منگلا ڈیم۔ ( قسط۔ 2 )


مشہور امریکن رسالے ٹائم میں یکم دسمبر 1967 ء کو منگلا ڈیم پر ایک مضمون چھپا جس میں لکھا تھا۔ ”کبھی منگلا مہاراجوں کا فوجی گڑھ تھا جہاں اب دو ارب ڈالر کی لاگت سے دنیا کے سب سے بڑے آب پاشی کے منصوبے کی تکمیل ہو رہی ہے، جس سے 3 کروڑ ایکڑ اراضی سیراب ہو گی اور سندھ طاس میں بسنے والے 5 کروڑ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ فرانسسکو کی گائے ایف اٹکنسن کمپنی کی سربراہی میں کنسورشیم چھ سال سے کم مدت میں 510 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کر کے ساٹھ لاکھ ڈالر بونس لینے کی تیاری میں ہے۔ پاکستان کے دارالحکومت سے پچاس میل مشرق میں ایک گرم اور گردآلود میدان میں 2500 امریکی اور یورپین کارکنوں کی رہائش کے لیے ایک مکمل ائرکنڈیشنڈ قصبہ بسایا گیا ہے۔ 18 ہزار سے زیادہ مقامی افراد کو تعمیراتی کام کی تربیت دے کر منصوبہ میں کام پر لگایا گیا ہے۔“

منگلا ڈیم پراجیکٹ پر دن رات کام ہوا۔ چھ سال کی مقررہ مدت سے ایک سال پہلے اٹکنسن کمپنی کے کنسورشیم نے ڈیم کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا۔ 5 جولائی 1967 ء کو بجلی پیدا کرنے والے پہلے یونٹ نے کام شروع کر دیا اور اس کے بارہ دن بعد 17 جولائی 1967 ء کو دوسرے دو یونٹ نے بھی کام کرنا شروع کر دیا جس پر ڈیم اور پاور ہاؤس مقامی انجنیئرز کے حوالہ کر دیا گیا۔ 23 نومبر 1967 ء ایک خوبصورت اور روشن دن تھا جس دن منگلا ڈیم کا افتتاح ہوا۔

افتتاحی تقریب میں صدر پاکستان جنرل ایوب خان، امریکی سفیر اور ان کی اہلیہ، اٹکنسن کمپنی کے سربراہ اور ان کی اہلیہ کے علاوہ اور کنسورشیم میں شامل سب کمپنیوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ ڈیم کی تعمیر میں مالی مدد کرنے والے سب ممالک کے سفیر بھی اس شاندار تقریب میں شریک تھے۔ اس موقع پر منگلا قلعہ کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ انڈیا سمیت ڈیم کی تعمیر میں مالی امداد دینے والے سب ملکوں کے جھنڈے تقریب میں لہرائے گئے تھے۔

بجلی کی پیداوار کے لیے منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن پر چار یونٹ لگائے گئے جن کی پیدوارفی یونٹ 100 میگا واٹ تھی، یونٹ نمبر 5 اور 6 نے 1974 ء میں کام شروع کیا جبکہ یونٹ نمبر 7 اور 8 اس کے چند سال بعد 1981 ء میں لگائے گئے۔ 1994 ء میں یونٹ نمبر 9 اور 10 کی تنصیب سے منگلا پاور  سٹیشن کی بجلی کی پیداواری استعداد 1000 میگا واٹ تک پہنچ گئی۔

منگلا ڈیم کی اپ ریزنگ۔

منگلا ڈیم کی تعمیر کے تیس سال بعد ہی سلٹ جمع ہونے کی وجہ سے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 7.25 ارب مکعب میٹر ( 5.88 ملین ایکڑ فٹ) سے کم ہو کر 5.77 ارب مکعب میٹر ( 4.674 ملین ایکڑ فٹ) رہ گئی تھی۔ منگلا ڈیم سے سلٹ صاف کر کے پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانا ڈیم کی نئے سرے سے تعمیر سے بھی بڑا کام تھا۔ اس لئے منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے کی خاطر ڈیم کو اونچا کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔

ابتدائی منصوبہ کے مطابق ڈیم کی اپ ریزنگ پر خرچہ کا تخمینہ کل 65 ارب کا تھا جس میں 30 ارب منگلا ڈیم توسیعی منصوبے کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کو دیے جانے والے معاوضے کی رقم بھی شامل تھی۔ یہ منصوبہ 2004 ء میں پایہ تکمیل کو پہنچنا تھا۔ بد قسمتی سے ملک کے سیاسی حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ التوا کا شکار ہوا۔ اس منصوبے پر کام 2004 ء میں کام شروع ہوا اور 2009 ء تک 101.384 ارب کی لاگت سے ڈیم کے پشتوں کو اونچا کرنے کا کام، اسپل وے اور اس سے منسلک کام مکمل کر لئے گئے۔

اس منصوبہ کی تکمیل سے ڈیم کی اونچائی تیس فٹ مزید بڑھ کر کل 482 فٹ ہو گئی، جس سے ڈیم میں پانی کی سطح 1204 سے بلند کر 1242 فٹ ہو گئی۔ اپ ریزنگ کی وجہ سے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.56 ارب مکعب میٹر سے بڑھ کر 9.12 ارب مکعب میٹر ہو گئی۔ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ زیادہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا جو اس سال کے آخر تک ایک ہزار سے بڑھ کر 1340 میگاواٹ تک ہو جائے گی۔ منگلا ڈیم کے اس توسیعی منصوبے سے میرپور شہر اور ڈیم کے نزدیک بسنے والے پچاس سے زیادہ دیہات زیرآب آئے جہاں رہنے والے پچاس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

زیر آب آ نے والے افراد کی آباد کاری کے لئے نیو میرپور سٹی، اسلام گڑھ، چکسواری، ڈڈیال اور سیاکھ میں چھوٹے چھوٹے قصبوں کی تعمیر توسیعی منصوبہ کا حصہ تھی۔ اس کے علاوہ یہاں رہنے والے افراد کی سہولت کے لئے دریا جہلم پر ڈڈیال میں دھان گلی کے مقام پر پل، میرپور بائی پاس روڈ، نہر اپر جہلم پر پل اور میرپور اور اسلام گڑھ کے درمیان ڈیم پر پل بنانے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

منگلا ڈیم سے آبادی کا انخلا

اگرچہ منگلا ڈیم کے منصوبے پر کام 1950 ء کے ابتدائی سالوں میں شروع ہو گیا تھا لیکن اسے حتمی شکل 60 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں دی گئی۔ منگلا ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے میرپور کا تاریخی شہر اور اس کے نواح میں آباد سیکڑوں دیہات منگلا جھیل کے پانیوں میں ڈوبنا تھے۔ ایک ہنستا بستا قدیمی شہر اور اس سے ملحقہ دیہاتوں کے میں بسنے والے ہزاروں خاندان کو اپنے آبا و اجداد کی قبریں اور اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ کر نئی جگہ پر آباد ہونا تھا۔

ایسے میں میرپور کے لوگوں میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے خلاف جذبات ابھرنا ایک معمول کی بات تھی۔ اس لئے علاقہ میں ڈیم کی تعمیر کے خلاف تحریک سر اٹھانے لگی۔ 1955 ء میں آغا عاشق حسین کی سربراہی میں پہلی منگلا ڈیم مخالف تحریک چلی جس میں علاقہ کے لوگ شریک ہوئے۔ اس دوران برطانیہ میں بھی تارکین وطن نے ڈیم کی تعمیر کے خلاف مظاہرے کیے۔ میرپور کے نواحی گاؤں چک ہریام میں 12 دسمبر 1960 ء کو اس وقت کے صدر ریاست خورشید حسن خورشید کی موجودگی میں بہت بڑا احتجاجی جلسہ ہوا۔ حکومت نے فوج طلب کر لی اور تحریک میں شریک تمام سیاستدانوں، وکلا اور دیگر اہم افراد کو گرفتار کر کے دلائی کیمپ پہنچا دیا۔

عام طور پرایک تاثر پایا جاتا ہے کہ میرپور کے لوگوں کو منگلا ڈیم سے انخلا کے بدلے میں حکومت پاکستان نے برطانیہ آباد کرایا۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کیوں کہ پاکستان بننے سے قبل ہی میرپور سے کراچی اور بمبئی کی بندرگاہوں سے بحری جہازوں پر مزدوروں کی حیثیت سے برطانیہ اور امریکہ جانے کا سلسلہ جاری تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو سستے مزدوروں کی ضرورت تھی اس لئے پچاس کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں میرپور اور اس کے نواح سے ہزاروں افراد برطانیہ پہنچے تھے۔ ڈیم کی تعمیر کے دوران جو پندرہ سولہ سو ووچر حکومت پاکستان کو ملے تھے وہ حکومتی ارکان نے اپنوں میں بانٹ لیے تھے۔

میرپور کی متاثرہ زمین بہت زرخیز تھی جس میں سال میں دو فصلیں پیدا ہوتیں ان میں باغات، پھلدار پودوں کے علاوہ ہر قسم کی سبزیاں کاشت کی جاتیں تھیں۔ میرپور اور ڈڈیال کے لوگ خوش حال اور خود کفیل تھے۔ زمین بہت مہنگی تھی جبکہ واپڈا حکام سستی قیمت پر اراضی کا حصول چاہتے تھے۔ منگلا ریسٹ ہاؤس میں صدر پاکستان جنرل ایوب خان کو چیف انجینئر واپڈا خواجہ غفور نے بریفنگ میں بتایا کہ بنجر زمین کی قیمت زیادہ مقرر کی جا رہی ہے جس پر ایوب خان برہم ہو گئے اور زمین کی قیمت پر کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا۔ میرپور کے ممتاز وکیل عبدالخالق انصاری اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں ”پاکستان کے سیاست دان بہت کم ظرف تھے جنھوں نے جبر سے ڈیم تو بنا لیا لیکن خالص انسانی مسئلہ کو حل نہیں کر سکے۔ “

1967 ء میں منگلا ڈیم کی تکمیل تک میرپور کا تاریخی شہر اور اس کے اردگرد بسنے والے 280 دیہات منگلا جھیل کے پانی میں غرق ہوئے۔ ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔ بے گھر ہونے والے افراد کو فیصل آباد، سرگودھا، جوہر آباد اور گوجرانوالہ کے علاوہ کچھ اور جگہوں پر زمین الاٹ کی گئی۔ بہت سے خاندان ان علاقوں کے رہن سہن سے ناواقفیت کی وجہ سے وہاں بس نہیں سکے۔ بہت سے خاندانوں کی زمینوں پر مقامی افراد نے قبضہ کر لیا۔ میرپور شہر کو بلاہ گالہ کی پہاڑیوں پر کسی مناسب منصوبہ بندی کے بغیر دو بارا بسایا گیا۔ چالیس سال بعد منگلا ڈیم کی اپ ریزنگ ہوئی تو مزید 113 مزید دیہات پانی میں غرق ہوئے اور پچاس ہزار سے زیادہ افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔ ان کی آبادکاری کے لیے شہر کے نزدیک چھوٹے چھوٹے قصبے آباد کیے گئے۔

حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے دو دفعہ قربانی دینے کے باوجود میرپور کے شہری ابھی تک پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ رابطہ سڑکوں کا برا حال ہے۔ رٹھوعہ ہریام پل کی تعمیر دس سال سے تاخیر کا شکار ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لئے ڈھنگ کا کوئی پارک یا تفریح گاہ موجود نہیں ہے۔ نئی جگہوں پر آباد ہونے والے قصبے اور ہیملٹ ابھی تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ منگلا ڈیم کے متاثرین آج بھی بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر ان مسائل پر بات کی جائے تو ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ (ختم شد)

Facebook Comments HS