اماں وہ ابا جیسا نہیں ہے
کچھ عرصہ قلم سے دوری کے بعد پھر سے اس سے رشتہ استوار کرنا ایسا ہی تھا جیسے کسی پرانی سہیلی سے رابطے کے بعد اس کے گلے شکوے سننے کے بعد کی کیفیت۔ یعنی کہ آپ لاجواب ہو جائیں کہ اس کے شکوے بھی غلط نہیں اور میری پوزیشن بھی۔ اس وقت میرے ذہن میں کوئی موضوع نہیں ہے مگر چند دنوں سے میری والدہ صاحبہ کے مسلسل اصرار نے مجھے کم از کم یہ کرنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ میں اپنی دنیا میں کتابوں کی موجودگی کو یقینی بناؤں۔
میں نے ابھی ابھی ڈرامہ سیریل در شہوار کی آخری قسط دیکھی تو دماغ میں بہت ساری باتیں آنے لگیں تو سوچا کہ کیوں نہ ان کو کالم کی شکل دے دی جائے۔ یہ ڈرامہ ایک ایسی لڑکی کی ازدواجی زندگی پر ہے جس کی شادی ایک ایسے گھرانے میں ہو جاتی ہے جو نہ صرف معاشی بلکہ سماجی لحاظ سے بھی اس کے والدین سے بہت پیچھے تھے اور اخلاقی پستی کا یہ عالم تھا کہ اس کے سسرال والے اسے اس کے شوہر کے ساتھ بھیجنے سے انکاری تھے جو کہ ایک آرمی افسر تھا۔
ڈرامے کے سبھی کردار عورت کو اس کی شادی کے بعد پیش آنے والے نامساعد حالات سے مقابلے کے گرد گھومتے ہیں اور ہر لڑکی کو شادی کے بعد ایسا لگتا کہ اس کے والد ایک آئیڈیل شوہر ہیں اور اس کا شوہر اس کے والد جیسا نہیں۔ تقریباً ہر لڑکی نے اپنی ماں سے کہا کہ ممی وہ ڈیڈی جیسا نہیں ہے اور تقریباً ہر ماں نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا کہ تمہارے ابو بھی پہلے ایسے نہیں تھے۔ یعنی لکھاری اس بات کو ثابت کرنا چاہتا تھا کہ مرد اصل میں تبدیلی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا بہتر سے بہترین کی طرف جاتا ہے اور یہ ارتقاء بھی فقط اس مرد کا مقدر بنتا ہے جس کی زندگی میں ایک میچور اور وفا شعار بیوی ہو۔
مرد کی میچورٹی کا تعلق ہرگز اس کی عمر سے نہیں ہوتا۔ اسے محبت سے نا آشنائی ہوتی ہے اور وہ بیوی کا خیال رکھنے میں جھجکتا ہے۔ نجی معاملات میں وہ کھل کر اس کے حق میں بول بھی نہیں سکتا اور یہی چیز شادی کے شروعات میں ہی شادی کو لڑکی کے لئے ایک ایسا ڈراؤنا خواب بنا دیتی ہے جو اس کا آرام و سکون تج دیتی ہے۔
ہماری سوسائٹی میں ایسے گھرانے جہاں لڑکیوں اور لڑکوں کی تربیت کے سلسلے میں شادی اور ازدواجی معاملات نصاب کا حصہ ہی نہیں لوگ اس قدر خام ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔
”در شہوار“ کے لکھاری نے انتہائی خوبصورتی سے سماجی رویوں کی نہ صرف عکاسی کی ہے بلکہ ہماری زندگیوں میں اور ہمارے آس پاس مکروہ کرداروں کو بے نقاب کیا ہے اور تھرڈ کلاس رومانس پر مبنی فینٹسی ڈراموں سے ہٹ کر ایک اچھی کہانی کا اضافہ کیا ہے۔
وقت اور سگھڑ پیار کرنے والی پر خلوص بیوی کے ہاتھوں شوہر گری دل خراش مراحل سے ہوتی ہوئی بے حد خوبصورت اختتامی مراحل میں داخل ہوئی جہاں شوہر بڑھاپے میں اپنی بیوی پر جان چھڑکتا ہے مگر اس سب کوزہ گری میں بیوی کے ہاتھ کس قدر شل ہوئے عام دیکھنے والے شاید اس بارے میں سوچنا بھی بھول گئے۔


