ایک غازی بنا، ایک شہید!
ایسا پہلے بھی ہوا ہے کہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن سارے الفاظ آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ کہیں دہشت ہے، کہیں خوف ہے، کہیں احتیاط ہے۔ کہیں لکھتے لکھتے قلم پھسل نا جائے اور وہ کہہ دوں جو نہیں کہنا چاہیے۔
اچھا! ہمت کرتی ہوں۔
جہاں عمران ریاض کی واپسی پہ خوشی کی انتہا نہیں رہی، وہیں اگلے ہی لمحے ان کی کمزور اور پژمردہ سی تصویر نے دل دہلا کے رکھ دیا۔ ایسی گرج برس، ہمت و جذبہ رکھنے والا شخص کس حال کو پہنچا دیا۔ ابھی تو خوشی میں دوست و احباب کو خبر دے رہی تھی کہ کوئی رہ نا جائے جسے عمران ریاض کی واپسی کا پتا نا ہو۔ اس کے ساتھ ہی اس تصویر نے دل کو خون کے آنسو رلا دیا۔ دل کے آنسو دل پہ گرتے ہیں، آنکھ سے نہیں نکلتے۔ نہ جانے اس حال میں دیکھ کر گھر والوں پر کیا بیتی ہو گی۔ اور جو خود اپنی جان پہ یہ سب سہتا رہا، اس کے بارے میں تو سوچنا بھی عبث ہے۔ آہستہ آہستہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ ان کی زبان میں لکنت آ گئی ہے۔ وہ ٹھیک سے بات نہیں کر پا رہے۔ آخر ایسا کیا کیا گیا؟ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ بادلوں جیسی گھن گرج رکھنے والے کی قوت گویائی کو نشانہ بنایا گیا۔ عمران ریاض نے کہا تھا، "سوال پوچھیں گے۔ جواب مانگیں گے۔” کہیں یہ سوال پوچھنے کی سزا تو نہیں؟ اس نے کہا تھا میرا ملک ہے، میں فیصلہ کروں گا۔ کہیں فیصلے کا اختیار چھیننا تو مقصود نہیں؟
عمران ریاض کی واپسی پر ارشد شریف کی یاد نے بھی عجیب مضمحل کر دیا۔ ارشد نے بھی تو سوال ہی پوچھا تھا کہ وہ کون تھا۔ آخر وہ کون ہے جو زمین پر خدا بنا بیٹھا ہے؟ آخر وہ کون ہے جو زمین پر زندگی اور موت کے فیصلے کر رہا ہے؟ آخر سوال پوچھنے کی اجازت کب ملے گی؟ آخر حب الوطنی کی اتنی بڑی سزا کیوں ہے؟
محب وطن آخر ہے کون؟ جو اس کی زمین پر غرور اور طنطنہ سے چلتا ہے، راستہ میں آنے والوں کو پیروں تلے روندتا ہے، یا پھر وہ، جو اس کی حرمت کی حفاظت کرتا خود اس کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ وہ، جو غداری کے ٹھپے لگاتا ہے یا پھر وہ، جو اس سرزمین کی خاطر زنداں میں قیدِ تنہائی قبول کرتا ہے۔
پانچ ماہ گھر والوں سے دور، چاہنے والوں سے دور، میڈیا سے دور اور سورج کی روشنی سے دور رہ کر عمران ریاض نے تو بتا دیا کہ وہ کس قدر ہمت، جرأت اور شجاعت والے ہیں۔ لیکن ان پر ظلم کرنے والے کی ہمت کی بھی داد دینی پڑے گی۔ اتنا ظلم کرنے کے لیے بھی پتھر جیسا دل چاہیے۔ اللہ نے جب انسان کو بنایا تو اس کے دل میں محبت اور نرمی ڈالی۔ اسے سخت پتھر بنانے کی ریاضت انسان نے خود کی اور کامیاب بھی ہوا۔
ارشد شریف کو دیارِ غیر میں بے سروسامانی کی کیفیت میں موت کے گھاٹ اتار دینا بھی کسی عام انسان کے بس کا کام نہیں۔ ایک کو شہید کر کے اور ایک کو لاغر کر کے واپس بھیج کر کوئی تو پیغام دیا جا رہا ہے، کوئی تو اشارہ دیا جا رہا ہے۔ میں کوئی محب وطن نہیں ہوں۔ یہ وطن خود سے محبت کرنے والوں کی حفاظت نہیں کرتا۔ محبت کرنے والے ارشد شریف بنتے ہیں یا عمران ریاض۔
اس وطن کی محبت میں ایک شہید ہوا ایک غازی بنا۔ کاش! واپسی کا رستہ کھلا چھوڑتے تو ارشد شریف بھی واپس آ جاتا۔ لیکن یہ سر زمین شہیدوں کی سرزمین ہے۔ شہید کا خون ہم اپنے ماتھے پر سجاتے ہیں۔ کیونکہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ جبکہ غازی واپس آتا ہے تو جیت کر آتا ہے۔ کوئی ڈیل کر کے نہیں آتا۔ ڈیل کرنے والے ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں بنتے۔ ڈیل کرنے والوں کی زبان میں لکنت نہیں آتی۔ آپ اس عوام سے ڈیل کیجیے۔ سوال پوچھنے کی اجازت دیجیے۔ وطن سے محبت دشوار نا بنائیے۔ کیونکہ ہم بحیثیت قوم دشوار کام چھوڑ دیا کرتے ہیں۔


