اگّے تیرے بھاگ لچّھیئے


شام سات بجے سے رات کے بارہ بجے تک ہماری ٹی وی سکرینوں پر بے شمار ٹاک شوز ہوتے ہیں۔ میری دانست میں ان کی وساطت سے عقل و دانش کے ”موتی“ بکھیرے نہیں جا سکتے۔ اپنی سرشت میں یہ ”وقت گزاری“ پروگرام ہیں۔ میں خود بھی ان دنوں طویل وقفے کے بعد ایک ٹاک شو کی میزبانی کر رہا ہوں۔ اس کے ذریعے مگر مہمانوں کی ”فراست“ کے بجائے اپنے ساتھی میزبان کے ساتھ مل کر ”اپنی مدد آپ“ کے اصولوں کے مطابق ”عقل فروشی“ کا دھندا چلاتا ہوں۔

گزشتہ کئی دنوں سے اپنے ذہن میں صحافی کی جبلت کی بدولت جمع ہوئے مشاہدات کی بنیاد پر اس کالم اور اپنے ٹی وی شو میں تواتر سے یہ بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ مسلم لیگ (نون) عوام کی اکثریت کو ناراض کرچکی ہے۔ فوری وجہ اس کی اپریل 2022 میں عمران حکومت کی فراغت کے بعد قائم ہوئی شہباز حکومت کے وہ فیصلے ہیں جنہوں نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے نام پر لاکھوں غریب اور متوسط گھرانوں کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔

ہمارے ہاں گھروں یا دفتروں میں کام کرنے والے باورچی اور ڈرائیور اوسطاً 30 سے 35 ہزار ماہوار تنخواہ کماتے رہے ہیں۔ ان کی بیشتر تعداد ”سرونٹ کوارٹروں“ میں رہنے کے بجائے مضافات میں آباد ہوئی ”کچی بستیوں“ میں کرائے کے مکانوں میں رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے انہیں ”خودمختاری“ کا احساس ہوتا ہے اور ”24 گھنٹے“ غلاموں کی طرح ملازمت کے تصور سے بھی نجات مل جاتی ہے۔ ملک بھر میں پھیلے ایسے ملازمین یکسوہوکر شہباز حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ ان کے مکانوں کا کرایہ اوسطاً دس سے بارہ ہزار روپے کے درمیان ہے۔ گزشتہ تین مہینوں سے بجلی کے بل نو سے دس ہزار روپے کی حد میں داخل ہوچکے ہیں۔ فرض کیا ایک ملازم 35 ہزار روپے ماہوار تنخواہ پاتا ہے تو کرایہ اور بجلی ادا کرنے کے بعد اس کی جیب میں فقط 15 ہزار روپے بچیں گے۔ ان پیسوں سے وہ بیوی اور اوسطاً دو بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جس گھر میں وہ کام کرتا ہے وہ اس ملازم کی مشکلات کا ازخود احساس کرتے ہوئے اسے اضافی راشن یا رقم دینے کو تیار نہ ہوں تو وہ چوری چکاری کو مجبور رہے گا جس کے نتیجے میں ہمیں ایسی کئی کہانیاں سننے کو ملیں گی جہاں مالکان اپنے ملازمین پر ”بے رحمانہ تشدد“ کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔

کہانی فقط گھریلو ملازمین تک ہی محدود رہتی تو اسے نظرانداز کیا جاسکتا تھا۔ گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازموں کی زندگی بھی اجیرن ہو چکی ہے۔ ان میں سے اکثر اپنے دفتر میں آٹھ گھنٹے گزارنے کے بعد کرائے پر لی گاڑیاں یا موٹرسائیکلیں کم ازکم 6 سے 8 گھنٹے تک چلاتے ہوئے اضافی رقم کمانے کو مجبور ہیں۔

نچلے درجے کے سرکاری یا نجی شعبے میں ملازمین کے علاوہ ہمارے متوسط طبقے کی بے پناہ تعداد بھی اب اپنی سفید پوشی برقرار رکھنے کی فکر میں مبتلا ہوئی دہائی مچا رہی ہے۔ انتہائی دیانت داری سے میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ عوام کی بے پناہ اکثریت کو ان دنوں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شہباز حکومت کی قیادت میں قائم ہوئی 16 مہینوں کی حکومت اس کی واحد ذمہ دار نہیں تھی۔ ماضی کی تمام حکومتوں نے بلا استثنائی ہماری مصیبتوں میں اضافہ ہی کیا ہے۔ مسلم لیگ (نون) کی گزشتہ حکومتوں کے بارے میں البتہ یہ تاثر موجود رہا ہے کہ کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والے شریف برادران بازار میں رونق اور لوگوں میں امید جگانے کے لئے کوئی نہ کوئی ”جگاڑ“ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اس تاثر کی بدولت ہی ان کے خلاف پھیلائی بدعنوانی کی کہانی کو ان کے حامیوں نے کبھی وقعت نہیں دی۔ ایک زمانے میں تو شریف برادران کے حامی اکتا کر یہ بھی کہہ دیتے تھے کہ وہ ”اگر کھاتے ہیں تو عوام کو (پیلی ٹیکسیوں وغیرہ کے ذریعے ) کھلاتے بھی ہیں“ ۔ اس کے علاوہ مشہور یہ بھی تھا کہ اسحاق ڈار جب بھی وزارت خزانہ کے مدارالمہام ہوتے ہیں تو امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں ”اپنی اوقات“ میں رہتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (نون) کے سرکردہ رہ نما یہ دریافت کرنے میں قطعاً ناکام ہو رہے ہیں کہ شہباز حکومت کے 16 مہینوں کے دوران شریف برادران نے ان سے وابستہ ”جگاڑ“ والی شہرت کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اسحاق ڈار کی ”ڈالر شکن“ والی پہچان بھی غارت ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں نواز شریف 21 اکتوبر کے دن وطن لوٹ کر عوام سے اگر مسلم لیگ (نون) کو اقتدار میں لانے کے لئے ووٹ مانگیں گے تو ان کی بات کوئی نہیں سنے گا۔

اپنے مشاہدات کی بنیاد پر جو خیالات میں نے اخذ کیے تھے انہیں اس کالم میں تواتر سے بیان کرتا رہا۔ بعد ازاں ان کا اظہار اپنے ٹی وی شو میں بھی شروع کر دیا۔ بات چل نکلی تو گزشتہ ہفتے منیب فاروق کے سما ٹی وی والے شو میں چلا گیا اور فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر ہاتھ باندھتے ہوئے نواز شریف سے فریاد کردی کہ وہ موجودہ حالات میں پاکستان لوٹنے سے گریز کریں۔ میں نے جن جذبات کا نہایت دیانتداری سے برجستہ مگر جذباتی انداز میں اظہار کیا تھا وہ نواز شریف کے تحریک انصاف میں شامل دشمنوں کو بہت بھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پر حاوی ہونے کی وجہ سے انہوں نے میری اس کلپ کو ”وائرل“ کر دیا۔ جب سے وہ کلپ سوشل میڈیا پر رش لینا شروع ہوئی ہے مجھے مسلم لیگ (نون) کی سپاہ ٹرول سے ویسی ہی گالیاں سننے کو مل رہی ہیں جو کبھی تحریک انصاف کی سیاست کے بارے میں اپنے تحفظات کا برجستہ اظہار کرنے کی وجہ سے ملا کرتی تھیں۔

غالب کے رقیب کی طرح مجھے گالیاں کھا کے بدمزہ ہونے کی عادت نہیں۔ رپورٹر کو اپنے مشاہدات قارئین اور سامعین کے روبرو من و عن رکھ دینا ہوتا ہے۔ میری جانب سے یہ مشاہدات ہرگز سیاسی رہ نماؤں کی ”مشاورت“ کے لئے تحریر میں لائے نہیں جاتے۔ نواز شریف صاحب ہمارے ملک کے سب سے زیادہ تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ 1980 کی دہائی سے اقتدار کے کھیل میں اترے تھے۔ انہوں نے اپنے عروج و زوال کے بے پناہ مراحل دیکھے ہیں اور زوال سے بچ نکلنے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ قسمت کے دھنی بھی ثابت ہوئے ہیں۔ اب کی بار تاہم انہیں اپنی قسمت کو مزید آزمانے سے گریز کرنا ہو گا۔ وہ مگر بضد ہیں تو میں ”اگے تیرے بھاگ لچّھیئے“ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Facebook Comments HS