خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے
جدھر نظر اٹھا کر دیکھو ایک دنیا سر و سامان کی فکر میں سرگرداں نظر آتی ہے۔ کوئی اس جستجو میں کامیاب ہوا تو کوئی ناکام۔ مگر یہ سودا اور دھن ہر سر میں موجود ہے کہ مکان ہو آراستہ اور لباس ہو پیراستہ۔ ایک بڑی گاڑی سواری کے لئے مل جائے اور چند نوکر ہمہ وقت خدمت میں پیش پیش رہیں۔ بازار کو جو نکلیں تو دس بیس سلامی کو آئیں اور اگر گھر میں بیٹھیں تو کوئی آ کر پرسان حال ہو۔ یہ باتیں لوازم شائستگی و تہذیب سمجھی جاتی ہیں۔ یقین جانیے ہم میں سے ہر ایک انہی باتوں کا دل و جاں سے فدائی ہے۔ کون سی ایسی مشکل ہے جو انسان ان چیزوں اور آسائشوں کو حاصل کرنے کے لئے نہیں اٹھاتا۔
بچہ بھی مکتب میں استاد کی جلی کٹی سہتا ہے تو اس کے ننھے سے دماغ میں یہی خیال ہوتا ہے جو اس کے والدین کے ذریعے اس کے ذہن میں جاگزیں ہو گیا ہے۔
جدھر دیکھئے جہاں جائیے ایک ہی صدا ہے۔ روپیہ ’روپیہ اور بس روپیہ۔ اسے حاصل کرنے کا ذریعہ چاہے حلال ہو یا حرام‘ قانونی ہو یا غیر قانونی اس کی پروا کون کرتا ہے بس زر پرستی کا خیال ہے۔ تو کیوں نہ اسے ہم ”چھوٹا مشکل کشا“ کہہ لیں۔
بزم حضرت اکبر الہ آبادی میں بھی ایک روز زرپرستی پر بحث چل نکلی۔ کہنے لگے روپیہ سے اتنی محبت کرنی چاہیے جتنی ایک انگریز اپنے بیرے سے کرتا ہے یعنی جب کام ہو تو کمرہ میں بلا لیا اور جب کام نکل گیا پھر بیرے کو ایک منٹ بھی وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایسے ہی روپیہ سے کام لو مگر اس سے محبت نہ کرو۔
ہم سب کسی نہ کسی حد تک ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں۔ امنگوں اور آرزوؤں کا لشکر ہے جو دل میں ہے۔ امیدوں کا لہلہاتا ہوا باغ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یاس یعنی نا امیدی نظر سے اوجھل ہے۔ اپنے آپ سے توقعات حد سے زیادہ کرنے لگتے ہیں اور اگر کہیں ان کو حاصل کرنے میں ناکام ہو جائیں تو بقول جمیل الدین عالی
~ خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو
ورنہ یہ بحر بے کراں ہوتا
یقین کریں اگر ہم قناعت ( تھوڑے پر صبر ) کرنا شروع کر دیں تو زندگی میں خوشیاں بھی لوٹ آئیں گی اور اللّہ بھی ہم سے خوش ہوں گا۔ ہمیں ہرگز لوگوں اور ان کی آسائشوں کی طرف دھیان نہیں دینا چاہیے۔ جب خاکسار دور طفلی سے گزر رہا تھا تو ہر روز اپنی امی سے کہتا تھا امی مجھے فلاں اسکول بیگ ( بستہ ) لینا ہے۔ اس وقت ٹرالی بیگ فیشن میں تھے۔ اب ایک دفعہ تو امی نے لے دیا۔ مگر جناب کہاں باز آنے والے تھے اگلے دن کسی بچے کا نیا بیگ دیکھا تو وہیں مچل بیٹھے اور مجھے یاد ہے میں گھر جا کر کئی گھنٹوں ضد کیا کرتا تھا۔ ایک دن میری امی نے مجھے کہا
” اینیاں ریجھاں تے آساں نہ لایا کر، چادر ویکھ کے پیر پساری دے ہندے نیں“
ترجمہ : ”اتنی خواہشیں اور امنگیں مت پیدا کرو دل میں جتنی چادر ہو اسی حساب سے پاؤں پھیلاتے ہیں۔“
ہمیں چاہیے کہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہمیں میسر ہو ہمیں اس پر اکتفا کرنا چاہیے۔ روزانہ کی ضرورت سے زیادہ فکر نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن مسئلہ تب پیش آتا ہے جب ہماری عادتیں شاہ خرچی کی عادی ہو چکی ہوں اور اس وقت ہمارے پاس اتنا سرمایہ موجود نہ ہو۔ ان حالات میں انسان جس کی فطرت میں حرص و طمع رکھی گئی ہے بد اخلاقی پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے اور کئی ایسی بد اخلاقی برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے جس سے بعد میں دنیا میں اور پھر آخرت میں ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔
امام غزالی رح فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رض فرمایا کرتے کہ لالچ کرنا محتاجی ہے اور لوگوں سے نا امید ہونا خوش حالی ہے۔ جو شخص لوگوں سے نا امید ہو گیا وہ ان سے بے نیاز ہو گیا۔ کسی دانا سے پوچھا گیا کہ دولت مندی کیا ہے؟ فرمایا تمنائیں کم کر دینا اور بقدر کفایت پر راضی رہنا۔
اٹھارہویں صدی کے مشہور فرانسیسی فلسفی ڈینس ڈائٹرٹ کی کم و بیش تمام عمر مفلسی میں گزری۔ یہاں تک کہ اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر جہیز بھی نہ دے سکا۔ ملکہ روس کیتھرین دی گریٹ نے جب اس کی معاشی بد حالی کا سنا تو اس کی لائبریری کو اس نے پچاس ہزار امریکی ڈالرز میں خریدنے کی پیش کش کی جس کو فلسفی کی جانب سے فوراً قبول کر لیا گیا۔ بس پھر کیا تھا اس کے پاس اچانک خرچ کرنے کو دولت جو آ گئی تھی۔ اس نے پہلے تو ارغوانی رنگ کا شاہی لباس خریدہ پھر رفتہ رفتہ گھر میں نت نئے ڈیکوریشن پیس لے آیا۔ گھر کا فرنیچر مکمل بدل دیا۔ پھر اپنے ارغوانی رنگ کے لباس کی مناسبت سے گھر کی بہت سی اشیا اسی رنگ کی خریدنی شروع کر دیں۔ اس تعاملی خریداری کو بعد ازاں ”Diderot Effect“ کا نام دیا گیا۔ یعنی ایک غیر ضروری شے کی خریداری دیگر کئی چیزوں کی خرید کا سبب بنتی ہے۔
مثال کے طور پر آپ نیا جوڑا کپڑوں کا خریدتے ہیں پھر یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ اس کے ساتھ اب جوتا بھی میچ کرنا ہے۔ آپ نے نئی گاڑی لی پھر آپ اس کی موڈیفیکیشن پے مصروف ہو گئے۔ یہ ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔
اسی افیکٹ کا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی زندگی بدل بھی سکتے ہیں مثلاً ہمیں نمود و نمائش کم کرنی ہو گی۔ اگر ایک چیز گھر میں لا رہے ہیں تو دوسری بیچ دینی ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ بصورت دیگر خواہشات تو تھمنے کا نام نہیں لیتیں۔


