اکمل حنیف کا پہلا شعری مجموعہ "ردِعمل”
جارج برنارڈ شا نے کہا تھا کہ بہت سمجھدار ہوتے ہیں وہ لوگ جو زمانے کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں اور حالات اور زمانے کی سجھائی ہوئی راہوں پر گامزن رہتے ہیں۔ زمانہ انھیں عقلمند، سمجھدار اور سیانا کہتا ہے۔ اور بہت بے وقوف اور دیوانے ہوتے ہیں وہ لوگ جو زمانے کی متعین کردہ راہوں پر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اور خود کو زمانے کے مطابق نہیں ڈھالتے۔ زمانہ انھیں پاگل، دیوانہ اور اس جیسے نجانے کیسے کیسے القابات سے نوازتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ دنیا کی تمام تر رنگینیاں و رعنائیاں انھی دوسری قسم کے لوگوں کی مرہون منت ہے۔
اکمل حنیف کی غزل میں مجھے جا بجا یہی آشفتگی فریفتگی و وارفتگی نظر آتی ہے جو دوسرے قسم کے لوگوں میں ہوتی ہے۔
ایک شعر ملاحظہ ہو
آنکھیں دکھا رہی تھی مجھے سر پھری ہوا
رکھنا پڑا چراغ جلا کے منڈیر پر
اکمل حنیف کو میں ایک چونکا دینے والا شاعر سمجھا ہوں، ان کے بہت سے اشعار قاری کو چونکنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور وہ حیرت کے جہان میں گم ہو جاتا ہے۔ اکمل حنیف کے بہت سے اشعار پڑھ کر میں بھی چونک کر رہ گیا اور سوچنے لگا یہ سب کچھ تو میرے دل کی بھی آواز ہے، میں بھی تو یہی کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن شاید میں مناسب ترین الفاظ کشید نہ کرنے کے سبب اپنے جذبے کو آواز نہ دے سکا۔
انہیں سونپا گیا ہے کام خوابوں کو سجانے کا
کہاں ہوتا ہے آنکھوں کو بھلا تعبیر سے مطلب
ہمارے مسئلوں کا حل اگر ممکن نہیں تو پھر
ترے جلسوں، ترے دعوؤں، تری تقریر سے مطلب
دنیا کا ہر تخلیق کار تنقیدی سوچ (کریٹیکل تھنکنگ) کا حامل ہوتا ہے۔ وہ کائنات اور اس میں بکھرے اجسام و عناصر اور ان کے رویوں کو ویسے نہیں دیکھتا جیسے عام لوگ دیکھتے ہیں وہ ویسے نہیں سنتا جیسے عام لوگ سنتے ہیں، وہ ویسے نہیں سوچتا جیسے عام لوگ سوچتے ہیں۔ اس کے سوچنے سمجھنے، ردعمل کرنے کا طریقہ بالکل مختلف اور جدا گانہ ہوتا ہے۔ اس کے اسی رویے کی بنیاد پر اس کے تخلیقی رتبے کا تعین ہوتا ہے۔
جی حضوری، واہ واہ، کیا کہنے، کمال کر دیا، آپ جیسا کوئی نہیں، بے مثال، خوب است، شاندار یہ وہ میٹھے زہر کی گولیاں ہیں جو ہنستے ہنستے دی جاتی ہیں اور یار لوگ انہیں مسکراتے ہوئے نگل لیتے ہیں مگر اکمل حنیف کی تنقیدی سوچ کا غماز یہ شعر بھی دیکھ لیجیے۔
منافقت سے بھرا ہوا ہے وہ آخری حد تک
جو بات بات پہ مرشد، حضور بولتا ہے
غالب نے اپنے محبوب کی جفا اور سادہ دلی کا ایسا عجیب نقشہ کھینچا کہ الفاظ دل کی گہرائیوں میں اترتے محسوس ہوتے ہیں۔
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
اکمل حنیف کا بھی ایک شعر ملاحظہ ہو کہ جو مرزا نوشہ کے شعر کا سا مزہ دیتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
سنا ہے ہاتھ اپنے کاٹ ڈالے تھے ندامت میں
مرا قاتل ہوا تھا جب مرے افکار سے واقف
زندگی کی کٹھن مسافتوں کو آسانی سے بیان کر دینے کا فن اکمل حنیف خوب جانتے ہیں وہ کٹھن راستوں کے مسافر ہیں اور کٹھن راستوں کی دقتوں کے سامنے پوری ہمت اور پورے قد کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ بتا رہے ہیں۔
گرے ہیں جو مرے اطراف میں پتھر
مرے پھل دار ہونے کی نشانی ہے
مجھے اکمل حنیف کی شاعری میں فطری نشوونما اور بے ساختگی کا عنصر نمایاں نظر آیا ہے۔ انہوں نے جو کچھ بھی لکھا فطرت کے بہت قریب رہ کر لکھا اپنی سوچ پر پہرے نہیں لگائے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کوتاہ فکری کا شکار نہیں ہوئے۔ اس لیے ان کی شاعری میں گل و بلبل، شمع و پروانہ، ساقی و جام، میخانہ، وہ قمار خانہ، زندان و محتسب جیسے الفاظ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کی غزل نئے عہد کی نئی لفظیات گاؤں، شہر ہجرت، سفر، شجر، پیڑ، گھر آنگن، سایہ، دیوار، جیسے لسانی پیکروں سے بھرپور ہے
شعر ملاحظہ ہو۔
کات ڈالو مری شاخوں کو مگر دھیان رہے
تم نے اک عمر گزاری ہے مرے سائے میں
اکمل حنیف کی غزل شیفتگی غم گساری، بہی خواہی، اخوت، خودداری، احترام و آدمیت نفی استحصال، جرات اظہار اور حق پرستی جیسی اعلی انسانی اقدار کی آئینہ دار ہے۔
وہ ہواؤں سے جا ملا آخر
خوف تھا میری روشنی سے جسے
احساس تنہائی اپنی شدت کی وجہ سے جب روح فرسا ثابت ہو رہی ہو تو وجود میں شکست و ریخت کا عمل انتہائی تیز ہو جاتا ہے وہ اسے بکھرنے سے بچانے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر اس کی کوشش اکارت جاتی ہے اور وہ اپنی جملہ کوششوں سے دستبردار ہوتا دکھائی دیتا ہے اور کہتا ہے۔
اپنے سائے سے جب ہوئی وحشت
ہم دیے کو بجھا کے بیٹھ گئے
اک اذیت ہے یہ خموشی بھی
اس لیے روز چیختا ہوں میں
جرمن فلاسفر شوپنہاور نے زندگی کی تکالیف موت اور خودکشی جیسے موضوعات کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مقام پہ بڑی حکیمانہ بات لکھی۔
When the horrors of life outweigh the horrors of death, man commits suicide.
لیکن اکمل حنیف نے جو مضمون باندھا وہ بھی ملاحظہ ہو
ویسے تو زندگی ہے مری موت سے بری
لیکن کبھی کروں گا نہیں خودکشی جناب
اکمل حنیف انسانی رشتوں کا قدردان ہے وہ ماں، باپ، بہن، بھائی، بیٹے، بیٹیوں اور شریک حیات جیسے انمول رشتوں کو اپنی شاعری کا موضوع بناتا ہے اور محبت کے سمندر میں غوطہ زن دکھائی دیتا ہے
اور آخر میں میں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ اکمل حنیف کی شاعری میں دکھ درد اور مسائل کا ذکر بار بار ملتا ہے اس کا مطلب کہیں بھی ایسا نہیں کہ وہ حالات سے مایوس ہو گیا ہے۔ یہ نالہ و فریاد تو اسی بات کی دلیل ہے کہ اس کی امیدوں کا چراغ ابھی روشن ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ ان ناہمواریوں پہ شدید کرب کا شکار ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنی کتاب کا نام ”رد عمل“ رکھا ہے اکمل حنیف اور ان کی فنی فکری زندگی کے لیے بہت سی دعائیں۔
آئیے اب ردعمل سے مزید کچھ اشعار پڑھتے ہیں
سہولت دو مجھے دیوار کی تم
میں اپنے غم سنانا چاہتا ہوں
____________________
اس سے پہلے کہ ہم بکھر جاتے
ٹیک خود سے لگا کے بیٹھ گئے
____________________
باندھے تھے اک مزار پہ منت کے واسطے
اس شوخ کے پراندے سے دھاگے نکال کر
____________________
یوں ترے رزق میں تخفیف بھی ہو سکتی ہے
اپنے آنگن سے پرندوں کو اڑانے والے
____________________
اب کوئی بوجھ بھی لگتا نہیں بھاری مجھ کو
میں نے بیٹے کے جنازے کو اٹھایا ہوا ہے
____________________
عشق پہلا ہی اخری ہو گا
دوسرا تیسرا نہیں کرنا
____________________
میرے دل! ان سے وفاؤں کی توقع مت رکھ
یعنی دشمن سے دعاؤں کی توقع مت رکھ
____________________
یہ کہیں چھوڑ کے جانے کا اشارہ تو نہیں
کر رہے ہو جو مرے ساتھ سفر کی باتیں
____________________
آج میں ایسی بلندی پہ کھڑا ہوں اکمل
سر اٹھا کر مجھے تکتے ہیں گرانے والے
____________________
چھوٹے بچے خوش تھے مہماں دیکھ کر
گھر میں رکھا تھا جنازہ باپ کا
____________________
ہم بھی محفل میں تری رونق محفل ہوتے
ہم کو آیا ہی نہیں یار منافق ہونا
____________________
لوگ لوگوں سے ضرورت کے سبب ملتے ہیں
ایک ہم ہیں جو محبت کے سبب ملتے ہیں۔


