چترال کے احوال
دیو مالائی کہانیوں کا وہ طلسمی مسکن جہاں جاکر شہزادہ کسی پری کے زلفوں کا اسیر ہو جاتا ہے چترال کے علاوہ کوئی دوسری جگہ نہیں ہو سکتی۔ پربتوں میں گری گہری وادیاں صرف پریوں اور شہزادوں کا ہی مسکن نہیں یہاں فرید الدین عطار کا سیمرغ اپنے منطق کی کھوج میں آتا ہے تو یورپ سے آ کر سنہرے پروں والا میون {گولڈن اورئیل} بھی اپنی محبوبہ سے مترنم گفتگو یہی آ کر کرتا ہے۔ ہندوستان کی مینا بھی یہی آ کر بس گئی ہے تو نہ صرف آرمینائی خوبانی نے کوغزی کو اپنا مسکن بنایا ہے بلکہ وسطی ایشیا کا رس بھرا پھل ناشپاتی بھی شوگری کہلاتا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ کشمیر مارخور بھی یہیں پر رہتا ہے۔ کسی نے پرستان دیکھنا ہو تو بمبوریت میں جاگتی انکھوں دیکھ سکتا ہے اور کسی کو فیض کی نظم بربط و نے کی معرفت جاننی ہو تو سنوغر کے ملنگ زیرک کا نغمہ ستار کی لے پر چنار کے درخت کے سائے میں بِیٹھ کرسنے تو سمجھ میں آ جاتا ہے کہ ہاتھوں کی سلامتی اور خون میں حرارت کا راز کیا ہے۔
دیکھنے میں ہنستے بستے جیتے جاگتے چترال کے دکھ بھی کربناک ہیں۔ چاروں طرف بلند و بالا پہاڑوں میں گرے چترال کو دنیا سے ملانے کے لئے بنائی گئی صرف 12 کلومیٹر لمبی سرنگ کی کھدائی میں نصف صدی گزر گئی۔ اب ایک سڑک بنانا ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے کھنڈرات کا نمونہ پیش کر رہی ہے مگر بننے میں نہیں آتی کبھی ٹھیکہ دار غائب تو کبھی فنڈ ندارد۔ پورے چترال میں ندی نالوں کی فراوانی کے باوجود ماسوائے ایک غیر سرکاری ادارے کے سرکار کی طرف سے بجلی مقامی لوگوں کے لئے پیدا ہی نہیں کی گئی۔ تیس سال تک فریاد کرتے رہنے کے بعد اب کہیں جاکر چترال کو انتظامی طور پر دو اضلاع میں تقسیم تو کیا گیا ہے مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے ایک ایک نشست ہے۔ اس پر بھی مذہبی ٹھیکہ داروں کا قبضہ ہے جو اسمبلیوں میں عالم اسلام اور امہ کی باتیں تو کرتے ہیں مگر چترال کی سڑک، بجلی، سکول ہسپتال اکثر بھول جاتے ہیں۔ یہاں چھوٹی سے چھوٹی ملازمت کے لئے پشاور سے لوگ براہ راست بھرتی ہو کر آتے ہیِں تو ایسے میں مقامی لوگوں کے لئے روزگار کی تلاش میں ہجرت کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔
چترال کے لوگ فطرتاً بہت معصوم اور بھولے بھالے ہوتے ہیں جن کی اس معصومیت سے باہر کے لوگ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چترال سے باہر کے لوگ یہاں آ کر مقامی لڑکیوں سے شادی کر کے لے جاتے ہیں اور پھر ان خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ اگر چترال کی مقامی عدالت میں ایک دن گزار کر کوئی روزانہ مقامی خواتین کی طرف سے دائر مقدمات کا جائزہ لے تو انتہائی دردناک کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ ایک مقامی انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل نے راقم کو لسٹ دکھائی جس کے مطابق روزانہ دس سے پندرہ ایسے مقدمات لگتے ہیں جن میں مقامی خواتین نے اپنے غیر مقامی شوہروں کے خلاف نالش کی ہوتی ہے۔ کئی خواتین تشدد کا شکار ہو کر جان سے گئی ہیں تو کئی ایک نے خود کشی کو ترجیح دی ہے۔ مگر حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اب اس بارے میں شعور اور آگاہی میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے مقامی خواتین کے ساتھ پولیس، انتظامیہ اور مقامی اکابر کو اطلاع دیے بغیر شادی نہیں کی جا سکتی ہے۔ چترال پریس کلب نے ایک ہیلپ لائن بھی مقرر کر رکھی ہے جو مصیبت زدہ خواتین کو تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور وکلاء کے تعاون سے مدد فراہم کرتی ہے۔ مگر بردہ فروشی کا مافیا بہت مضبوط ہے جس کی بیخ کنی لئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے زیادہ وسائل درکار ہیں جو مقامی رضاکاروں کو دستیاب نہیں۔
چترال کے اصل باشندے کیلاش کے لوگ جو اپنی مخصوص رہن سہن، بود و باش اور ثقافت کی وجہ سے منفرد ہیں وہ کبھی پورے چترال کے مالک ہوا کرتے تھے اب چند ہزار نفوس تک محدود ہوچکے ہیں۔ اپنی عاقبت کی فکر کرنے کے بجائے دوسروں کو جنت کا راستہ بتانے کے شوقین کچھ نام نہاد مذہبی ٹھیکہ داروں کا وادی کیلاش کا نام کافرستان رکھ کر تبلیغ دین اور یہاں کے لوگوں کی تبدیلی مذہب گویا ایک مقدس فریضہ بن گیا ہے۔ پہلے زمین چھین کر ان لوگوں سے پہچان چھین لی گئی اب تبدیلی مذہب کے ساتھ ہی ان سے زبان اور لباس کو بھی ترک کروا دیا گیا۔ قدیم ثقافت کے امین داردی قبیلے کے یہ لوگ کچھ ہندوستان کے زیر انتظام کارگل کے بٹالک سیکٹر اور کچھ یہاں کیلاش میں رہ گئے ہیں جن کی زبان، ثقافت اور عقائد معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
عالمی موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات یوں تو پوری دنیا اور پاکستان کے ہر حصے میں نظر آتے ہیں مگر یوں لگتا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے چترال قدرتی آفات کا بھی مسکن ٹھہرا ہے۔ زلزلہ، سیلاب اور گلیشئر پگھلنے اور پھٹنے سے ہونے والی ہر تباہی نے چترال کو متاثر کر رکھا ہے۔ لواری سے شندور تک کوئی گاؤں ایسا نہیں جو دریا کے کٹاؤ یا بارشوں میں پہاڑوں سے آنے والے سیلاب سے متاثر نہ ہوا ہو۔ ”کے سیلاب نے وادی کیلاش کو نابود کرنے کے علاوہ نگر اور چترال کے مضبوط قلعوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ویسے تو دریائے چترال نے گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیے ہیں اور یہ سلسلہ رکا نہیں۔ کچھ ایسے گاؤں دیکھنے اور لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا جو دریا کی بے رحمی کا شکار تو ہوئے ہی ہیں مگر بربادی گلستان میں ان کا اپنا بھی قصور ہے۔
ریشون بھی ایک ایسا ہی گاؤں ہے جس کو ایک طرف دریائے چترال کی بے رحم موجوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف گاؤں کی نرم اور زرخیز مٹی روایتی آب پاشی کے طور طریقوں کی وجہ سے کٹ کٹ کر دریا میں بہہ رہی ہے۔ گاؤں کے لوگ چاول کی کاشت کرتے ہیں جس کے لئے مئی سے اکتوبر تک مسلسل پانی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاول کی کیاریوں اور کھیتوں میں کھڑا پانی زمین کے اندر جذب ہو کر گاؤں کے کے دریا کی طرف کے عمودی حصے سے مٹی سمیت بہہ کر تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ ریشون ہی نہیں مستوج کے چنار گاؤں میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے جہاں گاؤں میں پانی کی زیادتی کی وجہ سے ہموار زمین کیچڑ بن گئی ہے اور نمکیات کی وجہ سے سفیدی نظر آتی ہے۔ اس گاؤں میں بھی چاول کی کاشت ہوتی ہے جس کے لئے زیادہ پانی دیا جاتا ہے جو عدم نکاسی کی وجہ سے گاؤں کی زمین کے کٹاؤ کا باعث بن رہا ہے۔
جب میں نے یہ بات سوشل میڈیا میں لکھی تو چترال کے دوستوں نے بتایا کہ کئی دوسرے بھی ایسے گاؤں ہیں جو آبپاشی کے لئے دیے جانے والے پانی کی زیادتی کی وجہ سے آہستہ آہستہ کٹ رہے ہیں۔ دریا کا کٹاؤ بھی ایک حقیقت ہے جس کو دیوار بنا کر محفوظ کیا بھی جائے تو جب تک گاؤں کی طرف ہونے والے کٹاؤ کا تدارک نہ کیا جائے چترال کے یہ خوبصورت گاؤں بچائے نہیں جا سکتے۔
چترال کے لوگوں سے مجھے ایک اور بھی شکایت ہے کہ یہاں سے گزرنے والے موسمی پرندوں خاص طور پر مرغابیوں کا بے دردی سے شکار کیا جاتا ہے۔ دریائے چترال کے کنارے سائبیریا سے ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کا انتظار کیا جاتا ہے اور جیسے ہی پانی میں اترتے ہیں یلغار کی جاتی ہے۔ دریائے چترال کے کنارے بندوقیں ہاتھ میں پکڑے لوگوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ اس قدر فطرت کے انتقام کا خود ہی شکار ہونے کے باوجود بھی انسان نے یہ نہیں سیکھا کہ دھرتی سب کا مشترکہ مسکن ہے یہاں کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں۔ کہیں پر ہماری اپنی بربادی اور تباہی میں اپنے ہاتھ میں پکڑی بندوق بھی ذمہ دار ہے۔ ہم جن جانوروں اور پرندوں کو بلا وجہ مارے جا رہے ہیں وہ بھی نظام فطرت کے تقاضوں کا اہم حصہ ہیں جن کی عدم موجود گی میں نظام بگڑ کر انتقام پر اتر آتا ہے جس کا ہم خود ہی شکار ہو جاتے ہیں۔
اپنی مخصوص ثقافت، لسانی انفرادیت اور منفرد طرز زندگی کے آمین متنوع چترالی تمدن کو ہی اکیسویں صدی کی عالمگیریت کے مسائل کا سامنا نہیں بلکہ یہاں کے فطری ماحول کو بھی موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات درپیش ہیں۔ ان خطرات سے نکلنے کے لئے چترال کو نہ صرف ریاست، حکومت، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے بلکہ چترال کی ثقافت، انفرادیت اور فطری حسن سے محبت کرنے والے افراد کی انفرادی مدد کی بھی سخت ضرورت ہے۔


