وزیرستان میں دو دن


وزیرستان کا نام سنتے ہی انسان کو جنگ و جدل، لڑائی جھگڑے، خود کش دھماکے اور دہشتگردی نظر آتے ہیں۔ باقی دنیا اور پاکستان تو درکنار خود پختونخوا میں باقی اضلاع کے لوگ بھی وزیرستان جانے سے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، مگر صحافیوں کی مثال فوج اور پولیس کی مانند ہے کہ کسی بھی جگہ پر جب کسی واقعے، فائرنگ دھماکے یا لڑائی جھگڑے کی اطلاع ملتی ہے باقی لوگ اس جگہ سے دور بھاگتے نظر آتے ہیں اور یہ تین طبقات یعنی فوج پولیس اور صحافی اسی طرف دوڑتے ہیں تاکہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں۔

اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ انتظامی طور پر وزیرستان آج کل تین اضلاع میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پہلے صرف شمالی اور جنوبی وزیرستان کی ایجنسیاں تھی جو بعد میں اضلاع بنیں، اب جنوبی وزیرستان کو بھی دو اضلاع یعنی جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 2003 سے 2010 تک مقامی لوگوں کے سوا باقی تمام لوگ صرف عسکریت پسندوں کی اجازت اور سیکیورٹی میں گھوم پھر سکتے تھے یہی وجہ تھی کہ جب 2008 میں ہم تحریک طالبان کے بانی بیت اللہ محسود کا انٹرویو کرنے گئے تو دو دن طالبان کے مہمان تھے۔ حکیم اللہ محسود کی سرپرستی میں ان کی گاڑیوں میں گھومتے اور ان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

چند ماہ پہلے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے سیکیورٹی اداروں کی تعاون سے لوئر جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کا دورہ کرایا تھا۔ مگر گزشتہ ہفتے جب قبائلی اضلاع کے بابائے صحافت اور ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے بانی، مرحوم سیلاب محسود کے صاحبزادے اور نامور صحافی اشتیاق محسود نے کال کر کے وزیرستان آنے کی دعوت دی تو میں انکار نہیں کر سکا۔ اس کی تین وجوہات تھی ایک یہ کہ وزیرستان کے موجودہ حساس حالات میں صوبہ بھر سے چنیدہ صحافیوں کا آزادانہ اجتماع بذات خود دنیا کو امن کا پیغام دلانا تھا۔ دوم یہ کہ اس بیٹھک میں مرحوم سیلاب محسود کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا جن کی 30 سالہ جدوجہد کی بدولت آج قبائلی اضلاع کے کونے کونے سے آزادانہ رپورٹنگ ہوتی ہے اور یہاں 13 پریس کلب میں سینکڑوں صحافی کام کر رہے ہیں۔ اور تیسری بات یہ کہ میں کسی سیکیورٹی حصار کے بغیر آزادانہ گھوم پھر کر عوام سے ملنا اور حالات کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ جس کے لئے اس سے بہتر کوئی موقع نہ تھا۔

پشاور سے ہم تین صحافی دوست (راقم الحروف، ناصر داوڑ اور صبور خٹک) رات کو ڈی آئی خان پہنچے اور اگلی صبح اپنے میزبانوں کی معیت میں ناشتہ کیے بغیر صبح ساڑھے چھ بجے وزیرستان روانہ ہوئے۔ چھ گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں ہمارے علاوہ وزیرستان، ڈی آئی خان اور ٹانک کے سینئر صحافی دوست شامل تھے۔ راستے میں ایک جگہ چائے پینے کے بعد پھر روانہ ہوئے اور جب اڑھائی گھنٹے سفر کے بعد ٹانک کا علاقہ جنڈولہ سے گزرے تو موسم اور نظاروں کی رنگینی شروع ہوئی۔ جو جو ہم آگے بڑھتے گئے، نہ صرف موسم خوشگوار ہوتا رہا بلکہ سڑک کنارے جنگلات اور سرسبز گھاس پھونس میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ٹھیک چھ گھنٹے سفر کے بعد ہم اپنے منزل مقصود محسود پریس کلب لدھا پہنچ گئے۔ جہاں شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت ٹانک کے درجنوں صحافی دوست ہمارا انتظار کر رہے تھے۔

بہت ہی دوستانہ، آزادانہ اور غیر رسمی انداز میں علاقے میں صحافت کے لئے سیلاب محسود کی خدمات، امن کی اہمیت، صحافیوں کو درپیش مشکلات اور معیاری صحافت کے تقاضوں پر گفتگو ہوئی۔ اشتیاق محسود نے پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے بعد کافی دیر تک مختلف صحافی دوستوں کے ساتھ آف دی ریکارڈ اور آن دی ریکارڈ گفتگو ہوئی۔ حالات کا ادراک ہوا، اور شام 4 بجے ہم نے ان سے اجازت لی اور مزید آگے چلتے ہوئے مکین سے ہوتے ہوئے شمالی وزیرستان کے مشہور زمانہ لٹل انگلینڈ رزمک پہنچ گئے۔ پختونخوا ریڈیو رزمک میں مختصر قیام، نماز عصر پڑھنے اور چائے پینے کے بعد شمالی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر میران شاہ روانہ ہوئے۔ اور تقریباً 7 بجے میران شاہ پہنچ گئے۔

اگلی صبح میرانشاہ ہسپتال کا دورہ کیا۔ ایم ایس اور ڈی ایم ایس نے بریفنگ دی اور آپریشن ضرب عضب کے بعد تعمیر ہونے والے بلاک میں سہولیات اور مریضوں کے علاج معالجے کے بارے میں بتایا۔ مزید بتایا گیا کہ 1926 میں قائم ہونے والا یہ سول ہسپتال اب 220 بیڈ پر مشتمل کیٹیگری بی اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے رولز کے مطابق اس معیار کے ہسپتال کو 600 کنال اراضی پر تعمیر ہونا چاہیے۔ مگر یہ لوگ بوجوہ ابھی تک اسی محدود زمین اور عمارت میں کام چلا رہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد میرانشاہ میں بین الاقوامی تعاون سے کئی ایک تجارتی مارکیٹیں بنائی گئی ہیں۔ ایک ہی نقشے پر بنائی گئی ان دو منزلہ مارکیٹوں میں دکانوں کی کل تعداد 2800 بتائی جاتی ہے۔ مگر ان میں سینکڑوں دکانیں خالی پڑی ہیں۔ کیونکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مالکان اور ٹھیکیداروں کی شرائط اور ماہانہ کرائے پر کاروبار نہیں کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں نے ان مارکیٹوں سے چند قدم آگے اپنی مدد آپ کے تحت ایک پورا بازار بنالیا ہے۔ جس میں کافی چہل پہل نظر آتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپریشن ضرب عضب سے پہلے میران شاہ بازار تقریباً 8000 دکانوں پر مشتمل تھا اور یہاں روزانہ کروڑوں روپوں کا کاروبار ہوتا تھا۔ ہم جونہی بازار سے واپس پریس کلب پہنچے تو تاجر رہنماٗ بھی پریس کانفرنس کرنے پریس کلب پہنچ گئے۔ وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ تباہ شدہ دکانوں کے فیز 2 کے لئے منظور شدہ امدادی رقم کو پی ڈی ایم اے کی بجائے ڈپٹی کمشنر کے ذریعے تقسیم کیا جائے تاکہ وہ لوگ بار بار پشاور جاکر کاغذی کارروائیوں سے بچ سکیں۔

پریس کلب کے سامنے درجنوں نوجوان اور سیاسی کارکنوں نے دھرنا دے دیا تھا وہ ٹیسکو کے ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کر کے نعرہ بازی کر رہے تھے۔ بجلی میٹروں کی عدم موجودگی اور بلوں کی عدم ادائیگی کے سوال پر انھوں نے بتایا کہ وہ لوگ میٹر لگانے اور بل ادا کرنے کو تیار ہیں مگر انھوں نے الزام لگایا کہ ضرب عضب آپریشن کے بعد علاقے میں بجلی کی مکمل بحالی کے لئے آنے والے کروڑوں روپوں کے تار کھمبے اور ٹرانسفر مر محکمے والوں نے بندر بانٹ کر کے فروخت کر دیے۔ انھوں نے اس فروخت شدہ سامان اور بجلی کی فراہمی کی شرط پر میٹر لگانے کی حامی بھر لی۔ رزمک میں بھی مقامی لوگ اپنے حقوق کے لئے دو مہینے سے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

وزیرستان میں گزرے ہوئے ان دو دنوں میں محسوس کیا کہ وہ لوگ جو بات بات پر لڑنے مارنے کے لئے مشہور تھے اب پر امن سیاسی اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ بندوق اور نشانہ بازی کے شوقین نوجوانوں کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور ان کی نعرہ بازی سن کر اچھا لگا۔ اسی طرح مشران کی جانب سے لڑائی جھگڑے اور رشوت سفارش کی بجائے میڈیا کے ذریعے اپنی بات حکام تک پہنچانے اور منوانے کی کوشش بھی لائق تحسین ہے۔ وزیرستان کے تینوں اضلاع میں بہترین سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ مکین اور میرانشاہ میں چھوٹے چھوٹے سپورٹس سٹیڈیم میں جب کہ کئی اور مقامات پر سڑک کنارے عام میدانوں میں نوجوان والی بال کھیلتے نظر آئے۔ شمالی وزیرستان میں قدرتی گیس ملنے کے بعد اس کی ڈرلنگ کا کام جاری ہے مین شاہراہ کے کنارے اس حساس کام کی وجہ سے ٹریفک کو متبادل سڑک پر ڈال دیا گیا ہے۔

بہترین سڑکوں کے باوجود ٹریفک اور چہل پہل انتہائی کم ہے۔ مقامی صحافیوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کے سینکڑوں نوجوان بھی مقامی طالبان کی حمایت میں ان کے ساتھ لڑنے کے لئے علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ بات نہ صرف باعث تشویش ہے بلکہ اعلی سطح پر اس کا نوٹس لینے اور اس کے سدباب کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS