بوسنیا کی چشم دید کہانی
اسی دوران پاکستان سے نیا دستہ بھی بوسنیا پہنچ گیا جس میں سے تین ASI صاحبان کا سٹولک کے لیے انتخاب ہوا۔ عظیم اور ندیم کا تعلق پنجاب پولیس سے تھا جب کہ فاروق کا بلوچستان پولیس سے۔ عظیم ایک مکمل مسخرا تھا۔ ساتھیوں کی نقّالی اس کا پسندیدہ شغل تھا۔ ایک دفعہ وہ پیگی اور ایشور سنگھ کے ہمراہ راونو کے علاقے میں گشت پر تھا۔ اچانک انھیں ایک بندر نظر آیا۔ بندر کو دیکھتے ہی پیگی نے اس جانور میں اپنی دلچسپی کا ذکر کیا اور پھر عظیم اور ایشور سے مشترکہ سوال کیا کہ کیا انڈو پاک میں بھی بندر پائے جاتے ہیں۔ معاملہ چونکہ انڈو پاک کے تقابل کا تھا لہٰذا عظیم کے بولنے سے قبل ہی ایشور نے انڈیا میں پائے جانے والے بندروں کی مختلف نسلوں کے بارے میں ایک تفصیلی تقریر کر ڈالی۔ ایشور کی یہ عادت تھی کہ وہ بات کو لفظوں کے ساتھ ساتھ اشاروں سے بھی واضح کرتا تھا تا کہ معانی کی ترسیل بخوبی ہوسکے۔ ایک شعر یاد آ گیا۔
ملے جو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی
عجیب چیز ہے یہ طولِ مدعا کے لیۓ
انڈیا میں پائے جانے والے بندروں کی مختلف نسلوں کی بنیاد ان کی دموں کی ساخت کے حوالے سے بتائی جانے لگی۔ اب ہر نسل کی دم کی شکل کی وضاحت کے لیے ایشور ڈیش بورڈ پر جھک کر اپنی ریڑھ تک ہاتھ لے جا تا اور پھر ہوا میں دم کی ساخت کا نقشہ کھینچتا۔ پیگی اس تفصیل سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے یکدم یہ اعلان کر دیا کہ وہ اپنی پسند کے اس جانور کی اس قدر نادر اقسام دیکھنے انڈیا ضرور جائے گی۔ ایشور کچھ خفا ہو گیا اور اُس نے گلہ کیا کہ یہ کہاں کی دوستی ہے کہ وہ اسے ملنے کے بجائے بندروں کو دیکھنے انڈیا آنا چاہے گی تو پیگی نے کہا
میں دیکھی ہوئی نہیں بلکہ ان دیکھی نسل کو دیکھنے کی بات کر رہی ہوں۔
اس روداد کی نقل عظیم کا توشہ خاص تھا۔ ایشور کی غیر موجودگی میں اردو مافیا کے چند ساتھی جب بھی اکٹھے ہوتے یہ آیٹم پیش کیا جاتا تھا۔
فاروق پٹھان تھا۔ ایک دفعہ قائم کردہ رائے یا کہی ہوئی بات میں کوئی تبدیلی اس کے نزدیک زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اقبال کہتا تھا کہ اسے دیکھ کر مجھے اپنے گاؤں کا ایک بزرگ غنی کاکا یاد آ جاتا ہے۔ غنی کاکا کے والدین اس کےبچپن ہی میں وفات پا گئے تھے۔ اس کا کوئی بہن بھائی بھی نہ تھا۔ وہ لڑکپن میں گاؤں چھوڑ کر کراچی چلا گیا۔ جب وہ گاؤں لوٹ کے آیا تو اس کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی۔ شادی اس نے نہیں کی تھی۔ بچائے ہوئے پیسوں سے اس نے اپنا آبائی گھر مرمت کیا اور جو تھوڑی بہت زمین تھی اسے آباد کیا۔ ایک دن اس نے گاؤں میں اعلان کیا کہ کل سے مسجد میں صبح کی اذان وہ دیا کرے گا۔ اگلے دن سے غنی کاکا نے یہ کارِ خیر باقاعدگی سے شروع کر دیا۔ وہ اذان تو بلا ناغہ دیتا تھا لیکن نماز ادا نہیں کرتا تھا۔ اذان کے فوراً بعد وہ گھر جا کر سو جاتا اور پھر اس وقت بیدار ہوتا جب گاؤں والے کھیتوں میں کام سے فارغ ہو کر واپس لوٹ رہے ہوتے ۔ آخرکار یہ معاملہ جرگے کے سامنے پیش ہوا۔ غنی کاکا نے دو ٹوک الفاظ میں بات ختم کر دی۔ میرا گاؤں والوں سے وعدہ اذان کا تھا جس پر میں قائم ہوں۔ رہا معاملہ نماز کا تو اس کا معاملہ اس سے ہو گا جو اس کی باز پرس کا حق دار ہے۔
راولپنڈی پولیس سے تعلق رکھنے والا ASI ندیم سٹولک پہنچنے کے ساتھ ہی اپنے بال بچوں کو اپنے پاس بلانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ کوئی ایک ماہ کی کوشش کے بعد اسے اس مقصد میں کامیابی حاصل ہو گئی۔ "پھولوں والی” کا وہ گھر جس میں کبھی شیوا اور پریم رہتے تھے، اب اس نے کرائے پر لے لیا۔ بھابھی ایک سادہ سی گھریلو خاتون تھی۔ اس نے آتے ہی ندیم کے ساتھ ان پیسوں کا حساب کتاب شروع کر دیا جو ابھی تک اس نے مشن میں کمائے تھے۔ ندیم نے اسے 90 ڈالر یومیہ کمائی کے حساب سے خرچ اور بچت کی تفصیل دی، لیکن اقبال نے جب بھابھی پر یہ انکشاف کیا کہ مشن میں پہلے ماہ 90 ڈالر نہیں بلکہ 120 ڈالر یومیہ تنخواہ ملتی ہے تو ندیم کی شامت آ گئی۔ اقبال کی اس دوست دار دشمنی کے صلے میں بھابھی کی طرف سے اس کے ساتھ ساتھ مجھے بھی تیسرے چوتھے دن کھانے کی دعوت ملنا شروع ہو گئی۔
جین اور پیگی کے جانے کے بعد سٹولک اسٹیشن کے ماحول میں پرانی خوش گوار فضا پھرسے لوٹ آئی تھی۔ اب میں صاحبِ حیثیت ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر تھا۔ سٹولک اسٹیشن کے ماحول کے ساتھ ساتھ یہ بوسنیا کے موسم میں بھی تبدیلی کا سماں تھا اور طیور کی زبانی آمد بہار کی اُڑتی سی خبر اب حقیقت ہو چکی تھی۔ پاکستان سے آنے والے نئے پولیس دستہ میں ہمارا ایک ساتھی DSP ساجد خان بھی شامل تھا۔ اسے Zenisa میں تعینات کیا گیا تھا۔ یادش بخیر 1988ء میں صوبائی مقابلہ کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے جو امیدوار DSP کے طور پر منتخب ہوئے تھے ان میں ساجد نام کے دو افسران شامل تھے۔ دونوں کے ناموں میں فرق پیدا کرنے کے لیے ہمارے ایک ساتھی عادل خان نے کم عمر ساجد کا نا م بھتیجا رکھ دیا۔ عادل خان نے تو ہمارے ساتھ تین ماہ گزارنے کے بعد اپنا گروپ تبدیل کر لیا اور EAC کا عہدہ سنبھال لیا، لیکن اس کی ایجاد کردہ یہ اضافت چھوٹے ساجد کے نام کا آج بھی مستقل حصہ ہے۔ بوسنیا آنے والا ساتھی بھتیجا نہیں بلکہ دوسرا ساجد تھا۔ ہنگو میں باقاعدہ تربیت کے آغاز سے پہلے پشاور میں پولیس لائن کے جس بلاک میں ہمیں ٹھہرایا گیا تھا، ساجد وہاں میرا روم میٹ رہا تھا۔ اس بلاک کے ارد گرد بلاکوں میں سپاہی تا انسپکٹر کے عہدے کے پولیس ملازمین رہائش پذیر تھے۔ افتخار نے طنزاً اس کا نام لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے وی آئی پی بلاک کے نام پربولٹن بلاک رکھا ہواتھا۔
ساجد اپنی پہلی ماہانہ چھٹی ہمارے ساتھ گزارنے کا وعدہ نبھاتے ہوئے سٹولک آ گیا۔ اس کے آنے سے نو سال قبل بولٹن بلاک کی چھت کے نیچے گزرے ہوئے دنوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ میرا نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور یوں مرزا کے اس خیال پر مہر تصدیق ثبت کی
غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست
ساجد کے آنے پر اس نے ایک خصوصی شخصیت سے ہماری ملاقات کا انتظام کیا۔ اُس شخصیت کا نام میرو تھا۔ وہ چپلینا کےنواح میں ایک قصبے میں رہتا تھا۔ مارشل ٹیٹو کی موت اس شخص کی شہرت کا باعث بنی۔ اس نے اپنے قائد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اس کی وفات پر چپلینا سے بلغراد تک پیدل سفر اختیار کیا تھا۔ اس سفر کی یادداشتوں کو اس نے ایک ڈائری کی شکل میں محفوظ کر رکھا تھا۔ سفر کا آغاز اس نے 11 مئی 1980ء کو کیا۔ وہ 621 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے بلغراد پہنچا۔ اس وقت اس کی عمر 37 برس تھی۔ اگرچہ اب معاملہ، وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی، والا تھا لیکن اس کی زندہ دلی پیرانہ سالی کے اثرات سے مکمل طور پرمحفوظ تھی۔ اپنے سفر کی روداد سناتے ہوئے اس نے لوگوں کی طرف سے کیے جانے والے استقبال کا تفصیل سے ذکر کیا اور آہ بھرتے ہوئے بتایا کہ بعض جگہوں پر سرب عورتوں کا جوش و خروش دیکھتے ہوئے اسے ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان میں سے ہر ایک اس سے رشتہ ازدواج استوار کرنے کی خواہش مند ہے۔ ترجمے کے اس موڑ پر میرو کے تاثرات اور میرا کا قہقہہ یہ بتا رہے تھے کہ رشتہ ازدواج کی جگہ کچھ اورلفظ یا ترکیب استعمال کی گئی تھی۔ ایسی "کچھ” کہ جس کی پردہ داری ضروری تھی۔
اس کی پہلی بیوی اسے چار بیٹیاں دے کر تقریباً جوانی ہی میں چل بسی تھی۔ دوسری شادی ایک لمبے وقفے کے بعد اس نے 1989ء میں کی تھی۔ جب اس بیوی سے اس کی پہلی بچی پیدا ہوئی تو اس وقت اس کا ایک نواسہ بھی صاحب اولاد تھا۔ دوسری بیوی کی دن بہ دن گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے وہ بڑا پر امید تھا کہ اسے تیسری شادی کا موقع بھی جلد ہی ملنے کو ہے۔


