اردو انشائیہ کی روایت

اردو ادب میں انشائیہ کب اور کیسے وجود میں آیا بہت ہی توجہ طلب موضوع ہے جس پر کافی بحثیں ہو چکی ہیں لیکن یہ فیصلہ کر پانا بہت ہی مشکل ہے کہ پہلا انشائیہ نگار کون ہے؟ جب ہم مغرب میں انشائیہ کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو ہماری نظر فرانسیسی ادیب مائیکل ڈی مونتین پر پڑتی ہے، مائیکل ڈی مونتین کو مغرب میں انشائیہ کا موجد و بانی قرار دیا جاتا ہے، فرصت کے لمحات میں انھوں نے اپنے تجربوں اور مشاہدوں کی روشنی میں مختلف عنوانات پر اپنے غیر مربوط خیالات کو سپرد قلم کیا۔
اپنی اس کاوش کو انہوں نے انشائیہ کا نام دیا گو کہ ان کی انشائیہ نگاری کا ہر دور میں نام رہا اور قارئین کی بڑی توجہ بھی اسے ملی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسے اولیت کے باوجود حتمی مثالی یا حرف آخر قرار نہیں دیا گیا۔ مونتین کی تقلید میں بہت سے انشائیہ نگار ابھر کر سامنے آ گئے جن میں فرانسس بیکن ایک اہم انشائیہ نگار مانے جاتے ہیں، بیکن کے بعد انگریزی ایسے نگاروں میں ابراہم کا ولے کو بہت ہی نمایاں مقام حاصل ہے، انہوں نے مکمل طور پر مونتین کے انشائی فن کی روح کے مطابق لکھا، اس دور میں مغرب میں انشائیہ کو فروغ دینے میں انگریزی اخبارات و جرائد نے بھی اہم خدمات انجام دیں۔
رچرڈ اسٹیل اور ایڈیسن نے اپنے جرائد ٹیٹلر اور اسپیکٹیٹر کے ذریعہ نئے نئے تجربوں سے اس صنف ادب کو فروغ دیا، ایڈیسن اور اسٹیل کی ایسے نگاری نے انگریزی ایسے پر گہرے اثرات مرتب کیے اور اس کا دامن ہر طرح کے پھولوں سے مالا مال کر دیا، یہی وہ دو حضرات تھے جن کی تحریروں نے سر سید احمد خاں کو بے حد متاثر کیا، باوجود اس کے کہ انگریزی ادب میں ایسے انشا نگاروں کا ایک جم غفیر دکھائی دیتا ہے جنھوں نے زندگی کے مختلف موضوعات پر بھرپور انشائیے تحریر کیے لیکن سرسید ٹیٹلر اور اسپیکٹیٹر سے نمایاں طور پر متاثر ہوئے جس کا نتیجہ ہندوستان میں رسالہ تہذیب الاخلاق کی صورت میں سامنے آیا جس میں زندگی کے ہر پہلو سے متعلق انشائیے ملتے ہیں۔
اردو انشائیہ کی اصطلاح ایک مخصوص صنف ادب کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کا ایک خاص داخلی مزاج ہے۔ اردو میں بلاشبہ انشائیہ انگریزی سے آیا لیکن کچھ محققین کے مطابق اردو انشائیہ بھی اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انگریزی انشائیہ، جاوید وششٹ نے اپنی کتاب ’انشائیہ اور انشائیہ پچیسی‘ میں ملا وجہی کی کتاب ’سب رس‘ کو انشائیہ کا نقش اول قرار دیا ہے۔ وجہی کا دور وہی ہے جو عالمی ادب کے پہلے انشائیہ نگار مونتین اور انگریزی ایسے کے موجد بیکن کا ہے۔
کچھ نقاد سرسید احمد خان کو اس صنف کا موجد قرار دیتے ہیں جن میں سید ظہیر الدین مدنی، ڈاکٹر وحید قریشی، نیاز فتح پوری، ڈاکٹر محمد ذکریا، پروفیسر جمیل آزر، پروفیسر نظیر صدیقی اور ڈاکٹر سلیم اختر شامل ہے، یہ لوگ سرسید کو ایک باقاعدہ انشائیہ نگار تسلیم کرتے ہیں، ڈاکٹر سلیم اختر لکھتے ہیں ”سرسید پہلے ادیب ہیں جنھوں نے انگریزی ایسے کی بدیسی صنف کی قلم کو گلشن اردو میں لگایا، انہوں نے انگریزی“ ایسے ”کا مطالعہ کر رکھا تھا وہ اس کے مزاج داں بھی تھے۔ انہوں نے طبع زاد لکھنے کے ساتھ ساتھ انگریزی“ ایسے ”کے تراجم بھی کیے۔ الغرض اس نئی صنف سے وابستہ فنی اور اسلوبیاتی امکانات دریافت کرنے کی مکمل سعی کی۔“
(انشائیہ کی بنیاد از ڈاکٹر سلیم اختر، صفحہ 71 )
خواجہ احمد فاروقی ماسٹر رام چندر کے متعلق لکھتے ہیں کہ ماسٹر رام چندر نے اردو مضمون یعنی ”ایسے“ سے متعارف کروایا۔ ماسٹر رام چندر قدیم دلی کالج کے نامور اساتذہ میں سے تھے، خواجہ احمد فاروقی ان کو مضمون نگاری، ترجمہ نگاری اور سیرت نگاری میں چراغ راہ تسلیم کرتے ہیں، بعض ناقدین مرزا غالب کے خطوط پر انشائیہ نگاری کا گمان کرتے ہیں جن میں وہ اپنے دوستوں سے محو کلام ہے اور تکلف کا کوئی پردہ ان کے درمیان نہیں۔
ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ بے تکلفانہ گفتگو کا پیرا یہ، مجلسی زندگی کی یہ جذبات اور ماحول کے دلکش مرقع غالب کے بعض خطوط کو افسانے اور انشائیے کے قریب لے آتے ہیں۔ اردو انشائیہ کے ضمن میں محمد حسین آزاد کا نام بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ سرسید کے معاصرین میں سے تھے اور اپنے منفرد اسلوب کی بنا پر اردو ادب میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدیم و جدید کے امتزاج سے ایک ایسا دلکش اسلوب اختیار کیا جو صرف انہی سے مخصوص ہے۔ ڈاکٹر محمد صادق نے آزاد کی تحریروں کو تمثیلی انشائیے قرار دیا ہے۔ اردو کے کچھ انشا پرداز جن کے ہاں کسی نہ کسی صورت میں انشائیہ مل جاتا ہے ان میں مولوی ذکاء اللہ، مہدی افادی، سجاد حیدر یلدرم، سجاد انصاری، خلیق دہلوی، خواجہ حسن نظامی قابل ذکر ہیں۔
یوں تو اردو میں انشائیہ کی عمر سو سال سے بھی زیادہ ہے لیکن بحیثیت ایک منفرد نثری اصناف اردو انشائیہ اپنے تمام فنی محاسن کے ساتھ بیسویں صدی کی شروع کی دہائیوں میں ابھر کر سامنے آتا ہے، جب ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو انشائیے کو بیسویں صدی کی پانچویں دہائی کی پیدا وار قرار دے کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تو بہت سے انشائیہ پڑھنے والے اس کے نوخیز ہونے پر حیرت کا اظہار کرنے لگے۔ یہ بات تو درست ہے کہ انشائیہ اردو ادب میں سرسید کے بعد باقاعدہ طور پر وارد ہو چکا تھا لیکن سرسید کی مقصدیت کے ردعمل میں اس صنف کے اچھے نمونے بھی نقادان سرسید کے طوفان کی زد میں آ کر دب کر رہ گئے۔ رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری اور کرشن چندر کے ہاں طنزو مزاح سے بھرپور انشائیے ملتے ہیں جنھیں جدید انشائیہ کی قبیل میں شامل نہیں کیا جاتا، جمیل آذر اپنے مضمون ”انشائیہ کی کہانی“ میں لکھتے ہیں
”انشائیہ کے بکھرے ہوئے نقوش تو ہمیں قدماء کے یہاں بھی مل جاتے ہیں بالخصوص غالب کے مکاتیب کے چند ٹکڑے، سرسید کے کچھ مضامین، ابوالکلام آزاد کی تصنیف غبار خاطر کے چند مضامین اور کرشن چندر کے ایک دو مضامین انشائیہ کے ابتدائی نقوش کی نمائندگی کرتے ہیں، انشائیہ کے فطری ارتقا میں ہم ان تینوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے لیکن انشائیہ کو اردو ادب میں بطور ایک علیحدہ صنف ادب کے وزیر آغا نے متعارف کروایا۔“
( ”انشائیہ کی کہانی از جمیل آزر، ماہنامہ صریر، سال نامہ جون، جولائی 1998، صفحہ 52“ )
بیسویں صدی کی ابتدائی تین دہائیوں میں سامنے آنے والے انشائی نثر نگار نہ تو سرسید کی مقصدیت اور اصلاح پسندی کے زیر اثر تھے اور نہ ہی ایڈیسن اور اسٹیل کے لیکن پھر بھی ان کا براہ راست اور جدید ترین ادب کا مطالعہ اردو نثر کی وسعت بڑھا رہا تھا، اس کا اثر ان کے اسلوب میں بھی صاف نظر آتا ہے، اس وقت ہندوستان کے سیاسی اور سماجی حالات میں بھی کافی سدھار آ چکا تھا جس کے باعث انشائی نثر نگاروں کے ہاں سکون، طمانیت اور شگفتگی کا عنصر پہلے کی نسبت بڑھ گیا تھا اسی لئے فرحت اللہ بیگ سے لے کر ملا رموذی تک استدلالیت اور اصلاح پسندانہ سنجیدگی کی جگہ شگفتگی اور زیر لب تبسم نے لے لی۔ فرحت اللہ بیگ کے ہاں خوش طبعی ان کی تحریر کی اساس ہے،
’‘ اونہہ ”اور“ پٹنا ”ان کے انشائی رنگ کی تحریریں بہت ہی اہم ہیں۔ خواجہ حسن نظامی کے مجموعہ“ مضامین حسن نظامی ”اور“ سیپارۂ دل ”میں اختصار، شگفتگی اور غیر رسمی انداز جیسے انشائی عناصر کے حوالے سے الو، دیا سلائی، جھینگر کا جنازہ اور آنسو کی سرگزشت جیسی تحریریں اہم اور قابل ذکر ہیں۔ رشید احمد صدیقی، کرشن چندر، فکر تونسوی، مشتاق یوسفی، شوکت تھانوی، کنہیا لال کپور، پطرس بخاری وغیرہ کی تحریریں بھی انشائیہ کے زمرے میں شمار کی جاتی ہیں۔
اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو جدید انشائیہ کی طرف آزادی کے بعد خصوصی توجہ دی گئی، ڈاکٹر انور سدید، نصیر آغا کے مضمون ”بہار کی ایک شام“ کو اردو کا پہلا مکمل انشائیہ مانتے ہیں اور اپنی کتاب ’انشائیہ اردو ادب‘ میں حاشیہ دے کر اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ نصیر آغا درحقیقت وزیر آغا کا ہی ہمزاد تھا اور وہ اس قلمی نام سے ادبی دنیا میں مختلف نوعیت کے مضامین لکھ رہے تھے، اسی دور میں جب ڈاکٹر وزیر آغا انشائیے کا نام لئے بغیر انشائی مضمون لکھنے میں مصروف تھے، ان کے معاصرین میں نظیر صدیقی اور مشکور حسین یاد بھی اپنے اسلوبیاتی فرق کے ساتھ اس صنف کی آبیاری کر رہے تھے۔
ڈاکٹر وزیر آغا، مشکور حسین یاد اور نظیر صدیقی جس قسم کے مضامین لکھ رہے تھے انھیں اختر اور ینوی کا اختراع کردہ نام انشائیہ ملنے میں کافی وقت صرف ہوا، پاکستان کے قیام کے تقریباً چودہ سال بعد ڈاکٹر وزیر آغا کے انشائیوں کا پہلا مجموعہ ”خیال پارے“ منظر عام پر آیا اور اس مجموعے کو پاکستان میں انشائیہ نگاری کا نقطہ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر وزیر آغا نے ہی انشائیہ کی اصطلاح کو متعارف کروایا اور اس صنف کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرنے کے لئے متعدد مضامین سپرد قلم کیے ، انھوں نے انشائیہ کو باقاعدہ ایک صنف کے طور پر متعارف کر واکر اس کی شناخت قائم کی اور اس کی انفرادیت کو ہر طرح سے نمایاں کیا۔ ان کے انشائیوں کے چار مجموعے ”خیال پارے“ ، چوری سے یاری تک ”، دوسرا کنارہ“ اور سمندر اگر میرے اندر گرے ”کے نام سے منظر عام آچکے ہیں بلکہ اب تو ان کے انشائیوں کا کلیات بھی“ پگڈنڈی سے روڈ رولر ”تک بھی شائع ہو چکا ہے جس میں ان کے یہ چاروں مجموعے شامل ہیں۔
جس وقت وزیر آغا کا مجموعہ ’خیال پارے‘ شائع ہوا اسی سنہ میں نظیر صدیقی کا مجموعہ ’شہرت کی خاطر‘ بھی منظرعام آیا جب کہ تیسرے اہم جدید انشائیہ نگار مشکور حسین یاد کی کتاب ’جوہر اندیشہ‘ 1975 ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔ ڈاکٹر وزیر آغا، نظیر صدیقی اور مشکور حسین یاد کے بعد انشائیے کو اظہار کے منفرد وسیلے کے طور پر آزمایا گیا ہے اور رفتہ رفتہ انشائیہ لکھنا ایک شائستہ، شستہ اور شگفتہ عمل قرار پایا جس میں شرکت کے لیے بہت سے ادبا بے تاب نظر آنے لگے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس دور میں انشائیے کی تحریک پروان چڑھی تو بے جا نہ ہو گا، مذکورہ تین انشائیہ نگاروں کے دوش بدوش ڈاکٹر داؤد رہبر، جاوید صدیقی، غلام علی چودھری حسین کاظمی، ممتاز مفتی، امجد حسین، جسٹس رستم کیانی کے نام کافی نمایاں نظر آتے ہیں۔
1975 ء سے لے کر اب تک کے دور کو بجا طور پر اردو انشائیے کی مسلسل کامرانیوں کا دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی مقبولیت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک امتزاجی صنف نثر ہے جس میں شعر جیسا حسن موجود ہے، آزادی کے بعد ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں انشائیہ نے ترقی کے منازل طے کیں جس وقت پاکستان میں انشائیہ کی تحریک اپنے شباب پر تھی اس وقت ہندوستان کے صرف تین انشائیہ نگار اس صنف کے تحت اپنی تحریریں سپرد قلم کر رہے تھے جس کا اعتراف ڈاکٹر وزیر آغا نے ان الفاظ میں کیا ہے ”پاکستان میں انشائیہ نگاری ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے جب کہ بھارت میں تا حال صرف تین انشائیہ نگاروں نے اس میدان میں قدم رکھا ہے ان میں دو منجھے ہوئے ادیب ہیں یعنی احمد جمال پاشا اور رام لعل نابھوی لیکن تیسرا ایک نوجوان انشائیہ نگار محمد اسد اللہ ہے۔“
(پیش لفظ، بوڑھے کے رول میں از محمد اسد اللہ)
اس کے علاوہ بھی بہت سارے انشائیہ نگار ہیں جو اس صنف کی آبیاری، ترقی اور فروغ کے لئے تحریریں تخلیق کر رہے ہیں اور پہلے کے مقابلے میں موجودہ دور میں اس صنف کے تحت لکھنے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہاں کے ادیب اس صنف کو پاکستان کے دوش بدوش کھڑا کرنے کی کوشش میں دل و جان سے محنت کر رہے ہیں۔ آج انشائیہ موضوعاتی، فکری اور معنوی لحاظ سے وسعت پذیر ہے اور اس کی اب تک کی رفتار سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا مستقبل شاندار اور تابناک ہے۔ نوجوان قلمکاروں کی رغبت اور دلچسپی اس صنف کے حوالے سے بڑھتی جا رہی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ موجودہ صدی انشائیہ کے لئے مفید اور کارآمد ثابت ہوگی۔

