی ہے، اکثریتی سوچ ایک ادارہ بن کر انسانوں کی تربیت کرتا ہے، ہمارے ہاں جو اکثریتی سوچ ہے وہی ہماری ستر سے اسی فیصد آبادی کا اظہاریہ بھی ہے، جو رفتار سے لے کر گفتگو تک اور معاملات سے لے کر دیگر شعبوں تک ہماری معاشرتی شناخت کا لازمی جز بن چکا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ذہنی عدم توازن کی بنیادی وجہ کیا ہے اور اسے کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔

اس وقت دنیا میں سرحدوں کا قانون ہے، ہر ملک کے اپنے ضابطے ہیں، ان ضابطوں کا مقصد اجتماعی زندگی کو ایک نظم میں ڈھالنا ہے، یہ ضابطے جتنے توانا ہوں گے، اجتماعی ذہنیت اتنی توانا ہوگی اور یہ ضابطے جتنے بیمار ہوں گے، اجتماعی ذہنیت کی اکثریت اس قدر بیمار رہے گی۔ جس کی واضح مثال ہمارا معاشرہ ہے۔ جہاں ایک جاہل اور ایک پڑھے لکھے سے یکساں خوف محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے قانون کتابوں میں اور ضابطے پاؤں تلے ہیں جس کا صلہ ایک بیمار ذہنیت پر مشتمل معاشرہ ہے جو ہر لمحے ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔

پانچ افراد پر مشتمل دو گھر لے لیں، دونوں گھرانے اپنے لیے ایک جیسے ڈسپلن طے کریں، لیکن ایک گھرانے کے افراد اپنے بنائے ہوئے ڈسپلن پر پابندی سے عمل کرتے ہوں اور دوسرے گھرانے کے افراد اپنے ڈسپلن کا خیال نہ رکھتے ہوں تو ایک جیسے ڈسپلن رکھنے والوں کی پروان چھڑنے والی نسل کی ذہنی کیفیت مختلف ہوں گی، ڈسپلن کے پابند گھرانے کی معیشت سے لے کر رہن سہن تک ہر امور میں ایک توانا ذہنیت کارفرما ہوتی ہے اور بے ڈھنگے گھرانے کا ہر گوشہ بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا نظر آئے گا۔

سوشل میڈیا کا دور ہے اس نے تو بیمار ذہنیت کو مزید آشکار کر دیا ہے، یہاں ہر پاگل دوسرے پاگل کو سمجھا رہا ہوتا ہے کہ یوں نہیں کرنا ہے، یوں کرنا ہے، ایسے نہیں کہنا ہے اس طرح کہنا ہے پھر اسی لمحے بعینہ وہی عمل خود بھی دھرا رہا ہوتا ہے جس کے نہ کرنے کی تلقین کسی اور کو کر رہا ہوتا ہے۔

زندگی ایک بہت بڑا سبجیکٹ ہے، یہ کیسے گزاری جائے یہ ایک الگ علم ہے، زندگی گزارنے کا علم ڈاکٹر، انجنئیر، ایم بی اے، آئی آر اور نہ ہی دیگر نصابی کتابوں سے حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ علم عمومی غور و فکر کا متقاضی ہے، یہ علم ایک دانا سے بھی سیکھا جاسکتا ہے اور کسی احمق سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، چونکہ ہمارا عمومی معاشرتی ماحول ایک صحت مند دماغ کی تشکیل میں ہمارا معاون نہیں ہے تو پھر انفرادی طور پر ایک صحت مند دماغ کی افزائش پر توجہ دینا ضروری ہے، مجھے اس بات کا مکمل خیال ہو کہ میرے روز مرہ معمولات میں کتنے عمل صحت مند ہیں اور کتنے عمل بیمار ہیں، آج کسی دوست سے آدھے گھنٹے کی گفتگو میں شائستگی کتنی اور ناشائستگی کتنی تھی، میری پروفیشنل لائف میں میرے روزانہ کے اظہاریے میں کتنی دلکشی ہے اور کس قدر ہلڑ پن ہے، میری ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی میں کہاں کہاں عدم توازن ہے اور کہاں کہاں توازن ہے، یہ سب چیزیں غور فکر یا اچھی کتابوں سے حاصل کی جا سکتی ہیں، ذہن متوازن ہو گا تو زندگی کو توازن دے گا، منتشر اور بیمار ذہن کی عملی زندگی بھی بیمار ہوتی ہے۔

جس طرح جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ کرنے کے لیے ورزش کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دماغ کو بیماری سے بچانے کے لیے بھی ورزش کی ضرورت ہے، غور و فکر اور اچھی کتابوں کا مطالعہ دماغ کی ورزش ہے جس سے وہ توانا ہوتا ہے، عمومی ماحول کی وجہ سے اکثر لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ دماغی بیماری کا شکار ہیں کیونکہ وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو دوسرے لوگ کرتے ہیں، ہمارا قومی ڈسپلن ہماری بیماری کے علاج کے لیے تعاون نہیں کرتا ہے بلکہ وہ خود اس بیماری کا سبب ہے، جس کے سبب بیمار ہیں اس عطار کے لونڈے کی دوا سے شفایابی ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے یہ عمل انفرادی ریاضت کا تقاضا کرتی ہے اور یہ راتوں رات نہیں بلکہ ارتقائی عمل ہے اور رفتہ رفتہ دماغی صحت کی بحالی ہو سکتی ہے۔ جب دماغی صحت بحال ہوگی تو پھر آپ انسان کہلانے کے مستحق ہوں گے۔

 

Facebook Comments HS