حفاظتی آلات کے بغیر وار زون میں صحافی کی مشکلات


خیبرپختونخوا اور فاٹا کے صحافیوں کی مثال ایسی ہیں جیسا کہ کسی سیکورٹی ادارے کے اہلکار کو بغیر اسلحہ اور ضروری آلات کے میدان جنگ میں بھیجا جائے۔ بغیر حفاظتی آلات کے صحافی اکثر اوقات خبر دیتے دیتے خود خبر بن جاتے ہیں کیونکہ انہیں جس آلات کی ضرورت ہے وہ ان کے پاس نہیں ہوتے ہیں۔ یہی حال خیبرپختونخوا میں صحافیوں کا بھی ہے جو وار زون میں کام کرتے ہے اور ان کے پاس حفاظتی ٹولز نہیں ہوتے ہے، کرائمز بیٹ کور کرنے والے صحافی کو بم دھماکہ کی کوریج کرنی ہو یا پھر فائرنگ کے تبادلے کے دوران اپنی ڈیوٹی سرانجام دینی ہو وہ بغیر ہیلمٹ، حفاظتی جیکٹ اور دیگر آلات کے کام کرنے پر مجبور ہے۔

بم دھماکوں یا کسی اور سانحہ کے دوران تو دور معمول کے احتجاج کے دوران بھی آنسو گیس، شیلنگ اور لاٹھی سے بچنے کے لئے صحافیوں کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات صحافیوں کو کوریج کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کئی بار احتجاج کے دوران شیلنگ یا آنسو گیس کے باعث صحافیوں کی حالت غیر ہو جاتی ہے جس پر انہیں اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔

ایکسپریس ٹی وی کے رپورٹر اور کرائم بیٹ کور کرنے والے نوجوان صحافی احتشام خان کے مطابق اپریل 2013 میں جب وہ بغیر حفاظتی ٹولز کے عوامی نیشنل پارٹی کا ایک سیاسی جلسہ پشاور کے علاقے یکہ توت میں منعقد تھا کو کور کر رہے تھے کہ اس دوران دھماکہ ہوا اور دھماکہ میں عام شہریوں کی طرح وہ بھی زخمی ہوئے، زخم اتنے شدید تھے کہ تین ماہ اسپتال میں گزارے اور دو بڑی سرجریز کرانی پڑی۔ آلات اور تربیت کی کمی کے باعث بہت مشکل وقت گزارا اگر مجھے حفاظتی ٹولز فراہم ہوتی اور میں اس کا استعمال کرتا تو شاید مجھے آنے والے زخم اس قدر شدید نہ ہوتے اور میں 3 ماہ اسپتال میں نہ گزارتا۔

احتشام کے مطابق بغیر آلات کے صحافی وار زون میں اس انداز سے اپنی ذمہ داری نہیں سرانجام دے سکتے ہے جس طرح انہیں نبھانا چاہے کیونکہ جب تک حفاظتی آلات نہیں ہو گئے اس وقت تک جائے حادثہ سے بہترین کوریج کرنا ممکن نہیں۔ حفاظتی کٹس صرف صحافی کی جان کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ تصدیق شدہ اور بروقت رپورٹنگ میں بھی معاون ہونے والا آلہ ہے۔

ان کے مطابق صرف چند غیر ملکی میڈیا اداروں کے ورکرز کے پاس حفاظتی ٹولز موجود ہے جبکہ قومی اور مقامی اداروں کے صحافیوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

سینئر صحافی اور آئے آر وائی نیوز کے رپورٹر عدنان طارق نے حفاظتی ٹولز سے متعلق بتایا کہ 2006 سے اب تک وہ کرائم بیٹ کور کر رہے ہے، ان کے مطابق جس دن سے انہوں نے میڈیا کو جوائن کیا اس دن سے ہی بم دھماکوں کو کور کرنا شروع کیا ہے۔ صحافت میں آنے سے قبل ہمیں لگ رہا تھا کہ کرائم رپورٹر اسٹریٹ کرائمز، چوری، ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعات کو کور کرنے والوں کو کہتے ہیں لیکن جب پہلی بار بم دھماکے کی کوریج کی تو معلوم ہوا کہ کرائم رپورٹر تو وہ نہیں جو ہم نے سوچا تھا۔

عدنان نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دن رات بدامنی کی واقعات میں اضافہ ہوتا گیا اور 9 / 11 کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور پاکستان چونکہ امریکہ کا اتحادی تھا تو یہاں بھی بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور وہ صوبہ جو کبھی امن کا گہوارہ تھا وہ بم دھماکوں کا مرکز بن گیا۔

جہاں اطلاع ملتی تھی وہاں بغیر ایس او پیز کے پہنچ جاتے تھے اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا کہ بالکل قریب بم پڑا ہوتا تھا اور ہم وہاں کھڑے ہو کر کوریج کرتے تھے، پولیس اور بی ڈی یو کو بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ میڈیا کو کہا رکھنا ہے اور کتنی فاصلے سے کوریج کرنی کی اجازت دینی ہے اس لئے مشکلات زیادہ تھی اور ہمارے پاس آلات اور تربیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ 2012 کے بعد اس وقت کے آئی جی پولیس ناصر درانی نے کسی حد تک حکمت عملی تیار کی اور صحافیوں کو پہلی بار دو تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جس میں کسی حد تک صحافیوں کو محفوظ طریقے سے ڈیوٹی نبھانے کی تربیت دی گئی تھی لیکن اس کے بعد وہ سلسلہ ختم ہوا اور اب تک کوئی خاص تربیت کا بندوبست نہ سرکاری اور نہ ہی پریس کلب کے سطح پر ہوا ہے۔

ہمارا کام ایسا ہے کہ جتنی بھی احتیاط کیوں نہ کی جائے ہمیں سپاٹ پر جانا ضروری ہے اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اب وار زون میں رپورٹنگ کرنے کی ایس او پیز تو بنائی گئی ہے لیکن اس پر مکمل طور پر عمل دارامد کئی وجوہات کی بناء پر کرانا ممکن نہیں ہے۔

اس بارے میں جنرل سیکرٹری پشاور پریس کلب کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو حفاظتی ٹولز کی فراہمی پریس کلب کی نہیں بلکہ متعلقہ میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہیں، ان کے مطابق پریس کلب کا کام صحافیوں کو تربیت دینا ہے اور وہ پریس کلب کر رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ پریس کلب کسی صحافی کو آلات فراہم نہیں کر سکتا ہے۔ اکثر ٹی وی چینلز نے اپنے رپورٹرز کو آلات فراہم کی ہے کیونکہ انہیں احساس ہے کہ صحافی کی حفاظت پہلے ہے اور بعد میں کام ہے۔

سابق جنرل سیکرٹری پشاور پریس کلب شہزادہ فہد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران ایک یا دو واقعات کے علاوہ ایسا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا کہ بم دھماکہ یا وار زون میں ڈیوٹی دیتے ہوئے کوئی صحافی شدید زخمی یا شہید ہوا ہوں کیونکہ 2012 کے بعد اب حالات کافی بہتر ہوچکے ہے اور اس طرح کے بدامنی کے واقعات رپورٹ نہیں ہوئے جس طرح 2006 کے بعد ہوتے تھے۔

رحم یوسفزئی جو سماء ٹی وی کے رپورٹر اور نوجوان صحافی تھے نے بتایا کہ 31 دسمبر 2017 کو ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پشاور پر حملہ ہوا تھا، جہاں تین دہشت گردوں نے ہاسٹل میں مقیم 40 طلبہ پر حملہ کرتے ہوئے 9 افراد کو شہید کیا جبکہ اس واقعہ میں 28 افراد زخمی ہوئے جس میں، میں بھی شامل تھا، زخمیوں کو صوبائی حکومت نے 4 لاکھ دینے کا اعلان کیا تھا جو دی گئی، مشیر وزیر اعظم امیر مقام نے 5 لاکھ اور نون لیگ کے مرکزی رہنماء احسن اقبال نے بھی امداد دینے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال یہ امداد نہ مل سکا ہے۔

ان کے مطابق کم معاوضہ اور زیادہ رسک کے باعث ان سمیت اکثر صحافیوں نے صحافت کو چھوڑ کر دوسرے پیشے اختیار کرلی ہے۔ 24 نیوز کے سابق کرائم رپورٹر آفتاب مہمند کا بتانا ہے کہ انہوں نے 2007 سے میڈیا میں کام کرنا شروع کیا ہے۔ خیبر پختونخوا چونکہ وار اینڈ ٹیرر کے حوالے سے ایک فرنٹ لائن کا صوبہ ہے۔ اس لئے ایک تسلسل کے ساتھ وار اینڈ ٹیرر کو کوور کرنا پڑ رہا ہے اس لئے تمام صحافیوں کو جو دہشتگردی، تخریب کاری یا جس بھی بدامنی کی واقع کی کوریج کرنی پڑی اس دوران سب سے پہلے صحافیوں کو اپنی حفاظت یقینی بنانی چاہے اس لئے حفاظتی جیکٹس اور ہیلمٹس کا استعمال انتہائی ضروری ہے لیکن آج تک کسی صحافی کو بھی یہ ضروری آلات فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق جس ٹی وی چینلز، آن لائن میڈیا، پرنٹ یا براڈکاسٹ میڈیا جتنے بھی اداروں کے ساتھ کام کیا ایمرجنسی یا حادثات کی صورت میں آج تک کسی ادارے کی جانب سے کچھ بھی حفاظتی آلات وغیرہ نہیں فراہم کیا گیا

محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا کے متعدد اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حفاظتی آلات کی فراہمی حکومت کا کام نہیں ہے کیونکہ جس ادارے میں صحافی کام کرتے ہوئے یہ انہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضروری آلات اپنے ورکرز کو فراہم کریں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر محکمہ اطلاعات کے افسران نے بتایا کہ میڈیا مالکان ورکرز سے کام لینا جانتا ہے ان کو تحفظ اور سہولت بہت کم ادارے ہی فراہم کرتے ہے۔

Facebook Comments HS