ہم نے جو بھلا دیا
جن دنوں میں زرعی یونیورسٹی لائل پور/فیصل آباد میں پڑھ رہا تھا، سرگودھا سے ایک نوجوان آتا، شہر کا ایک دوست ساتھ لیتا میرے ہاں آ جاتا تو خوب محفل جمتی تھی۔ میں جب سرگودھا گیا تو پہلی بار اسی دوست کے ساتھ وزیر آغا سے ملنے گیا تھا۔ یونیورسٹی کا زمانہ لد گیا تو ہمیں وقت جہاں لے جانا چاہتا تھا، ہم چلے گئے۔ ہمارے بیچ کوئی رابطہ نہ رہا۔ دوسرے شہروں میں کئی برس گزارنے کے بعد جن دنوں میری تعیناتی زرعی ترقیاتی بنک کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہو گئی تھی اور دوسری کتب کے علاوہ میرے افسانوں کے دو مجموعے چھپ چکے تھے، میرے اس دوست کے صحافت میں نام کمانے کی خبریں آنے لگی تھیں۔
انہی دنوں میں کراچی گیا اور وہاں ہمارے دوست صبا اکرام نے میرے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ تقریب کی کوریج کے لیے یہ جو کسی ٹیلی وژن کے کیمرے اور رپورٹر صاحب آئے ہیں آپ کے ایک دوست نے بھجوائے ہیں۔ میرے پوچھنے پر نام فاروق عادل بتایا گیا تو جیسے درمیان کا سارا زمانہ، جس میں ہم نہ ملے تھے، بھک سے اڑ گیا تھا۔ تب جو رابطہ بحال ہوا تھا پھر اس میں کوئی وقفہ نہ آیا۔
وہ ایک جانے مانے صحافی تو تھے ہی جب ممنون حسین صدر پاکستان ہو گئے تو انہوں نے فاروق عادل کو ایوان صدر بلا لیا۔ ہم جو صدر صاحب کی صاف ستھری اور ادبی زبان میں تقاریر سنا کرتے تھے وہ ہمارے اسی دوست کے قلم سے نکلا کرتی تھیں۔ کاش کوئی یونیورسٹی ان تقاریر کے لسانی پہلوؤں اور زبان و بیان کی خوبیوں کو بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنائے تاکہ اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والوں کو اپنی زبان کی طرف توجہ دینے اور بگڑے ہوئے دہن کو سنبھالنے کا دھیان آئے اور انہیں پتہ چلے کہ بات ادب کے دائرے میں رہ کر بھی کی جا سکتی ہے۔
خیر، کہنا یہ ہے کہ فاروق عادل تب بھی اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے تھے جب چوالیس پینتالیس سال پہلے اول اول ملے تھے اور بے شک اب ان کا رزق صحافت سے بندھا ہے مگر ادیب بننے کی ہمک ان کے دل میں بسی ہوئی ہے۔ اس کا ثبوت ان کے لکھے ہوئے شخصی خاکوں کی کتاب ”جو صورت نظر آئی“ اور سفر گزشت ”ایک آنکھ میں امریکہ“ سے ہی ہو گیا تھا۔ ان کی تازہ کتاب ”ہم نے جو بھلا دیا“ اگرچہ ایک محقق اور زیرک تاریخ نویس سے ملاقات کراتی ہے ہم اس ادیب سے بھی ملاقات کرتے ہیں جوان کے کام کی ساری جہات کو ایک روشن ہالے میں لیے ہوئے ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ وہی ہے جو مختلف حیلوں بہانوں اور وسیلوں سے تاریخ نویسوں کی یادداشت میں انڈیل کر ایک خاص بیانیہ کی داشتہ بالی گئی ہے؟ یا وہ واقعات بھی تاریخ کا بنیادی حصہ ہیں جنہیں انسانی یادداشت سے کھرچ ڈالا گیا۔ کہا گیا ہے کہ یہ زمانہ ایسا ہے جس میں دانش وروں کی دانش چوری ہو جاتی ہے اور المیہ یہ ہے کہ انہیں اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ خبر میں جو کچھ آتا ہے اور تواتر سے آتا ہے آج کل وہی سچ ہے اور اسی سے رائے عامہ بنتی بگڑتی ہے۔
عام آدمی کے لیے ٹی وی پر نشر ہوتی خبر، اخبار میں چھپی اسٹوری، حکمرانوں کی نیوز بریفنگ حتی کہ سوشل میڈیا پر چلائی گئی منصوبہ بند کمپین بھی سچ جیسی ہو جاتی ہے۔ ہمارا تاریخ نویس اکثر انہی وسیلوں کو کام میں لاکر تاریخ مرتب کرتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اصل اور مکمل سچ ان سب کے عقب میں کہیں اوجھل رہ گیا ہوتا ہے۔ ہمارے دوست فاروق عادل کا خیال ہے کہ یوں ”ہم نے جسے بھلا دیا ہے“ اور ہماری نظروں سے اوجھل رہ گیا ہے وہ ایسا ہے کہ دستیاب تاریخ کی تعبیر مختلف ہو جاتی ہے۔
فاروق عادل صحافی ہیں اور صحافی کے بنیادی سروکار کا دائرہ کرنٹ افیئزز ہوتا ہے ؛ وہ جو تازہ بہ تازہ ہو رہا ہو تا ہے کہہ لیجیے سیاسی سماجی ثقافت کی ہماہمی سے وہ اپنا مسالا اٹھاتا ہے اور اسے اپنی خبر، اپنا کالم، عمومی دلچسپی کا فیچر یا تجزیاتی رپورٹ تیار کرتا ہے۔ ان صحافیوں میں کم کم ہوتے ہیں جو ماضی اور رواں وقت کوایک تسلسل میں دیکھ کر تجزیہ کر پاتے ہیں۔ فاروق عادل کے تحقیق اور تجزیے کے قرینوں کو دیکھ کر میں انہی کم کم لوگوں میں پاتا ہوں۔
اگر چہ یہ مضامین مختلف اوقات میں بی بی سی کے لیے لکھے گئے مگر انہیں کتاب میں کچھ اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ پاکستانی تاریخ کو چھپاکوں میں گم شدہ اوراق مہیا کر کے ازسر نو مرتب کر دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے فاروق عادل نے ماضی کے اخبارات کو کھنگالا، ایسے لوگوں سے ملاقاتیں کیں تب احوال واقعی کی خبر رکھتے تھے، لوگوں کی سوانح عمریاں اور یادداشتیں دیکھیں اور تاریخ کے طور پر مستحکم ہو چکے واقعات کو یوں حاصل ہونے والے حقائق کے مقابل رکھ کر ان کا تجزیہ کیا تو ہماری تاریخ کا وہ پہلو سامنے آیا ہے کہ مجھ جیسے کمزور دل قاری کی تو چیخیں نکل گئیں ؛ وہاں جہاں ہماری رہبری کا دم بھرنے والوں اور حکومتوں کو الٹنے پلٹنے والوں کے سفاک چہروں کو دیکھا اور انہیں کچھ ایسے عالم میں دیکھا کہ کراہت ہونے لگی ہے۔
پاکستان بننے کے بعد اب تک کا سفر کس نے کھوٹا کیا، یہ کتاب اسے بہت غیر جانبداری سے، بہت سہولت سے اور بہت سلیقے سے نشان زد کرتی چلی گئی ہے۔ لیاقت علی خان اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو کے درمیان اناؤں کی کھینچا تانی ہو یا کراچی کو مرکزی حکومت کے حوالے کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ، روس کا دورہ طے ہو کر بھی نہ ہو سکنے کا معاملہ ہو یا گورنر جنرل غلام محمد اور وزیر خارجہ ظفراللہ کا کشکول لے کر بھاگم بھاگ امریکہ پہنچ جانا اور امداد کی بھیک پا کر اونٹوں کی گردنوں میں تھینک یو امریکہ کی تختیاں لٹکوا کر اپنی غلامی کا ڈھنڈورا پیٹنا، جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت کا گمراہ کن راستہ کھولنا ہو یا ایبڈو کے ذریعے قیام پاکستان کے بعد کی نمایاں ترین سیاسی شخصیات کو سیاست بدر کرنا، ون یونٹ کا بننا اور ٹوٹنا ہو یا تاشقند میں صدر ایوب خان کی بے بسی اور ان کے وزیر خارجہ بھٹو کی سب کو ہکا بکا کرنے والی حرکت اور عزیز احمد کا بھڑک اٹھنا۔
شیخ مجیب کے چھ نقاط ہوں یا اس وقت کی اپوزیشن کے بڑے ذہنوں کی قریب نظری جس نے مجیب کو مذاکرات کے میز پر لانے کی بجائے دور دھکیل دیا تھا۔ چینی کا بحران ہو جو ایوب خان کو لے ڈوبا تھا یا پاکستان کا ٹوٹنا جس نے ہماری قومی زندگی کو تلپٹ کر کے رکھ دیا تھا۔ مشرف کا مارشل لا ہو یا صدر رفیق تارڑ کا استعفیٰ دینے سے انکار اور تب سے اب تک کی اونچ نیچ اور فقیروں اور ملنگوں کے آستانوں پر حکمرانوں کا حاضریاں بھرنا اور پیرنی کے جنات اور جادو کے حیلے ؛ کچھ بھی لکھا فاروق عادل کے قلم نے اپنے مالک کے نام کا پاس رکھا۔
کہیں سچ اور جھوٹ کو الگ کرنے سے جھجکا نہ کہیں عادلانہ تجزیے سے باز آیا۔ فاروق عادل نے جہاں بھی قلم اٹھایا حوالے کے ساتھ اٹھایا۔ جوزف کو ربل کی ڈینجر ان کشمیر، سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی ”ایمرجنس آف پاکستان“ ، پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کی ”تحدیث نعمت“ ، محمد ایوب کھوڑو کی زندگی پر ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کی کتاب سے لے کر عمران خان کی سابقہ بیوی ریحام خان کی مشہور زمانہ یا بدنام زمانہ کتاب تک کئی درجن کتابیں ہیں جن کے حوالہ جات متن میں آئے چلے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ فاروق عادل نے جو کچھ ان کتب میں کہا گیا اسے من و عن تسلیم کیا ہو، انہوں نے ان کی تصدیق یا تردید کرتی شہادتوں کو بھی فراہم کر دیا ہے جس سے بیان ہونے والی صورت حال کو تمام پہلووں سے دیکھنا اور سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے۔
کاش اس کتاب کو وہ سارے مقتدر لوگ پڑھیں اور سمجھیں کہ آپ کا ہر عمل تاریخ کے ترازو میں اس وقت تولا جائے گا جب آپ اس پر اثر انداز ہونے کی قوت سے محروم ہو چکے ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی اپنا نام اس تاریخ کے ان پنوں پر نہیں لکھوانا چاہے گا جنہیں پڑھتے ہی دل نفرت سے بھر جاتے ہیں۔
۔


