سوشل سائنسز کا (بھوت) ، ہمارا محبوب (پہلی قسط)
میرے لیے سماجی علوم (سوشل سائنسز) بھوت بن گیا ہے۔ میں تو با خوشی راضی با رضا اس بھوت سے بغل گیر ہوئی لیکن دوسروں سے جیسے یہ چمٹ گیا ہے۔ آئیے چلتے ہیں اس داستان کی طرف جس میں میرے لیے اس بھوت کے اسرار کھلتے اور دوسروں کے لیے اس کے بھیانک سائے پھیلتے ہیں۔
صحافی بننے کا خبط کسی ڈرامے کے کردار نے میرے اندر ڈال دیا جس میں کسی سوچ سمجھ کا دخل نہیں تھا اور ذات کے ادراک سے ہم کوسوں دور تھے۔ جب سوچ سمجھ نے دخل دیا اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی یعنی ہم جامعہ کراچی سے ابلاغ ِ عامہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرچکے تھے۔ صحافت کی دنیا میں ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ یہ صحافت اور صحافیوں سے زیادہ سیٹھوں اور پیشہ وروں کی دنیا ہے۔ بھاری دل لے کر لیکن صحیح سلامت وہاں سے نکلے۔ اس وقت کالجوں میں یہ مضمون شروع نہیں ہوا تھا۔ اب بھی چند کالج ہی ہیں جہاں پڑھایا جا رہا ہے۔ اسکول میں پڑھانے کا سوچا تو پرنسپل کا سوال کہ کون سا مضمون پڑھائیں گی؟ اس وقت احساس ہوا کہ ہم تو نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ ایک احساس جو ایم اے کرنے کے دوران ہوا تھا اور اس کا اظہار میں نے شعبے میں انگریزی صحافت کی ہم جماعت عائشہ صمد سے کیا تھا کہ بی اے کرتے ہوئے اُردو اعلیٰ کے نوٹس بنائے تو لگا کہ اس میں گہرائی ہے لیکن ابلاغِ عامہ میں ایم اے کے مضامین میں وہ گہرائی کہیں کھو گئی، اس کے احساسات بھی یہی تھے کہ اس مضمون میں گہرائی نہیں۔ اس کی وجہ نصاب تھا یا اردو میں اس مضمون کی کتابیں۔ اساتذہ کلاسیں باقاعدگی سے لیتے تھے پر مضامین نے مزا نہیں دیا۔
اسکول میں پڑھانے کا خیال دل سے نکالا، اُردو ادب تو پڑھتے ہی تھے، فلسفے کی خاک چھاننے لگے، ہاضمہ بگڑا تو پہنچے معجون لینے ڈاکٹر منظور احمد کے پاس۔ انہوں نے بتایا کہ جب شعبہ ابلاغِ عامہ بنانے کا خیال پیش کیا گیا تو میں نے اس کی مخالفت کی تھی اور تجویز دی تھی کہ کسی بھی سماجی علم میں ایم اے کرنے والے طالب ِ علم کو جو صحافی بننا چاہتا ہو آپ چھ ماہ کا کورس کرائیں، وہ صحافت کے شعبے میں اپنی خصوصی مضمون میں بہتر خبر نگاری کرے گا۔ سیاسیات کا سیاسی، بین الاقوامی تعلقات کا سفارتی، معاشیات کا اقتصادی خبر نگاری پر۔ عملی صحافت میں بھی آپ دیکھیں جو کبیر (سینئر) صحافی ہیں وہ مختلف مضامین کے ہیں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا کہ کیا باہر کے ممالک میں یہ شعبہ نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ بالکل ہے لیکن آپ اپنے ہاں کے گریجویٹس کا موازنہ ان کے ہائر اسکول کے فارغ التحصیل طالب ِ علم سے نہیں کر سکتے۔ ہم نے مضمون میں گہرائی نہ ہونے جو کہ ہمارا دلی دکھ تھا، ان سے تذکرہ کیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اگر تھوڑا سا پانی تھالی میں ڈال دیں تو وہ پھیل جاتا ہے لیکن اس میں گہرائی نہیں ہوتی، شعبہ ابلاغ ِ عامہ میں پڑھائے جانے والے مضامین پر یہ مثال صادق آتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ”ہم یہاں آٹھویں جماعت کے طالب ِ علم کو پابند کرتے ہیں کہ یا تو یہ پڑھو گے یا یہ، یعنی بیالوجی کا طالب علم کامرس کا کوئی مضمون نہیں پڑھ سکتا اور کامرس کا طالبِ علم سائنس کا کوئی مضمون نہیں لے سکتا، کیوں نہیں لے سکتا؟ بالکل لے سکتا ہے، ہم نے ایسا نظام ِ تعلیم نہیں بنایا۔“
ہم اپنے مضامین کے انتخاب کا اے اور او لیول کے مضامین کے انتخاب سے موازنہ کریں جس کا چلن اب بڑھ رہا ہے تو وہ یہی آزادی دیتا ہے۔ کیمیا کے ساتھ عمرانیات اور اکاؤنٹنگ، طالبِ علم خود کو جانچ لے کہ آگے کیا پڑھنا چاہتا ہے۔ کیا سائنس پڑھنے والے طالب ِ علم کو ادب سے بالکل ہی کورا ہونا چاہیے؟ اتنی یک رخی۔ کیا یہ تخصیصی مہارت کی بد ترین شکل نہیں ہے؟
مشہور صحافی اور مصنف ضمیر نیازی مرحوم نے ایک مرتبہ شعبہ ابلاغِ عامہ کے اساتذہ سے کہا کہ آپ انہیں کوئی ایک زبان انگریزی یا اُردو سکھا کر بھیج دیں باقی ہم خود سکھا دیں گے۔ ڈاکٹر منظور احمد اور ضمیر نیازی صاحب کی تجاویز کو ضم کر دیا جائے تو کسی بھی سماجی علوم کے ایم اے کے طالب ِ علم کو چھے ماہ کے زبان کے کورس کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔
میرا اپنا احساس اور ڈاکٹر منظور احمد کا تجربہ، غصہ آیا کہ میرے خبط کو جامعہ میں راہ ہی کیوں ملی۔ اس وقت ایک تحریر لکھ ماری کہ ”صحافی بننے کے لیے شعبہ ابلاغِ عامہ میں داخلہ لینا ضروری نہیں“ ۔ روزنامہ جنگ میں چھپی، اخبار کو ردّ ِ عمل بھی موصول ہوا اور وہ بھی چھپا۔ ڈاکٹر صاحب سے گفتگو کے بعد ہمیں خرد خسارے کے بوجھ نے بری طرح سے گھیر لیا۔
اس معاشرے میں پی ایچ ڈی کی ”سچی“ خواہش کا سفر الگ داستانیں رکھتا ہے۔ فی الحال یہ داستان ایک طرف، ابھی تو قارئین کی ملاقات کرانی ہے سماجی علوم کے بھوت سے۔ ہمارا خرد خسارے کا احساس ہمیں لے گیا ہمدرد یونیورسٹی جہاں سماجی علوم میں ایم فل کرایا جا رہا تھا، یہ بات ہے نومبر 2013 ء کی (اب وہاں سماجی علوم میں ایم فل بند کر دیا گیا ہے ) ۔
پروفیسر سحر انصاری سے سنا تھا کہ ادب وہ سمندر ہے جہاں تمام دریا آ کر گرتے ہیں۔ ہمیں لگا کہ صحافت بھی تو وہ سمندر ہے جہاں تمام دریا آ کر گرتے ہیں۔ لیکن شومئی
قسمت کہ نہ ڈاکٹر صاحب کی تجویز پر کسی کی سمجھ میں اس وقت یہ آیا اور نہ آج۔ آج بھی ان دریاؤں پر بند باندھے جا رہے ہیں، بتائیے سمندر میں آ کر گرے گا ’کیا‘ ؟ اور پھر اس کی حالت ’کیسی‘ ہوگی؟
خرد خسارہ ہمیں سماجی علوم کے (بھوت کے ) عشق میں مبتلا کر چکا تھا، ہم گرفتارِ بلا ہوچکے تھے، واٹ آ لو اسٹوری!
اور ہمارے عشق کا یہ سماج ایسے ہی دشمن ہو گیا جیسا کہ لیلیٰ مجنوں اور شیریں فرہاد کا ہوا تھا، قارئین کو یقین نہیں آ رہا نا، آ جائے گا، ابھی تو کہانی شروع ہوئی ہے۔ (جاری ہے )


