محبت سرحدوں سے ماورا ہے


اگست کی ایک خوبصورت سہ پہر اور حسب معمول اپنے عقبی لان کے عرشہ پر بیٹھا پرانے گیتوں سے خوبصورت اور خوشگوار موسم سے محظوظ ہو رہا ہوں۔ حد نگاہ گھنے درخت، مغرب میں ڈھلتے سورج کی روپہلی کرنوں سے سبز اور اجلے پتوں پر ایک عجیب سی رعنائی چھلک رہی ہے۔ ایک ماہ بعد زرد، سرخی مائل اور پیلے پتے سبز پتوں کی جگہ لے لیں گے اور پھر چند دنوں میں یہ پتے بھی درختوں کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ ملنا اور مل کے بچھڑنا زندگی کا کھیل۔ ”دو لفظوں کی ہے دل کی کہانی“ یہ گیت بج رہا ہے۔ ”محبت اپنے سوا تمہیں کچھ نہیں دیتی اور اپنے سوا تم سے کچھ نہیں لیتی۔ محبت کسی پر قبضہ نہیں کرتی اور محبت پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ محبت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ محبت ہے“ ۔

کل صبح میری ملاقات ایک بزرگ کیون (کے ون) سے ہوئی۔ اس کی سچی محبت کے بارے میں سوچتے ہوئے یہ یقین ہو گیا کہ محبت تو ایک پھول کی مانند ہوتی ہے جس کا نہ کوئی وطن، نہ سرحد، نہ نسلی تفریق۔

میں کیون سے اپنی ملاقات کا ذکر کر رہا تھا۔ اپنے معمول کے میڈیکل چیک اپ کے لیے کلینک گیا تو انتظار گاہ میں کافی رش تھا۔ ایک خالی کرسی دیکھی جس کے برابر میں ایک بزرگ اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ان سے ہیلو ہائے کیا اور کرسی پر بیٹھنے کی اجازت طلب کی کہ کوئی اور تو نہیں بیٹھا ہوا جو ممکن ہے کاؤنٹر پر گیا ہو۔ بزرگ نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کے لئے کہا۔ میں نے شکریہ ادا کیا۔ انتظار گاہ میں بسا اوقات ایک سے دو گھنٹے لگ جاتے ہیں اور آج کافی رش تھا۔ بوریت سے بچنے کے لیے بزرگ سے بات چیت شروع کی، اپنا تعارف کرایا اور پھر کیون نے اپنا تعارف۔ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ رسمی ہیلو ہائے کے بعد اس نے اپنی زندگی کی کتاب کے کچھ اوراق پلٹنے شروع کیے۔

لگ بھگ ستاون برس قبل کالج میں میری ملاقات ڈونا سے ہوئی۔ پھر آہستہ آہستہ قربتیں بڑھنے لگیں۔ ہم دونوں اکثر کالج کے کیفے ٹیریا میں گرم کافی سے لطف اندوز ہوتے اور بہت ساری باتیں کرتے، کبھی کالج سے متصل پارک میں جا کر بچوں کی طرح جھولوں سے محظوظ ہوتے، کبھی گھاس پر ہاتھوں میں ہاتھ لیتے ہوئے دور تک چہل قدمی کرتے۔ اپنے مستقبل کے خواب بنتے، سپنوں کے محل تعمیر کرتے۔ اسی اثنا میں چار سال بیت گئے۔ ہم دونوں نے ڈگری حاصل کرلی، اور پھر دونوں کو اچھی نوکری بھی مل گئی۔ ہم دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا اور چرچ میں جا کر ایک دوسرے کو جیون بھر کا ساتھی بنا لیا۔ ہمارا ہر دن عید اور رات شب برات کی طرح گزرنے لگی۔ اور پھر ایک سال بعد ہمارے آنگن ایک ننھی پری سارہ کی امد ہوئی۔ ہم بہت خوش تھے۔ اور پھر دو سال بعد انتھونی کی امد ہو گئی۔ اب تو ہم اور بھی خوش تھے۔ وقت کا پہیہ اپنی برق رفتاری سے گھوم رہا تھا۔ پھر یہ دونوں بھی اپنے اپنے گھر آباد کر کے ہم سے رخصت ہو گئے۔ کیون ایک توقف کے بعد اپنی کہانی جاری کرنے لگا تو نرس نے کیون کا نام پکارا اور اپنے ساتھ مریضوں کے کمرے میں لے گئی۔ سارہ جو اپنے بابا کی کہانی کے دوران ماضی کی اپنی اور بھائی کی شرارتوں کا ذکر بھی کرتی اور چہروں پر مسکراہٹ بکھر جاتی۔ انتظار گاہ کا کوفت زدہ ماحول کافی خوشگواری میں بدل چکا تھا۔ کیون کے جانے کے بعد سارہ نے والدین کی محبت کی کہانی کا تسلسل برقرار رکھا۔

سارہ کچھ روہانسی سی ہو گئی، بات کو جاری رکھتے ہوئے روندھی آواز کے ساتھ بتانے لگی کہ ایک دن اماں نہا کر نکلی اور جیسے ہی اپنے کمرے میں آئی دھڑام سے گری۔ ابا کمرے میں موجود تھے، بجائے کہ ایمرجنسی کال کرتے، ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر اماں کو ہاتھوں میں اٹھایا اور اپنی کار میں ڈالا اور فلشنگ لائٹس ان کر کے تیزی سے ہسپتال پہنچ گیے جو کہ اتفاق سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ ہسپتال کے عملہ نے بغیر کسی تاخیر کے فوراً ایمرجنسی روم لے گئے۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ غم ناک خبر سن کر ہم سب ایک لمحہ کی لیے تو سکتے میں آ گئے، ہماری دنیا سے ایک پیار اور شفقت کرنے والی ہستی ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا۔ ابا بھی گم سم۔ ”میرا جیوں ساتھی بچھڑ گیا لو ختم کہانی ہو گئی۔“

تمام رشتے دار تعزیت کے لئے اکٹھے ہوئے، رسمی کارروائی کے بعد کفن کے مراحل اور پھر قبرستان میں تدفین۔ ابا ایک دم بہت خاموش ہو گئے۔ آنکھوں میں ایک آنسو بھی نہیں تھا۔ تدفین کے بعد سب ابا کے گھر اکٹھے ہوئے اور اماں کی خوبصورت یادوں سے آنکھیں تر کرتے رہے۔ سب نے جیسے تیسے تھوڑا بہت کھانا زہر مار کیا۔ کافی کا دور بھی چلا۔ باتوں باتوں میں رات کے گیارہ بج گئے۔ اچانک ابا کی نحیف سی آواز ابھری کہ مجھے قبرستان لے چلو۔ ہم ایک دوسرے کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگے اور ابا کو سمجھانے لگے کہ رات ہو چکی، قبرستان بھی بند ہو جاتا ہے، لیکن ابا کا اسرار برقرار۔ ہم نے قبرستان کی انتظامیہ کو فون کیا اور انھیں صورت حال سے اگاہ کیا، کچھ توقف کے بعد ہماری درخواست قبول کر لی گئی۔ ہم سب ابا کو لے کر قبرستان پہنچے، انتظامیہ نے قبر تک ہماری رہنمائی کی۔ ابا کچھ دیر گم سم قبر کو دیکھتے رہے اور پھر آنسوؤں کی برسات، ہم سب بھی رنجیدہ تھے، انسو کب رکتے۔ پھر ابا گلوگیر آواز کے ساتھ قبر کی طرف دیکھتے ہوئے اماں سے باتیں کرنے لگے۔

ڈونا، ہم ہمیشہ ساتھ رہے، دکھ سکھ، کرسمس، ایسٹر، تھینکس گیونگ، ہر تہوار پر ہم ساتھ ساتھ رہے، ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو اسی وقت معاف کر دیتے تھے، اپنے اختلاف کو کبھی طول نہیں دیا تھا۔ بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ہم نے مل کر بچوں کی پرورش کی، گھر کو مل کر بنایا۔ ابا کی آنکھوں میں محبت کے انسو تھم نہیں رہے تھے، جیسے شاید پورا ساون آج ہی برسے گا۔ ڈونا آج میں نے تمہیں الوداع کہہ دیا، اپنے ہاتھوں منوں مٹی میں دفن کر دیا۔ لیکن آج میں بہت خوش ہوں کہ تم مجھ سے جدا ہو گئی۔ تم نے بچھڑنے میں پہل اس لئے کی کہ شاید تم میری جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر پاتی۔ تمہاری جدائی کا غم مجھے ہی سہنا تھا۔ تمہاری تکلیف اور دکھ مجھے بھی تو گوارا نہ تھا۔ تمہاری چھوٹی سی تکلیف پر بے چین ہو جایا کرتا تھا۔ تمہاری چاہت ہی میری زندگی تھی۔ میں تمہیں بھلا تکلیف دے بھی کیسے سکتا تھا۔ ابا پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے، دل کا غبار ہلکا کرتے رہے۔ پھر ہم گھر لوٹ آئے۔ اس رات ہمیں بھی احساس ہوا کہ محبت صرف دو جسموں کے ملاپ کا نام نہیں، دو روحوں کا سنگم، دو دلوں کا ملاپ کا نام۔ زندگی بھر ساتھ نبھانے کا نام۔ اسی دوران نرس نے میرا نام پکارا اور میں بھیگی آنکھوں سے سارہ کو خدا حافظ کہہ کر نرس کے ساتھ ڈاکٹر کے کمرے میں چلا گیا۔

” ساتھ چھوٹے نہ کبھی تیرا یہ قسم لے لوں
ہر خوشی دے کے تجھے تیرے صنم غم لے لوں ”

قرآن پاک میں زوجین کو ایک دوسرے کا لباس ایسے تو نہیں کہا گیا۔ زوجین کی قربت اور سچی محبت سے معاشرے میں محبتوں اور چاہتوں کے پھول کھلتے ہیں۔

اور اگر زوجین میں ہی محبت نہ ہو تو پھر تھوہر کے درخت سے گلاب کے پھول تو نہیں کھل سکتے۔
بے شک محبت کا کوئی وطن نہ سرحد، نہ رنگت، بس صرف محبت ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS