سانحہ جڑانوالہ: بچوں کی تعلیم اور مستقبل پر سوالیہ نشان


ہر سانحہ کی اپنی گہری نفسیات ہوتی ہیں جو اپنے متاثرین کو بہت دیر تک متاثر کرتی ہے۔ سانحہ جڑانوالہ بھی ہمارے معاشرے کی جڑیں ہلا گیا ہے۔ اس نے معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کی فضا اور ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ میں کراچی سے اپنی میڈیا ٹیم کے ہمراہ 6 ستمبر کو جڑانوالہ پہنچا تھا۔ میڈیا پر سانحے کی تصویریں اور ویڈیوز دیکھ کر دماغ میں ایک تصویر بن چکی تھی لیکن ان جگہوں پر خود جاکر دیکھنے کا تجربہ بہت تکلیف دہ عمل تھا۔

خیر ہم نے لوگوں سے بات چیت کی اور گھروں اور محلوں کا وزٹ کیا۔ ہمارے اس وزٹ کا مقصد بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ لوگوں کو متاثرین کے گھر، املاک اور چرچز کے جلائے جانے کا دکھ اور غم ہے جبکہ مجھے بچوں کی کتابیں، کھلونے اور خوابوں کے جلانے کا دکھ ہے۔ اس سانحے کا خوف اور دہشت بچوں کے ناپختہ ذہنوں اور معصوم چہروں پر عیاں ہے۔ ویسے بھی بچوں کے ذہنوں پر ایسے سانحات کے اثرات بہت نمایاں ہوتے ہیں۔ سانحہ جڑانوالہ میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ جہاں خاندان اس حادثے سے بری طرح متاثر ہیں وہاں بچے بھی ذہنی اور نفسیاتی پر بے حد متاثر ہوئے ہیں۔

سانحے جڑانوالہ میں متاثر والدین اپنی گھریلو ذمہ داریوں اور گھر کی تعمیر و مرمت کے سلسلے میں مصروف ہیں۔ حکومت اور نجی تنظیموں کی جانب سے لوگوں کے گھروں کی تعمیر اور مرمت کا کام جاری ہے لیکن حیران کن طور پر بچوں کی تعلیم کے لیے ابھی تک کوئی ایسے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ بچے نہ تو سکول جا نا شروع ہوئے ہیں اور نہ گھروں پر اپنی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ بچوں کے لیے کوئی بھی ایسی سرگرمیاں نہیں کی جا رہی جن سے بچوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر مضبوطی اور تقویت مل سکے۔

اس سانحے نے بچوں کو ذہنی طور پر بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی خاندانوں اور بچوں سے بات چیت کرنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ بچے خوف کی وجہ سے ابھی تک سکول واپس نہیں گئے چند ایک بچوں نے سکول واپس جانے کی کوشش کی لیکن انہیں ڈر اور خوف کی وجہ سے دوبارہ گھر پہ رہنے پر مجبور کیا گیا۔ کیونکہ والدین اپنی ذمہ داریوں اور گھر کی تعمیر و مرمت میں مصروف ہیں ان کے پاس وقت نہیں کہ وہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے توجہ دے سکیں۔

اس ضمن میں دیگر تعلیمی اداروں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے بھی کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ بچے ڈر، خوف و پریشانی کی صورتحال میں اپنی تعلیم کو وہیں پر روکے ہوئے ہیں۔ ہمیں معلوم کرنے پر یہ بھی پتہ چلا کہ بچے صبح سے لے کر شام تک باہر گلیوں میں بیٹھے رہتے ہیں اور ان کے پاس تعلیم کا کوئی بھی نظام نہیں ہے۔

جڑانوالہ میں کوئی بھی مسیحی تعلیمی ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے لیے دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم جاری رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ تیسری کلاس کی طالب علم مریم نے ہمیں بتایا کہ وہ ایک دن سکول گئی تو اس کی ساتھی طلبہ نے اسے ایسے جملے کہے جس کی وجہ سے وہ خوف اور ڈر کا شکار ہو گئی، اور اس کے بعد اس نے سکول جانے کا ارادہ مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔ اسی طرح بی ایس کمپیوٹر سائنس کی ایک سٹوڈنٹ اس سانحے کے بعد صرف ایک دن یونیورسٹی گئی اور اس کے بعد اس نے بھی پڑھائی جاری رکھنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ ہمیں بچوں کے معصوم چہروں پر سوالیہ نشان اور آنکھوں میں چمکتے ہوئے خواب دیکھ کر یہ حیرت ہوئی کہ ان کی تعلیم اور مستقبل کے لیے بہت کم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بچوں کے معصوم ذہنوں پر اس سانحے کے خوفناک منظر اس قدر نمایاں ہیں کہ وہ اب بھی کسی سے بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ میرے خیال میں والدین کے لیے کام کرنا اپنے گھر کو تعمیر کرنا اس وقت اولین ترجیح ہے۔ حکومت اور دیگر ادارے بھی لوگوں کی تعمیر اور ترقی کے لیے کوشاں ہیں، لیکن اس سارے عمل میں بچوں کی تعلیم، مستقبل اور ان کی ذہنی صحت کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کمیونٹی کا سب سے بڑا اثاثہ ان کے بچے ہیں۔ ان کی ذہنی صحت اور سب سے بڑھ کر ان کا مستقبل اہم اور قیمتی سرمایہ ہیں۔

ان کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت، سماجی تنظیموں اور چرچ کو مل کر ایسے اقدامات کرنے، پروگرام، ورکشاپس اور ٹریننگ کا انعقاد کروانے کی ضرورت ہے۔ اور اس ضمن میں ماہر نفسیات کی خدمات بھی حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ بچوں کو ان سانحات کے منفی پہلوؤں سے باہر نکالنے اور اپنی نارمل زندگی بحال کرنے میں مدد کر سکیں۔ بچوں کو اس خوف اور ذہنی دباؤ سے باہر نکالنے کے لیے رہنمائی، مدد اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں وہاں کی انتظامیہ اور تعلیمی اداروں کا بھی اہم کردار ہے۔ کہتے ہیں وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے گھر بھی تعمیر ہو جائیں گے اور وہ اب دوبارہ زندگی کی شاہراہ پر واپس آ جائیں گے لیکن بچوں کے ذہنوں پر یہ سوال اور مستقبل پر سوالیہ نشان ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ وہ اس سانحے کے اثرات ساری زندگی اپنے ذہنوں پر سوار رکھیں گے۔ ان بچوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور بہتر مستقبل کی ذمہ داری ہم سب پر مشترک طور پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں اس صدمے سے نکالنے، واپس زندگی کی راہ پر ڈالنے کے لئے عملی اور دیرپا اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس نیک کام میں میں اپنی پروفیشنل خدمات پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جہاں ہم سب کا اولین مقصد لوگوں کے گھروں کی بحالی ہے وہاں ان بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ کو واپس لانا بھی اہم کارنامہ ہے۔

Facebook Comments HS