آنکھ آئی ہے
دنیا بازیچۂ آفات ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ڈینگی ہمارے پیچھے رہا تو کرونا نے آگے ہو کر شب و روز تماشے کیے ۔ اب ہماری قوم کی آنکھ آئی ہے۔ بلا شبہ آنکھ کو eye ہی کہتے ہیں مگر یہاں مراد آشوب چشم کا پھوٹنا ہے جبکہ فقط آنکھ کا پھوٹنا بالکل الگ معاملہ ہے۔ ویسے تو آنکھ کا آنا فطری امر ہے اور کسی پر کسی کی آنکھ ”آئی“ ہی رہتی ہے۔ آنکھ آنے کے فوراً بعد دل کا آنا بھی لازم ہے جو شرح خاوندگی میں اضافے اور جوڑوں کے درد کا موجب بنتا ہے۔
کبھی کبھار بات ”آشوب خصم“ تک جانے کا احتمال بھی ہو سکتا ہے۔ آج آشوب چشم پھوٹا مگر اس عارضے کو علم نہیں کہ اسے کس قوم سے پالا پڑا ہے۔ وہ قوم جس نے ڈینگی کا حل محکمہ تعلیم کے ذریعے نکالا جہاں روزانہ سینکڑوں موبائل بکف فرزندان و دختران تدریس ڈینگی کے خلاف آن لائن قتال میں شریک ہوتے ہیں۔ ڈینگی نہ ہوا یاجوج ماجوج کی دیوار ٹھہری جسے روز ہی ڈھانا پڑے۔ کرونا کو عوامی سطح پر گھاس نہ ڈال کر اور سرکاری سطح پر چھٹیوں کی بھرمار کے ذریعے ناکوں چنے چبوا دیے گئے۔
اگرچہ سماجی و ازدواجی فاصلوں کا غوغا بھی مچا مگر اس کے نتائج کرونا کے حوالے سے کم جبکہ آبادی میں غیر معمولی اضافے میں زیادہ برآمد ہوئے۔ اب آنکھیں آنے پر سکولوں میں چھٹیوں کے اعلان نے قوم میں نئی روح پھونک دی ہے اور بہت جلد یہ آئی ہوئی آنکھیں خود ہی آنکھیں پھیر لیں گی۔ مایوس کن اور نامساعد ملکی حالات میں یہ تعطیلات باد صبا سے کم نہیں۔ معماران و نونہالان قوم خوب نہال ہیں جنھیں ہر مشکل گھڑی میں گھر بھیج دیا جاتا ہے۔
قوم میں روح بلالی ہو نہ ہو ”روح تعطیلی“ منوں کے حساب سے باقی ہے۔ حفظان صحت کے نام پر ایسی تعطیلات کو تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے اور ہر صبح کا سورج چھٹیوں میں ایکسٹینشن کی امید لئے طلوع ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو ایسی آفات انسان کے اپنے کرتوت ہائے سیاہ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ صفائی نصف ایمان کے اصول سے روگردانی ڈینگی کا موجب بنی تو ساتھ ہی آدھے ایمان سے بھی ہاتھ دھل گئے۔ اسی طرح دھرتی ماں اور ماحول کے ساتھ کیے جانے والے مخول کی سزا سیارہ زمین کے معاملات حیات کی بندش کی صورت میں ملی اور اعتکاف خوف ساتھ ”ہو“ کا عالم بھی رہا۔
یوں لگا کہ خالق ”تجدید الست“ چاہتا ہے۔ گویا ڈینگی نے کم لباسوں کو لباس بخشا تو کرونا نے ماسک کی شکل میں پردے کا اہتمام کروایا جبکہ امراض چشم نے قوم کو چشمے لگوا کر معنک بنا دیا۔ یوں چشم بد دور کا حل بھی نکل آیا۔ اب، انکھیاں نوں رہن دے اکھیاں دے کول کول، کی فرمائش بھی قصہ پارینہ ہے۔ اب جس نوعیت کا لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھر چکا ہے تو آشوب چشم کی صورت میں آنکھوں میں خون اترنا بھی ضروری ہوا ہے۔ آج ہم اخلاقی دیوالیہ پن کا شدید شکار ہو چکے ہیں اور ہمارے یہاں سوائے دشنام اور طعن و تشنیع کے کچھ باقی نہیں رہا۔
لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا
ڈر ہے کہ زبان اور دہن کے ایسے شدید بگاڑ کی سزا کہیں ”آشوب زبان“ کی صورت میں نہ آن پڑے۔


