بینا و نابینا ۔ تعليم و تحرير سب کے لیے


اگر ہماری صلاحیتوں میں فرق نہ ہوتے تو یہ دنیا ایک روکھی پھیکی جگہ ہوتی۔ زیادہ تر لوگ بصارت ہونے کے باوجود بصیرت حاصل نہیں کر پاتے اور تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ نابینا ہو کر بھی بصیرت سے بھرپور ہوتے ہیں کیوں کہ وہ تعلیم و تحریر سے اپنا رشتہ قائم کر کے اسے پروان چڑھاتے رہتے ہیں۔

آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک شخص کا قصّہ سناتے ہیں جنہوں نے نابینائی کا مقابلہ بڑے عزم و ہمت سے کیا تعلیمی اسناد بھی حاصل کیں اور تحریر کے میدان میں بھی جھنڈے گاڑے۔ اُن کا نام ہے زاہد عبداللہ جو بینائی سے محروم ہونے کے باوجود تمام ذمہ داریاں بھرپور طور پر ادا کر رہے ہیں۔

زاہد عبداللہ نے بصارت کے بغیر بھرپور زندگی گزارنے کا فن کوئی بیس سال پہلے سیکھا گو کہ اس سے قبل بھی اُن کی بینائی بتدریج کم ہو رہی تھی اور رفتہ رفتہ بصارت سے محروم ہونے کا عمل خاصا تکلیف دہ تھا۔ اُنہیں معلوم ہو چکا تھا کہ بہت جلد وہ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو جائیں گے لیکن اس بات کو اُنہوں نے اپنی تعلیم و تحریر کی سرگرمیوں کے مانع ہونے نہیں دیا۔ تیس سال کی عمر کے لگ بھگ جب اُن کی بینائی بالکل ختم ہو گئی تو اُنہوں نے ایک نئے طور سے اپنی تعلیم و تحریر کا آغاز کیا۔

تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے زاہد عبداللہ کی کہانی میں بڑے اسباق موجود ہیں خاص طور پر اُن کے لیے جو بصارت کے باوجود بصیرت سے محروم رہتے ہیں اور اُنہیں اس زیاں کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

اس لحاظ سے زاہد ایک مثالی طالب علم ثابت ہوئے کیوں کہ اُنہوں نے بہت جلد اپنی زندگی کے بدلتے ہوئے نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی جرت پیدا کی اور اپنی دیگر حسوں کو بہتر کیا۔ مثلاً سونگھنے اور سننے کی حس یعنی قوت سماعت اور شامہ کو بہتر کیا اور ساتھ ہی اپنے ذائقے کی صلاحیت کو وسیع کیا یعنی اپنا ذوق اجاگر کیا۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو چار چاند لگائے اور فنونِ لطیفہ جیسے موسیقی، ادب، شاعری وغیرہ میں خود بھی بھرپور دلچسپی لی اور بحیثیت استاد کے اپنے شاگردوں میں بھی اس کی لگن پیدا کرنے کی کوشش کی۔

انگریزی زبان و ادب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی گرتی ہوئی بینائی کے ساتھ ہی ماسٹرز کی سند حاصل کی لیکن رکے نہیں۔ بصارت مکمل طور پر چلے جانے کے بعد بھی اپنی مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور ماسٹرز کی ایک اور سند حاصل کی۔

زاہد عبداللہ اپنے گھر کے واحد بچے نہیں تھے۔ اُن کے آٹھ بہن بھائی تھے اور تصّور کیا جا سکتا ہے کہ اتنے پُر ہجوم گھر میں جاتی ہوئی بصارت کے ساتھ بڑے ہونا کتنا مشکل ہو گا۔ لیکن پھر جب خود اُن کی شادی ہوئی تو اُنہوں نے اپنی تین بیٹیوں کو خوب پروان چڑھایا۔

اپنی بچیوں کی بہترین تعلیم و تربیت کرتے ہوئے اُنہوں نے ثابت کیا کہ نابینا باپ غالباً بہت سے بصارت رکھنے والے والدین سے بھی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

زاہد عبداللہ نے پوری زندگی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کسی معذوری کے ساتھ جینے والے لوگوں کے لیے بہتر سماجی و تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جہاں اُنہیں کم سے کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جس ماحول میں زیادہ رکاوٹیں ہوں اس میں معذوری زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے اور یہ جسمانی سے زیادہ سماجی معذوری بن جاتی ہے۔

زاہد عبداللہ کا کام صرف معذوروں کے حقوق کے لیے نہیں ہے بل کہ وہ معلومات تک رسائی کے میدان میں بھی سرگرم ہیں اور بحیثیت انفارمیشن کمشنر کے اُنہوں نے چند اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ وہ محقق بھی ہیں اور تربیت کار بھی جو اپنے رفقائے کار اور اور شاگردوں کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ اُنہوں نے کتابیں بھی لکھی ہیں اور اپنی تحریروں میں معاشرتی تضادات کی خوب عکاسی کرتے ہیں۔ ”The Wise Man“ (عقل مند آدمی ) اُن کی دوسری کتاب تھی جس نے قارئین کی توجہ حاصل کی۔ یہ کتاب 2015 میں شائع ہوئی تھی جس میں ان کی انگریزی کہانیوں کا انتخاب پیش کیا گیا تھا۔ لیکن یہاں ہم اُن کی پہلی اور تیسری کتاب کے بارے میں زیادہ بات کریں گے۔ ”Disabled society“ یا ”معذور سماج“ نامی کتاب 2012 میں منظر عام پر آئی جو اپنی نوعیت کی بہترین کتاب تھی۔ اس میں زاہد عبداللہ نے معذوری کے ساتھ جینے والے لوگوں کے مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ یہ کتاب اُن تصورات کو للکارتی ہے جو عام طور پر معاشرے میں معذوری کے بارے میں پھیلائے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ تصور کہ معذوری خدا کی طرف سے جزا و سزا کے طور پر عطا کی جاتی ہے اس لیے اس بارے میں کچھ زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اُنہوں نے اپنی کتاب میں اس بات کو بھی بخوبی پیش کیا ہے کہ کس طرح سماج کی اکثریت معذوری کے خلاف ایک طرح کی آمریت قائم کر لیتی ہے جہاں معذوروں کو آواز اُٹھانے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔

زاہد عبداللہ نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ کس طرح ہمارے طبّی شعبے میں اخلاقیات کی شدید کمی ہے اور طبّی شعبے سے وابستہ افراد یعنی ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملے کی تربیت ناکافی ہوتی ہے جس کے باعث وہ معذوری میں مبتلا افراد کی صحیح رہ نمائی اور نگہداشت سے قاصر رہتے ہیں۔

اس کتاب کے پس منظر میں مصنف کی طویل جدوجہد اور معذوری سے متعلق معلومات کا بھرپور خزانہ نظر آتا ہے جس کی بدولت وہ خود کام یاب زندگی گزار پائے۔ کتاب میں انہوں نے معذور خواتین کے مسائل پر بھی تفصیلی بحث کی ہے۔

کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والی خواتین کے بارے میں ہمارا معاشرہ عام طور پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ اس بارے میں مناسب معلومات اور علم کی کمی کے بارے میں زاہد عبداللہ نے کھل کر بات کی ہے۔ اُن کے خیال میں ہمارا معاشرہ جان بوجھ کر معلومات کی فراہمی سے گریز کرتا ہے اور اسی تک رسائی صرف چند مراعات یافتہ کو ہی حاصل ہوتی ہے جسے سے وہ خود تو فائدے اُٹھا لیتے ہیں لیکن دوسروں تک وہ معلومات نہیں پہنچنے دیتے۔

اسی وجہ سے معذوری کا شکار لوگوں کو خود اپنے حقوق کا علم نہیں ہوتا نہ ہی وہ اس بارے میں اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ اس کتاب میں چار تحقیقی مقالے بھی شامل ہیں جو معذوروں کے حقوق و مسائل اور اُن کی نمایندگی کے بارے میں ہیں۔ ان مقالات میں معذوروں اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ہمارے سماج میں خواتین اور لڑکیاں جو کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہوں وہ امتیازی سلوک کا قدم قدم پر سامنا کرتی ہیں اور ان کے ساتھ لوگوں کا رویہ بہت خراب ہوتا ہے خاص طور پر تعلیمی اداروں میں تو کوئی اُن کا پُرسان حال ہی نہیں ہوتا۔ جس سماج میں کیمپس کے افسر اور اساتذہ تک غیر اخلاقی اور نازیبا حرکات میں ملوث ہوں اور طالبات کو بلیک میل تک کیا جاتا ہو وہاں معذور بچیوں کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اب ہم زاہد عبداللہ کی تازہ ترین کتاب پر کچھ بات کرتے ہیں جس کا نام ہے (Honour Among Judges) ”ججوں میں باہمی احترام“ اس انگریزی کتاب میں انصاف سے تعلق رکھنے والوں کی کچھ کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ چند وکیل اور جج اپریل 2021 میں لاہور کے ایک ریستوران میں مل بیٹھتے ہیں۔ یاد رہے کہ اپریل 2021 میں ہی حکومت نے کورونا وائرس سے متعلق پابندیاں اٹھالی تھیں۔

جمع ہونے والے پندرہ افراد ایک مشہور ریستوران کی چھت پر ملتے ہیں جہاں سے بادشاہی مسجد اور شاہی محلے کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پندرہ افراد اب اپنی اپنی کہانیاں بیان کرتے ہیں کیوں کہ اب یہ دوست سال بھر کے وقفے سے مل رہے ہیں اس لیے ان کے پاس کئی قصّے موجود ہیں۔

ان میں ایک وکیل کا دعویٰ ہے کہ وہ بُرائی کو سزا دلواتا ہے اور اچھائی کا صلہ۔ اس کے ساتھ ہی ایک جج ہے جو ہمیشہ پلان بی رکھتا ہے۔ ایک اور وکیل طلاقیں دلوانے کا ماہر ہے اور اس کی اپنی کہانی ہے۔ پھر ایسے بھی وکیل ہیں جو ستر پچھتر سال کے ہیں اور اپنے تجربات دوستوں کو بتانا چاہتے ہیں۔ پھر ایک خاتون وکیل ہیں جو شیخیاں بگھارتی ہیں۔

ان کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے ایک بھی مقدمہ کسی جج کے سامنے پیش نہیں کیا لیکن پھر بھی اُن کی کام یابی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ پھر ایک پبلک پراسیکیوٹر کی کہانی ہے جو ”مجرموں“ پیچھے لگے رہتے ہیں۔

پھر ولی نام کا ایک کردار ہے جو ججوں کو خریدنے میں ملکہ رکھتا ہے اور اپنے مؤکلوں کو کسی نہ کسی طرح بچا لیتا ہے۔
زاہد عبداللہ کی کہانیوں میں جعلی دانش ور بھی ہیں اور سازشیں پھیلانے والے بھی جو نت نئی سازشیں ڈھونڈتے اور انہیں آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔

پھر ایک قبائلی علاقے کا وکیل ہے جس کی کہانی سامعین کو دم بخود کر دیتی ہے۔
لیکن کہانیوں کے مجموعے کی تکمیل دو امریکی وکیلوں کے ذریعے ہوتی ہے جو لاہور کے دورے پر ہیں اور پاکستان بار کونسل اُن کی میزبان ہے۔

زاہد عبداللہ نے یہ ساری کہانیاں ایک بائیس سالہ نئی خاتون وکیل کی زبانی سنائی ہیں جو خود سوشل میڈیا پر سرگرم رہتی ہے۔ وہ خاتون کہانیاں سناتے ہوئے انہیں مزید دلچسپ بنا دیتی ہے۔ اس طرح زاہد عبداللہ نے ایک اور شان دار کتاب تحریر کی ہے کیوں کہ وکیلوں کی کہانیاں اتنی منظر عام پر نہیں آتیں۔

بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سماج کے اکثر وکیل اپنی کہانیاں لکھتے نہیں اور جو لکھتے ہیں وہ زیادہ تر مختلف ادوار میں آمروں کی کاسہ لیسی کرتے رہے ہیں۔

زاہد عبداللہ کو کہانیاں کہنے کا فن آتا ہے اور وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ کسی نہ کسی اچھی سرگرمی میں گزار رہے ہوتے ہیں۔ ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی بصیرت سے بھرپور ہے اور وہ بصارت سے محرومی کو بھی آڑے نہیں آنے دیتے۔ بلا شبہ زاہد عبداللہ جیسے لوگ اس معاشرے میں مشعل راہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سینکڑوں طالب علم تیار کیے ہیں اور انہیں تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔ اُن سے بینا و نابینا ہر طرح کے لوگ متاثر ہوتے ہیں اور گزشتہ برسوں میں زاہد عبداللہ کی سرگرمیاں بہت سے ایسے لوگوں سے بہتر ہیں جو بصارت تو رکھتے ہیں مگر بصیرت سے محروم ہیں۔

ایسے لوگوں کی کہانیوں سے طالب علم اور اساتذہ دونوں کو سبق حاصل کرنے چاہیں۔ کیوں کہ ان سے ہی سماج میں اچھی زندگی کے خواب زندہ رہتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS