سجاد اظہر کی راول راج نگری
”سادھو: نہیں خدا اپنے مظاہر سے بات کرتا ہے اور جس پر کھلتا ہے، اس کی زبان کی لکنت ختم کر کے اس میں علم پھونک دیتا ہے۔ ہمیں یہ علم وجدان سے ملا ہے۔ ہمارا علم دلوں سے منتقل ہوتا ہے اور تمہارا کتابوں سے۔ ہو سکتا ہے کوئی کتابی کیڑا یا نفرت تمہارے کتابی علم کو راکھ بنا دے، مگر ہمارے دلوں کے علم تک کسی کیڑے یا آگ کی رسائی نہیں۔ “
ہزاروں سال قدیم ہندوستان کے مقدس بدھ بھکشوؤں، مارگلہ کے سرسبز جنگلوں، دریائے سواں کے تیز و تند بہتے پانیوں، بدھا کی معدوم ہوتی غاروں، منکیالہ کے بوسیدہ اسٹوپوں سے راولپنڈی، اسلام آباد جیسے اہم جڑواں تاریخی شہروں کے ماضی میں گم ادوار سے، اپنی اساطیری گفتگو کے ذریعے ہم کلام ہونے والے معروف صحافی سجاد اظہر صاحب کی کتاب ”راول راج“ کسی ٹائم ٹریولنگ مشین کی صورت تاریخ و تہذیب کا حیرت کدہ معلوم ہوتی ہے۔
ہزاروں لاکھوں سال پہلے اس دھرتی پہ آباد جانوروں، جنگلوں اور پانیوں کی کہانی سنانے والے سجاد اظہر صاحب اپنی دھرتی کی محبت میں یوں سر تا پا گرفتار ہیں کہ وہ اس خطے کی قدامت آمیز اور حیرت انگیز اساطیری کہانیاں، جب تاریخ و تہذیب کے دلچسپ امتزاجی پیرائے میں سناتے ہیں تو اپنی شناخت کا وہ سفر تکمیل کو پہنچ جاتا ہے، جو تاریخ سے جڑے ہر شخص کا خواب ہے۔
قدیم زمانوں، گمشدہ تہذیبوں اور تحیر آمیز اساطیروں کے اس عمدہ مرقع ”راول راج“ میں سجاد اظہر صاحب کا تخلیقی اسلوب ماضی میں گزرے وقت کو یوں بھرپور روانی سے بیان کرتا ہے کہ تاریخ زندہ و جاوید مجسم ہو کر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ ذرا اس کتاب کے ابتدائی باب ”جہاں تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے“ کے ان مناظر کا تصور کیجیے کہ:
”دریائے سواں کا کنارہ جہاں آج کل ڈی ایچ اے ون راولپنڈی ہے اور جہاں نالہ لئی اور دریائے سواں ملتے ہیں۔ ٹھیک اسی جگہ پر آج سے کم و بیش بیس لاکھ سال پہلے دریا ایک نیلگوں جھیل میں گر رہا ہے۔ اوپر ہمالیہ کے برف پوش پہاڑ ہیں، جو سارا سال برف میں ڈھکے رہتے ہیں، ارد گرد گھنا جنگل ہے۔ جس میں موجودہ ہاتھیوں سے دگنے بڑے ہاتھی، شیروں اور گینڈوں سمیت خونخوار جانورون کا راج ہے۔ دریا کے کنارے غاریں ہیں، جن میں ایک گھنے بالوں والا انسان رہتا ہے، اس کی کمر میں ایسا خم ہے کہ بندروں کی مانند درخت پر چڑھ سکتا ہے، مگر جب سامنے شیر آ جائے تو سیدھا کھڑا ہو کر اسے ایک بھاری بھرکم پتھر دے مارتا ہے۔ یہ انسان ایک قبیلے کی شکل میں جنم جنم سے انہی غاروں میں رہ رہا ہے۔“
”راول راج“ کو سجاد اظہر صاحب نے کسی کہنہ مشق ماہر محقق کی مانند تحقیق کے کٹھن راستوں سے گزر کر رقم کیا ہے۔ مثلاً جنوبی ایشیاء میں پائے جانے والے انسان کے سب سے قدیم ثبوت، دریائے سواں کے کنارے روات کے سیوالک ہلز میں ڈھونڈتے ہوئے وہ ان حقائق کا انکشاف کرتے ہیں کہ وہاں سے 1985 میں پتھر کے دور کے اوزار اور لاکھوں کروڑوں سال قبل کے مختلف جانوروں مثلاً ہرن، زرافہ، گینڈا اور مگرمچھ کے فاسلز بھی دریافت ہوئے ہیں۔
اسی طرح اپنی تحقیق اور تخیل سے ہمیں ماضی کی جھلکیاں دکھاتے ہوئے وہ دکھ سے بتاتے ہیں کہ انسان کا ابتدائی مسکن بھی یہیں کہیں تھا۔ جس میں شامل 1990 تک موجود رہنے والی وہ عالمی ورثے کی اہمیت کی حامل وہ قدیم غاریں بھی شامل تھیں، جنھیں بدقسمتی سے اب مٹا دیا گیا ہے۔ یوں پتھر کے دور سے لاکھوں سال سفر کر کے زمانہ جدید تک پہنچنے والے انسان نے اپنے قدیم ورثے کی کوئی قدر نہ کی۔
راولپنڈی شہر کے نام کی تاریخ بیان کرتے ہوئے وہ آٹھویں صدی کے عظیم ہندوستانی حکمران، راولپنڈی کے ’بھاپا راول‘ کا قصہ سناتے ہوئے، ہمیں میواڑ میں موری خاندان کا خاتمہ کرنے والے اور موہیلا سلطنت کے بانی بھاپا راول سے متعارف کراتے ہیں جسے اس کے بچپن میں بادشاہ بننے کی پیشن گوئی کی وجہ سے اس کی ماں نے ”راول“ یعنی چھوٹے شہزادے کا نام دیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
” 739 میں جب ہندوستان پر عربوں نے حملے کیے تو اس نے اجمیر اور جیسلمیر کی ریاستوں کو ساتھ ملاتے ہوئے، محض اپنے چھ ہزار جنگجو سپاہیوں کے ساتھ، تیس ہزار عرب سپاہیوں کو شکست دی۔ اور اس پسپائی پر عربوں کا پیچھا قندھار اور ایران تک کیا۔ افغانستان اور ایران کے کئی علاقوں کو فتح کرتے ہوئے جب وہ واپس آیا تو اس نے چپے چپے پر اپنی چوکیاں قائم کیں۔ راول پنڈی بھی ان ہی میں سے ایک تھی۔ اس زمانے میں میواڑ کی سرحدیں قندھار سے ایران تک جا ملتی تھیں۔“
راولپنڈی کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ:
”راولپنڈی کا ذکر جہانگیر کی خود نوشت“ تزکِ جہانگیری ”میں دو جگہ آیا ہے۔ بادشاہ کے بقول راجہ ظفر خان نے میرے لیے راولپنڈی میں شکار کا اہتمام کیا۔ جہاں میں نے دور سے ایک سرخ ہرن کی جانب تیر پھینکا۔ حیرت انگیز طور پر تیر عین نشانے پر بیٹھا اور ہرن گر گیا۔ یہاں سے میں نے 35 کالے ہرن جنھیں چکارا کہا جاتا ہے، ان کا شکار کیا۔“
قدیم دریائے سواں کے بارے میں محبت سے لکھی گئی اپنی تحریر ”دریائے سواں ؛ وقت کا بحرِ بیکراں“ میں وہ اس دریا کی قدامت کا ذکر جس مہر آمیز لہجے میں کرتے ہیں، اس سے ان کی اس دریا کے لیے الفت ہر لفظ سے جھلکتی محسوس ہوتی ہے :
”دریائے سواں کے پانیوں نے سات ہزار سال قبل کا مہر گڑھ بھی دیکھا، پانچ ہزار سال پہلے کا موہنجو داڑو اور ہڑپا بھی، پھر ڈیڑھ ہزار سال قبلِ مسیح میں وسطی ایشیاء سے آنے والے آریاؤں کے قافلوں کو ہندوستان میں پھلتے پھولتے دیکھا۔ اڑھائی ہزار سال قبل گندھارا کو اپنے دامن میں پھولوں کی طرح سجایا اور پھر بالآخر اس تہذیب کو سفید ہنوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوتے بھی دیکھ لیا۔“
راولپنڈی کی مشہور اور دلچسپ تاریخی ہستیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ جان نکلسن کا قصہ سناتے ہیں، راولپنڈی کا وہ پہلا ڈپٹی کمشنر، جسے برہما کا اوتار مانا گیا۔ اور اس عقیدے پر مشتمل ایک پورا فرقہ اس کے نام کی مالا جپتا رہا۔
اسی طرح گرونانک کے خاندان سے تعلق رکھنے والے راولپنڈی کے سرسید بابا کھیم سنگھ بیدی کا محبت بھرا ذکر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، جن کے معتقدین نے بابا جی کے کہنے پر راتوں رات گورنر کی آمد کے لیے سڑک بنا دی، جن کے اصلاحی اور فلاحی کام آج بھی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔
اس کتاب کا سب سے دردناک حصہ راولپنڈی میں مذہبی بنیادوں پر ہونے والے فسادات ہیں۔ جن میں 1926 سے 2013 کا احوال بتاتے ہوئے وہ یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا تب سے آج تک حالات میں کوئی بدلاؤ آیا، یا آج بھی ہم تعصب، تنگ نظری اور شدت پسندی کی اسی ہولناک وبا میں گرفتار ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ راولپنڈی میں جون 1926 کے فسادات کی وجہ مسجد کے پیچھے بنی سینما اور تھیٹر کی عمارت ہی نہ تھی بلکہ ان خون آشام فسادات کو ہوا دینے میں وہ علماء بھی شامل تھے جو ہندوستان بھر سے آ کر یہاں اشتعال انگیز تقاریر کرتے تھے۔ ان علماء میں سے ایک مولانا محمد اسحٰق ماروی کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اللہ نے انھیں کسی جابر خوف کی مانند شہر پر مسلط کر رکھا تھا۔ رمضان میں دن بھر شہر میں گشت کرتے اور جہاں کہیں کوئی ہوٹل کھلا نظر آ جاتا تو اپنے لٹھ بردار محافظوں کے ہمراہ وہ اس ہوٹل پر دھاوا بول دیتے۔ ذرا منظر ملاحظہ ہو:
”مولانا بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑتے اور سالن کی دیگچیاں اور چائے کی پتیلیاں لا کر بیچ بازار الٹ دیتے، ہوٹل والوں کا منہ کالا کرواتے، روزہ خوروں کو مرغا بناتے اور آخر کار ان سب سے توبہ کروا کر ہی ٹلتے۔“
اسی طرح 1926 میں سکھ جلوسوں کے فساد کے جواب میں، انگریز افسروں کی اجازت سے 1927 میں نکلنے والے 12 ربیع الاول کے بڑے جلوس کا دلچسپ احوال بھی یہاں بڑی عمدگی سے رقم کیا گیا ہے۔
اس حصے میں تقسیم کے ان فسادات کا ذکر بھی خاصا دلگداز ہے، جنھوں نے اس خطے کی تاریخ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ خاص کر وہ حصہ جہاں پوٹھوہار میں تھوہا خالصہ میں ہونے والے فسادات کا احوال رقم کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ کس کرب اور بے بسی میں 87 سکھ عورتوں نے مسلمانوں کے خوف سے اپنی آبرو کی حفاظت کرتے ہوئے کنویں میں کود کر خودکشی کی اور 200 سکھوں کے قتل عام نے اس بارونق شہر کی روداری کو آگ لگا دی۔ اس درد بھری تحریر کا ایک ٹکڑا ملاحظہ کیجیے :
”جناب وہ میری بیوی ہے، کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں؟ اس نے ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں، آپ اس کی چوڑیاں اتار لیں وہ اب اس کے کسی کام کی نہیں۔ یہ چوڑیاں میں نے اسے محبت سے خرید کر دی تھیں۔“
”وہ کنواں لاشوں سے اٹا ہوا تھا، جن پر چونا ڈال دیا گیا تاکہ بو نہ پھیلے۔ “
اس حصے میں تحریر کیے گئے مظلومین کے انٹرویوز کے دلگیر و دلگداز حوالے قاری پر رقت طاری کر دیتے ہیں۔ جہاں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ”مارچ سے لے کر ستمبر تک، شہر شہر، قریہ قریہ جلتے رہے اور لوگ مرتے رہے۔ شہر کے شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور اس ملبے میں جا بجا انسانی کھوپڑیاں بکھری نظر آتی تھیں۔ یہ دردناک مناظر راولپنڈی اور اس کے قریبی دیہات کے ہیں۔“
راولپنڈی کی قدیم عمارات کے دلچسپ تذکرے میں ”سجھان سنگھ سے ملک ریاض تک“ کے عنوان سے لکھی گئی، اس اہم تحریر میں سجھان سنگھ کی خوبصورت اور دل آویز حویلی کا مفصل احوال قاری کو مبہوت کر دیتا ہے۔ وہ اس زمانے میں حویلی کے مکینوں کی امارت کا احوال رقم کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ:
”اس حویلی کی تعمیر میں سونا بھی استعمال ہوا تھا۔ دیواروں پر سونے سے کشیدہ کاری کی گئی تھی۔ حویلی کے مکین سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرتے تھے، شاہانہ فرنیچر موجود تھا۔ صحن میں مور ناچتے تھے اور برآمدے میں شیر بندھا ہوتا تھا۔ شام کو حویلی سے سریلی موسیقی کی آوازیں آتی تھیں۔ حویلی کی تعمیر میں استعمال ہونے والا لوہا اور تانبا خاص برطانیہ سے منگایا گیا تھا۔“
”راولنڈی کے بازار حسن“ کے فسانوں سے لے کر پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سے قبل برطانیہ کے راولپنڈی میں جاپان جسے دشمن ممالک کے خلاف کیے گئے کیمیکل ہتھیاروں کے تلخ تجربات کا اذیت ناک نظارہ بھی اس کتاب میں تکلیف کا ایک نیا موڑ لیے ہوئے ہے۔ سجاد اظہر اپنے مستند حوالہ جات کے ذریعے لکھتے ہیں کہ:
”ان دستاویزات کے مطابق جب ہندوستانی فوجیوں کو ان چیمبرز میں بھیجا جاتا، جہاں ان پر زہریلی گیس چھوڑی جاتی، تو انھیں مخصوص لباس کی بجائے محض گیس ماسک ہی پہننے کو دے دیا جاتا۔ ایک بار جب ایک ہندوستانی فوجی کا ماسک چیمبر میں اتر گیا تو اس کا چہرہ جھلس گیا اور آنکھیں بری طرح جل گئی تھیں۔ ان تجربات کا مقصد میدانِ جنگ میں شدید اور جان لیوا قسم کی گیس تیار کرنا تھا۔“
اسی طرح راولپنڈی میں قائد کی قیام گاہ کے اجڑنے کے افسوس ناک مناظر سے لے کر، ان محبت بھرے دو دلوں کا درد ناک احوال بھی لائقِ مطالعہ ہے جو تقسیم کی وجہ سے پھر کبھی مل نہ پائے۔ اس کے ساتھ ہی گولیوں والی مسجد کی وجہ تسمیہ اور ان کے تکلیف دہ احوال سے لے کر راولپنڈی کی اس پہاڑی کا دلچسپ مقام بھی یہاں ذکر سے خالی نہیں، جس کی تاریخ حضرت مریم سے منسوب کی جاتی ہے۔
اس کتاب کی مزید دلگداز تحاریر میں راولپنڈی کی اس میم استانی کی المناک داستان بھی شامل ہے جسے اس کی بیٹیوں کے ہمراہ فسادات کے دنوں میں ایک مسلم کوچوان نے دیوار پھلانگ کر قتل کر ڈالا۔ تقسیم سے قبل پنڈی کے لوگوں کے بارے میں معلومات اور ہمارے قدیم تاریخی اثاثے ”بدھا کی غاریں، جن میں اب خدا نہیں آتا“ کے عنوان سے لکھی گئی دلچسپ تحریر تاریخ، تہذیب اور گزرے وقت کا عجب تخلیقی و تنقیدی امتزاج سمیٹے ہوئے ہے۔ جہاں 459 قبل از مسیح کا ایک سادھو اور ہندوستان کے پہلے گرامر نویس پانینی کے درمیان انسان، خدا، علم اور تاریخ کے موضوع ایک اہم مکالمہ قلمبند کیا گیا ہے۔ پتھر کے درمیانی عہد کی ان غاروں کی اہمیت پر لکھی گئی یہ تحریر شاندار ہونے کے ساتھ ساتھ، اپنی مندرج معلومات کی وجہ سے ایک خاص تاریخی اہمیت کی بھی حامل ہے۔
یوں سملی دیوی کے نام پہ قائم اسلام آباد کی اساطیری کتھا، دیومالائی روایتوں سے منسوب مانکیالہ کے مسمار ہوتے تاریخی سٹوپا، بوسیدہ بدھ خانقاہوں اور اسلام آباد کے ہزاروں سال قدیم گاؤں سید پور اور شکر پڑیاں کی حیرت سے بھرپور تاریخ سناتے ہوئے وہ کسی ایسے اساطیر کے ماہر قصہ گو کا سا اسلوب اختیار کر لیتے ہیں، جسے اپنی تاریخ پر کمال گرفت حاصل ہو۔ کتاب کا ہر باب سجاد اظہر صاحب کی محنت، تحقیق، جستجو اور وسیع مطالعے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہماری اس قدیم تاریخ، گمشدہ تہذیب اور اہم ثقافتی ورثے کی ایسی محققانہ دلچسپ تحاریر سے بازیافت پر محترم سجاد اظہر صاحب کو دلی مبارکباد۔ بہت خوبصورت سرورق کے ساتھ اس اہم کتاب کی دلپذیر اشاعت پر بک کارنر جہلم کے قابل اور محنتی ناشرین محترم گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب کو بھی بہت مبارکباد اور نیک تمنائیں۔


